Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan  

Phir k Gali Gali Tabah

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں

رخصتِ قافلہ کا شور غش سے ہمیں اُٹھائے کیوں
سوتے ہیں ان کے سائے میں کوئی ہمیں جگائے کیوں

بار نہ تھے حبیب کو پالتے ہی غریب کو
روئیں جو اب نصیب کو چین کہو گنوائیں کیوں

یادِ حضور کی قسم غفلتِ عیش ہے ستم
خوب ہیں قیدِ غم میں ہم کوئی ہمیں چھڑائے کیوں

دیکھ کے حضرتِ غنی پھیل پڑے فقیر بھی
چھائی ہے اب تو چھاؤنی حشر ہی آ نہ جائے کیوں

جان ہے عشقِ مصطفیٰ روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزہ نازِ دوا اُٹھائے کیوں

ہم تو ہیں آپ دل فگار غم میں ہنسی ہے نا گوار
چھیڑ کے گل کو نو بہار خون ہمیں رُلائے کیوں

یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں
منّتِ غیر کیوں اٹھائیں کوئی ترس جتائے کیوں

اُن کے جلال کا اثر دل سے لگائے ہے قمر
جو کہ ہو لوٹ زخم پر داغِ جگر مٹائے کیوں

خوش رہے گل سے عندلیب خارِ حرم مجھے نصیب
میری بلا بھی ذِکر پر پھول کے خار کھائے کیوں

گردِ ملال اگر دُھلے دل کی کلی اگر کھلے
بَرق سے آنکھ کیوں جلے رونے پہ مسکرائے کیوں

جانِ سفر نصیب کو کس نے کہا مزے سے سو
کھٹکا اگر سحر کا ہو شام سے موت آئے کیوں

اب تو نہ روک اے غنی عادتِ سگ بگڑ گئی
میرے کریم پہلے ہی لقمۂ تر کھلائے کیوں

راہِ نبی میں کیا کمی فرشِ بیاض دیدہ کی
چادرِ ظل ہے ملگجی زیرِ قدم بچھائے کیوں

سنگِ درِ حضور سے ہم کو خدا نہ صبر دے
جانا ہے سر کو جا چکے دل کو قرار آئے کیوں

ہے تو رؔضا نرا ستم جرم پہ گر لجائیں ہم
کوئی بجائے سوزِ غم سازِ طرب بجائے کیوں

(حدائقِ بخشش)

...

Rashk e Qamar Hoon


رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
ذرّہ تِرا جو اے شہِ گردوں جناب ہوں

درِّ نجف ہوں گوہَرِ پاکِ خوشاب ہوں
یعنی ترابِ رہ گزرِ بو تراب ہوں

گر آنکھ ہوں تو اَبر کی چشمِ پُر آب ہوں
دل ہوں تو برق کا دلِ پُر اضطراب ہوں

خونیں جگر ہوں طائرِ بے آشیاں، شہا!
رنگِ پریدۂ رُخِ گل کا جواب ہوں

بے اصل و بے ثبات ہوں بحرِ کرم مدد
پروردۂ کنارِ سراب و حباب ہوں

عبرت فزا ہے شرمِ گنہ سے مِرا سکوت
گویا لبِ خموشِ لحد کا جواب ہوں

کیوں نالہ سوز لَے کروں کیوں خونِ دل پیوں
سیخِ کباب ہوں نہ میں جامِ شراب ہوں

دل بستہ بے قرار جگر چاک اشک بار
غنچہ ہوں گل ہوں برقِ تپا ہوں سحاب ہوں

دعویٰ ہے سب سے تیری شفاعت پہ بیشتر
دفتر میں عاصیوں کے شہا! انتخاب ہوں

مولیٰ دہائی نظروں سے گر کر جلا غلام
اشکِ مژہ رسیدۂ چشمِ کباب ہوں

مٹ جائے یہ خودی تو وہ جلوہ کہاں نہیں
دردا! میں آپ اپنی نظر کا حجاب ہوں

صَدقے ہوں اس پہ نار سے دے گا جو مخلصی
بلبل نہیں کہ آتشِ گل پر کباب ہوں

قالب تہی کیے ہمہ آغوش ہے ہلال
اے شہسوارِ طیبہ میں تیری رکاب ہوں

کیا کیا ہیں تجھ سے ناز تِرے قصر کو کہ میں
کعبے کی جان عرشِ بریں کا جواب ہوں

شاہا! بجھے سقر مِرے اشکوں سے تا نہ میں
آبِ عبث چکیدۂ چشمِ کباب ہوں

میں تو کہا ہی چاہوں کہ بندہ ہوں شاہ کا
پَر لطف جب ہے کہہ دیں اگر وہ جناب ہوں

حسرت میں خاک بوسیِ طیبہ کی اے رؔضا
ٹپکا جو چشمِ مہر سے وہ خونِ ناب ہوں

(حدائقِ بخشش)

...

