Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan  

Kya Hi Zoq Afza Shafaat Hai Tumhari Wah Wah

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
قرض لیتی ہے گنہ پرہیزگاری واہ واہ

خامۂ قدرت کا حُسنِ دست کاری واہ واہ
کیا ہی تصویر اپنے پیارے کی سنواری واہ واہ

اشک شب بھر انتظارِ عَفوِ امّت میں بہیں
میں فدا چاند اور یوں اختر شماری واہ واہ

اُنگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر
ندّیاں پنجابِ رحمت کی ہیں جاری واہ واہ

نور کی خیرات لینے دوڑتے ہیں مہر و ماہ
اٹھتی ہے کس شان سے گردِ سواری واہ واہ

نیم جلوے کی نہ تاب آئے قمر ساں تو سہی
مہر اور ان تلووں کی آئینہ داری واہ واہ

نفس یہ کیا ظلم ہے جب دیکھو تازہ جرم ہے
ناتواں کے سر پر اتنا بوجھ بھاری واہ واہ

مجرموں کو ڈھونڈھتی پھرتی ہے رحمت کی نگاہ
طالعِ بر گشتہ تیری ساز گاری واہ واہ

عرض بیگی ہے شفاعت عفو کی سرکار میں
چھنٹ رہی ہے مجرموں کی فرد ساری واہ واہ

کیا مدینے سے صبا آئی کہ پھولوں میں ہے آج
کچھ نئی بو بھینی بھینی پیاری پیاری واہ واہ

خود رہے پردے میں اور آئینہ عکسِ خاص کا
بھیج کر انجانوں سے کی راہ داری واہ واہ

اس طرف روضے کا نور اُس سمت منبر کی بہار
بیچ میں جنّت کی پیاری پیاری کیاری واہ واہ

صدقے اس انعام کے قربان اس اکرام کے
ہو رہی ہے دونوں عالم میں تمھاری واہ واہ

پارۂ دل بھی نہ نکلا دل سے تحفے میں رؔضا
اُن سگانِ کُوْ سے اتنی جان پیاری واہ واہ

حدائقِ بخشش

...

Sab Se Aula o Aala Hamara Nabi

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ﷺ
سب سے بالا و والا ہمارا نبی ﷺ

اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبی ﷺ
دونوں عالم کا دولھا ہمارا نبی ﷺ

بزمِ آخر کا شمع فروزاں ہوا
نورِ اوّل کا جلوہ ہمارا نبی ﷺ

جس کو شایاں ہے عرشِ خُدا پر جلوس
ہے وہ سلطانِ والا ہمارا نبی ﷺ

بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں
شمع وہ لے کر آیا ہمارا نبی ﷺ

جس کے تلووں کا دھووَن ہے آبِ حیات
ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی ﷺ

عرش و کرسی کی تھیں آئینہ بندیا
سوئے حق جب سدھارا ہمارا نبی ﷺ

خَلق سے اولیا، اولیا سے رُسُل
اور رسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبی ﷺ

