Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan  

Rukh Din Hai Ya Mehray Sama

رخ دن ہے یا مہرِ سما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شب زلف یا مشکِ ختا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ممکن میں یہ قدرت کہاں واجب میں عبدیت کہاں
حیراں ہوں یہ بھی ہے خطا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

حق یہ کہ ہیں عبدِ الٰہ اور عالمِ امکاں کے شاہ
برزخ ہیں وہ سرِّ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

بلبل نے گل اُن کو کہا قمری نے سروِ جاں فزا
حیرت نے جھنجھلا کر کہا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

خورشید تھا کس زور پر کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر
بے پردہ جب وہ رُخ ہوا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ڈرتا تھا کہ عصیاں کی سزا اب ہوگی یا روزِ جزا
دی اُن کی رحمت نے صدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

کوئی ہے نازاں زہد پر یا حُسنِ توبہ ہے سِپر
یاں ہے فقط تیری عطا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

دن لَہْو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
شرمِ نبی خوفِ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

رزقِ خدا کھایا کیا فرمانِ حق ٹالا کیا
شکرِ کرم ترسِ سزا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ہے بُلبلِ رنگیں رؔضا یا طوطیِ نغمہ سرا
حق یہ کہ واصف ہے تِرا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

(حدائقِ بخشش)

 

...

Wasf e Rukh Unka Kiya


وصفِ رخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس و ضحیٰ کرتے ہیں
اُن کی ہم مدح وثنا کرتے ہیں جن کو محمود کہا کرتے ہیں

ماہِ شق گشتہ کی صورت دیکھو کانپ کر مہر کی رجعت دیکھو
مصطفیٰ پیارے کی قدرت دیکھو کیسے اعجاز ہوا کرتے ہیں

تو ہے خورشیدِ رسالت پیارے چھپ گئے تیری ضیا میں تارے
انبیا اور ہیں سب مہ پارے تجھ سے ہی نور لیا کرتے ہیں

اے بلا بے خِرَدِیِّ کفّار رکھتے ہیں ایسے کے حق میں انکار
کہ گواہی ہو گر اُس کو درکار بے زباں بول اٹھا کرتے ہیں

اپنے مولیٰ کی ہے بس شان عظیم جانور بھی کریں جن کی تعظیم
سنگ کرتے ہیں ادب سے تسلیم پیڑ سجدے میں گرا کرتے ہیں

رفعتِ ذکر ہے تیرا حصّہ دونوں عالم میں ہے تیرا چرچا
مرغِ فردوس پس از حمدِ خدا تیری ہی مدح و ثنا کرتے ہیں

انگلیاں پائیں وہ پیاری پیاری جن سے دریائے کرم ہیں جاری
جوش پر آتی ہے جب غم خواری تشنے سیراب ہوا کرتے ہیں

ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد
اسی در پر شترانِ ناشاد گلۂ رنج و عنا کرتے ہیں

آستیں رحمتِ عالم الٹے کمرِ پاک پہ دامن باندھے
گرنے والوں کو چہِ دوزخ سے صاف الگ کھینچ لیا کرتے ہیں

جب صبا آتی ہے طیبہ سے اِدھر کھلکھلا پڑتی ہیں کلیاں یکسر
پھول جامہ سے نکل کر باہر رُخِ رنگیں کی ثنا کرتے ہیں

تو ہے وہ بادشہِ کون و مکاں کہ مَلک ہفت فلک کے ہر آں
تیرے مولیٰ سے شہِ عرش ایواں تیری دولت کی دعا کرتے ہیں

جس کے جلوے سے اُحُد ہے تاباں معدنِ نور ہے اس کا داماں
ہم بھی اس چاند پہ ہو کر قرباں دلِ سنگیں کی جِلا کرتے ہیں

کیوں نہ زیبا ہو تجھے تاج وَری تیرے ہی دَم کی ہے سب جلوہ گری
مَلک و جنّ و بشر حور و پری جان سب تجھ پہ فدا کرتے ہیں

