Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan  

Soona Jungle Raat Andheri

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے

آنکھ سے کاجل صاف چرالیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گھٹری تاکی ہے اور تونے نیند نکالی ہے

یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہائے مسافر دم میں نہ آنا مت کیسی متوالی ہے

سونا پاس ہے سونا بن ہے سونا زہر ہے اٹھ پیارے
تو کہتا ہے نیند ہے میٹھی تیری مت ہی نرالی ہے

آنکھیں ملنا جھنجھلا پڑنا لاکھوں جمائی انگڑائی
نام پر اٹھنے کے لڑتا ہے اٹھنا بھی کچھ گالی ہے

جگنو چمکے پتّا کھڑکے مجھ تنہا کا دل دھڑ کے
ڈر سمجھائے کوئی پون ہے یا اگیا بیتالی ہے

بادل گرجے بجلی تڑپے دَھک سے کلیجا ہو جائے
بن میں گھٹا کی بھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے

پاؤں اٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اوندھے منھ
مینھ نے پھسلن کردی ہے اور دُھر تک کھائی نالی ہے

ساتھی ساتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے
پھر جھنجھلا کر سر دے پٹکوں چل رے مولیٰ والی ہے

پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں
ہاں اک ٹوٹی آس نے ہارے جی سے رفاقت پالی ہے

تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سورج ہو
دیکھو مجھ بے کس پر شب نے کیسی آفت ڈالی ہے

دنیا کو تو کیا جانے یہ بِس کی گانٹھ ہے حرّافہ
صورت دیکھو ظالم کی تو کیسی بھولی بھالی ہے

شہد دکھائے زہر پلائے قاتل ڈائن شوہر کُش
اس مُردار پہ کیا للچایا دنیا دیکھی بھالی ہے

وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنّت کا
ہم مفلس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے

مولیٰ تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے
ورنہ رضؔا سے چور پہ تیری ڈگری تو اقبالی ہے

حدائقِ بخشش

...

Nabi Sarware Har Rasoolo Wali Hai

نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
نبی راز دارِ مَعَ اللہ لِیْ ہے

وہ نامی کہ نامِ خُدا نام تیرا
رؤف و رحیم و علیم و علی ہے

ہے بے تاب جس کے لیے عرشِ اعظم
وہ اس رہروِ لا مکاں کی گلی ہے

نکیریں کرتے ہیں تعظیم میری
فدا ہو کے تجھ پر یہ عزّت ملی ہے

طلاطم ہے کشتی پہ طوفانِ غم کا
یہ کیسی ہوائے مخالف چلی ہے

نہ کیوں کر کہوں یَا حَبِیْبِیْ اَغِثْنِیْ
اِسی نام سے ہر مصیبت ٹلی ہے

صبا ہے مجھے صرصرِ دشتِ طیبہ
اِسی سے کلی میرے دل کی کھلی ہے

تِرے چاروں ہمدم ہیں یک جان یک دل
ابو بکر، فاروق، عثماں، علی ہے

خدا نے کیا تجھ کو آگاہ سب سے
دو عالم میں جو کچھ خفی و جلی ہے

کروں عرض کیا تجھ سے اے عالِمُ السّر
کہ تجھ پر مِری حالتِ دل کھلی ہے

تمنّا ہے فرمائیے روزِ محشر
یہ تیری رہائی کی چٹّھی ملی ہے

جو مقصد زیارت کا برآئے پھر تو
نہ کچھ قصد کیجے یہ قصدِ دلی ے

تِرے در کا درباں ہے جبریلِ اعظم
تِرا مدح خواں ہر نبی و ولی ہے

شفاعت کرے حشر میں جو رضؔا کی
سوا تیرے کس کو یہ قدرت ملی ہے

حدائقِ بخشش

...

Na Arsh e Aeiman Na Inni Zahibun

نہ عرش ایمن نہ اِنِّیْ ذَاہِبٌ میں میہمانی ہے
نہ لطفِ اُدْنُ یَا اَحْمَدْ نصیبِ لَنْ تَراَنِیْ ہے

نصیبِ دوستاں گر اُن کے دَر پر مَوت آنی ہے
خدا یوں ہی کرے پھر تو ہمیشہ زندگانی ہے

اُسی در پر تڑپتے ہیں مچلتے ہیں بلکتے ہیں
اٹھا جاتا نہیں کیا خوب اپنی ناتوانی ہے

ہر اِک دیوار و در پر مہر نے کی ہے جبیں سائی
نگارِ مسجدِ اقدس میں کب سونے کا پانی ہے

تِرے منگتا کی خاموشی شفاعت خواہ ہے اُس کی
زبانِ بے زبانی ترجمانِ خستہ جانی ہے

کھلے کیا رازِ محبوب و محب مستانِ غفلت پر
شرابِ قَدْرَأَی الْحَقّ زیبِ جامِ مَنْ رَّاٰنِیْ ہے

جہاں کی خاکروبی نے چمن آرا کیا تجھ کو
صبا ہم نے بھی اُن گلیوں کی کچھ دن خاک چھانی ہے

شہا کیا ذات تیری حق نما ہے فردِ امکاں میں
کہ تجھ سے کوئی اوّل ہے نہ تیرا کوئی ثانی ہے

کہاں اس کو شکِ جانِ جناں میں زَر کی نقّاشی
اِرم کے طائرِ رنگِ پریدہ کی نشانی ہے

ذِیَابٌ فِی ثِیَابٍ لب پہ کلمہ دل میں گستاخی
سلام اسلام ملحد کو کہ تسلیمِ زبانی ہے