حُسن کھاتا ہے جس کے نمک کی قسم
وہ ملیحِ دل آرا ہمارا نبی ﷺ

ذکر سب پھیکے جب تک نہ مذکور ہو
نمکیں حُسن والا ہمارا نبی ﷺ

جس کی دو بوند ہیں کوثر و سلسبیل
ہے وہ رحمت کا دریا ہمارا نبی ﷺ

جیسے سب کا خدا ایک ہے ویسے ہی
اِن کا، اُن کا، تمھارا، ہمارا نبی ﷺ

قرنوں بدلی رسولوں کی ہوتی رہی
چاند بدلی کا نکلا ہمارا نبی ﷺ

کون دیتا ہے دینے کو منھ چاہیے
دینے والا ہے سچا ہمارا نبی ﷺ

کیا خبر کتنے تارے کھِلے چھپ گئے
پر نہ ڈوبے نہ ڈوبا ہمارا نبی ﷺ

ملکِ کونین میں انبیا تاجْدار
تاجْداروں کا آقا ہمارا نبی ﷺ

لا مکاں تک اجالا ہے جس کا وہ ہے
ہر مکاں کا اُجالا ہمارا نبی ﷺ

سارے اچھوں میں اچھا سمجھیے جسے
ہے اُس اچھے سے اچھا ہمارا نبی ﷺ

سارے اونچوں میں اونچا سمجھیے جسے
ہے اُس اونچے سے اونچا ہمارا نبی ﷺ

انبیا سے کروں عرض کیوں مالکو!
کیا نبی ہے تمھارا ہمارا نبی ﷺ

جس نے ٹکڑے کیے ہیں قمر کے وہ ہے
نورِ وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی ﷺ

سب چمک والے اجلوں میں چمکا کیے
اندھے شیشوں میں چمکا ہمارا نبی ﷺ

جس نے مردہ دلوں کو دی عمرِ ابد
ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی ﷺ

غمزدوں کو رؔضا مژدہ دیجے کہ ہے
بے کَسوں کا سہارا ہمارا نبی ﷺ

حدائقِ بخشش

...

Dil Ko Un Se Khuda Juda Na Kare

دل کو اُن سے خدا جدا نہ کرے
بے کسی لوٹ لے خدا نہ کرے

اس میں روضے کا سجدہ ہو کہ طواف
ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے

یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیں
کون ان جرموں پر سزا نہ کرے

سب طبیبوں نے دے دیا ہے جواب
آہ عیسیٰ اگر دوا نہ کرے

دل کہاں لے چلا حرم سے مجھے
ارے تیرا برا خدا نہ کرے

عذرِ اُمّید عَفْو گر نہ سنیں
رُو سیاہ اور کیا بہانہ کرے

دل میں روشن ہے شمعِ عشقِ حضور
کاش جوشِ ہوس ہوا نہ کرے

حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے
منکر آج ان سے التجا نہ کرے

ضعف مانا مگر یہ ظالم دل
ان کے رستے میں تو تھکا نہ کرے

جب تِری خو ہے سب کا جی رکھنا
وہی اچھا جو دل برا نہ کرے

دل سے اک ذوقِ مَے کا طالب ہوں
کون کہتا ہے اتقا نہ کرے

لے رؔضا سب چلے مدینے کو
میں نہ جاؤں ارے خدا نہ کرے

حدائقِ بخشش

...

Momin Woh Hai Jo Un Ki Izat Pe

مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دل سے
تعظیم بھی کرتا ہے نجدی تو مَرے دل سے

واللہ وہ سن لیں گے فریاد کو پہنچیں گے
اتنا بھی تو ہو کوئی جو آہ کرے دل سے

بچھڑی ہے گلی کیسی بگڑی ہے بنی کیسی
پوچھو کوئی یہ صدمہ ارمان بھرےدل سے

کیا اس کو گرائے دہر جس پر تو نظر رکھے
خاک اُس کو اٹھائے حشر جو تیرے گرے دل سے

بہکا ہے کہاں مجنوں لے ڈالی بنوں کی خاک
دم بھر نہ کیا خیمہ لیلیٰ نے پَرے دل سے

سونے کو تپائیں جب کچھ مِیل ہو یا کچھ مَیل
کیا کام جہنّم کے دھرے کو کھرے دل سے

آتا ہے درِ والا یوں ذوقِ طواف آنا
دل جان سے صدقے ہو سر گِرد پھرے دل سے

اے ابرِ کرم فریاد فریاد جلا ڈالا
اس سوزشِ غم کو ہے ضد میرے ہرے دل سے

دریا ہے چڑھا تیرا کتنی ہی اڑائیں خاک
اتریں گے کہاں مجرم اے عفو ترے دل سے

کیا جانیں یمِ غم میں دل ڈوب گیا کیسا
کس تہ کو گئے ارماں اب تک نہ ترے دل سے

کرتا تو ہے یاد اُن کی غفلت کو ذرا رو کے
للہ رؔضا دل سے ہاں دل سے ارےدل سے

حدائقِ بخشش

 

...