Poochte Kya Ho Arsh Par

 

پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
کیف کے پر جہاں جلیں کوئی بتائے کیا کہ یوں

قصرِ دَنیٰ کے راز میں عقلیں تو گُم ہیں جیسی ہیں
رُوحِ قدس سے پوچھیے تم نے بھی کچھ سُنا کہ یوں

میں نے کہا کہ جلوۂ اصل میں کس طرح گمیں
صبح نے نورِ مہر میں مٹ کے دکھا دیا کہ یوں

ہائے رے ذوقِ بے خودی دل جو سنبھلنے سا لگا
چھک کے مہک میں پھول کی گرنے لگی صبا کہ یوں

دل کو دے نور و داغِ عشق پھر میں فدا دو نیم کر
مانا ہے سن کے شقِ ماہ آنکھوں سے اب دکھا کہ یوں

دل کو ہے فکر کس طرح مُردے جِلاتے ہیں حضور
اے میں فدا لگا کر ایک ٹھوکر اسے بتا کہ یوں

باغ میں شکرِ وصل تھا ہجر میں ہائے ہائے گل
کام ہے ان کے ذِکر سے خیر وہ یوں ہوا کہ یوں

جو کہے شعر و پاسِ شرع دونوں کا حسن کیوں کر آئے
لا اسے پیشِ جلوۂ زمزمۂ رؔضا کہ یوں

(حدائقِ بخشش)

 

 

...

Yaad e Watan Sitam Kiya

یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
بیٹھے بٹھائے بد نصیب سر پہ بلا اٹھائی کیوں

دل میں تو چوٹ تھی دبی ہائے غضب ابھر گئی
پوچھو تو آہِ سرد سے ٹھنڈی ہوا چلائی کیوں

چھوڑ کے اُس حرم کو آپ بَن میں ٹھگوں کے آ بسو
پھر کہو سر پہ دھر کے ہاتھ لٹ گئی سب کمائی کیوں

باغِ عرب کا سروِ ناز دیکھ لیا ہے ورنہ آج
قمریِ جانِ غمزدہ گونج کے چہچہائی کیوں

نامِ مدینہ لے دیا چلنے لگی نسیمِ خلد
سوزشِ غم کو ہم نے بھی کیسی ہوا بتائی کیوں

کِس کی نگاہ کی حیا پھرتی ہے میری آنکھ میں
نرگسِ مست ناز نے مجھ سے نظر چرائی کیوں

تو نے تو کر دیا طبیب آتشِ سینہ کا علاج
آج کے دودِ آہ میں بوئے کباب آئی کیوں

فکرِ معاش بد بلا ہولِ معاد جاں گزا
لاکھوں بلا میں پھنسنے کو رُوح بدن میں آئی کیوں

ہو نہ ہو آج کچھ مِرا ذکر حضور میں ہوا
ورنہ مِری طرف خوشی دیکھ کے مسکرائی کیوں

حور جناں سِتم کیا طیبہ نظر میں پھر گیا
چھیڑ کے پَردۂ حجاز دیس کی چیز گائی کیوں

غفلتِ شیخ و شاب پر ہنستے ہیں طفلِ شیر خوار
کرنے کو گدگدی عبث آنے لگی بہائی کیوں

عرض کروں حضور سے دل کی تو میرے خیر ہے
پیٹتی سر کو آرزو دشتِ حرم سے آئی کیوں

حسرتِ نو کا سانحہ سنتے ہی دل بگڑ گیا
ایسے مریض کو رَؔضا مرگِ جواں سنائی کیوں

(حدائقِ بخشش)

...

Ahl e Sirat rooh e Ameen Ko Khabar Karein

اہلِ صراط روحِ امیں کو خبر کریں
جاتی ہے امّتِ نبوی فرش پر کریں

اِن فتنہ ہائے حشر سے کہہ دو حذر کریں
نازوں کے پالے آتے ہیں رہ سے گزر کریں

بد ہیں تو آپ کے ہیں بھلے ہیں تو آپ کے
ٹکڑوں سے تو یہاں کے پلے رخ کدھر کریں

سرکار ہم کمینوں کے اَطوار پر نہ جائیں
آقا حضور اپنے کرم پر نظر کریں

ان کی حرم کے خار کشیدہ ہیں کس لیے
آنکھوں میں آئیں سر پہ رہیں دل میں گھر کریں

جالوں پہ جال پڑ گئے لِلّٰہ وقت ہے
مشکل کشائی آپ کے ناخن اگر کریں

منزل کڑی ہے شان تبسم کرم کرے
تاروں کی چھاؤں نور کے تڑکے سفر کریں

کلکِ رَؔضا ہے خنجرِ خوں خوار برق بار
اعدا سے کہہ دو خیر منائیں؛ نہ شر کریں

 

(حدائقِ بخشش)

...