ٹوٹ پڑتی ہیں بلائیں جن پر جن کو ملتا نہیں کوئی یاور
ہر طرف سے وہ پُر ارماں پھر کر اُن کے دامن میں چھپاکرتے ہیں

لب پر آجاتا ہے جب نام جناب منھ میں گھل جاتا ہے شہدِ نایاب
وَجْد میں ہوکے ہم اے جاں بے تاب اپنے لب چوم لیا کرتے ہیں

لب پہ کس منھ سے غمِ الفت لائیں کیا بلا دل ہے الم جس کا سنائیں
ہم تو ان کے کفِ پا پر مٹ جائیں اُن کے در پر جو مٹا کرتے ہیں

اپنے دل کا ہے انھیں سے آرام سونپے ہیں اپنے انھیں کو سب کام
لو لگی ہے کہ اب اس در کے غلام چارۂ دردِ رؔضا کرتے ہیں

(حدائقِ بخشش)

...

Bartar Qayas Se Hai Maqaam e Abul Hussain


بر تر قیاس سے ہے مقامِ ابو الحسین
سدرہ سے پوچھو رفعتِ بام ابو الحسین

وارستہ پائے بستۂ دامِ ابو الحسین
آزاد نار سے ہے غلامِ ابو الحسین

خطِّ سیہ میں نورِ الٰہی کی تابشیں
کیا صبحِ نور بار ہے شام ابو الحسین

ساقی سنادے شیشۂ بغداد کی ٹپک
مہکی ہے بوئے گل سے مدامِ ابو الحسین

بوئے کبابِ سوختہ آتی ہے مے کشو!
چھلکا شرابِ چشت سے جامِ ابو الحسین

گلگوں سحر کو ہے سَہَرِ سوزِ دل سے آنکھ
سلطانِ سہرورد ہے نامِ ابو الحسین

کرسی نشیں ہے نقشِ مراد اُن کے فیض سے
مولائے نقش بند ہے نامِ ابو الحسین

جس نخلِ پاک میں ہیں چھیالیس ڈالیاں
اک شاخ ان میں سے ہے بنامِ ابو الحسین

مستوں کو اے کریم بچائے خمار سے
تا دورِ حشر دورۂ جامِ ابو الحسین

اُن کے بھلے سے لاکھوں غریبوں کا ہے بھلا
یا رب زمانہ باد بکامِ ابو الحسین

میلا لگا ہے شانِ مسیحا کی دید ہے
مُردے جِلا رہا ہے خرامِ ابو الحسین

(ق) سر گشتہ مہر و مہ ہیں پر اب تک کھلا نہیں
کس چرخ پر ہے ماہِ تمامِ ابو الحسین

اتنا پتا ملا ہے کہ یہ چرخِ چنبری
ہے ہفت پایہ زینۂ بامِ ابو الحسین

ذرّے کو مہر، قطرے کو دریا کرے ابھی
گر جوش زن ہو بخششِ عامِ ابو الحسین

یحییٰ کا صدقہ وارث اقبال مند پائے
سجادۂ شیوخِ کرامِ ابو الحسین

انعام لیں بہار جناں تہنیت
پھولے پھلے تو نخل مرامِ ابو الحسین

اللہ ہم بھی دیکھ لیں شہزادہ کی بہار
سونگھے گل مراد مشامِ ابو الحسین

آقا سے میرے ستھرے میاں کا ہوا ہے نام
اس اچھے ستھرے سے رہے نامِ ابو الحسین

یا رب وہ چاند جو فلکِ عزّ و جاہ پر
ہر سیر میں ہو گام بگامِ ابو الحسین

آؤ تمھیں ہلالِ سپہرِ شرف دکھائیں
گردن جھکائیں بہرِ سلامِ ابو الحسین

قدرت خدا کی ہے کہ طلاطم کناں اٹھی
بحرِ فنا سے موجِ دوامِ ابو الحسین

یا رب ہمیں بھی چاشنی اس اپنی یاد کی
جس سے ہے شکّریں لب و کامِ ابو الحسین

ہاں طالعِ رؔضا تِری اللہ رے یاوری
اے بندۂ جُدودِ کرامِ ابو الحسین

 

(حدائقِ بخشش)

...

