Istighatha (asking for help)  

Shajrah Sharif Hazrat Data Ali Hajveri

گنج بخش فض  عالم مظہرِ نور خدا
ناقصاں راپر  کامل کاملاں را راہنما

ہو رقم کس سے تمہارا مرتبہ یا گنج بخش
ہیں ثناء خواں آپ کے شاہ وگدا یا گنج بخش

بحر غم میں ہوتی ہے زیروزبر کشتی میری
لو خبر بحرِ محمد مصطفی یا گنج بخش

مہربان ہو کر ہماری مشکلیں آساں کرو
صدقہ حضرت علی مرتضیٰ یا گنج بخش

ازپئے خواجہ حسن بصری مجھے ہونے نہ دو
پھندہ حرص وہوا میں مبتلا یا گنج بخش

از برائے طاعت حضرت حبیب عجمی کرو
نور ایماں سے منور دل مرا یا گنج بخش

حضرت داؤد طائی پیر کامل کے طفیل
کیجیے سب حاجتیں سب کی روا یا گنج بخش

از پئے معروف کرخی خواب میں آکر مجھے
چہرہ انور دکھا دو بر ملا یا گنج بخش

از برائے سری سقطی رہے لب پر میرے
اسم اعظم آپ کا جاری سدا یا گنج بخش

ازپئے الطاف وتکریم وفیوضیات جنید
ہو ہمارے حال پر نظر عطا یا گنج بخش

از برائے حضرت ابوبکر شبلی نامدار
ہو ہمارے دل کا حاصل مدعا یا گنج بخش

از پئے حضرت علی حسری مجھے کردو رہا
ہوں گرفتار غم ورنج وبلا یا گنج بخش

از برائے ابوالفضل ختلی رہے جلوہ نما
ہر گھڑی دل میں  تصور آپ کا یا گنج بخش

یا علی مخدوم ہجویری برائے ذات خویش
غیر کا ہونے نہ دو ہم کو گدا یا گنج بخش

جب نظر لطف وکرم کی شیخ ہندی پر پڑی
کردیا قطرے سے دریا آپ نے یا گنج بخش

حضرت خواجہ معین الدین بابا فرید الدین کو
گنج عرفاں آپ کے در سے ملا یا گنج بخش

آپ کے دربار میں آکر کیا جس نے سوال
آپ نے بخشا اس کو گنج بے بہا یا گنج بخش

اس بشر کے ہوگئے فوراً سبھی مطلب روا
صدق سے اک مرتبہ جس نے کہا یا گنج بخش

کس کے در پر یہ ظہور الدین کرے جاکر سوال
آپ کے دربار عالی کے سوا یا گنج بخش

گنج بخشی آپ کی مشہور ہم پہ کر کرم
کر کرم کرواکرم دونوں جہاں میں رکھ شرم

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما

...

Murtaza Sher e Khuda

مرتضیٰ شیرِ خُدا مَرحَب کُشا خیبر کَشا
سَروَرا لشکر کَشا مشکل کُشا امداد کُن

حیدرا اژدر دَرا ضَرغام ہائل منظرا
شہرِ عرفاں را دَرا روشن دُرا امداد کُن

ضیغما غیظ و غماز یغ و فتن را راغما
پہلوانِ حق امیرِ لا فتیٰ امداد کُن

اے خدا را تیغ و اے اَندامِ احمد را سپر
یا علی یا بوالحسن یا بوالعُلیٰ امداد کُن

یا یُداللہ یا قوی یا زورِ بازوے نبی
من زِ پا افتادم اے دستِ خدا امداد کُن

اے نگارِ راز دارِ قصرِ اللہ انتجیٰ
اے بہارِ لالہ زار اِنَّمَا امداد کُن

اے تنت را جامہ پُر زر جلوہ باریِّ عَبا
اے سرت را تاجِ گوہر ہَلْ اَتٰی امداد کُن

اے رُخت را غازۂ تطہیر و اِذہابِ نجس
اے لبت را مایۂ فصل القضا امداد کُن

اے بجبات و حریر ایمن زِ شمس و زَمہریر
اے ترا فردوس مشتاقِ لِقا امداد کُن

اے بحضرت روزِِ حسرت روبنصرت جاں بسوز
شکرِ ایں نصرت بَیَک نظرت مَرا امداد کُن

یَا طَلِیْقَ الْوَجْہِ فِیْ یَوْمٍ عَبُوْسٍ قَمْطَرِیْر
یَا بَہِیْجَ الْقَلْبِ فَیْ یَوْمِ الْاَسٰی امداد کُن