Allah Allah k Nabi Se

اللہ اللہ کے نبی سے
فریاد ہے نفس کی بدی سے

دن بھر کھیلوں میں خاک اڑائی
لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے

شب بھر سونے ہی سے غرض تھی
تاروں نے ہزار دانت پیسے

ایمان پہ مَوت بہتر او نفس
تیری ناپاک زندگی سے

او شہد نمائے زہر در جام
گم جاؤں کدھر تِری بدی سے

گہرے پیارے پرانے دل سوز
گزرا میں تیری دوستی سے

تجھ سے جو اٹھائے میں نے صدمے
ایسے نہ ملے کبھی کسی سے

اُف رے خود کام بے مروّت
پڑتا ہے کام آدمی سے

تونے ہی کیا خدا سے نادم
تونے ہی کیا خجل نبی سے

کیسے آقا کا حکم ٹالا
ہم مر مٹے تیری خود سری سے

آتی نہ تھی جب بدی بھی تجھ کو
ہم جانتے ہیں تجھے جبھی سے

حد کے ظالم سِتم کے کٹّر
پتھر شرمائیں تیرے جی سے

ہم خاک میں مل چکے ہیں کب کے
نکلا نہ غبار تیرے جی سے

ہے ظالم میں نباہوں تجھ سے
اللہ بچائے اُس گھڑی سے

جو تم کو نہ جانتا ہو حضرت
چالیں چلیے اس اجنبی سے

اللہ کے سامنے وہ گن تھے
یاروں میں کیسے متّقی سے

رہزن نے لوٹ لی کمائی
فریاد ہے خضر ہاشمی سے

اللہ کنوئیں میں خود گِرا ہوں
اپنی نالش کروں تجھی سے

ہیں پشت پناہ غوثِ اعظم
کیوں ڈرتے ہو تم رؔضا کسی سے

حدائقِ بخشش

...

