Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan  

Ankhen Ro Ro Ke Sujane Wale

آنکھیں رو رو کے سُجانے والے
جانے والے نہیں آنے والے

کوئی دن میں یہ سرا اوجڑ ہے
ارے او چھاؤنی چھانے والے

ذبح ہوتے ہیں وطن سے بچھڑے
دیس کیوں گاتے ہیں گانے والے

ارے بد فال بری ہوتی ہے
دیس کا جنگلا سنانے والے

سن لیں اَعدا! میں بگڑنے کا نہیں
وہ سلامت ہیں بنانے والے

آنکھیں کچھ کہتی ہیں تجھ سے پیغام
او درِ یار کے جانے والے

پھر نہ کروٹ لی مدینے کی طرف
ارے چل جھوٹے بہانے والے

نفس! میں خاک ہوا تو نہ مٹا
ہے مِری جان کے کھانے والے

جیتے کیا دیکھ کے ہیں اے حورو!
طیبہ سے خُلد میں آنے والے

نیم جلوے میں دو عالم گلزار
واہ وا رنگ جمانے والے

حُسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سُنا
کہتے ہیں اگلے زمانے والے

وہی سدھوم ان کی ہے مَا شَآءَ اللہ!
مِٹ گئے آپ مٹانے والے

لبِ سیراب کا صدقہ پانی
اے لگی دل کی بجھانے والے

ساتھ لے لو مجھے میں مجرم ہوں
راہ میں پڑتے ہیں تھانے والے

ہو گیا دَھک سے کلیجا میرا
ہائے رخصت کی سنانے والے

خلق تو کیا کہ ہیں خالق کو عزیز
کچھ عجب بھاتے ہیں بھانے والے

کشتۂ دشتِ حرم جنّت کی
کھڑکیاں اپنے سِرہانے والے

کیوں رضؔا آج گلی سونی ہے
اٹھ مِرے دھوم مچانے والے

حدائقِ بخشش

...

kiya mahekte hain Mehakne Wale

کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
بو پہ چلتے ہیں بھٹکنے والے

جگمگا اٹھی مِری گور کی خاک
تیرے قربان چمکنے والے

مہِ بے داغ کے صدقے جاؤں
یوں دمکتے ہیں دمکنے والے

عرش تک پھیلی ہے تابِ عارض
کیا جھلکتے ہیں جھلکنے والے

گُل طیبہ کی ثنا گاتے ہیں
نخل طوبیٰ پہ چہکنے والے

عاصیو! تھام لو دامن اُن کا
وہ نہیں ہاتھ جھٹکنے والے

ابرِ رحمت کے سلامی رہنا
پھلتے ہیں پودے لچکنے والے

ارے یہ جلوہ گہِ جاناں ہے
کچھ ادب بھی ہے پھڑکنے والے

سنّیو! ان سے مدد مانگے جاؤ
پڑے بکتے رہیں بکنے والے

شمعِ یادِ رُخِ جاناں نہ بجھے
خاک ہو جائیں بھڑکنے والے

موت کہتی ہے کہ جلوہ ہے قریب
اِک ذرا سو لیں بلکنے والے

کوئی اُن تیز رووں سے کہہ دو
کس کے ہو کر رہیں تکھنے والے

دل سلگتا ہی بھلا ہے اے ضبط
بجھ بھی جاتے ہیں دہکنے والے

ہم بھی کمھلانے سے غافل تھے کبھی
کیا ہنسا غنچے چٹکنے والے

نخل سے چھٹ کے یہ کیا حال ہوا
آہ او پتّے کھڑکنے والے

جب گرے منھ سوئے مَے خانہ تھا
ہوش میں ہیں یہ بہکنے والے

دیکھ او زخمِ دل آپے کو سنبھال
پھوٹ بہتے ہیں تپکنے والے

مَے کہاں اور کہاں میں زاہد
یوں بھی تو چھکتے ہیں چھکنے والے

کفِ دریائے کرم میں ہیں رضؔا
پانچ فوّارے چھلکنے والے

حدائقِ بخشش

...