Woh Suey Lalazar Phirte Hain

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

جو تِرے در سے یار پھرتے ہیں
در بہ در یوں ہی خوار پھرتے ہیں

آہ کل عیش تو کیے ہم نے
آج وہ بے قرار پھرتے ہیں

ان کے ایما سے دونوں باگوں پر
خیلِ لیل و نہار پھرتے ہیں

ہر چراغِ مزار پر قدسی
کیسے پروانہ وار پھرتے ہیں

اُس گلی کا گدا ہوں میں جس میں
مانگتے تاج دار پھرتے ہیں

جان ہیں جان کیا نظر آئے
کیوں عدو گردِ غار پھرتے ہیں

لاکھوں قدسی ہیں کامِ خدمت پر
لاکھوں گردِ مزار پھرتے ہیں

وردیاں بولتے ہیں ہرکارے
پہرہ دیتے سوار پھرتے ہیں

رکھیے جیسے ہیں خانہ زاد ہیں ہم
مول کے عیب دار پھرتے ہیں

ہائے غافل وہ کیا جگہ ہے جہاں
پانچ جاتے ہیں چار پھرتے ہیں

بائیں رستے نہ جا مسافر سن
مال ہے راہ مار پھرتے ہیں

جاگ سنسان بَن ہے رات آئی
گرگ بہرِ شکار پھرتے ہیں

نفس یہ کوئی چال ہے ظالم
جیسے خاصے بِجار پھرتے ہیں

کوئی کیوں پوچھے تیری بات رؔضا
تجھ سے کتّے ہزار پھرتے ہیں

 

(حدائقِ بخشش)

...

Unki Mehak Ne Dil Ke Gunche

اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں
جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیے ہیں

جب آ گئی ہیں جوشِ رحمت پہ اُن کی آنکھیں
جلتے بھجا دیے ہیں روتے ہنسا دیے ہیں

اِک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا
تم نے تو چلتے پھرتے مُردے جِلا دیے ہیں

ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
جب یاد آ گئے ہیں سب غم بھلا دیے ہیں

ہم سے فقیر بھی اب پھیری کو اٹھتے ہوں گے
اب تو غنی کے دَر پر بستر جما دیے ہیں

اسرا میں گزرے جس دم بیڑے پہ قدسیوں کے
ہونے لگی سلامی پرچم جھکا دیے ہیں

آنے دو یا ڈبو دو اب تو تمھاری جانب
کشتی تمھیں پہ چھوڑی لنگر اٹھا دیے ہیں

دولھا سے اتنا کہہ دو پیارے سواری روکو
مشکل میں ہیں براتی پر خار بادیے ہیں

اللہ کیا جہنّم اب بھی نہ سرد ہوگا
رو رو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دیے ہیں

میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا
دریا بہا دیے ہیں دُر بے بہا دیے ہیں

مُلکِ سخن کی شاہی تم کو رؔضا مسلّم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں

(حدائقِ بخشش)

...

Hai Labe Isa Se Jaa Bakshi


ہے لبِ عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہاتھ میں
سنگریزے پاتے ہیں شیریں مقالی ہاتھ میں

بے نواؤں کی نگاہیں ہیں کہاں تحریرِ دست
رہ گئیں جو پا کے جودِ یزالی ہاتھ میں

کیا لکیروں میں ید اللہ خط سرو آسا لکھا
راہ یوں اس راز لکھنے کی نکالی ہاتھ میں

جودِ شاہِ کوثر اپنے پیاسوں کا جویا ہے آپ
کیا عجب اڑ کر جو آپ آئے پیالی ہاتھ میں

ابرِ نیساں مومنوں کو تیغِ عریاں کفر پر
جمع ہیں شانِ جمالی و جلالی ہاتھ میں

مالکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں
دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں

سایہ افگن سر پہ ہو پرچم الٰہی! جھوم کر
جب لِوَاءُ الْحَمْد لے امّت کا والی ہاتھ میں

ہر خطِ کف ہے یہاں اے دستِ بیضائے کلیم
موج زن دریائے نورِ بے مثالی ہاتھ میں

وہ گراں سنگی قدرِ مِس وہ ارزانیِ جود
نوعیہ بدلا کیے سنگِ ولالی ہاتھ میں

دستگیرِ ہر دو عالم کر دیا سبطین کو
اے میں قرباں جانِ جاں انگشت کیالی ہاتھ میں

آہ وہ عالم کہ آنکھیں بند اور لب پر درود
وقف سنگِ در جبیں روضے کی جالی ہاتھ میں

جس نے بیعت کی بہارِ حسن پر قرباں رہا
ہیں لکیریں نقش تسخیرِ جمالی ہاتھ میں

(ق): کاش ہوجاؤں لبِ کوثر میں یوں وارفتہ ہوش
لے کر اس جانِ کرم کا ذیلِ عالی ہاتھ میں

آنکھ محوِ جلوۂ دیدار، دل پُر جوشِ وجد
لب پہ شکّر بخششِ ساقی پیالی ہاتھ میں

حشر میں کیا کیا مزے وارفتگی کے لوں رؔضا
لوٹ جاؤں پا کے وہ دامانِ عالی ہاتھ میں

(حدائقِ بخشش)

...

