Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan  

Na Aasman Ko Yun

نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
حضورِ خاکِ مدینہ خمیدہ ہونا تھا

اگر گُلوں کو خزاں نا رسیدہ ہونا تھا
کنارِ خارِ مدینہ دمیدہ ہونا تھا

حضور اُن کے خلافِ ادب تھی بے تابی
مِری اُمید تجھے آرمیدہ ہونا تھا

نظارہ خاکِ مدینہ کا اور تیری آنکھ
نہ اس قدر بھی قمر شوخ دیدہ ہونا تھا

کنارِ خاکِ مدینہ میں راحتیں ملتیں
دِلِ حزیں تجھے اشکِ چکیدہ ہونا تھا

پناہِ دامنِ دشتِ حرم میں چین آتا
نہ صبرِِ دل کو غزالِ رمیدہ ہونا تھا

یہ کیسے کھلتا کہ ان کے سوا شفیع نہیں
عبث نہ اَوروں کے آگے تپیدہ ہونا تھا

ہلال کیسے نہ بنتا کہ ماہِ کامل کو
سلامِ ابروئے شہ میں خمیدہ ہونا تھا

لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّم تھا وعدۂ ازلی
نہ منکروں کا عبث بدعقیدہ ہونا تھا

نسیم کیوں نہ شمیم ان کی طبیہ سے لاتی
کہ صبحِ گُل کو گریباں دریدہ ہونا تھا

ٹپکتا رنگِ جنوں عشقِ شہ میں ہر گُل سے
رگِ بہار کو نشتر رسیدہ ہونا تھا

بجا تھا عرش پہ خاکِ مزارِ پاک کو ناز
کہ تجھ سا عرش نشیں آفریدہ ہونا تھا

گزرتے جان سے اِک شورِ ’’یا حبیب کے‘‘ ساتھ
فغاں کو نالۂ حلقِ بریدہ ہونا تھا

مِرے کریم گنہ زہر ہے مگر آخر
کوئی تو شہدِ شفاعت چشیدہ ہونا تھا

جو سنگِ در پہ جبیں سائیوں میں تھا مٹنا
تو میری جان شرارِ جہیدہ ہونا تھا

تِری قبا کے نہ کیوں نیچے نیچے دامن ہوں
کہ خاک ساروں سے یاں کب کشیدہ ہونا تھا

رؔضا جو دل کو بنانا تھا جلوہ گاہِ حبیب
تو پیارے قیدِ خودی سے رہیدہ ہونا تھا

حدائقِ بخشش

 

...

Shor e Mah e No Sun Kar

شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
ساقی میں تِرے صدقے مے دے رمضاں آیا

اِس گُل کے سوا ہر پھول با گوشِ گراں آیا
دیکھے ہی گی اے بلبل جب وقتِ فغاں آیا

جب بامِ تجلّی پر وہ نیّرِ جاں آیا
سر تھا جو گرا جھک کر دل تھا جو تپاں آیا

جنّت کو حَرم سمجھا آتے تو یہاں آیا
اب تک کے ہر اک کا منھ کہتا ہوں کہاں آیا

طیبہ کے سوا سب باغ پامالِ فنا ہوں گے
دیکھو گے چمن والو! جب عہدِ خزاں آیا

سر اور وہ سنگِ در آنکھ اور وہ بزمِ نور
ظالم کو وطن کا دھیان آیا تو کہاں آیا

کچھ نعت کے طبقے کا عالم ہی نرالا ہے
سکتے میں پڑی ہے عقل چکر میں گماں آیا

جلتی تھی زمیں کیسی تھی دھوپ کڑی کیسی
لو وہ قدِ بے سایہ اب سایہ کناں آیا

طیبہ سے ہم آتے ہیں کہیے تو جناں والو
کیا دیکھ کے جیتا ہے جو واں سے یہاں آیا

لے طوقِ الم سے اب آزاد ہو اے قمری
چٹھی لیے بخشش کی وہ سَروِ رواں آیا

نامے سے رؔضا کے اب مٹ جاؤ برے کامو
دیکھو مِرے پَلّے پر وہ اچھے میاں آیا

بدکار رؔضا خوش ہو بد کام بھلے ہوں گے
وہ اچھے میاں پیارا اچھوں کا میاں آیا

حدائقِ بخشش

...