یہ اکثر ساتھ اُن کے شانہ و مسواک کا رہنا
بتاتا ہے کہ دل ریشوں پہ زائد مہربانی ہے

اِسی سرکار سے دنیا و دیں ملتے ہیں سائل کو
یہی دربارِ عالی کنزِ آمال و امانی ہے

دُرودیں صورتِ ہالہ محیطِ ماہِ طیبہ ہیں
برستا امّتِ عاصی پہ اب رحمت کا پانی ہے

تَعَالَی اللہ استغنا تِرے در کے گداؤں کا
کہ ان کو عار فرّ و شوکتِ صاحِبْ قِرانی ہے

وہ سرگرمِ شفاعت ہیں عَرَق افشاں ہے پیشانی
کرم کا عطر، صندل کی زمیں، رحمت کی گھانی ہے

یہ سرہو اور وہ خاکِ در، وہ خاکِ در ہو اور یہ سر
رضؔا وہ بھی اگر چاہیں تو اب دل میں یہ ٹھانی ہے

حدائقِ بخشش

...

Suntay Hain Ke Mehshar Mein

سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
گر اُن کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے

مچلا ہے کہ رحمت نے امّید بندھائی ہے
کیا بات تِری مجرم کیا بات بنائی ہے

سب نے صفِ محشر للکار دیا ہم کو
اے بے کسوں کے آقا! اب تیری دہائی ہے

یوں تو سب اُنھیں کا ہے پر دل کی اگر پوچھو
یہ ٹوٹے ہوئے دل ہی خاص اُن کی کمائی ہے

زائر گئے بھی کب کے دن ڈھلنےپہ ہے پیارے
اٹھ میرے اکیلے چل کیا دیر لگائی ہے

بازارِ عمل میں تو سودا نہ بنا اپنا
سرکارِ کرم تجھ میں عیبی کی سمائی ہے

گرتے ہووں کو مژدہ سجدے میں گرے مولیٰ
رو رو کے شفاعت کی تمہید اٹھائی ہے

اے دل یہ سلگنا کیا جلنا ہے تو جل بھی اٹھ
دم گھٹنے لگا ظالم کیا دھونی رَمائی ہے

مجرم کو نہ شرماؤ اَحباب کفن ڈھک دو
منھ دیکھ کے کیا ہوگا پردے میں بھلائی ہے

اب آپی سنبھالیں تو کام اپنے سنبھل جائیں
ہم نے تو کمائی سب کھیلوں میں گنوائی ہے

اے عشق تِرے صدقے جلنے سےچُھٹے سستے
جو آگ بجھا دے گی وہ آگ لگائی ہے

حرص و ہوسِ بد سے دل تو بھی ستم کر لے
تو ہی نہیں بے گانہ دنیا ہی پرائی ہے

ہم دل جلے ہیں کس کے ہَٹ فتنوں کے پرکالے
کیوں پھونک دوں اِک اُف سے کیا آگ لگائی ہے

طیبہ نہ سہی افضل مکّہ ہی بڑا زاہد
ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے

مطلع میں یہ شک کیا تھا واللہ رضؔا واللہ
صرف اُن کی رسائی ہے صرف اُن کی رسائی ہے

حدائقِ بخشش

...

Hirz e Jaan Zikr e Shafaat Kijiye

حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجیے
نار سے بچنے کی صورت کیجیے

