Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan  

Banda Qadir Ka Bhi Qadir Bhi Hai Abdul Qadir

بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
سرِّ باطن بھی ہے ظاہر بھی ہے عبدالقادر

مفتیِ شرع بھی ہے قاضیِ ملّت بھی ہے
علمِ اَسرار سے ماہر بھی ہے عبدالقادر

منبعِ فیض بھی ہے مجمعِ افضال بھی ہے
مہرِ عرفاں کا منور بھی ہے عبدالقادر

قطبِ ابدال بھی ہے محورِ ارشاد بھی ہے
مرکزِ دائرۂ سِرّ بھی ہے عَبدالقادر

سلکِ عرفاں کی ضیا ہے یہی درِّ مختار
فخرِ اشباہ و نظائر بھی ہے عَبدالقادر

اُس کے فرمان ہیں سب شارحِ حکمِ شارع
مظہرِ ناہی و آمر بھی ہے عبدالقادر

ذی تصرف بھی ہے ماذون بھی مختار بھی ہے
کارِ عالم کا مدبّر بھی ہے عَبدالقادر

رشکِ بلبل ہے رؔضا لالۂ صَد داغ بھی ہے
آپ کا واصفِ و ذاکر بھی ہے عَبدالقادر

حدائقِ بخشش

 

...

Guzray Jis Raah Se Wo

گذرے جس راہ سے وہ سیّدِ والا ہو کر
رہ گئی ساری زمیں عنبرِ سارا ہو کر

رُخِ انور کی تجلّی جو قمر نے دیکھی
رہ گیا بوسہ دہِ نقشِ کفِ پا ہو کر

وائے محرومیِ قسمت کہ میں پھر اب کی برس
رہ گیا ہمرہِ زوّارِ مدینہ ہو کر

چمنِ طیبہ ہے وہ باغ کہ مرغِ سدرہ
برسوں چہکے ہیں جہاں بلبلِ شیدا ہو کر

صرصرِ دشتِ مدینہ کا مگر آیا خیال
رشکِ گلشن جو بنا غنچۂ دل وا ہوکر

گوشِ شہ کہتے ہیں فریاد رَسی کو ہم ہیں
وعدۂ چشم ہے بخشائیں گے گویا ہو کر

پائے شہ پر گرے یا رب تپشِ مہر سے جب
دلِ بے تاب اڑے حشر میں پارا ہو کر

ہے یہ امّید رؔضا کو تِری رحمت سے شہا
نہ ہو زندانیِ دوزخ تِرا بندہ ہو کر

حدائقِ بخشش

 

...

Naar e Dozakh Ko Chaman

نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
ظلمتِ حشر کو دِن کردے نہارِ عارض

میں تو کیا چیز ہوں خود صاحبِ قرآں کو شہا
لاکھ مصحف سے پسند آئی بہارِ عارض

جیسے قرآن ہے ورد اُس گلِ محبوبی کا
یوں ہی قرآں کا وظیفہ ہے وقارِ عارض

گرچہ قرآں ہے نہ قرآں کی برابر لیکن
کچھ تو ہے جس پہ ہے وہ مَدح نگارِ عارض

طور کیا عرش جلے دیکھ کے وہ جلوۂ گرم
آپ عارض ہو مگر آئینہ دارِ عارض

طرفہ عالم ہے وہ قرآن اِدھر دیکھیں اُدھر
مصحفِ پاک ہو حیران بہارِ عارض

ترجمہ ہے یہ صفت کا وہ خود آئینۂ ذات
کیوں نہ مصحف سے زیادہ ہو وقارِ عارض

جلوہ فرمائیں رخِ دل کی سیاہی مٹ جائے
صبح ہو جائے الٰہی شبِ تارِ عارض

نامِ حق پر کرے محبوب دل و جاں قرباں
حق کرے عرش سے تا فرش نثارِ عارض

مشک بو زلف سے رخ، چہرہ سے بالوں میں شعاع
معجزہ ہے حلبِ زلف و تتارِ عارض

حق نے بخشا ہے کرم نذرِ گدایاں ہو قبول
پیارے اک دِل ہے وہ کرتے ہیں نثارِ عارض

آہ بے مایَگیِ دل کہ رؔضائے محتاج
لے کر اِک جان چلا بہرِ نثارِ عارض

حدائقِ بخشش

 

...