اے وَقَاہُمْ رَبُّہُمْ اَمنت زِ شرِّ مستطیر
مجرمَم می جُویم از کیفر وَقَا امداد کُن

اے تنت در راہِ مولیٰ خاک وجانت عرش پاک
بو تراب اے خاکیاں را پیشوا امداد کُن

اے شبِ ہجرت بجائے مصطفیٰ بر رَختِ خواب
اے دمِ شدّت فدائے مصطفیٰ امداد کُن

اے عدوئے کفر و نصب ورفض وتفضیل وخروج
اے علوّے سنّت و دینِ ہُدیٰ امداد کُن

شمعِ بزم وتیغِ رزم و کوہِ عزم وکان حَزم
اے کذا و اے فُزوں تر از کذا امداد کُن

حدائقِ بخشش

...

Chaey Gham k Badal Kaaley


چھائے غم کے بادل کالے
میری خبر اے بدرِ دُجیٰ لے

گرتا ہوں میں لغزشِ پا سے
آ اے ہاتھ پکڑنے والے

زُلف کا صدقہ تشنہ لبوں پر
برسا مہر و کرم کے جھالے

خاک مری پامال ہو کب تک
نیچے نیچے دامن والے

پھرتا ہوں میں مارا مارا
پیارے اپنے دَر پہ بُلا لے

کام کیے بے سوچے سمجھے
راہ چلا بے دیکھے بھالے

ناری دے کر خط غلامی
تجھ سے لیں جنت کے قبالے

تو ترے احساں میرے یاور
ہیں مرے مطلب تیرے حوالے

تیرے صدقے تیرے قرباں
میرے آس بندھانے والے

بگڑی بات کو تو ہی بنائے
ڈوبتی ناؤ کو تو ہی سنبھالے

تم سے جو مانگا فوراً پایا
تم نہیں کرتے ٹالے بالے

وسعت خوانِ کرم کے تصدق
دونوں عالم تم نے پالے

دیکھیں جنہوں نے تیری آنکھیں
وہ ہیں حق کے دیکھنے والے

تیرے عارض گورے گورے
شمس و قمر کے گھر کے اُجالے

اَبر لطف و غلافِ کعبہ
تیرے گیسو کالے کالے

آفت میں ہے غلامِ ہندی
تیری دُہائی مدینے والے

تنہا میں اے حامیِ بے کس
سینکڑوں ہیں دُکھ دینے والے

تیرے لطف ہوں میرے یاور
تیرا قہر عدو کو جا لے

آج ہے پیشی میں ہوں مجرم
زیر دامن مجھ کو چھپا لے

روزِ حساب اور مجھ سا عاصی
میری بگڑی بات بنا لے

تورے بل بل جاؤں کھویا
ندیا گہری نیّا ہالے

گھِر گھِر آئے گم کے بدرا
جیرا کانپت کملی والے

رین اندھیری دُور نگریا
توری دہائی جگ اُجیالے

تن من دھن کی سدھ بدھ بسری
موری کھبریا مورے پیا لے

نیناں کے بلہاری جاوے
درسن بھچّا جو منگتا لے

وا کو سمندر پار ہو جا دو
جا کو ڈراویں ندی نالے

اپنے حسین و حسن کے حسن کو
زہرِ کرب و بلا سے بچا لے

ذوقِ نعت

 

...

Mujhko Baghdad bulate rahen Ghous e Azam

استغاثہ بہ حضور محبوبِ سبحانی سیّدنا غوث الاعظم شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ

مجھ کو بغداد بلاتے رہیں، غوثِ اعظم!
اپنا دربار دکھاتے رہیں، غوثِ اعظم!

صرف اک بار نہیں، بل کہ شب و روز مجھے
اپنا دیدار کراتے رہیں، غوثِ اعظم!

انجمن جس کا ہُوَا نام ’’ضیائے طیبہ‘‘
روشنی اُس کی بڑھاتے رہیں، غوثِ اعظم!

آپ کو رب نے عطا کی ہیں کراماتِ کثیر
فیض کا چشمہ بہاتے رہیں، غوثِ اعظم!