اُن کے نقشِ پا پہ غیرت کیجیے
آنکھ سے چھپ کر زیارت کیجیے

اُن کے حُسنِ با ملاحت پر نثار
شیرۂ جاں کی حلاوت کیجیے

اُن کے در پر جیسے ہو مٹ جائیے
ناتوانو! کچھ تو ہمّت کیجیے

پھیر دیجے پنجۂ دیوِ لعیں
مصطفیٰ کے بل پہ طاقت کیجیے

ڈوب کر یادِ لبِ شاداب میں
آبِ کوثر کی سباحت کیجیے

یادِ قامت کرتے اٹھیے قبر سے
جانِ محشر پر قیامت کیجیے

اُن کے در پر بیٹھیے بن کر فقیر
بے نواؤ! فکرِ ثروت کیجیے

جس کا حُسن اللہ کو بھی بھا گیا
ایسے پیارے سے محبّت کیجیے

حَیِّ باقی جس کی کرتا ہے ثنا
مرتے دم تک اس کی مدحت کیجیے

عرش پر جس کی کمانیں چڑھ گئیں
صدقے اُس بازو پہ قوّت کیجیے

نیم وا طیبہ کے پھولوں پر ہو آنکھ
بلبلو! پاسِ نزاکت کیجیے

سر سے گرتا ہے ابھی بارِ گناہ
خم ذرا فرقِ ارادت کیجیے

آنکھ تو اٹھتی نہیں کیا دیں جواب
ہم پہ بے پُرسش ہی رحمت کیجیے

عذر بد تر از گنہ کا ذکر کیا
بے سبب ہم پر عنایت کیجیے

نعرہ کیجے یَا رَسُوْلَ اللہ! کا
مفلسو! سامانِ دولت کیجیے

ہم تمھارے ہو کے کس کے پاس جائیں
صدقہ شہزادوں کا، رحمت کیجیے

مَنْ رَّاٰنِیْ قَدْ رَأَی الْحَقّ جو کہے
کیا بیاں اس کی حقیقت کیجیے

عالِمِ علمِ دو عالَم ہیں حضور
آپ سے کیا عرض حاجت کیجیے

آپ سلطانِ جہاں ہم بے نوا
یاد ہم کو وقتِ نعمت کیجیے

تجھ سے کیا کیا اے مِرے طیبہ کے چاند
ظلمتِ غم کی شکایت کیجیے

در بہ در کب تک پھریں خستہ خراب
طیبہ میں مدفن عنایت کیجیے

ہر برس وہ قافلوں کی دھوم دھام
آہ سُنیے اور غفلت کیجیے

پھر پلٹ کر منھ نہ اُس جانب کیا
سچ ہے اور دعوائے الفت کیجیے

اقربا حُبِّ وطن بے ہمتی
آہ کس کس کی شکایت کیجیے

اب تو آقا منھ دکھانے کا نہیں
کس طرح رفعِ ندامت کیجیے

اپنے ہاتھوں خود لٹا بیٹھے ہیں گھر
کس پہ دعوائے بضاعت کیجیے

کس سے کہیے کیا کیا کیا ہو گیا
خود ہی اپنے پر ملامت کیجیے

عرض کا بھی اب تو منھ پڑتا نہیں
کیا علاجِ دردِ فرقت کیجیے

اپنی اک میٹھی نظر کے شہد سے
چارۂ زہرِ مصیبت کیجیے

دے خدا ہمّت کہ یہ جانِ حزیں
آپ پر واریں وہ صورت کیجیے

آپ ہم سے بڑھ کے ہم پر مہرباں
ہم کریں جرم آپ رحمت کیجیے

جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضؔا
یاد اس کی اپنی عادت کیجیے

حدائقِ بخشش

...

Dushman e Ahmad Pe Shiddat Kijiye

دشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے
ملحدوں کی کیا مروّت کیجیے

ذکر اُن کا چھیڑیے ہر بات میں
چھیڑنا شیطاں کا عادت کیجیے

مثلِ فارس زلزلے ہوں نجد میں
ذکرِ آیاتِ ولادت کیجیے

غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل
’’یَا رَسُوْلَ اللہ‘‘ کی کثرت کیجیے

کیجیے چرچا اُنھیں کا صبح و شام
جانِ کافر پر قیامت کیجیے

آپ درگاہِ خُدا میں ہیں وجیہ
ہاں شفاعت بالوجاہت کیجیے

حق تمھیں فرما چکا اپنا حبیب
اب شفاعت بالمحبّت کیجیے

اِذن کب کا مل چکا اب تو حضور
ہم غریبوں کی شفاعت کیجیے

ملحدوں کا شک نکل جائے حضور
جانبِ مہ پھر اشارت کیجیے

شرک ٹھہرے جس میں تعظیم ِحبیب
اُس بُرے مذہب پہ لعنت کیجیے

ظالمو! محبوب کا حق تھا یہی
عشق کے بدلے عداوت کیجیے

وَالضُّحٰی، حُجْرَاتْ، اَلَمْ نَشْرَحْ سے پھر
مومنو! اتمامِ حجّت کیجیے

بیٹھتے اٹھتے حضورِ پاک سے
التجا و استعانت کیجیے

یا رسول اللہ دُہائی آپ کی
گوشمالِ اہلِ بدعت کیجیے

غوثِ اعظم آپ سے فریاد ہے
زندہ پھر یہ پاک ملّت کیجیے

یا خدا تجھ تک ہے سب کا منتہیٰ
اولیا کو حکمِ نصرت کیجیے

میرے آقا حضرتِ اچھے میاں!
ہو رضؔا اچھا وہ صورت کیجیے

حدائقِ بخشش

...

Shukr e Khuda K Aj Ghari Us Safar Ki Hai

شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے
جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے

گرمی ہے تپ ہے درد ہے کلفت سفر کی ہے
نا شکر! یہ تو دیکھ عزیمت کدھر کی ہے

کس خاکِ پاک کی تو بنی خاکِ پا شفا
تجھ کو قسم جنابِ مسیحا کے سر کی ہے

آبِ حیاتِ روح ہے زرقا کی بوند بوند
اکسیرِ اعظمِ مسِ دل خاکِ در کی ہے

ہم کو تو اپنے سائے میں آرام ہی سے لائے
حیلے بہانے والوں کو یہ راہ ڈر کی ہے

لٹتے ہیں مارے جاتے ہیں یوں ہی سُنا کیے
ہر بار دی وہ امن کہ غیرت حضر کی ہے

وہ دیکھو جگمگاتی ہے شب اور قمر ابھی
پہروں نہیں کہ بست و چہارم صفر کی ہے

ماہِ مدینہ اپنی تجلّی عطا کرے!
یہ ڈھلتی چاندنی تو پہر دو پہر کی ہے

مَنْ زَارَ تُرْبَتِیْ وَجَبَتْ لَہ شَفَاعَتِیْ
اُن پر دُرود جن سے نوید اِن بُشَر کی ہے

اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دیے
اصلِ مُراد حاضری اس پاک در ہے

کعبے کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہا
پوچھا تھا ہم سے جس نے کہ نہضت کدھر کی ہے

کعبہ بھی ہے انھیں کی تجلّی کا ایک ظل
روشن انھیں کے عکس سے پتلی حجر کی ہے

ہوتے کہاں خلیل و بنا کعبہ و منیٰ
لَوْلَاک والے صاحبی سب تیرے گھر کی ہے

مولیٰ علی نے واری تِری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے

صدّیق بلکہ غار میں جان اس پہ دے چکے
اور حفظِ جاں تو جان فروضِ غُرَر کی ہے

ہاں تو نے اِن کو جان، اُنھیں پھیر دی نماز
پر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے

ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجْوَر کی ہے

شر خیر شور سور شرر دور نار نور!
بشریٰ کہ بارگاہ یہ خیر البشر کی ہے

مجرم بلائے آئے ہیں جَاءُوْک ہے گواہ
پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے

بد ہیں مگر انھیں کے ہیں باغی نہیں ہیں ہم
نجدی نہ آئے اس کو یہ منزل خطر کی ہے

تف نجدیت نہ کفر نہ اسلام سب پہ حرف
کافر اِدھر کی ہے نہ اُدھر کی اَدھر کی ہے

حاکم ، حکیم داد و دوا دیں یہ کچھ نہ دیں
مردود یہ مُراد کس آیت، خبر کی ہے

شکلِ بشر میں نورِ الٰہی اگر نہ ہو!
کیا قدر اُس خمیرۂ ما و مدر کی ہے

نورِ الٰہ کیا ہے محبّت حبیب کی
جس دل میں یہ نہ ہو وہ جگہ خوک و خر کی ہے

ذکرِ خدا جو اُن سے جُدا چاہو نجدیو!
واللہ! ذکرِ حق نہیں کنجی سقر کی ہے

بے اُن کے واسطے کے خدا کچھ عطا کرے
حاشا غلط غلط یہ ہوس بے بصر کی ہے

مقصود یہ ہیں آدم و نوح و خلیل سے
تخمِ کرم میں ساری کرامت ثمر کی ہے

اُن کی نبوّت ، اُن کی اُبوّت ہے سب کو عام
اُمُّ البشر عروس اُنھیں کے پسر کی ہے

ظاہر میں میرے پھول حقیقت میں میرے نخل
اس گُل کی یاد میں یہ سدا بو البشر کی ہے

پہلے ہو اُن کی یاد کہ پائے جِلا نماز
یہ کہتی ہے اذان جو پچھلے پہر کی ہے

دنیا مزار حشر جہاں ہیں غفور ہیں
ہر منزل اپنے چاند کی منزل غفر کی ہے

اُن پر دُرود جن کو حجر تک کریں سلام
اُن پر سلام جن کو تحیّت شجر کی ہے

اُن پر دُرود جن کو کسِ بے کساں کہیں
اُن پر سلام جن کو خبر بے خبر کی ہے

جنّ و بشر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَام
یہ بارگاہ مالکِ جنّ و بشر کی ہے

شمس و قمر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَام
خوبی انھیں کی جوت سے شمس و قمر کی ہے

سب بحر و بر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَام
تملیک اُنھیں کے نام تو ہر بحر و بر کی ہے

سنگ و شجر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَام
کلمے سے تر زبان درخت و حجر کی ہے

عرض و اثر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَام
ملجا یہ بارگاہ دُعا و اثر کی ہے

شوریدہ سر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَام
راحت انھیں کے قدموں میں شوریدہ سر کی ہے

خستہ جگر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَام
مرہم یہیں کی خاک تو خستہ جگر کی ہے

سب خشک و تر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَام
یہ جلوہ گاہ مالکِ ہر خشک و تر کی ہے

سب کرّ و فر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَام
ٹوپی یہیں تو خاک پہ ہر کرّ و فر کی ہے

اہلِ نظر سلام کو حاضر ہیں اَلسَّلَام
یہ گرد ہی تو سُرمہ سب اہلِ نظر کی ہے

آنسو بہا کہ بہہ گئے کالے گنہ کے ڈھیر
ہاتھی ڈوباؤ جھیل یہاں چشمِ تر کی ہے

تیری قضا خلیفۂ احکامِ ذِی الجلال
تیری رضا حلیف قضا و قدر کی ہے

یہ پیاری پیاری کیاری تِرے خانہ باغ کی
سرد اس کی آب و تاب سے آتش سقر کی ہے

جنّت میں آکے نار میں جاتا نہیں کوئی
شکرِ خدا نوید نجات و ظفر کی ہے

مومن ہوں، مومنوں پہ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡم ہو
سائل ہوں، سائلوں کو خوشی لا نہر کی ہے

دامن کا واسطہ مجھے اُس دھوپ سے بچا
مجھ کو تو شاق جاڑوں میں اِس دوپہر کی ہے

ماں، دونوں بھائی، بیٹے، بھتیجے، عزیز، دوست
سب تجھ کو سونپے مِلک ہی سب تیرے گھر کی ہے

جن جن مرادوں کے لیے احباب نے کہا
پیشِ خبیر کیا مجھے حاجت خبر کی ہے

فضلِ خدا سے غیبِ شہادت ہوا انھیں
اس پر شہادت آیت و وحی و اثر کی ہے

کہنا نہ کہنے والے تھے جب سے تو اطلاع
مولیٰ کو قول و قائل و ہر خشک و تر کی ہے

اُن پر کتاب اتری بَیَانًا لِّکُلِّ شَیْء
تفصیل جس میں مَا عَبَر و مَا غَبَر کی ہے

آگے رہی عطا وہ بقدرِ طلب تو کیا
عادت یہاں امید سے بھی بیشتر کی ہے

بے مانگے دینے والے کی نعمت میں غرق ہیں
مانگے سے جو ملے کسے فہم اس قدر کی ہے

اَحباب اس سے بڑھ کے تو شاید نہ پائیں عرض
ناکردہ عرض عرض یہ طرزِ دگر کی ہے

دنداں کا نعت خواں ہوں نہ پایاب ہوگی آب
ندّی گلے گلے مِرے آبِ گُہر کی ہے

دشتِ حرم میں رہنے دے صیّاد اگر تجھے
مٹّی عزیز بلبلِ بے بال و پر کی ہے

یا رب! رضؔا نہ احمدِ پارینہ ہو کے جائے
یہ بارگاہ تیرے حبیبِ اَبَر کی ہے

توفیق دے کہ آگے نہ پیدا ہو خوئے بد
تبدیل کر جو خصلتِ بد پیشتر کی ہے

آ کچھ سُنا دے عشق کے بولوں میں، اے رضؔا!
مشتاق طبع لذّتِ سوزِ جگر کی ہے

حدائقِ بخشش

...