Rah e Irfan Se Jo Hum

راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں
مصطفیٰ ہے مسندِ ارشاد پر کچھ غم نہیں

ہوں مسلماں گرچہ ناقص ہی سہی اے کاملو!
ماہیت پانی کی آخر یم سے نم میں کم نہیں

غنچے مَآ اَوْحٰی کے جو چٹکے دَنیٰ کے باغ میں
بلبلِ سدرہ تک اُن کی بُو سے بھی محرم نہیں

اُس میں زم زم ہےکہ تھم تھم اس میں جم جم ہے کہ بیش
کثرتِ کوثر میں زم زم کی طرح کم کم نہیں

پنجۂ مہرِ عرب ہے جس سے دریا بہہ گئے
چشمۂ خورشید میں تو نام کو بھی نم نہیں

ایسا امّی کس لیے منّت کشِ استاد ہو
کیا کفایت اُس کو اِقْرَأْ رَبُّکَ الْاَکْرَمْ نہیں

اوس مہرِ حشر پر پڑ جائے پیاسو تو سہی
اُس گلِ خنداں کا رونا گریۂ شبنم نہیں

ہے انھیں کے دم قدم کی باغِ عالم میں بہار
وہ نہ تھے عالَم نہ تھا گر وہ نہ ہوں عالَم نہیں

سایۂ دیوار و خاکِ در ہو یا رب اور رؔضا
خواہشِ دیہیم قیصر شوقِ تختِ جم نہیں

(حدائقِ بخشش)

...

Woh Kamal e Husne Huzoor Hai


وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں

دو جہاں کی بہتریاں نہیں کہ امانیِ دل و جاں نہیں
کہو کیا ہے وہ جو یہاں نہیں مگر اک نہیں کہ وہ ہاں نہیں

میں نثار تیرے کلام پر ملی یوں تو کس کو زباں نہیں
وہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہو وہ بیاں ہے جس کا بیاں نہیں

بخدا خدا کا یہی ہے در، نہیں اور کوئی مفر مقر
جو وہاں سے ہو یہیں آکے ہو جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں

کرے مصطفیٰ کی اہانتیں کھلے بندوں اس پہ یہ جرأتیں
کہ میں کیا نہیں ہوں محمدی! ارے ہاں نہیں

تِرے آگےیوں ہیں دبے لچے فصحا عرب کے بڑے بڑے
کوئی جانے منھ میں زباں نہیں، نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں

وہ شرف کہ قطع ہیں نسبتیں وہ کرم کہ سب سے قریب ہیں
کوئی کہہ دو یاس و امید سے وہ کہیں نہیں وہ کہاں نہیں

یہ نہیں کہ خُلد نہ ہو نکو وہ نِکوئی کی بھی ہے آبرو
مگر اے مدینے کی آرزو جسے چاہے تو وہ سماں نہیں

ہے انھیں کے نور سے سب عیاں ہے انھیں کے جلوے میں سب نہاں
بنے صبح تابشِ مہر سے رہے پیشِ مہر یہ جاں نہیں

وہی نورِ حق وہی ظلِّ رب ہے انھیں سے سب ہے انھیں کا سب
نہیں ان کی مِلک میں آسماں کہ زمیں نہیں کہ زماں نہیں

وہی لامکاں کے مکیں ہوئے سرِ عرش تخت نشیں ہوئے
وہ نبی ہے جس کے ہیں یہ مکاں وہ خدا ہے جس کا مکاں نہیں

سرِ عرش پر ہے تِری گزر دلِ فرش پر ہے تِری نظر
ملکوت و مُلک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں

کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروروں جہاں نہیں

تِرا قد تو نادرِ دہر ہے کوئی مثل ہو تو مثال دے
نہیں گل کے پودوں میں ڈالیاں کہ چمن میں سرو چماں نہیں

نہیں جس کے رنگ کا دوسرا نہ تو ہو کوئی نہ کبھی ہوا
کہو اس کو گل کہے کیا بنی کہ گلوں کا ڈھیر کہاں نہیں

کروں مدحِ اہلِ دُوَل رؔضا پڑے اس بلا میں مِری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا مِرا دین پارۂ ناں نہیں

(حدائقِ بخشش)

...