Rah Pur Khar Hai Kya Hona Hai

راہ پُر خار ہے کیا ہونا ہے
پاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے

خشک ہے خون کہ دشمن ظالم
سخت خوں خوار ہے کیا ہونا ہے

ہم کو بدِ کر وہی کرنا جس سے
دوست بیزار ہے کیا ہونا ہے

تن کی اب کون خبر لے ہے ہے
دل کا آزار ہے کیا ہونا ہے

میٹھے شربت دے مسیحا جب بھی
ضد ہے انکار ہے کیا ہونا ہے

دل کہ تیمار ہمارا کرتا
آپ بیمار ہے کیا ہونا ہے

پَر کٹے تنگ قفس اور بلبل
نو گرفتار ہے کیا ہونا ہے

چھپ کے لوگوں سے کیے جس کے گناہ
وہ خبر دار ہے کیا ہونا ہے

ارے او مجرم بے پروا دیکھ
سر پہ تلوار ہے کیا ہونا ہے

تیرے بیمار کو میرے عیسیٰ
غش لگاتار ہے کیا ہونا ہے

نفسِ پُر زور کا وہ زور اور دل
زیر ہے زار ہے کیا ہونا ہے

کام زنداں کے کیے اور ہمیں
شوقِ گلزار ہے کیا ہونا ہے

ہائے رے نیند مسافر تیری
کوچ تیار ہے کیا ہونا ہے

دور جانا ہے رہا دن تھوڑا
راہ دشوار ہے کیا ہونا ہے

گھر بھی جانا ہے مسافر کہ نہیں
مت پہ کیا مار ہے کیا ہونا ہے

جان ہلکان ہوئی جاتی ہے
بار سا بار ہے کیا ہونا ہے

پار جانا ہے نہیں ملتی ناؤ
زور پر دھار ہے کیا ہونا ہے

راہ تو تیغ پر اور تلووں کو
گلۂ خار ہے کیا ہونا ہے

روشنی کی ہمیں عادت اور گھر
تیرہ و تار ہے کیا ہونا ہے

بیچ میں آگ کا دریا حائل
قصد اس پار ہے کیا ہونا ہے

اس کڑی دھوپ کو کیوں کر جھیلیں
شعلہ زن نار ہے کیا ہونا ہے

ہائے بگڑی تو کہاں آ کر ناؤ
عین منجدھار ہے کیا ہونا ہے

کل تو دیدار کا دن اور یہاں
آنکھ بے کار ہے کیا ہونا ہے

منھ دکھانے کا نہیں اور سحر
عام دربار ہے کیا ہونا ہے

ان کو رحم آئے تو آئے ورنہ
وہ کڑی مار ہے کیا ہونا ہے

لے وہ حاکم کے سپاہی آئے
صبح اظہار ہے کیا ہونا ہے

واں نہیں بات بنانے کی مجال
چارہ اقرار ہے کیا ہونا ہے

ساتھ والوں نے یہیں چھوڑ دیا
بے کسی یار ہے کیا ہونا ہے

آخری دید ہے آؤ مل لیں
رنج بے کار ہے کیا ہونا ہے

دل ہمیں تم سے لگانا ہی نہ تھا
اب سفر بار ہے کیا ہونا ہے

جانے والوں پہ یہ رونا کیسا
بندہ ناچار ہے کیا ہونا ہے

نزع میں دھیان نہ بٹ جائے کہیں
یہ عبث پیار ہے کیا ہونا ہے

اُس کا غم ہے کہ ہر اِک کی صورت
گلے کا ہار ہے کیا ہونا ہے

باتیں کچھ اور بھی تم سے کرتے
پر کہاں وار ہے کیا ہونا ہے

کیوں رضؔا کڑھتے ہو ہنستے اٹھو
جب وہ غفّار ہے کیا ہونا ہے

حدائقِ بخشش

...

Kis K Jalwey Ki Jhalak Hai

کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
ہر طرف دیدۂ حیرت زدہ تکتا کیا ہے

مانگ من مانتی منھ مانگی مرادیں لے گا
نہ یہاں ’’نا‘‘ ہے نہ منگتا سے یہ کہنا ’’کیا ہے‘‘

پند کڑوی لگے ناصح سے ترش ہواے نفس
زہرِ عصیاں میں ستمگر تجھے میٹھا کیا ہے

ہم ہیں اُن کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرے
اس سے بڑھ کر تِری سمت اور وسیلہ کیا ہے

ان کی امّت میں بنایا انھیں رحمت بھیجا
یوں نہ فرما کہ تِرا رحم میں دعویٰ کیا ہے

صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب
بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے

زاہد اُن کا میں گنہ گار وہ میرے شافع
اتنی نسبت مجھے کیا کم ہے تو سمجھا کیا ہے

ق: بے بسی ہو جو مجھے پرسشِ اعمال کے وقت
دوستو! کیا کہوں اُس وقت تمنّا کیا ہے

کاش فریاد مِری سُن کے یہ فرمائیں حضور
ہاں کوئی دیکھو یہ کیا شور ہے غوغا کیا ہے

کون آفت زدہ ہے کس پہ بلا ٹوٹی ہے
کس مصیبت میں گرفتار ہے صدمہ کیا ہے

کس سے کہتا ہے کہ للہ خبر لیجے مِری
کیوں ہے بے تاب یہ بے چینی کا رونا کیا ہے

اس کی بے چینی سے ہے خاطرِ اقدس پہ ملال
بے کسی کیسی ہے پوچھو کوئی گزرا کیا ہے

یوں ملائک کریں معروض کہ اِک مجرم ہے
اس سے پرسش ہے بتا تونے کیا کیا کیا ہے

سامنا قہر کا ہے دفترِ اعمال ہیں پیش
ڈر رہا ہے کہ خدا حکم سناتا کیا ہے

آپ سے کرتا ہے فریاد کہ یا شاہِ رُسل
بندہ بے کس ہے شہا رحم میں وقفہ کیا ہے

اب کوئی دم میں گرفتارِ بلا ہوتا ہوں
آپ آجائیں تو کیا خوف ہے کھٹکا کیا ہے

سُن کے یہ عرض مِری بحر ِ کرم جوش میں آئے
یوں ملائک کو ہو ارشاد ٹھہرنا کیا ہے

کس کو تم موردِ آفات کیا چاہتے ہو!
ہم بھی تو آ کے ذرا دیکھیں تماشا کیا ہے

ان کی آواز پہ کر اُٹّھوں میں بے ساختہ شور
اور تڑپ کر یہ کہوں اب مجھے پروا کیا ہے

لو وہ آیا مِرا حامی مِرا غم خوارِ اُمَم!
آ گئی جاں تنِ بے جاں میں یہ آنا کیا ہے

پھر مجھے دامنِ اقدس میں چھپا لیں سَروَر
اور فرمائیں ہٹو اس پہ تقاضا کیا ہے

بندہ آزاد شدہ ہے یہ ہمارے در کا
کیسا لیتے ہو حساب اس پہ تمھارا کیا ہے

چھوڑ کر مجھ کو فرشتے کہیں محکوم ہیں ہم
حکمِ والا کی نہ تعمیل ہو زہرہ کیا ہے

یہ سماں دیکھ کے محشر میں اٹھے شور کہ واہ
چشمِ بد دور ہو کیا شان ہے رتبہ کیا ہے

صدقے اس رحم کے اس سایۂ دامن پہ نثار
اپنے بندے کو مصیبت سے بچایا کیا ہے

اے رضؔا! جانِ عَنادِل تِرے نغموں کے نثار
بلبلِ باغِ مدینہ تِرا کہنا کیا ہے

حدائقِ بخشش

...

Sarwar Kahoon Ke Malik o Maula

سَرور کہوں کہ مالک و مَولیٰ کہوں تجھے
باغِ خلیل کا گُلِ زیبا کہوں تجھے

حرماں نصیب ہوں تجھے امّید گہ کہوں
جانِ مراد و کانِ تمنّا کہوں تجھے

گلزارِ قُدس کا گُلِ رنگیں ادا کہوں
درمانِ دردِ بلبلِ شیدا کہوں تجھے

صبحِ وطن پہ شامِ غریباں کو دوں شرف
بے کس نواز گیسوؤں والا کہوں تجھے

اللہ رے تیرے جسمِ منوّر کی تابشیں
اے جانِ جاں میں جانِ تجلّا کہوں تجھے

بے داغ لالہ یا قمرِ بے کلف کہوں
بے خار گلبنِ چمن آرا کہوں تجھے

مجرم ہوں اپنے عفو کا ساماں کروں شہا
یعنی شفیع روزِ جزا کا کہوں تجھے

اِس مردہ دل کو مژدہ حیاتِ ابد کا دوں
تاب و توانِ جانِ مسیحا کہوں تجھے

تیرے تو وصف عیبِ تناہی سے ہیں بَری
حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے

کہہ لے گی سب کچھ اُن کے ثنا خواں کی خامشی
چپ ہو رہا ہے کہہ کے میں کیا کیا کہوں تجھے

لیکن رضؔا نے ختمِ سخن اس پہ کر دیا
خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے

حدائقِ بخشش

...

