Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan  

Ronaq e Bazm e Jahan

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
کہہ رہی ہے شمع کی گویا زبانِ سوختہ

جس کو قُرصِ مہر سمجھا ہے جہاں اے منعمو!
اُن کے خوانِ جود سے ہے ایک نانِ سوختہ

ماہِ من یہ نیّرِ محشر کی گرمی تابکے
آتشِ عصیاں میں خود جلتی ہے جانِ سوختہ

برقِ انگشتِ نبی چمکی تھی اس پر ایک بار
آج تک ہے سینۂ مہ میں نشانِ سوختہ

مہرِ عالم تاب جھکتا ہے پئے تسلیم روز
پیشِ ذرّاتِ مزارِ بیدلانِ سوختہ

کوچۂ گیسوئے جاناں سے چلے ٹھنڈی نسیم
بال و پر افشاں ہوں یا رب بلبلانِ سوختہ

بہرِ حق اے بحرِ رحمت اک نگاہِ لطف بار
تابکے بے آب تڑپیں ماہیانِ سوختہ

روکشِ خورشیدِ محشر ہو تمھارے فیض سے
اک شرارِ سینۂ شیدائیانِ سوختہ

آتشِ تر دامنی نے دل کیے کیا کیا کباب
خضر کی جاں ہو جِلا دو ماہیانِ سوختہ

آتشِ گُلہائے طیبہ پر جلانے کے لیے
جان کے طالب ہیں پیارے بلبلانِ سوختہ

لطفِ برقِ جلوۂ معراج لایا وجد میں
شعلۂ جوّالہ ساں ہے آسمانِ سوختہ

اے رؔضا! مضمون سوزِ دِل کی رفعت نے کیا
اس زمینِ سوختہ کو آسمانِ سوختہ

حدائقِ بخشش

...

Wah Kya Jood o Karam Hai

واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا

دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرّہ تیرا

فیض ہے یا شہِ تسنیم نرالا تیرا
آپ پیاسوں کے تجسّس میں ہے دریا تیرا

اَغنیا پلتے ہیں در سے وہ ہے باڑا تیرا
اَصفیا چلتے ہیں سر سے وہ ہے رستا تیرا

فرش والے تِری شوکت کا عُلو کیا جانیں
خسروا! عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا

آسماں خوان، زمیں خوان، زمانہ مہمان
صاحبِ خانہ لقب کس کا ہے تیرا تیرا

میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا

تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں
کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوا تیرا

بحر سائل کا ہوں سائل نہ کنوئیں کا پیاسا
خود بجھا جائے کلیجا مِرا چھینٹا تیرا

چور حاکم سے چھپا کرتے ہیں یاں اس کے خلاف
تیرے دامن میں چھپے چور انوکھا تیرا

آنکھیں ٹھنڈی ہوں جگر تازے ہوں جانیں سیراب
سچے سورج وہ دل آرا ہے اجالا تیرا

دل عبث خوف سے پتا سا اڑا جاتا ہے
پلّہ ہلکا سہی بھاری ہے بھروسا تیرا

ایک میں کیا مِرے عصیاں کی حقیقت کتنی
مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا

مفت پالا تھا کبھی کام کی عادت نہ پڑی
اب عمل پوچھتے ہیں ہائے نکمّا تیرا

تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا

خوار و بیمار و خطاوار و گنہ گار ہوں میں
رافع و نافع و شافع لقب آقا تیرا

میری تقدیر بُری ہو تو بھلی کر دے کہ ہے
محو و اِثبات کے دفتر پہ کڑوڑا تیرا

تو جو چاہے تو ابھی میل مِرے دل کے دھلیں
کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا

کس کا منہ تکیے کہاں جائیے کس سے کہیے
تیرے ہی قدموں پہ مٹ جائے یہ پالا تیرا

تو نے اسلام دیا تو نے جماعت میں لیا
تو کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیّہ تیرا

مَوت سنتا ہوں سِتم تلخ ہے زہرابۂ ناب
کون لا دے مجھے تلووں کا غُسالہ تیرا

دور کیا جانیے بد کار پہ کیسی گزرے
تیرے ہی در پہ مَرے بے کس و تنہا تیرا

تیرے صدقے مجھے اِک بوند بہت ہے تیری
جس دن اچھوں کو ملے جام چھلکتا تیرا

حرم و طیبہ و بغداد جدھر کیجے نگاہ
جوت پڑتی ہے تِری نور ہے چھنتا تیرا

تیری سرکار میں لاتا ہے رؔضا اس کو شفیع
جو مِرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیرا

حدائقِ بخشش

...