Tumhare Zare Ke Parto

تمھارے ذرّے کے پرتو ستارہائے فلک
تمھارے نعل کی ناقص مثل ضیائے فلک

اگرچہ چھالے ستاروں سے پڑ گئے لاکھوں
مگر تمھاری طلب میں تھکے نہ پائے فلک

سرِ فلک نہ کبھی تا بہ آستاں پہنچا
کہ ابتدائے بلندی تھی انتہائے فلک

یہ مٹ کے ان کی رَوِش پر ہوا خود اُن کی رَوِش
کہ نقش پا ہے زمیں پر نہ صوتِ پائے فلک

تمھاری یاد میں گزری تھی جاگتے شب بھر
چلی نسیم ہوئے بند دیدہائے فلک

نہ جاگ اٹھیں کہیں اہلِ بقیع کچی نیند
چلا یہ نرم نہ نکلی صدائے پائے فلک

یہ اُن کے جلوے نے کیں گرمیاں شبِ اسرا
کہ جب سے چرخ میں ہیں نقرہ و طلائے فلک

مِرے غنی نے جواہر سے بھر دیا دامن
گیا جو کاسۂ مہ لے کے شب گدائے فلک

رہا جو قانعِ یک نانِ سوختہ دن بھر
ملی حضور سے کانِ گہر جزائے فلک

تجملِ شبِ اسرا ابھی سمٹ نہ چکا
کہ جب سے ویسی ہی کوتل ہیں سبز ہائے فلک

خطابِ حق بھی ہے در بابِ خلق مِنْ اَجَلِکْ
اگر ادھر سے دمِ حمد ہے صدائے فلک

یہ اہلِ بیت کی چکی سے چال سیکھی ہے
رواں ہے بے مددِ دست آسیائے فلک

رؔضا یہ نعتِ نبی نے بلندیاں بخشیں
لقب زمینِ فلک کا ہوا سمائے فلک

حدائقِ بخشش

 

...

Kya Theek Ho Rukh e Nabavi Per Misal e Gul

کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
پامال جلوۂ کفِ پا ہے جمالِ گل