Zairo Pase Adab Rakho


زائرو! پاسِ ادب رکھو ہوس جانے دو
آنکھیں اندھی ہوئی ہیں اُن کو ترس جانے دو

سوکھی جاتی ہے امیدِ غربا کی کھیتی
بوندیاں لکۂ رحمت کی برس جانے دو

پلٹی آتی ہے ابھی وجد میں جانِ شیریں
نغمۂ ’’قُم‘‘ کا ذرا کانوں میں رس جانے دو

ہم بھی چلتے ہیں ذرا قافلے والو! ٹھہرو
گھٹریاں توشۂ امّید کی کس جانے دو

دیدِ گل اور بھی کرتی ہے قیامت دل پر
ہم صفیرو! ہمیں پھر سوئے قفس جانے دو

آتشِ دل بھی تو بھڑکاؤ ادب واں نالو
کون کہتا ہے کہ تم ضبطِ نفس جانے دو

یوں تنِ زار کے در پے ہوئے دل کے شعلو
شیوۂ خانہ براندازیِ خس جانے دو

اے رؔضا! آہ کہ کیوں سہل کٹیں جرم کے سال
دو گھڑی کی بھی عبادت تو برس جانے دو

(حدائقِ بخشش)

...

Chaman e Taiba main Sumbul


چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو
حور بڑھ کر شکنِ ناز پہ وارے گیسو

کی جو بالوں سے تِرے روضے کی جاروب کشی
شب کو شبنم نے تبرک کو ہیں دھارے گیسو

ہم سیہ کاروں پہ یا رب! تپشِ محشر میں
سایہ افگن ہوں تِرے پیارے کے پیارے گیسو

چرچے حوروں میں ہیں دیکھو تو ذرا بالِ براق
سنبلِ خلد کے قربان اتارے گیسو

آخرِ حج غمِ امّت میں پریشاں ہو کر
تیرہ بختوں کی شفاعت کو سدھارے گیسو

گوش تک سنتے تھے فریاد اب آئے تا دوش
کہ بنیں خانہ بدوشوں کو سہارے گیسو

سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہو جائے
چھائے رحمت کی گھٹا بن کے تمھارے گیسو

کعبۂ جاں کو پنھایا ہے غلافِ مشکیں
اُڑ کر آئے ہیں جو ابرو پہ تمھارے گیسو

سلسلہ پا کے شفاعت کا جھکے پڑتے ہیں
سجدۂ شکر کے کرتے ہیں اشارے گیسو

مشک بو کوچہ یہ کس پھول کا جھاڑا ان سے
حوریو عنبرِ سارا ہوئے سارے گیسو

دیکھو قرآں میں شبِ قدر ہے تا مطلعِ فجر
یعنی نزدیک ہیں عارض کے وہ پیارے گیسو

بھینی خوشبو سے مہک جاتی ہیں گلیاں واللہ
کیسے پھولوں میں بسائے ہیں تمھارے گیسو

شانِ رحمت ہے کہ شانہ نہ جدا ہو دم بھر
سینہ چاکوں پہ کچھ اس درجہ ہیں پیارے گیسو

شانہ ہے پنجۂ قدرت تِرے بالوں کے لیے
کیسے ہاتھوں نے شہا تیرے سنوارے گیسو

احدِ پاک کی چوٹی سے الجھ لے شب بھر
صبح ہونے دو شبِ عید نے ہارے گیسو

مژدہ ہو قبلے سے گھنگھور گھٹائیں اُمڈیں
ابروؤں پروہ جھکے جھوم کے بارے گیسو

تارِ شیرازۂ مجموعۂ کونین ہیں یہ
حال کھل جائے جو اِک دم ہوں کنارے گیسو

تیل کی بوندیں ٹپکتی نہیں بالوں سے رؔضا
صبحِ عارض پہ لٹاتے ہیں ستارے گیسو

(حدائقِ بخشش)

...