Wah Kya Martaba ae Ghous

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا

سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
اَولیا ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا

کیا دبے جس پہ حمایت کا ہو پنجہ تیرا
شیر کو خطرے میں لاتا نہیں کتّا تیرا

تو حسینی حسنی کیوں نہ محیّ الدین ہو
اے خضر! مجمعِ بحرین ہے چشمہ تیرا

قسمیں دے دے کے کھلاتا ہے پلاتا ہے تجھے
پیارا اللہ تِرا چاہنے والا تیرا

مصطفیٰ کے تنِ بے سایہ کا سایہ دیکھا
جس نے دیکھا مِری جاں! جلوۂ زیبا تیرا

ابنِ زہرا کو مبارک ہو عَروسِ قدرت
قادری پائیں تصدّق مِرے دولھا! تیرا

کیوں نہ قاسم ہو کہ تو ابنِ ابی القاسم ہے
کیوں نہ قادر ہو کہ مختار ہے بابا تیرا

نبوی مینھ، علوی فصل، بتولی گلشن
حسنی پھول! حسینی ہے مہکنا تیرا

نبوی ظل، علوی برج، بتولی منزل
حسنی چاند! حسینی ہے اُجالا تیرا

نبوی خور، علوی کوہ، بتولی معدن
حسنی لعل حسینی ہے تجلّا تیرا

بحر و بر، شہر و قریٰ، سہل و حزن، دشت و چمن
کون سے چک پہ پہنچتا نہیں دعویٰ تیرا

حُسنِ نیّت ہو، خطا پھر کبھی کرتا ہی نہیں
آزمایا ہے یگانہ ہے دوگانہ تیرا

عرضِ اَحوال کی پیاسوں میں کہاں تاب مگر
آنکھیں اے ابرِ کرم تکتی ہیں رستا تیرا

موت نزدیک، گناہوں کی تہیں، میل کے خول
آ برس جا کہ نہا دھولے یہ پیاسا تیرا

آب آمد وہ کہے اور میں تمیم برخاست
مشتِ خاک اپنی ہو اور نور کا اہلا تیرا

جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے
کہ یہاں مرنے پہ ٹھہرا ہے نظارہ تیرا

تجھ سے در در سے سگ اور سگ سے ہے مجھ کو نسبت
میری گردن میں بھی ہے دور کا ڈورا تیرا

اس نشانی کے جو سگ ہیں نہیں مارے جاتے
حشر تک میرے گلے میں رہے پٹا تیرا

میری قسمت کی قسم کھائیں سگانِ بغداد
ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

تیری عزّت کے نثار اے مِرے غیرت والے
آہ صد آہ کہ یوں خوار ہو بروا تیرا

بدسہی، چور سہی، مجرم و ناکارہ سہی
اے وہ کیسا ہی سہی ہے تو کریما تیرا

مجھ کو رسوا بھی اگر کوئی کہے گا تو یوں ہی
کہ وہی نا، وہ رضاؔ بندۂ رسوا تیرا

ہیں رؔضا یوں نہ بلک تو نہیں جیّد تو نہ ہو
سیدِ جیّدِ ہر دہر ہے مولیٰ تیرا

فخرِ آقا میں رؔضا اور بھی اِک نظمِ رفیع
چل لکھا لائیں ثنا خوانوں میں چہرا تیرا

حدائقِ بخشش

...