Ya Ilahi Reham Farma Mustafa K Wastey

یا الٰہی! رحم فرما مصطفیٰ کے واسطے
یارسولَ اللہ! کرم کیجے خدا کے واسطے

مشکلیں حل کر شہِ مشکل کُشا کے واسطے
کر بلائیں رد شہیدِ کربلا کے واسطے

سیّدِ سجاد کے صدقے میں ساجد رکھ مجھے
علمِ حق بے باقرِ علمِ ہُدیٰ کے واسطے

صدقِ صادق کا تَصدّق صادق الاسلام کر
بے غضب راضی ہو کاظم اور رضا کے واسطے

بہرِ معروف و سَری معروف دے بے خود سَری
جُندِ حق میں گِن جُنیدِ با صفا کے واسطے

بہرِ شبلی شیرِ حق دُنیا کے کتوں سے بچا
ایک کا رکھ عبدِ واحد بے ریا کے واسطے

بوالفرح کا صدقہ کر غم کو فرح، دے حُسن و سعد
بوالحسن اور بو سعیدِ سعد زا کے واسطے

قادری کر قادری رکھ قادریّوں میں اٹھا
قدرِ عبدالقادرِ قدرت نُما کے واسطے

اَحْسَنَ اللہُ لَہُمْ رِزْقًا سے دے رزقِ حسن
بندۂ رزّاق تاجُ الاصفیا کے واسطے

نصر ابی صالح کا صدقہ صالح و منصور رکھ
دے حیاتِ دیں مُحیِّ جاں فزا کے واسطے

طورِ عرفان و علوّ و حمد و حسنیٰ و بہا
دے علی، موسیٰ، حَسن، احمد، بہا کے واسطے

بہرِ ابراہیم مجھ پر نارِ غم گلزار کر
بھیک دے داتا بھکاری بادشا کے واسطے

خانۂ دل کو ضیا دے روئے ایماں کو جمال
شہ ضیا مولیٰ جمالُ الاولیا کے واسطے

دے محمد کے لیے روزی، کر احمد کے لیے
خوانِ فضل اللہ سے حصّہ گدا کے واسطے

دین و دنیا کے مجھے برکات دے برکات سے
عشقِ حق دے عشقیِ عشق انتما کے واسطے

حُبِِّ اہلِ بیت دے آلِ محمد کے لیے
کر شہیدِ عشق حمزہ پیشوا کے واسطے

دل کو اچھا تن کو ستھرا جان کو پُر نور کر
اچھے پیارے شمسِ دیں بدر العلیٰ کے واسطے

دو جہاں میں خادمِ آلِ رسول اللہ کر
حضرتِ آلِ رسولِ مقتدا کے واسطے

صدقہ اِن اَعیاں کے دے چھ عین عز علم و عمل
عفو و عرفاں عافیت احمد رؔضا کے واسطے

حدائقِ بخشش

...

Arshe Haq Hai Masnade Rifat Rasoolullah Ki

عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسول اللہ کی
دیکھنی ہے حشر میں عزّت رسول اللہ کی

قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نور کے
جلوہ فرما ہوگی جب طلعت رسول اللہ کی

کافروں پر تیغِ والا سے گری برقِ غضب
اَبر آسا چھا گئی ہیبت رسول اللہ کی

لَا وَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو ملا اُن سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی

وہ جہنّم میں گیا جو اُن سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی

سورج الٹے پاؤں پلٹے چاند اشارے سے ہو چاک
اندھے نجدی دیکھ لے قدرت رسول اللہ کی

تجھ سے اور جنّت سے کیا مطلب وہابی دور ہو
ہم رسول اللہ کے جنّت رسول اللہ کی

ذکر رو کے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے
پھر کہے مردک کہ ہوں امّت رسول اللہ کی

نجدی اُس نے تجھ کو مہلت دی کہ اِس عالم میں ہے
کافر و مرتد پہ بھی رحمت رسول اللہ کی

ہم بھکاری وہ کریم اُن کا خدا اُن سے فزوں
اور ’’نا‘‘ کہنا نہیں عادت رسول اللہ کی

اہلِ سنّت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا ملا
جان کی اکسیر ہے الفت رسول اللہ کی

ٹوٹ جائیں گے گنہ گاروں کے فوراً قید و بند
حشر کو کُھل جائے گی طاقت رسول اللہ کی

یارب اک ساعت میں دھل جائیں سیہ کاروں کے جرم
جوش میں آجائے اب رحمت رسول اللہ کی

ہے گُلِ باغِ قُدُس رخسار زیبائے حضور!
سروِ گلزارِ قِدم قامت رسول اللہ کی

اے رؔضا! خود صاحبِ قرآں ہے مدّاحِ حضور
تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی

حدائقِ بخشش

...

Qafle Ne Soey Taiba Qamar Aarai Ki

قافلے نے سوئے طیبہ کمر آرائی کی
مشکل آسان الٰہی مِری تنہائی کی

لاج رکھ لی طَمَعِ عفو کے سودائی کی
اے میں قرباں مِرے آقا بڑی آقائی کی

فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضر
بس قسم کھائیے اُمّی تِری دانائی کی

شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال
دھوم وَالنَّجْم میں ہے آپ کی بینائی کی

پانسو (۵۰۰) سال کی راہ ایسی ہے جیسے دو گام
آس ہم کو بھی لگی ہے تِری شنوائی کی

چاند اشارے کا ہلا حکم کا باندھا سورج
واہ کیا بات شہا! تیری توانائی کی

تنگ ٹھہری ہے رؔضا جس کے لیے وسعتِ عرش
بس جگہ دل میں ہے اس جلوۂ ہر جائی کی

حدائقِ بخشش

...