جنّت ہے ان کے جلوہ سے جو یائے رنگ و بو
اے گل ہمارے گل سے ہے گل کو سوالِ گل

اُن کے قدم سے سلعۂ غالی ہوئی جناں
واللہ میرے گل سے ہے جاہ و جلالِ گل

سنتا ہوں عشقِ شاہ میں دل ہوگا خوں فشاں
یا رب یہ مژدہ سچ ہو مبارک ہو فالِ گل

بلبل حرم کو چل غمِ فانی سے فائدہ
کب تک کہے گی ہائے وہ غنج و دَلالِ گل

غمگیں ہے شوقِ غازۂ خاکِ مدینہ میں
شبنم سے دھل سکے گی نہ گردِ ملالِ گل

بلبل یہ کیا کہا میں کہاں فصلِ گل کہاں
امّید رکھ کہ عام ہے جود و نوالِ گل

بلبل گھرا ہے ابر ولا مژدہ ہو کہ اب
گرتی ہے آشیانے پہ بَرقِ جمالِ گل

یا رب ہرا بھرا رہے داغِ جگر کا باغ
ہر مہ مہِ بہار ہو ہر سال سالِ گل

رنگِ مژہ سے کرکے خجل یادِ شاہ میں
کھینچا ہے ہم نے کانٹوں پہ عطرِ جمالِ گل

میں یادِ شہ میں روؤں عنادِل کریں ہجوم
ہر اشکِ لالہ فام پہ ہو احتمالِ گل

ہیں عکسِ چہرہ سے لبِ گلگوں میں سرخیاں
ڈوبا ہے بدرِ گل سے شفق میں ہلالِ گل

نعتِ حضور میں مترنّم ہے عندلیب
شاخوں کے جھومنے سے عیاں وَجْد و حالِ گل

بلبل گلِ مدینہ ہمیشہ بہار ہے
دو دن کی ہے بہار فان ہے مآلِ گل

شیخین اِدھر نثار غنی و علی اُدھر
غنچہ ہے بلبلوں کا یمین و شمالِ گل

چاہے خدا تو پائیں گے عشقِ نبی میں خلد
نکلی ہے نامۂ دلِ پُر خوں میں فالِ گل

کر اُس کی یاد جس سے ملے چین عندلیب
دیکھا نہیں کہ خارِ الم ہے خیالِ گل

دیکھا تھا خوابِ خارِ حرم عندلیب نے
کھٹکا کیا ہے آنکھ میں شب بھر خیالِ گل

اُن دو کا صدقہ جن کو کہا میرے پھول ہیں
کیجے رؔضا کو حشر میں خنداں مثالِ گل

حدائقِ بخشش

...

Sar ta Baqadam

سر تا بقدم ہے تنِ سلطانِ زمن پھول
لب پھول، دہن پھول، ذقن پھول، بدن پھول

صدقے میں تِرے باغ تو کیا، لائے ہیں بَن پھول
اس غنچۂ دل کو بھی تو ایما ہو کہ بَن پھول

تنکا بھی ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتا
تم چاہو تو ہو جائے ابھی کوہِ محن پھول

وَاللہ! جو مِل جائے مِرے گل کا پسینہ
مانگے نہ کبھی عِطر نہ پھر چاہے دلھن پھول

دل بستہ و خوں گشتہ نہ خوشبو نہ لطافت
کیوں غنچہ کہوں ہے مِرے آقا کا دہن پھول

شب یاد تھی کن دانتوں کی شبنم کہ دمِ صبح
شوخانِ بہاری کے جڑاؤ ہیں کرن پھول

دندان و لب و زلف و رُخِ شہ کے فدائی
ہیں درِّ عدن، لعلِ یمن، مشکِ ختن پھول

بو ہو کے نہاں ہو گئے تابِ رُخِ شہ میں
لو بن گئے ہیں اب تو حسینوں کا دہن پھول

ہوں بارِ گنہ سے نہ خجل دوشِ عزیزاں
للہ مِری نعش کر اے جانِ چمن پھول

دل اپنا بھی شیدائی ہے اس ناخنِ پا کا
اتنا بھی مہِ نو پہ نہ اے چرخِ کہن پھول

دل کھول کے خوں رولے غمِ عارضِ شہ میں
نکلے تو کہیں حسرتِ خوں نابہ شدن پھول

کیا غازہ مَلا گردِ مدینہ کا جو ہے آج
نکھرے ہوئے جوبن میں قیامت کی پھبن پھول

گرمی یہ قیامت ہے کہ کانٹے ہیں زباں پر
بلبل کو بھی اے ساقیِ صہبا و لبن پھول

ہے کون کہ گریہ کرے یا فاتحہ کو آئے
بے کس کے اٹھائے تِری رحمت کے بھرن پھول

دل غم تجھے گھیرے ہیں خدا تجھ کو وہ چمکائے
سورج تِرے خرمن کو بنے تیری کرن پھول

کیا بات رؔضا اُس چمنستانِ کرم کی
زَہرا ہے کلی جس میں حُسین اور حَسن پھول


حدائقِ بخشش

...