Bheeni Suhani Subha Mein

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے
کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے

کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے
چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے

ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری
کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے

ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے
سونپا خدا کو یہ عظمت کس سفر کی ہے

ہم گردِ کعبہ پھرتے تھے کل تک اور آج وہ
ہم پر نثار ہے یہ ارادت کدھر کی ہے

کالک جبیں کی سجدۂ در سے چھڑاؤ گے
مجھ کو بھی لے چلو یہ تمنّا حجر کی ہے

ڈوبا ہوا ہے شوق میں زمزم اور آنکھ سے
جھالے برس رہے ہیں یہ حسرت کدھر کی ہے

برسا کہ جانے والوں پہ گوہر کروں نثار
ابرِ کرم سے عرض یہ میزابِ زر کی ہے

آغوشِ شوق کھولے ہے جن کے لیے حطیم
وہ پھر کے دیکھتے نہیں یہ دُھن کدھر کی ہے

ہاں ہاں رہِ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ
او پاؤں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے

واروں قدم قدم پہ کہ ہر دم ہے جانِ لو
یہ راہِ جاں فزا مِرے مولیٰ کے در کی ہے

گھڑیاں گنی ہیں برسوں کہ یہ سُب گھڑی پھری
مر مر کے پھر یہ سل مِرے سینے سے سر کی ہے

اَللہُ اَکْبَر! اپنے قدم اور یہ خاکِ پاک
حسرت ملائکہ کو جہاں وضعِ سر کی ہے

معراج کا سماں ہے کہاں پہنچے زائرو!
کرسی سے اونچی کرسی اسی پاک گھر کی ہے

عشّاقِ رَوضہ سجدے میں سوئے حرم جھکے
اللہ جانتا ہے کہ نیّت کدھر کی ہے

یہ گھر، یہ در ہے اس کا جو گھر، در سے پاک ہے
مژدہ ہو بے گھرو! کہ صلا اچھے گھر کی ہے

محبوبِ ربِّ عرش ہے اس سبز قبّہ میں
پہلو میں جلوہ گاہ عتیق و عمر کی ہے

چھائے ملائکہ ہیں تو لگاتا رہے وُردو!
بدلے ہیں پہرے بدلی میں بارش دُرَر کی ہے

سعدین کا قران ہے پہلوئے ماہ میں
جھرمٹ کیے ہیں تارے تجلّی قمر کی ہے

ستّر ہزار صبح ہیں ستّر ہزار شام
یوں بندگیِ زلف و رُخ آٹھوں پہر کی ہے

جو ایک بار آئے دوبارہ نہ آئیں گے
رخصت ہی بارگاہ سے بس اس قدر کی ہے

تڑپا کریں بدل کے پھر آنا کہاں نصیب
بے حکم کب مجال پرندے کو پر کی ہے

اے وائے بے کسیِ تمنّا کہ اب امید
دن کو نہ شام کی ہے نہ شب کو سحر کی ہے

یہ بدلیاں نہ ہوں تو کروروں کی آس جائے
اور بارگاہ مرحمتِ عام تر کی ہے

معصوموں کو ہے عمر میں صرف ایک بار بار
عاصی پڑے رہیں تو صلا عمر بھر کی ہے

زندہ رہیں تو حاضریِ بارگہ نصیب
مرجائیں تو حیاتِ ابد عیش گھر کی ہے

مفلس اور ایسے در سے پھرے بے غنی ہوئے
چاندی ہر اک طرح تو یہاں گدیہ گر کی ہے

جاناں پہ تکیہ خاک نہالی ہے دل نہال
ہاں بے نواؤ خوب یہ صورت گزر کی ہے

ہیں چتر و تخت سایۂ دیوار و خاکِ در
شاہوں کو کب نصیب یہ دھج کرّ و فر کی ہے

اس پاک کُو میں خاک بسر سر بخاک ہیں
سمجھے ہیں کچھ یہی جو حقیقت بسر کی ہے

کیوں تاجْدارو! خواب میں دیکھی کبھی یہ شَے
جو آج جھولیوں میں گدایانِ در کی ہے

جارو کشوں میں چہرے لکھے ہیں ملوک کے
وہ بھی کہاں نصیب فقط نام بھر کی ہے

طیبہ میں مرکے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند
سیدھی سڑک یہ شہر شفاعت نگر کی ہے

عاصی بھی ہیں چہیتے یہ طیبہ ہے زاہدو!
مکّہ نہیں کہ جانچ جہاں خیر و شر کی ہے

شانِ جمالِ طیبۂ جاناں ہے نفع محض!
وسعت جلالِ مکّہ میں سود و ضرر کی ہے

کعبہ ہے بے شک انجمن آرا دُلھن مگر
ساری بہار دلہنوں میں دولھا کے گھر کی ہے

کعبہ دُلھن ہے تربتِ اطہر نئی دلھن
یہ رشکِ آفتاب وہ غیرت قمر کی ہے

دونوں بنیں سجیلی انیلی بنی مگر
جو پی کے پاس ہے وہ سُہاگن کنور کی ہے

سر سبزِ وصل یہ ہے سیہ پوشِ ہجر وہ
چمکی دوپٹوں سے ہے جو حالت جگر کی ہے

ما و شما تو کیا کہ خلیلِ جلیل کو
کل دیکھنا کہ اُن سے تمنّا نظر کی ہے

اپنا شرف دُعا سے ہے باقی رہا قبول
یہ جانیں ان کے ہاتھ میں کنجی اثر کی ہے

جو چا ہے ان سے مانگ کہ دونوں جہاں کی خیر
زر نا خریدہ ایک کنیز اُن کے گھر کی ہے

رومی غلام دن حبشی باندیاں شبیں
گنتی کنیز زادوں میں شام و سحر کی ہے

اتنا عجب بلندیِ جنّت پہ کس لیے
دیکھا نہیں کہ بھیک یہ کس اونچے گھر کی ہے

عرشِ بریں پہ کیوں نہ ہو فردوس کا دماغ
اتری ہوئی شیبہ تِرے بام و در کی ہے

وہ خلد جس میں اترے گی ابرار کی برات
ادنیٰ نچھاور اس مِرے دولھا کے سر کی ہے

عنبر زمیں، عبیر ہوا، مشکِ تر غبار!
ادنیٰ سی یہ شناخت تِری رہ گزر کی ہے

سرکار! ہم گنواروں میں طرزِ ادب کہاں
ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے

مانگیں گے مانگے جائیں گے منھ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ ’’لَا‘‘ ہے نہ حاجت اگر کی ہے

اف بے حیائیاں کہ یہ منھ اور تِرے حضور
ہاں تو کریم ہے تِری خو درگزر کی ہے

تجھ سے چھپاؤں منھ تو کروں کس کےسامنے
کیا اور بھی کسی سے توقّع نظر کی ہے

جاؤں کہاں پکاروں کسے کس کا منھ تکوں
کیا پرسشِ اور جا بھی سگِ بے ہنر کی ہے

بابِ عطا تو یہ ہے جو بہکا اِدھر اُدھر
کیسی خرابی اس نگھرے در بدر کی ہے

آباد ایک در ہے تِرا اور تِرے سوا
جو بارگاہ دیکھیے غیرت کھنڈر کی ہے

لب وا ہیں، آنکھیں بند ہیں، پھیلی ہیں جھولیاں
کتنے مزے کی بھیک تِرے پاک در کی ہے

گھیرا اندھیریوں نے دہائی ہے چاند کی
تنہا ہوں، کالی رات ہے، منزل خطر کی ہے

قسمت میں لاکھ پیچ ہوں، سو بل، ہزار کج
یہ ساری گتھی اِک تِری سیدھی نظر کی ہے

ایسی بندھی نصیب کھلے مشکلیں کھلیں
دونوں جہاں میں دھوم تمہاری کمر کی ہے

جنّت نہ دیں، نہ دیں، تِری رویت ہو خیر سے
اس گُل کے آگے کس کو ہوس برگ و بر کی ہے

شربت نہ دیں، نہ دیں، تو کرے بات لطف سے
یہ شہد ہو تو پھر کسے پَروا شکر کی ہے

میں خانہ زاد کہنہ ہوں صورت لکھی ہوئی
بندوں، کنیزوں میں مِرے مادر پدر کی ہے

منگتا کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی
دوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے

سنکی وہ دیکھ بادِ شفاعت کہ دے ہوا
یہ آبرو رضؔا تِرے دامانِ تر کی ہے


حدائقِ بخشش

...

Woh Sarware Kishware Risalat

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کےلیے تھے

بہار ہے شادیاں مبارک چمن کو آبادیاں مبارک
مَلک فلک اپنی اپنی لے میں یہ گھر عنادل کا بولتے تھے

وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھی دھومیں
اُدھر سے انوار ہنستے آتے اِدھر سے نفحات اُٹھ رہے تھے

یہ چھوٹ پڑتی تھی اُن کے رُخ کی کہ عرش تک چاندنی تھی چھٹکی
وہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئنے تھے

نئی دلھن کی پھبن میں کعبہ نکھر کےسنورا، سنور کے نکھرا
حجر کے صدقےکمرکےاِک تل میں رنگ لاکھوں بناؤ کے تھے

نظر میں دولھا کے پیارے جلوے حیا سے محراب سر جھکائے
سیاہ پردے کے منھ پر آنچل تجلّیِ ذات بحت سے تھے

خوشی کےبادل امنڈ کے آئے دلوں کے طاؤس رنگ لائے
وہ نغمۂ نعت کا سماں تھا حرم کو خود وجد آ رہے تھے

یہ جھوما میزابِ زر کا جھومر کہ آرہا کان پر ڈھلک کر
پھوہار برسی تو موتی جھڑ کر حطیم کی گود میں بھرے تھے

دُلھن کی خوشبو سے مست کپڑے نسیمِ گستاخ آنچلوں سے
غلافِ مشکیں جو اڑ رہا تھا غزال نافے بسا رہے تھے

پہاڑیوں کا وہ حُسنِ تزئیں وہ اونچی چوٹی وہ ناز و تمکیں!
صبا سے سبزے میں لہریں آتیں دوپٹے دھانی چنے ہوئے تھے

نہا کے نہروں نے وہ چمکتا لباس آبِ رواں کا پہنا
کہ موجیں چھڑیاں تھیں دھار لچکا حبابِ تاباں کے تھل ٹکے تھے

پرانا پر داغ ملگجا تھا اٹھا دیا فرش چاندنی کا
ہجومِ تارِ نگہ سے کوسوں قدم قدم فرش بادلے تھے

غبار بن کر نثار جائیں کہاں اب اُس رہ گزر کو پائیں
ہمارے دل حوریوں کی آنکھیں فرشتوں کے پر جہاں بچھے تھے

خدا ہی دے صبر جانِ پُر غم دکھاؤں کیوں کر تجھے وہ عالم
جب اُن کو جھرمٹ میں لے کے قدسی جناں کا دولھا بنا رہے تھے

اتار کر ان کے رخ کا صدقہ یہ نور کا بٹ رہا تھا باڑا
کہ چاند سورج مچل مچل کر جبیں کی خیرات مانگتے تھے

وہی تو اب تک چھلک رہا ہے وہی تو جوبن ٹپک رہا ہے
نہانےمیں جو گرا تھا پانی کٹورے تاروں نے بھر لیے تھے