Mujda Baad Aye Aasion

مژدہ باد اے عاصیو! شافع شہِ ابرار ہے
تہنیت اے مجرمو! ذاتِ خدا غفّار ہے

عرش سا فرشِ زمیں ہے فرشِ پا عرشِ بریں
کیا نرالی طرز کی نامِ خُدا رفتار ہے

چاند شق ہو پیڑ بولیں جانور سجدے کریں
بَارَکَ اللہ مرجعِ عالَم یہی سرکار ہے

جن کو سوئے آسماں پھیلا کے جل تھل بھر دیے
صدقہ اُن ہاتھوں کا پیارے ہم کو بھی درکار ہے

لب زلالِ چشمۂ کُن میں گندھے وقتِ خمیر
مُردے زندہ کرنا اے جاں تم کو کیا دشوار ہے

گورے گورے پاؤں چمکا دو خدا کے واسطے
نور کا تڑکا ہو پیارے گور کی شب تار ہے

تیرے ہی دامن پہ ہر عاصی کی پڑتی ہے نظر
ایک جانِ بے خطا پر دو جہاں کا بار ہے

جوشِ طوفاں بحرِ بے پایاں ہَوا ناساز گار
نوح کے مولیٰ کرم کر لے تو بیڑا پار ہے

رحمۃُ لّلعالمیں تیری دہائی دب گیا
اب تو مولیٰ بے طرح سر پر گنہ کا بار ہے

حیرتیں ہیں آئینہ دارِ وُفورِ وصفِ گُل
اُن کے بلبل کی خموشی بھی لبِ اظہار ہے

گونج گونج اٹھے ہیں نغماتِ رضؔا سے بوستاں
کیوں نہ ہو کس پھول کی مدحت میں وا منقار ہے

حدائقِ بخشش

...

Arsh ki Aqal Dang Hai

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے

بزم ثنائے زلف میں میری عروسِ فکر کو
ساری بہارِ ہشت خُلد چھوٹا سا عطردان ہے

عرش پہ جاکے مرغِ عقل تھک کے گراغش آ گیا
اور ابھی منزلوں پرے پہلا ہی آستان ہے

عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دھام
کان جدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے

اِک تِرے رخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی
اِنس کا اُنس اُسی سے ہے جان کی وہ ہی جان ہے

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی، جان ہے تو جہان ہے

گود میں عالمِ شباب حالِ شباب کچھ نہ پوچھ!
گلبنِ باغِ نور کی اور ہی کچھ اٹھان ہے

تجھ سا سیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں
پھر وہ تجھی کو بھول جائیں دل یہ تِرا گمان ہے

پیشِ نظر وہ نو بہار سجدے کو دل ہے بے قرار
روکیے سر کو روکیے ہاں یہی امتحان ہے

شانِ خدا نہ ساتھ دے اُن کے خرام کا وہ باز
سدرہ سے تاز میں جسے نرم سی اک اڑان ہے

بارِ جلال اٹھا لیا گرچہ کلیجا شق ہوا
یوں تو یہ ماہِ سبزہ رنگ نظروں میں دھان پان ہے

خوف نہ رکھ رضؔا ذرا تو تو ہے عبدِ مصطفیٰ
تیرے لیے امان ہے تیرے لیے امان ہے

حدائقِ بخشش

...