Hai Kalame Ilahi Mein Shamsudduha

ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضُحٰی تِرے چہرۂ نور فزا کی قسم
قسمِ شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زلف ِ دوتا کی قسم

تِرے خُلق کو حق نے عظیم کہا تِری خلق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا تِرے خالقِ حُسن و ادا کی قسم

وہ خدا نے ہے مرتبہ تجھ کو دیا نہ کسی کو ملے نہ کسی کو ملا
کہ کلامِ مجید نے کھائی شہا تِرے شہر و کلام و بقا کی قسم

ترا مسندِ ناز ہے عرشِ بریں تِرا محرمِ راز ہے رُوحِ امیں
تو ہی سرورِ ہر دو جہاں ہے شہا تِرا مثل نہیں ہے خدا کی قسم

یہی عرض ہے خالقِ ارض و سما وہ رسول ہیں تیرے میں بندہ تِرا
مجھے ان کے جوار میں دے وہ جگہ کہ ہے خلد کو جس کی صفا کی قسم

تو ہی بندوں پہ کرتا ہے لطف و عطا ہے تجھی پہ بھروسا تجھی سے دُعا
مجھے جلوۂ پاکِ رسول دکھا تجھے اپنی ہی عزّ و عُلا کی قسم

مِرے گرچہ گناہ ہیں حدسے سوا مگر اُن سے امید ہے تجھ سے رَجا
تو رحیم ہے اُن کا کرم ہے گوا وہ کریم ہیں تیری عطا کی قسم

یہی کہتی ہے بلبلِ باغِ جناں کہ رؔضا کی طرح کوئی سحر بیاں
نہیں ہند میں واصفِ شاہِ ہُدیٰ مجھے شوخیِ طبعِ رؔضا کی قسم


حدائقِ بخشش

...

Paat Woh Kuch Dhaar

پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
یا الٰہی! کیوں کر اتریں پار ہم