Kharab Haal Kiya Dil Ko

خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
تمھارے کوچے سے رخصت کیا نہال کیا

نہ روئے گل ابھی دیکھا نہ بوئے گل سونگھی
قضا نے لا کے قفس میں شکستہ بال کیا

وہ دل کہ خوں شدہ ارماں تھے جس میں مل ڈالا
فغاں کہ گورِ شہیداں کو پائمال کیا

یہ رائے کیا تھی وہاں سے پلٹنے کی اے نفس
سِتم گر الٹی چھری سے ہمیں حلال کیا

یہ کب کی مجھ سے عداوت تھی تجھ کو اے ظالم
چھڑا کے سنگِ درِ پاک سر و بال کیا

چمن سے پھینک دیا آشیانۂ بلبل
اُجاڑا خانۂ بے کس بڑا کمال کیا

تِرا ستم زدہ آنکھوں نے کیا بگاڑا تھا
یہ کیا سمائی کہ دُور ان سے وہ جمال کیا

حضور اُن کے خیالِ وطن مٹانا تھا
ہم آپ مٹ گئے اچھا فراغِ بال کیا

نہ گھر کا رکھا نہ اس در کا ہائے نا کامی
ہماری بے بسی پر بھی نہ کچھ خیال کیا

جو دل نے مر کے جَلایا تھا منّتوں کا چراغ
ستم کہ عرض رہِ صرصرِ زوال کیا

مدینہ چھوڑ کے ویرانہ ہند کا چھایا
یہ کیسا ہائے حواسوں نے اختلال کیا

تو جس کے واسطے چھوڑ آیا طیبہ سا محبوب
بتا تو اس ستم آرا نے کیا نہال کیا

ابھی ابھی تو چمن میں تھے چہچہے ناگاہ
یہ درد کیسا اٹھا جس نے جی نڈھال کیا

الٰہی سن لے رؔضا جیتے جی کہ مَولیٰ نے
سگانِ کوچہ میں چہرہ مِرا بحال کیا

حدائقِ بخشش

...

Banda Milne ko Kareeb e Hazrat e Qadir Gaya

بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
لمعۂ باطن میں گمنے جلوۂ ظاہر گیا

تیری مرضی پا گیا سورج پھرا الٹے قدم
تیری انگلی اٹھ گئی مہ کا کلیجا چِر گیا

بڑھ چلی تیری ضیا اندھیر عالَم سے گھٹا
کُھل گیا گیسو تِرا رحمت کا بادل گھر گیا

بندھ گئی تیری ہوا ساوہ میں خاک اڑنے لگی
بڑھ چلی تیری ضیا آتش پہ پانی پھر گیا

تیری رحمت سے صفیّ اللہ کا بیڑا پار تھا
تیرے صدقے سے نجیّ اللہ کا بجرا تِر گیا

تیری آمد تھی کہ بیت اللہ مجرے کو جھکا
تیری ہیبت تھی کہ ہر بُت تھر تھرا کر گر گیا

مومن اُن کا کیا ہوا اللہ اس کا ہو گیا
کافر اُن سے کیا پھرا اللہ ہی سے پھر گیا

وہ کہ اُس در کا ہوا خلقِ خدا اُس کی ہوئی
وہ کہ اس دَر سے پھرا اللہ اس سے پھر گیا

مجھ کو دیوانہ بتاتے ہو میں وہ ہشیار ہوں
پاؤں جب طوفِ حرم میں تھک گئے سر پھر گیا

رحمۃ للعالمین آفت میں ہوں کیسی کروں
میرے مولیٰ میں تو اس دل سے بلا میں گھر گیا

میں تِرے ہاتھوں کے صدقے کیسی کنکریاں تھیں وہ
جن سے اتنے کافروں کا دفعتاً منھ پھر گیا

کیوں جنابِ بو ہُریرہ تھا وہ کیسا جامِ شیر
جس سے ستّر صاحبوں کا دودھ سے منھ پھر گیا

واسطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سنّی مَرے
یوں نہ فرمائیں ترے شاہد کہ وہ فاجر گیا

عرش پر دھومیں مچیں وہ مومنِ صالح ملا
فرش سے ماتم اٹھے وہ طیّب و طاہر گیا

اللہ اللہ یہ عُلوِّ خاصِ عبدیّت رَضؔا
بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا

ٹھوکریں کھاتے پھرو گے اُن کے در پر پڑ رہو
قافلہ تو اے رؔضا! اوّل گیا آخر گیا

حدائقِ بخشش

...

Naimatain Banta Jis Simt Woh Zeeshan Gaya

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
ساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلم دان گیا

لے خبر جلد کہ غیروں کی طرف دھیان گیا
میرے مولیٰ مِرے آقا ترے قربان گیا

آہ وہ آنکھ کہ نا کامِ تمنّا ہی رہی
ہائے وہ دل جو تِرے در سے پُر ارمان گیا

دل ہے وہ دل جو تِری یاد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر جو تِرے قدموں پہ قربان گیا

اُنھیں جانا اُنھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
لِلہِ الْحَمْد میں دنیا سے مسلمان گیا

اور تم پر مِرے آقا کی عنایت نہ سہی
نجدیو! کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا

آج لے اُن کی پناہ آج مدد مانگ اُن سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

اُف رے منکر یہ بڑھا جوشِ تعصّب آخر
بھیڑ میں ہاتھ سے کم بخت کے ایمان گیا

جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رؔضا سارا تو سامان گیا

حدائقِ بخشش

...