Paish e Haq Mujda Shafaat

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے

دل نکل جانے کی جا ہے آہ کن آنکھوں سے وہ
ہم سے پیاسوں کے لئے دریا بہاتے جائیں گے

کُشتگانِ گرمیِ محشر کو وہ جانِ مسیح
آج دامن کی ہوا دے کر جِلاتے جائیں گے

گُل کِھلے گا آج یہ اُن کی نسیمِ فیض سے
خون روتے آئیں گے ہم مسکراتے جائیں گے

ہاں چلو حسرت زدو سنتے ہیں وہ دن آج ہے
تھی خبر جس کی کہ وہ جلوہ دکھاتے جائیں گے

آج عیدِ عاشقاں ہے گر خدا چاہے کہ وہ
ابروئے پیوستہ کا عالم دکھاتے جائیں گے

کچھ خبر بھی ہے فقیرو! آج وہ دن ہے کہ وہ
نعمتِ خلد اپنے صدقے میں لٹاتے جائیں گے

خاک اُفتادو! بس اُن کے آنے ہی کی دیر ہے
خود وہ گر کر سجدے میں تم کو اُٹھاتے جائیں گے

وسعتیں دی ہیں خدا نے دامنِ محبوب کو
جرم کُھلتے جائیں گے اور وہ چھپاتے جائیں گے

لو وہ آئے مسکراتے ہم اسیروں کی طرف
خرمنِ عصیاں پر اب بجلی گراتے جائیں گے

آنکھ کھولو غمزدو! دیکھو وہ گریاں آئے ہیں
لوحِ دل سے نقشِ غم کو اب مٹاتے جائیں گے

سوختہ جانوں پہ وہ پرجوش رحمت آئے ہیں
آبِ کوثر سے لگی دل کی بجھاتے جائیں گے

آفتاب اُن کا ہی چمکے گا جب اوروں کے چراغ
صِر صِرِ جوشِ بَلا سے جھلملاتے جائیں گے

پائے کوباں پل سے گزریں گے تِری آواز پر
رَبِّ سَلِّمْ کی صَدا پر وَجد لاتے جائیں گے

سرورِ دیں لیجے اپنے ناتوانوں کی خبر
نفس و شیطاں، سیّدا! کب تک دباتےجائیں گے

حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ کی دھوم
مِثل فارس نجد کے قلعےگراتے جائیں گے

خاک ہوجائیں عَدُو جل کر مگر ہم تو رؔضا
دم میں جب تک دم ہے ذکر اُن کا سناتےجائیں گے

حدائقِ بخشش

...

Chamak Tujh Say Patay Hain

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
مِرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے

برستا نہیں دیکھ کر ابرِ رحمت
بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے

مدینے کے خطّے خدا تجھ کو رکھے
غریبوں، فقیروں کے ٹھہرانے والے

تو زندہ ہے واللہ! تو زندہ ہے واللہ!
مِرے چشمِ عالَم سے چھپ جانے والے

میں مجرم ہوں آقا! مجھے ساتھ لے لو
کہ رستے میں ہیں جا بہ جا تھانے والے

حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا
ارے سر کا موقع ہے او جانے والے

چل اٹھ جبہہ فرسا ہو ساقی کے در پر
درِ جود اے میرے مستانے والے

تِرا کھائیں تیرے غلاموں سے اُلجھیں
ہیں منکر عجب کھانے غُرّانے والے

رہےگا یوں ہی اُن کا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے

اب آئی شفاعت کی ساعت اب آئی
ذرا چین لے میرے گھبرانے والے

رضؔا نفس دشمن ہے دم میں نہ آنا
کہاں تم نے دیکھے ہیں چندرانے والے

حدائقِ بخشش

...