Zamana Haj Ka Hai Jalwa Diya Hai

زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہدِ گل کو
الٰہی طاقتِ پرواز دے پر ہائے بلبل کو

بہاریں آئیں جوبن پر گھرا ہے ابر رحمت کا
لب مشتاق بھیگیں دے اجازت ساقیا مل کو

ملے لب سے وہ مشکیں مُہر والی دم میں دم آئے
ٹپک سن کر ’’قُمِ‘‘ عیسیٰ کہوں مستی میں قلقل کو

مچل جاؤں سوالِ مدّعا پر تھام کر دامن
بہکنے کا بہانہ پاؤں قصدِ بے تأمل کو

دُعا کر بختِ خفتہ جاگ ہنگامِ اجابت ہے
ہٹایا صبحِ رخ سے شانے نے شب ہائے کاکُل کو

زبانِ فلسفی سے امن خرق والتیام اسرا
پناہِ دورِ رحمت ہائے یک ساعت تسلسل کو

دو شنبہ مصطفیٰ کا جمعۂ آدم سے بہتر ہے
سکھانا کیا لحاظِ حیثیت خوئے تأمل کو

وفورِ شانِ رحمت کے سبب جرأت ہے اے پیارے
نہ رکھ بہرِ خُدا شرمندہ عرضِ بے تأمل کو

پریشانی میں نام ان کا دلِ صد چاک سے نکلا
اجابت شانہ کرنے آئی گیسوئے توسّل کو

رؔضا نُہ سبزۂ گردوں ہیں کوتل جس کے موکب کے
کوئی کیا لکھ سکے اس کی سواری کے تجمّل کو

حدائقِ بخشش

...