کس بَلا کی مے سے ہیں سرشار ہم
دن ڈھلا ہوتے نہیں ہشیار ہم

تم کرم سے مشتری ہر عیب کے
جنسِ نا مقبولِ ہر بازار ہم

دشمنوں کی آنکھ میں بھی پھول تم
دوستوں کی بھی نظر میں خار ہم

لغزشِ پا کا سہارا ایک تم
گرنے والے لاکھوں ناہنجار ہم

صَدقہ اپنے بازوؤں کا المدد
کیسے توڑیں یہ بُتِ پندار ہم

دم قدم کی خیر اے جانِ مسیح
در پہ لائے ہیں دلِ بیمار ہم

اپنی رحمت کی طرف دیکھیں حضور
جانتے ہیں جیسے ہیں بدکار ہم

اپنے مہمانوں کا صَدقہ ایک بوند
مرمٹے پیاسے ادھر سرکار ہم

اپنے کوچہ سے نکالا تو نہ دو
ہیں تو حد بھر کے خدائی خوار ہم

ہاتھ اُٹھا کر ایک ٹکڑا اے کریم
ہیں سخی کے مال میں حق دار ہم

چاندنی چھٹکی ہے اُن کے نور کی
آؤ دیکھیں سیرِ طور و نار ہم

ہمّت اے ضعف ان کےد ر پر گرکے ہوں
بے تکلّف سایۂ دیوار ہم

با عطا تم شاہ تم مختار تم
بے نوا ہم زار ہم ناچار ہم

تم نے تو لاکھوں کو جانیں پھیر دیں
ایسا کتنا رکھتے ہیں آزار ہم

اپنی ستّاری کا یا رب واسطہ
ہوں نہ رسوا بر سرِ دربار ہم

اتنی عرضِ آخری کہہ دو کوئی
ناؤ ٹوٹی آ پڑے منجدھار ہم

منھ بھی دیکھا ہے کسی کے عَفْو کا
دیکھ او عصیاں نہیں بے یار ہم

میں نثار ایسا مسلماں کیجیے
توڑ ڈالیں نفس کا زنّار ہم

کب سے پھیلائے ہیں دامن تیغِ عشق
اب تو پائیں زخمِ دامن دار ہم

سنّیت سے کھٹکے سب کی آنکھ میں
پھول ہو کر بن گئے کیا خار ہم

ناتوانی کا بھلا ہو، بن گئے
نقشِ پائے طالبانِ یار ہم

دل کے ٹکڑے نذرِ حاضر لائے ہیں
اے سگانِ کوچۂ دِل دار ہم

قسمتِ ثور و حرا کی حرص ہے
چاہتے ہیں دل میں گہرا غار ہم

چشم پوشی و کرم شانِ شما
کارِ ما بے باکی و اصرار ہم

فصلِ گُل سبزہ صبا مستی شباب
چھوڑیں کس دل سے درِ خمّار ہم

مَے کدہ چھٹتا ہے لِلّٰہ! ساقیا!
اب کے ساغر سے نہ ہوں ہشیار ہم

ساقیِ تسنیم جب تک آ نہ جائیں
اے سیہ مستی نہ ہوں ہشیار ہم

نازشیں کرتے ہیں آپس میں مَلک
ہیں غلامانِ شہِ ابرار ہم

لطفِ از خود رفتگی یا رب نصیب
ہوں شہیدِ جلوۂ رفتار ہم

اُن کے آگے دعویِ ہستی رؔضا
کیا بکے جاتا ہے یہ ہر بار ہم

حدائقِ بخشش

...

Aariz e Shams o Qamar

عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
عرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوشتر ایڑیاں

جا بہ جا پرتو فگن ہیں آسماں پر ایڑیاں
دن کو ہیں خورشید شب کو ماہ و اختر ایڑیاں

نجم گردوں تو نظر آتے ہیں چھوٹے اور وہ پاؤں
عرش پر پھر کیوں نہ ہوں محسوس لاغر ایڑیاں

دب کے زیرِ پا نہ گنجایش سمانے کو رہی
بن گیا جلوہ کفِ پا کا ابھر کر ایڑیاں

ان کا منگتا پاؤں سے ٹھکرادے وہ دنیا کا تاج
جس کی خاطر مرگئے منعَم رگڑ کر ایڑیاں

دو قمر دو پنجۂ خور دو ستارے دس ہلال
ان کے تلوے پنجے ناخن پائے اطہر ایڑیاں

ہائے اس پتھر سے اس سینے کی قسمت پھوڑیے
بے تکلّف جس کے دل میں یوں کریں گھر ایڑیاں

تاجِ روح القدس کے موتی جسے سجدہ کریں
رکھتی ہیں وَاللہ! وہ پاکیزہ گوہر ایڑیاں

ایک ٹھوکر میں اُحُد کا زلزلہ جاتا رہا
رکھتی ہیں کتنا وقار اللہ اکبر ایڑیاں

چرخ پر چڑھتے ہی چاندی میں سیاہی آ گئی
کر چکی ہیں بدر کو ٹکسال باہر ایڑیاں

اے رؔضا طوفانِ محشر کے طلاطم سے نہ ڈر
شاد ہو ہیں کشتیِ امّت کو لنگر ایڑیاں


حدائقِ بخشش

...

Ishq e Mola Main Ho Khoon


عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
یا خدا جَلد کہیں آئے بہارِ دامن

بہہ چلی آنکھ بھی اشکوں کی طرح دامن پر
کہ نہیں تار نظر جز دو سہ تارِ دامن

اشک بر ساؤں چلے کوچۂ جاناں سے نسیم
یا خدا جلد کہیں نکلے بخارِ دامن

دل شدوں کا یہ ہوا دامنِ اطہر پہ ہجوم
بیدل آباد ہوا نام دیارِ دامن

مشک سا زلف شہ و نور فشاں روئے حضور
اللہ اللہ حَلَبِ جیب و تتارِ دامن

تجھ سے اے گل میں سِتم دیدۂ دشتِ حرماں
خلشِ دل کی کہوں یا غمِ خارِ دامن

عکس افگن ہے ہلالِ لبِ شہ جیب نہیں
مہرِ عارض کی شعاعیں ہیں نہ تارِ دامن

اشک کہتے ہیں یہ شیدائی کی آنکھیں دھو کر
اے ادب گردِ نظر ہو نہ غبارِ دامن

اے رؔضا! آہ وہ بلبل کہ نظر میں جس کی
جلوۂ جیب گل آئے نہ بہارِ دامن

حدائقِ بخشش

...