گیارھویں کا مہِ ذی شان مبارک ہے بہت
اس کی برکات بڑھاتے رہیں، غوثِ اعظم!

قادریّت کی مجھے آپ نے نسبت بخشی
مُہر بھی اُس پہ لگاتے رہیں، غوثِ اعظم!

اپنی منزل کے نشاں مجھ کو نظر آتے نہیں
آپ ہی راہ دکھاتے رہیں، غوثِ اعظم!

میرے گھر، مال میں وسعت کی دعائیں کر کے
رب سے برکت بھی دلاتے رہیں، غوثِ اعظم!

سلبِ ایماں کے لیے تاک میں ہیں سو شیطان
میرا ایمان بچاتے رہیں، غوثِ اعظم!

نیک بننے کی تمنّا ہے، مگر بنتا نہیں
نیکیاں مجھ سے کراتے رہیں، غوثِ اعظم!

مبتلا کب سے گناہوں کی بلا میں ہے نؔدیم
اُس کو عصیاں سے بچاتے رہیں، غوثِ اعظم!

...

Sun lo Khuda Ke Waste

سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
یہ عرض ہے حضور بڑے بے نوا کی عرض

اُن کے گدا کے دَر پہ ہے یوں بادشاہ کی عرض
جیسے ہو بادشاہ کے دَر پہ گدا کی عرض

عاجز نوازیوں پہ کرم ہے تُلا ہوا
وہ دل لگا کے سنتے ہیں ہر بے نوا کی عرض

قربان اُن کے نام کے بے اُن کے نام کے
مقبول ہو نہ خاصِ جنابِ خدا کی عرض

غم کی گھٹائیں چھائی ہیں مجھ تیرہ بخت پر
اے مہر سن لے ذرّۂ بے دست و پا کی عرض

اے بے کسوں کے حامی و یاور سوا ترے
کس کو غرض ہے کون سنے مبتلا کی عرض

اے کیمیاے دل میں ترے دَر کی خاک ہوں
خاکِ دَر حضور سے ہے کیمیا کی عرض

اُلجھن سے دُور نور سے معمور کر مجھے
اے زُلفِ پاک ہے یہ اَسیرِ بلا کی عرض

دُکھ میں رہے کوئی یہ گوارا نہیں اُنہیں
مقبول کیوں نہ ہو دلِ درد آشنا کی عرض

کیوں طول دوں حضور یہ دیں یہ عطا کریں
خود جانتے ہیں آپ مرے مدعا کی عرض

دَامن بھریں گے دولتِ فضلِ خدا سے ہم
خالی کبھی گئی ہے حسنؔ مصطفےٰ کی عرض

ذوقِ نعت

...

Allah Allah k Nabi Se

اللہ اللہ کے نبی سے
فریاد ہے نفس کی بدی سے

دن بھر کھیلوں میں خاک اڑائی
لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے

شب بھر سونے ہی سے غرض تھی
تاروں نے ہزار دانت پیسے

ایمان پہ مَوت بہتر او نفس
تیری ناپاک زندگی سے

او شہد نمائے زہر در جام
گم جاؤں کدھر تِری بدی سے

گہرے پیارے پرانے دل سوز
گزرا میں تیری دوستی سے

تجھ سے جو اٹھائے میں نے صدمے
ایسے نہ ملے کبھی کسی سے

اُف رے خود کام بے مروّت
پڑتا ہے کام آدمی سے

تونے ہی کیا خدا سے نادم
تونے ہی کیا خجل نبی سے

کیسے آقا کا حکم ٹالا
ہم مر مٹے تیری خود سری سے

آتی نہ تھی جب بدی بھی تجھ کو
ہم جانتے ہیں تجھے جبھی سے

حد کے ظالم سِتم کے کٹّر
پتھر شرمائیں تیرے جی سے

ہم خاک میں مل چکے ہیں کب کے
نکلا نہ غبار تیرے جی سے

ہے ظالم میں نباہوں تجھ سے
اللہ بچائے اُس گھڑی سے

جو تم کو نہ جانتا ہو حضرت
چالیں چلیے اس اجنبی سے

اللہ کے سامنے وہ گن تھے
یاروں میں کیسے متّقی سے

رہزن نے لوٹ لی کمائی
فریاد ہے خضر ہاشمی سے

اللہ کنوئیں میں خود گِرا ہوں
اپنی نالش کروں تجھی سے

ہیں پشت پناہ غوثِ اعظم
کیوں ڈرتے ہو تم رؔضا کسی سے

حدائقِ بخشش

...