بچا جو تلووں کا ان کےدھوون بنا وہ جنّت کا رنگ و روغن
جنھوں نے دولھا کی پائی اُترن وہ پھول گلزارِ نور کے تھے

خبر یہ تحویلِ مہر کی تھی کہ رُت سہانی گھڑی پھرے گی
وہاں کی پوشاک زیبِ تن کی یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھے

تجلیِ حق کا سہرا سر پر صلاۃ و تسلیم کی نچھاوڑ
دو رویہ قدسی پرے جما کر کھڑے سلامی کے واسطے تھے

جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن
مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نا مُرادی کے دن لکھے تھے

ابھی نہ آئے تھے پشتِ زیں تک کہ سر ہوئی مغفرت کی شلک
صدا شفاعت نے دی مُبارک گناہ مستانہ جھومتے تھے

عجب نہ تھا رخش کا چمکنا غزالِ دم خوردہ سا بھڑکنا
شعاعیں بکے اُڑا رہی تھیں تڑپتے آنکھوں پہ صاعقے تھے

ہجومِ اُمّید ہے گھٹاؤ مُرادیں دے کر انھیں ہٹاؤ
ادب کی باگیں لیے بڑھاؤ ملائکہ میں یہ غلغلے تھے

اٹھی جو گردِ رہِ منوّر وہ نور برسا کہ راستے بھر
گھرے تھے بادل بھرے تھے جل تھل اُمنڈ کے جنگل اُبل رہے تھے

سِتم کیا کیسی مت کٹی تھی قمر وہ خاک اُن کے رہ گزر کی
اٹھا نہ لایا کہ ملتے ملتے یہ داغ سب دیکھتا مٹے تھے

بُراق کےنقشِ سُم کے صدقے وہ گل کھلائے کےسارے رستے
مہکتے گلبن لہکتے گلشن ہرے بھرے لہلہا رہے تھے

نمازِ اقصیٰ میں تھا یہی سرّ عیاں ہوں معنیِ اوّل آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھے

یہ اُن کی آمد کا دبدبہ تھا نکھار ہر شے کا ہو رہا تھا
نجوم و افلاک جام و مینا اجالتے تھے کھنگالتے تھے

نقاب الٹے وہ مہرِ انور جلالِ رُخسار گرمیوں پر!
فلک کو ہیبت سے تپ چڑھی تھی تپکتے انجم کے آبلے

یہ جوششِ نور کا اثر تھا کہ آبِ گوہر کمر کمر تھا
صفائے رہ سے پھسل پھسل کر ستارے قدموں پہ لوٹتے تھے

بڑھا یہ لہرا کے بحرِ وحدت کہ دُھل گیا نامِ ریگِ کثرت
فلک کے ٹیلوں کی کیا حقیقت یہ عرش و کرسی دوبلبلے تھے

وہ ظِلِّ رحمت وہ رخ کے جلوے کہ تارے چھپتے نہ کھلنے پاتے
سنہری زربفت اودی اطلس یہ تھان سب دھوپ چھاؤں کے تھے

چلا وہ سروِ چماں خراماں نہ رُک سکا سدرہ سے بھی داماں
پلک جھپکتی رہی وہ کب کے سب این و آں سے گزر چکے تھے

جھلک سی اِک قدسیوں پر آئی ہوا بھی دامن کی پھر نہ پائی
سواری دولھا کی دور پہنچی برات میں ہوش ہی گئے تھے

تھکے تھے روح الامیں کے بازو چھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو
رکاب چھوٹی امید ٹوٹی نگاہِ حسرت کے ولولے تھے

روش کی گرمی کو جس نے سوچا دماغ سے اِک بھبوکا پھوٹا
خرد کے جنگل میں پھول چمکا دَہَر دَہَر پیڑ جل رہے تھے

جِلو میں جو مرغِ عقل اڑے تھے عجب بُرے حالوں گرتے پڑتے
وہ سدرہ ہی پر رہے تھےتھک کر چڑھا تھا دم تیور آ گئے تھے

قوی تھے مرغانِ وہم کے پر اڑے تو اڑنے کو اور دم بھر
اٹھائی سینے کی ایسی ٹھوکر کہ خونِ اندیشہ تھوکتے تھے

سُنا یہ اتنے میں عرشِ حق نےکہ لے مبارک ہوں تاج والے
وہی قدم خیر سے پھر آئے جو پہلے تاجِ شرف ترے تھے

یہ سن کے بے خود پکار اٹھا نثار جاؤں کہاں ہیں آقا
پھر ان کے تلووں کا پاؤں بوسہ یہ میری آنکھوں کے دن پھرے تھے

جھکا تھا مجرے کو عرشِ اعلیٰ گرے تھے سجدے میں بزمِ بالا
یہ آنکھیں قدمو سے مل رہا تھا وہ گرد قربان ہو رہے تھے

ضیائیں کچھ عرش پر یہ آئیں کہ ساری قندیلین جھلملائیں
حضورِ خورشید کیا چمکتے چراغ منھ اپنا دیکھتے تھے

یہی سماں تھا کہ پیکِ رحمت خبر یہ لایا کہ چلیے حضرت
تمھاری خاطر کشادہ ہیں جو کلیم پر بند راستے تھے

بڑھ اے محمد قریں ہو احمد قریب آ سرورِ ممجد
نثار جاؤں یہ کیا ندا تھی یہ کیا سماں تھا یہ کیا مزے تھے

تَبَارَکَ اللہُ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوشِ لَنْ تَرَانِیْ کہیں تقاضے وصال کے تھے

خرد سے کہہ دو کہ سر جھکالے گماں سے گزرے گزرنے والے
پڑے ہیں یاں خود جہت کو لالے کسے بتائے کدھر گئے تھے