Phir Utha Walwala e Yaad

پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
پھر کھنچا دامنِ دل سوئے بہابانِ عرب

باغِ فردوس کو جاتے ہیں ہزارانِ عرب
ہائے صحرائے عرب ہائے بیابانِ عرب

میٹھی باتیں تِری دینِ عجم ایمانِ عرب
نمکیں حُسن تِرا جانِ عجم شانِ عرب

اب تو ہے گریۂ خوں گوہرِ دامانِ عرب
جس میں دو لعل تھے زہرا کے وہ تھی کانِ عرب

دل وہی دل ہے جو آنکھوں سے ہو حیرانِ عرب
آنکھیں وہ آنکھیں ہیں جو دل سے ہوں قربانِ عرب

ہائے کس وقت لگی پھانس اَلم کی دل میں
کہ بہت دور رہے خارِ مغیلانِ عرب

فصلِ گل لاکھ نہ ہو وصل کی رکھ آس ہزار
پھولتے پھلتے ہیں بے فصل گلستانِ عرب

صدقے ہونے کو چلے آتے ہیں لاکھوں گلزار
کچھ عجب رنگ سے پھولا ہے گلستانِ عرب

عندلیبی پہ جھگڑتے ہیں کٹے مَرتے ہیں
گل و بلبل کو لڑاتا ہے گلستانِ عرب

صدقے رحمت کے کہاں پھول کہاں خار کا کام
خود ہے دامن کشِ بلبل گلِ خندانِ عرب

شادیِ حشر ہے صَدقے میں چھٹیں گے قیدی
عرش پر دھوم سے ہے دعوتِ مہمانِ عرب

چرچے ہوتے ہیں یہ کمھلائے ہوئے پھولوں میں
کیوں یہ دن دیکھتے پاتے جو بیابانِ عرب

تیرے بے دام کے بندے ہیں رئیسانِ عجم
تیرے بے دام کے بندی ہیں ہزارانِ عرب

ہشت خلد آئیں وہاں کسبِ لطافت کو رؔضا
چار دن برسے جہاں ابرِ بہارانِ عرب

حدائقِ بخشش

 

...

Jobano Par Hai Bahar e Chaman

جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائیِ دوست
خلد کا نام نہ لے بلبلِ شیدائیِ دوست

تھک کے بیٹھے تو درِ دل پہ تمنّائیِ دوست
کون سے گھر کا اُجالا نہیں زیبائیِ دوست

عرصۂ حشر کجا موقفِ محمود کجا
ساز ہنگاموں سے رکھتی نہیں یکتائیِ دوست

مہر کس منھ سے جلو داریِ جاناں کرتا
سائے کے نام سے بیزار ہے یکتائیِ دوست

مرنے والوں کو یہاں ملتی ہے عمرِ جاوید
زندہ چھوڑے گی کسی کو نہ مسیحائیِ دوست

ان کو یکتا کیا اور خلق بنائی یعنی
انجمن کرکے تماشا کریں تنہائیِ دوست

کعبہ و عرش میں کہرام ہے نا کامی کا
آہ کس بزم میں ہے جلوۂ یکتائیِ دوست

حُسنِ بے پردہ کے پردے نے مٹا رکھا ہے
ڈھونڈنے جائیں کہاں جلوۂ ہرجائیِ دوست

شوق روکے نہ رُکے پاؤں اٹھائے نہ اُٹھے
کیسی مشکل میں ہیں اللہ تمنّائیِ دوست

شرم سے جھکتی ہے محراب کہ ساجد ہیں حضور
سجدہ کرواتی ہے کعبہ سے جبیں سائیِ دوست

تاج والوں کا یہاں خاک پہ ماتھا دیکھا
سائے داراؤں کی دارا ہوئی دارائیِ دوست

طُور پر کوئی کوئی چرخ پہ یہ عرش سے پار
سارے بالاؤں پہ بالا رہی بالائیِ دوست

اَنْتَ فِیْہِمْ نے عدو کو بھی لیا دامن میں
عیشِ جاوید مبارک تجھے شیدائیِ دوست

رنج اَعدا کا رؔضا چارہ ہی کیا ہے جب انھیں
آپ گستاخ رکھے حلم و شکیبائیِ دوست

حدائقِ بخشش

 

...