Nigah e Lutf K Umeedwar Hum Bhi Hain

نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
لیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں

ہمارے دستِ تمنا کی لاج بھی رکھنا
ترے فقیروں میں اے شہر یار ہم بھی ہیں

اِدھر بھی توسنِ اقدس کے دو قدم جلوے
تمہاری راہ میں مُشتِ غبار ہم بھی ہیں

کھلا دو غنچۂ دل صدقہ باد دامن کا
اُمیدوارِ نسیمِ بہار ہم بھی ہیں

تمہاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے
پڑئے ہوئے تو سرِ رہ گزار ہم بھی ہیں

جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاکِ حضور
تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں

یہ کس شہنشہِ والا کا صدقہ بٹتا ہے
کہ خسروؤں میں پڑی ہے پکار ہم بھی ہیں

ہماری بگڑی بنی اُن کے اختیار میں ہے
سپرد اُنھیں کے ہیں سب کاروبار ہم بھی ہیں

حسنؔ ہے جن کی سخاوت کی دُھوم عالم میں
اُنھیں کے تم بھی ہو اک ریزہ خوار، ہم بھی ہیں

ذوقِ نعت

...

Ay Shafa e Umam

اے شافعِ اُمَم شہِ ذی جاہ لے خبر
لِلّٰہ لے خبر مِری لِلّٰہ لے خبر

دریا کا جوش، ناؤ نہ بیڑا، نہ نا خدا
میں ڈوبا، تو کہاں ہے مِرے شاہ لے خبر

منزل کڑی ہے رات اندھیری میں نابلد
اے خضر لے خبر مِری اے ماہ لے خبر

پہنچے پہنچنے والے تو منزل مگر شہا
ان کی جو تھک کے بیٹھے سرِ راہ لے خبر

جنگل درندوں کا ہے میں بے یار شب قریب
گھیرے ہیں چار سمت سے بد خواہ، لے خبر

منزل نئی عزیز جُدا لوگ ناشناس
ٹوٹا ہے کوہِ غم میں پرِ کاہ لے خبر

وہ سختیاں سوال کی وہ صورتیں مہیب
اے غمزدوں کے حال سے آگاہ لے خبر

مجرم کو بارگاہِ عدالت میں لائے ہیں
تکتا ہے بے کسی میں تِری راہ لے خبر

اہلِ عمل کو ان کے عمل کام آئیں گے
میرا ہے کون تیرے سِوا آہ لے خبر

پُرخار راہ برہنہ پا تِشنہ، آب دور
مَولیٰ پڑی ہے آفتِ جاں کاہ لے خبر

باہر زبانیں پیاس سے ہیں، آفتاب گرم
کوثر کے شاہ کَثَّرَہُ اللہ لے خبر

مانا کہ سخت مجرم و نا کارہ ہے رَضا
تیرا ہی تو ہے بندۂ درگاہ لے خبر

حدائقِ بخشش

 

...

Ahl e Sirat rooh e Ameen Ko Khabar Karein

اہلِ صراط روحِ امیں کو خبر کریں
جاتی ہے امّتِ نبوی فرش پر کریں

اِن فتنہ ہائے حشر سے کہہ دو حذر کریں
نازوں کے پالے آتے ہیں رہ سے گزر کریں

بد ہیں تو آپ کے ہیں بھلے ہیں تو آپ کے
ٹکڑوں سے تو یہاں کے پلے رخ کدھر کریں

سرکار ہم کمینوں کے اَطوار پر نہ جائیں
آقا حضور اپنے کرم پر نظر کریں

ان کی حرم کے خار کشیدہ ہیں کس لیے
آنکھوں میں آئیں سر پہ رہیں دل میں گھر کریں

جالوں پہ جال پڑ گئے لِلّٰہ وقت ہے
مشکل کشائی آپ کے ناخن اگر کریں

منزل کڑی ہے شان تبسم کرم کرے
تاروں کی چھاؤں نور کے تڑکے سفر کریں

کلکِ رَؔضا ہے خنجرِ خوں خوار برق بار
اعدا سے کہہ دو خیر منائیں؛ نہ شر کریں

 

(حدائقِ بخشش)

...