سُراغِ اَین و مَتٰی کہاں تھا نشانِ کیف و الیٰ کہاں تھا
نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی نہ سنگِ منزل نہ مرحلے تھے

اُدھر سے پیہم تقاضے آنا اِدھر تھا مشکل قدم بڑھانا
جلال و ہیبت کا سامنا تھا جمال و رحمت اُبھارتے تھے

بڑھے تو لیکن جھجھکتے ڈرتے حیا سے جھکتے ادب سے رکتے
جو قراب انھیں کی روش پہ رکھتے تو لاکھوں منزل کے فاصلے تھے

پر ان کا بڑھنا تو نام کو تھا حقیقۃً فعل تھا اُدھر کا
تنزّلوں میں ترقی افزا دَنٰی تَدَلّٰی کے سلسلے تھے

ہوا نہ آخر کہ ایک بجرا تموّجِ بحرِ ہُوْ میں اُبھرا
دَنٰی کی گودی میں ان کو لے کر فنا کے لنگر اٹھا دیے تھے

کسے ملے گھاٹ کا کنارہ کدھر سے گزرا کہاں اتارا
بھرا جو مثلِ نظر طرارا وہ اپنی آنکھوں سے خود چھپے تھے

اٹھے جو قصرِ دَنٰی کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جا ہی نہیں دوئی کی نہ کہہ کہ وہ بھی نہ تھے ارے تھے

وہ باغ کچھ ایسا رنگ لایا کہ غنچہ و گل کا فرق اٹھایا
گرہ میں کلیوں کی باغ پھولے گلوں کے تکمے لگے ہوئے تھے

محیط و مرکز میں فرق مشکل رہے نہ فاصل خطوطِ واصل
کمانیں حیرت میں سر جھکائے عجیب چکر میں دائرے تھے

حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے

زبانیں سوکھی دکھا کے موجیں تڑپ رہی تھیں کہ پانی پائیں
بھنور کو یہ ضعفِ تشنگی تھا کہ حلقے آنکھوں میں پڑ گئے تھے

وہی ہے اوّل وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر
اُسی کے جلوے اُسی سےملنے اُسی سے اُس کی طرف گئے تھے

کمانِ امکاں کے جھوٹے نقطو! تم اوّل آخر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئے کدھر گئے تھے

اُدھر سے تھیں نذرِ شہ نمازیں اِدھر سے انعامِ خسروی میں
سلام و رحمت کے ہار گندھ کر گُلوئے پُر نور میں پڑے تھے

زبان کو انتظارِ گفتن تو گوش کو حسرتِ شنیدن
یہاں جو کہنا تھا کہہ لیا تھا جو بات سننی تھی سن چکے تھے

وہ برجِ بطحا کا ماہ پارہ بہشت کی سیر کو سدھارا
چمک پہ تھا خلد کا ستارہ کہ اس قمر کے قدم گئے تھے

سُرورِ مقدم کی روشنی تھی کہ تابشوں سے مہِ عرب کی
جناں کےگلشن تھے جھاڑ فرشی جو پھول تھے سب کنول بنے تھے

طرب کی نازش کہ ہاں لچکیے ادب وہ بندش کہ ہل نہ سکیے
یہ جوشِ ضِدّین تھا کہ پودے کشاکشِ ارّہ کے تلےتھے

خدا کی قدرت کہ چاند حق کے کروروں منزل میں جلوہ کر کے
ابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی کہ نور کے تڑکے آلیے تھے

نَبِّیِ رحمت شفیعِ اُمّت رضؔا پہ للہ ہو عنایت
اِسے بھی اُن خلعتوں سے حصّہ جو خاص رحمت کے واں بٹے تھے

ثنائے سرکار ہے وظیفہ قبولِ سرکار ہے تمنّا
نہ شاعری کی ہوس نہ پروا روی تھی کیا کیسے قافیے تھے

حدائقِ بخشش

...

An Arabic Kalam of Alahazrat

اَلَآ یٰٓاَیُّھَاالسَّاقِیْٓ اَدِرْ کَاسًا وَّنَاوِلْھَا
کہ بر یادِ شہِ کوثر بنا سازیم محفلہا

بلا بارید حُبِّ شیخِ نجدی بر وہابیّہ
کہ عشق آساں نمود اوّل ولے افتاد مشکلہا

وہابی گرچہ اخفا می کند بغضِ نبی لیکن
نہاں کے ماند آں رازے کزو سازند محفلہا

توہّب گاہ ملکِ ہند اقامت را نمی شاید
جرس فریاد می دارد کہ بر بندید محملہا

صلائے مجلسم در گوش آمد بیں بیا بشنو
جرس مستانہ می گوید کہ بر بندید محملہا

مگر داں رُو ازیں محفل رہِ اربابِ سنّت رَو
کہ سالک بے خبر نبود زِ راہ و رسم منزلہا

در ایں جلوت بیا از راہِ خلوت تا خُدا یابی
مَتٰی مَاتَلْقَ مَنْ تَھْوٰی دَعِ الدُّنْیَا وَاَمْھِلْھَا

دلم قربانت اے دودِ چراغِ محفلِ مولد
ز تاب جعدِ مشکینت چہ خوں افتاد در دلہا

غریقِ بحرِ عشقِ احمدیم از فرحتِ مولد
کجا دانند حالِ ما سُبکسارانِ ساحلہا

رضؔاءِ مستِ جامِ عشقِ ساغر باز می خواہد
اَلَآ یٰٓاَیُّھَاالسَّاقِیْ اَدِرْ کَاسًا وَّنَاوِلْھَا

حدائقِ بخشش

...