Yaad Mein Jis Ki Nahi Hosh

یاد میں جس کی نہیں ہوشِ تن و جاں ہم کو
پھر دکھا دے وہ رخ اے مہر ِفروزاں ہم کو

دیر سے آپ میں آنا نہیں ملتا ہے ہمیں
کیا ہی خود رفتہ کیا جلوۂ جاناں ہم کو

جس تبسّم نے گلستاں پہ گرائی بجلی
پھر دکھا دے وہ ادائے گُلِ خنداں ہم کو

کاش آویزۂ قندیلِ مدینہ ہو وہ دل
جس کی سوزش نے کیا رشکِ چراغاں ہم کو

عرش جس خوبیِ رفتار کا پامال ہوا
دو قدم چل کے دکھا سروِ خراماں ہم کو

شمعِ طیبہ سے میں پروانہ رہوں کب تک دور
ہاں جَلا دے شرِرِ آتشِ پنہاں ہم کو

خوف ہے سمع خراشیِّ سگِ طیبہ کا
ورنہ کیا یاد نہیں نالۂ و افغاں ہم کو

خاک ہو جائیں درِ پاک پہ حسرت مٹ جائے
یا الٰہی! نہ پھرا بے سر و ساماں ہم کو

خارِ صحرائے مدینہ نہ نکل جائے کہیں
وحشتِ دل نہ پھرا کوہ و بیاباں ہم کو

تنگ آئے ہیں دو عالَم تِری بے تابی سے
چین لینے دے تپِ سینۂ سوزاں ہم کو

پاؤں غربال ہوئے راہِ مدینہ نہ ملی
اے جنوں اب تو ملے رخصتِ زنداں ہم کو

میرے ہر زخمِ جگر سے یہ نکلتی ہے صدا
اے ملیحِ عربی کر دے نمک داں ہم کو

سیرِ گلشن سے اسیرانِ قفس کو کیا کام
نہ دے تکلیف چمن بلبلِ بستاں ہم کو

جب سے آنکھوں میں سمائی ہے مدینے کی بہار
نظر آتے ہیں خزاں دیدہ گلستاں ہم کو

گر لبِ پاک سے اقرارِ شفاعت ہو جائے
یوں نہ بے چین رکھے جوششِ عصیاں ہم کو

نیّرِ حشر نے اِک آگ لگا رکھی ہے!
تیز ہے دھوپ ملے سایۂ داماں ہم کو

رحم فرمائیے یا شاہ! کہ اب تاب نہیں
تابکے خون رلائے غمِ ہجراں ہم کو

چاک داماں میں نہ تھک جائیو، اے دستِ جنوں!
پُرزے کرنا ہے ابھی جیب و گریباں ہم کو

پردہ اُس چہرۂ انور سے اٹھا کر اِک بار
اپنا آئینہ بنا، اے مہِ تاباں! ہم کو

اے رؔضا! وصفِ رُخِ پاک سنانے کے لیے
نذر دیتے ہیں چمن مُرغِ غزل خواں ہم کو

حدائقِ بخشش

...

Hajiyon Aao Shahenshah Ka

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو

رکنِ شامی سے مٹی وحشتِ شامِ غربت
اب مدینے کو چلو صبحِ دل آرا دیکھو

آبِ زم زم تو پیا خوب بجھائیں پیاسیں
آؤ جودِ شہِ کوثر کا بھی دریا دیکھو

زیرِ میزاب ملے خوب کرم کے چھینٹے
ابرِ رحمت کا یہاں زور برسنا دیکھو

دھوم دیکھی درِ کعبہ پہ بے تابوں کی
اُن کے مشتاقوں میں حسرت کا تڑپنا دیکھو

مثلِ پروانہ پھرا کرتے تھے جس شمع کے گرد
اپنی اُس شمع کو پروانہ یہاں کا دیکھو

خوب آنکھوں سے لگایا ہے غلافِ کعبہ
قصرِ محبوب کے پردے کا بھی جلوہ دیکھو

واں مطیعوں کا جگر خوف سے پانی پایا
یاں سیہ کاروں کا دامن پہ مچلنا دیکھو

اوّلیں خانۂ حق کی تو ضیائیں دیکھیں
آخریں بیتِ نبی کا بھی تجلّا دیکھو

زینتِ کعبہ میں تھا لاکھ عروسوں کا بناؤ
جلوہ فرما یہاں کونین کا دولھا دیکھو

ایمنِ طور کا تھا رکنِ یمانی میں فروغ
شعلۂ طور یہاں انجمن آرا دیکھو

مہرِ مادر کا مزہ دیتی ہے آغوشِ حطیم
جن پہ ماں باپ فدا یاں کرم ان کا دیکھو

عرضِ حاجت میں رہا کعبہ کفیلِ انجاح
آؤ اب داد رسیِّ شہِ طیبہ دیکھو

دھو چکا ظلمتِ دل بوسۂ سنگِ اَسوَد
خاک بوسیِّ مدینہ کا بھی رتبہ دیکھو

کر چکی رفعتِ کعبہ پہ نظر پروازیں
ٹوپی اب تھام کے خاکِ در ِ والا دیکھو

بے نیازی سے وہاں کانپتی پائی طاعت
جوشِ رحمت پہ یہاں ناز گنہ کا دیکھو

جمعۂ مکّہ تھا عید، اہلِ عبادت کے لیے
مجرمو! آؤ یہاں عیدِ دو شنبہ دیکھو

ملتزم سے تو گلے لگ کے نکالے ارماں
ادب و شوق کا یاں باہم الجھنا دیکھو

خوب مسعیٰ میں بامّیدِ صفا دوڑ لیے
رہِ جاناں کی صفا کا بھی تماشا دیکھو

رقصِ بسمل کی بہاریں تو منٰی میں دیکھیں
دلِ خونابہ فشاں کا بھی تڑپنا دیکھو

غور سے سن تو رؔضا! کعبے سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے مِرے پیارے کا روضہ دیکھو

حدائقِ بخشش

...