Utha Do Parda Dikha Do Chehra

اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے

نہیں وہ میٹھی نگاہ والا خدا کی رحمت ہے جلوہ فرما
غضب سے اُن کے خدا بچائے جلالِ باری عتاب میں ہے

جلی جلی بو سے اُس کی پیدا ہے سوزشِ عشقِ چشمِ والا
کبابِ آہو میں بھی نہ پایا مزہ جو دل کے کباب میں ہے

اُنھیں کی بو مایۂ سمن ہے اُنھیں کا جلوہ چمن چمن ہے
اُنھیں سے گلشن مہک رہے ہیں اُنھیں کی رنگت گلاب میں ہے

تِری جلو میں ہے ماہِ طیبہ ہلال ہر مرگ و زندگی کا!
حیات جاں کا رکاب میں ہے ممات اَعدا کا ڈاب میں ہے

سیہ لباسانِ دارِ دنیا و سبز پوشانِ عرشِ اعلیٰ
ہر اک ہے اُن کے کرم کا پیاسا یہ فیض اُن کی جناب میں ہے

وہ گُل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے
گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے

جلی ہے سوزِ جگر سے جاں تک ہے طالبِ جلوۂ مُبارک
دکھا دو وہ لب کہ آبِ حیواں کا لطف جن کے خطاب میں ہے

کھڑے ہیں منکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور!
بتا دو آ کر مِرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں ہے

خدائے قہار ہے غضب پر کھلے ہیں بدکاریوں کے دفتر
بچا لو آ کر شفیعِ محشر تمھارا بندہ عذاب میں ہے

کریم ایسا ملا کہ جس کے کھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے
بتاؤ اے مفلسو! کہ پھر کیوں تمھارا دل اضطراب میں ہے

گنہ کی تاریکیاں یہ چھائیں امنڈ کے کالی گھٹائیں آئیں
خدا کے خورشید مہر فرما کہ ذرّہ بس اضطراب میں ہے

کریم! اپنے کرم کا صدقہ لئیمِ بے قدر کو نہ شرما
تو اور رضؔا سے حساب لینا رضؔا بھی کوئی حساب میں ہے

حدائقِ بخشش

...

Andheri Raat Hai Gham Ki Ghata

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
دلِ بے کس کا اِس آفت میں آقا تو ہی والی ہے

نہ ہو مایوس آتی ہے صدا گورِ غریباں سے
نبی امّت کا حامی ہے خدا بندوں کا والی ہے

اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے
اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے

ارے یہ بھیڑیوں کا بن ہے اور شام آ گئی سر پر
کہاں سویا مسافر ہائے کتنا لا اُبالی ہے

اندھیرا گھر اکیلی جان دم گھٹتا دل اُکتاتا
خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے

زمیں تپتی کٹیلی راہ بھاری بوجھ گھائل پاؤں
مصیبت جھیلنے والے تِرا اللہ والی ہے

نہ چونکا دن ہے ڈھلنے پر تِری منزل ہوئی کھوٹی
ارے او جانے والے نیند یہ کب کی نکالی ہے

رضؔا منزل تو جیسی ہے وہ اک میں کیا سبھی کو ہے
تم اس کو روتے ہو یہ تو کہو یاں ہاتھ خالی ہے

حدائقِ بخشش

...

Gunahgaroun ko Hatif Se

گنہ گاروں کو ہاتف سے نویدِ خوش مآلی ہے
مُبارک ہو شفاعت کے لیے احمد سا والی ہے

قضا حق ہے مگر اس شوق کا اللہ والی ہے
جو اُن کی راہ میں جائے وہ جان اللہ والی ہے

تِرا قدِ مبارک گلبنِ رحمت کی ڈالی ہے
اسے بو کر تِرے رب نے بنا رحمت کی ڈالی ہے

تمھاری شرم سے شانِ جلالِ حق ٹپکتی ہے
خمِ گردن ہلالِ آسمانِ ذوالجلالی ہے

زہے خود گم جو گم ہونے پہ ڈھونڈے کہ کیا پایا
ارے جب تک کہ پانا ہے جبھی تک ہاتھ خالی ہے

میں اک محتاجِ بے وقعت گدا تیرے سگِ در کا
تِری سرکار والا ہے تِرا دربار عالی ہے

تِری بخشش پسندی عذر جوئی توبہ خواہی سے
عمومِ بے گناہی جرم شانِ لا اُبالی ہے

ابو بکر و عمر، عثمان و حیدر جس کے بلبل ہیں
تِرا سروِ سہی اس گلبنِ خوبی کی ڈالی ہے

رضؔا قسمت ہی کھل جائے جو گیلاں سے خطاب آئے
کہ تو ادنیٰ سگِ درگاہِ خدامِ معالی ہے

حدائقِ بخشش

...