Tooba Main Jo Sab Se Unchi


طوبیٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
مانگوں نعتِ نبی لکھنے کو روحِ قدس سے ایسی شاخ

مولیٰ گلبن رحمت زہرا سبطین اس کی کلیاں پھول
صدّیق و فاروق و عثماں، حیدر ہر اک اُس کی شاخ

شاخِ قامتِ شہ میں زلف و چشم و رخسار و لب ہیں
سنبل نرگس گل پنکھڑیاں قُدرت کی کیا پھولی شاخ

اپنے اِن باغوں کا صدقہ وہ رحمت کا پانی دے
جس سے نخلِ دل میں ہو پیدا پیارے تیری ولا کی شاخ

یادِ رخ میں آہیں کرکے بَن میں مَیں رویا آئی بہار
جھومیں نسیمیں، نیساں برسا، کلیاں چٹکیں، مہکی شاخ

ظاہر و باطن، اوّل و آخر، زیبِ فُروع و زینِ اصول
باغِ رسالت میں ہے تو ہی گل، غنچہ، جَڑ، پتّی، شاخ

آلِ احمد! خُذْ بِیَدِی، یا سیّد حمزہ! کن مَددی
وقتِ خزانِ عمرِ رؔضا ہو بَرگِ ہدیٰ سے نہ عاری شاخ

حدائقِ بخشش

 

...

Zahe Izzat o Aitlaye Muhammad

زہے عزّت و اعتلائے محمدﷺ
کہ ہے عرشِ حق زیرِ پائے محمدﷺ

مکاں عرش اُن کا فلک فرش اُن کا
مَلک خادمانِ سرائے محمدﷺ

خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمدﷺ

عجب کیا اگر رحم فرما لے ہم پر
خدائے محمد برائے محمدﷺ

محمد برائے جنابِ الٰہی!
جنابِ الٰہی برائے محمدﷺ

بسی عطرِ محبوبیِ کبریا سے
عبائے محمد قبائے محمدﷺ

بہم عہد باندھے ہیں وصلِ ابد کا
رضائے خدا اور رضائے محمدﷺ

دمِ نزع جاری ہو میری زباں پر
محمد محمد خدائے محمدﷺ

عصائے کلیم اژدہائے غضب تھا
گِروں کا سہارا عصائے محمدﷺ

میں قربان کیا پیاری پیاری ہے نسبت
یہ آنِ خدا وہ خدائے محمدﷺ

محمد کا دم خاص بہرِ خدا ہے
سوائے محمد برائے محمدﷺ

خدا اُن کو کس پیار سے دیکھتا ہے
جو آنکھیں ہیں محوِ لقائے محمدﷺ

جلو میں اجابت خواصی میں رحمت
بڑھی کس تزک سے دُعائے محمدﷺ

اجابت نے جھک کر گلے سے لگایا
بڑھی ناز سے جب دعائے محمدﷺ

اجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا
دُلھن بن کے نکلی دعائے محمدﷺ

رَضا پل سے اب وجد کرتے گزریے
کہ ہے رَبِّ سَلِّمْ صَدائے محمدﷺ

حدائقِ بخشش

 

...

Ay Shafa e Umam

اے شافعِ اُمَم شہِ ذی جاہ لے خبر
لِلّٰہ لے خبر مِری لِلّٰہ لے خبر

دریا کا جوش، ناؤ نہ بیڑا، نہ نا خدا
میں ڈوبا، تو کہاں ہے مِرے شاہ لے خبر

منزل کڑی ہے رات اندھیری میں نابلد
اے خضر لے خبر مِری اے ماہ لے خبر

پہنچے پہنچنے والے تو منزل مگر شہا
ان کی جو تھک کے بیٹھے سرِ راہ لے خبر

جنگل درندوں کا ہے میں بے یار شب قریب
گھیرے ہیں چار سمت سے بد خواہ، لے خبر

منزل نئی عزیز جُدا لوگ ناشناس
ٹوٹا ہے کوہِ غم میں پرِ کاہ لے خبر

وہ سختیاں سوال کی وہ صورتیں مہیب
اے غمزدوں کے حال سے آگاہ لے خبر

مجرم کو بارگاہِ عدالت میں لائے ہیں
تکتا ہے بے کسی میں تِری راہ لے خبر

اہلِ عمل کو ان کے عمل کام آئیں گے
میرا ہے کون تیرے سِوا آہ لے خبر

پُرخار راہ برہنہ پا تِشنہ، آب دور
مَولیٰ پڑی ہے آفتِ جاں کاہ لے خبر

باہر زبانیں پیاس سے ہیں، آفتاب گرم
کوثر کے شاہ کَثَّرَہُ اللہ لے خبر

مانا کہ سخت مجرم و نا کارہ ہے رَضا
تیرا ہی تو ہے بندۂ درگاہ لے خبر

حدائقِ بخشش

 

...