Pul Se Utaro Rah Guzar Ko

پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
جبریل پر بچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو

کانٹا مِرے جگر سے غمِ روزگار کا
یوں کھینچ لیجیے کہ جگر کو خبر نہ ہو

فریاد اُمّتی جو کرے حالِ زار میں
ممکن نہیں کہ خیرِ بشر کو خبر نہ ہو

کہتی تھی یہ بُراق سے اُس کی سبک روی
یوں جائیے کہ گردِ سفر کو خبر نہ ہو

فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردارِ دو جہاں
اے مرتضیٰ عتیق و عمر کو خبر نہ ہو

ایسا گما دے اُن کی وِلا میں خدا ہمیں
ڈھونڈھا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو

آ دل! حرم کو روکنے والوں سے چھپ کے آج
یوں اٹھ چلیں کہ پہلو و بَر کو خبر نہ ہو

طیرِ حرم ہیں یہ کہیں رشتہ بپا نہ ہوں
یوں دیکھیے کہ تارِ نظر کو خبر نہ ہو

اے خار طیبہ دیکھ کہ دامن نہ بھیگ جائے
یوں دل میں آ کہ دیدۂ تر کو خبر نہ ہو

اے شوقِ دل یہ سجدہ گر اُن کو روا نہیں
اچھا وہ سجدہ کیجے کہ سر کو خبر نہ ہو

ان کے سوا رؔضا کوئی حامی نہیں جہاں
گزرا کرے پسر پہ پدر کو خبر نہ ہو

حدائقِ بخشش

...

Ya Ilahi Har Jaga Teri Ata

یا الٰہی! ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو
جب پڑے مشکل شہِ مشکل کشا کا ساتھ ہو

یا الٰہی! بھول جاؤں نزع کی تکلیف کو
شادیِ دیدارِ حُسنِ مصطفیٰ کا ساتھ ہو

یا الٰہی! گورِ تیرہ کی جب آئے سخت رات
اُن کے پیارے منھ کی صبحِ جاں فزا کا ساتھ ہو

یا الٰہی! جب پڑے محشر میں شورِ دار و گیر
امن دینے والے پیارے پیشوا کا ساتھ ہو

یا الٰہی! جب زبانیں باہر آئیں پیاس سے
صاحبِ کوثر شہِ جود و عطا کا ساتھ ہو

یا الٰہی! سرد مہری پر ہو جب خورشیدِ حشر
سیّدِ بے سایہ کے ظِلِّ لِوا کا ساتھ ہو

یا الٰہی! گرمیِ محشر سے جب بھڑکیں بدن
دامنِ محبوب کی ٹھنڈی ہوا کا ساتھ ہو

یا الٰہی! نامۂ اعمال جب کھلنے لگیں
عیب پوشِ خلق، ستّارِ خطا کا ساتھ ہو

یا الٰہی! جب بہیں آنکھیں حسابِ جرم میں
اُن تبسّم ریز ہونٹوں کی دُعا کا ساتھ ہو

یا الٰہی! جب حسابِ خندۂ بے جا رُلائے
چشمِ گریانِ شفیعِ مُرتجٰی کا ساتھ ہو

یا الٰہی! رنگ لائیں جب مِری بے باکیاں
اُن کی نیچی نیچی نظروں کی حیا کا ساتھ ہو

یا الٰہی! جب چلوں تاریک راہِ پل صراط
آفتابِ ہاشمی نور الہُدیٰ کا ساتھ ہو

یا الٰہی! جب سرِ شمشیر پر چلنا پڑے
رَبِّ سَلِّمْ کہنے والے غم زُدا کا ساتھ ہو

یا الٰہی! جو دعائے نیک میں تجھ سے کروں
قدسیوں کے لب سے آمیں رَبَّنَا کا ساتھ ہو

یا الٰہی! جب رؔضا خوابِ گراں سے سر اٹھائے
دولتِ بیدار عشقِ مصطفیٰ کا ساتھ ہو

حدائقِ بخشش

...