Too hai Woh Ghous k Har Ghous Hai Shaida Tera

تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
تو ہے وہ غیث کہ ہر غیث ہے پیاسا تیرا

سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کر ڈوبے
افقِ نور پہ ہے مہر ہمیشہ تیرا

مرغ سب بولتے ہیں بول کے چپ رہتے ہیں
ہاں اصیل ایک نوا سنج رہے گا تیرا

جو ولی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے
سب ادب رکھتے ہیں دل میں مِرے آقا تیرا

بقسم کہتے ہیں شاہانِ صریفین و حریم
کہ ہوا ہے نہ ولی ہو کوئی ہمتا تیرا

تجھ سے اور دہر کے اقطاب سے نسبت کیسی
قطب خود کون ہے خادم تِرا چیلا تیرا

سارے اقطاب جہاں کرتے ہیں کعبے کا طواف
کعبہ کرتا ہے طوافِ درِ والا تیرا

اور پروانے ہیں جو ہوتے ہیں کعبے پہ نثار
شمع اِک تو ہے کہ پروانہ ہے کعبہ تیرا

شجرِ سرو سہی کس کے اُگائے تیرے
معرفت پھول سہی کس کا کِھلایا تیرا

تو ہے نوشاہ براتی ہے یہ سارا گلزار
لائی ہے فصل سمن گوندھ کے سہرا تیرا

ڈالیاں جھومتی ہیں رقصِ خوشی جوش پہ ہے
بلبلیں جھولتی ہیں گاتی ہیں سہرا تیرا

گیت کلیوں کی چٹک غزلیں ہزاروں کی چہک
باغ کے سازوں میں بجتا ہے ترانا تیرا

صفِ ہر شجرہ میں ہوتی ہے سلامی تیری
شاخیں جھک جھک کے بجالاتی ہیں مجرا تیرا

کس گلستاں کو نہیں فصلِ بہاری سے نیاز
کون سے سلسلے میں فیض نہ آیا تیرا

نہیں کس چاند کی منزل میں ترا جلوۂ نور
نہیں کس آئینہ کے گھر میں اُُجالا تیرا

راج کس شہر میں کرتے نہیں تیرے خدّام
باج کِس نہر سے لیتا نہیں دریا تیرا

مزرعِ چشت و بخارا و عراق و اجمیر
کون سی کِشت پہ برسا نہیں جھالا تیرا

اور محبوب ہیں، ہاں پر سبھی یک ساں تو نہیں
یوں تو محبوب ہے ہر چاہنے والا تیرا

اس کو سو فرد سراپا بفراغت اوڑھیں
تنگ ہو کر جو اُترنے کو ہو نیما تیرا

گردنیں جھک گئیں سر بچھ گئے دل لوٹ گئے
کشفِ ساق آج کہاں یہ تو قدم تھا تیرا

تاجِ فرقِ عرفا کس کے قدم کو کہیے!
سر جسے باج دیں وہ پاؤں ہے کِس کا تیرا

سُکر کے جوش میں جو ہیں وہ تجھے کیا جانیں
خِضر کے ہوش سے پوچھے کوئی رتبہ تیرا

آدمی اپنے ہی اَحوال پہ کرتا ہے قیاس
نشے والوں نے بھلا سُکر نکالا تیرا

وہ تو چھوٹا ہی کہا چاہیں کہ ہیں زیرِ حضیض
اور ہر اَوج سے اونچا ہے ستارہ تیرا

دلِ اعدا کو رؔضا تیز نمک کی دُھن ہے
اِک ذرا اور چھڑکتا رہے خامہ تیرا

حدائقِ بخشش

 

...

Al Aaman Qahar Hai Ya Ghous Woh Teekha Tera

الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرا
مر کے بھی چین سے سوتا نہیں مارا تیرا

بادلوں سے کہیں رکتی ہے کڑکتی بجلی
ڈھالیں چھنٹ جاتی ہیں اٹھتا ہے جو تیغا تیرا

عکس کا دیکھ کے منھ اور بھپر جاتا ہے
چار آئینہ کے بل کا نہیں نیزا تیرا

کوہ سرمکھ ہو تو اِک وار میں دو پَر کالے
ہاتھ پڑتا ہی نہیں بھول کے اوچھا تیرا

اس پہ یہ قہر کہ اب چند مخالف تیرے
چاہتے ہیں کہ گھٹا دیں کہیں پایہ تیرا

عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
یہ گھٹائیں، اُسے منظور بڑھانا تیرا

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے تِرا ذکر ہے اُونچا تیرا

مٹ گئے مٹتے ہیں مِٹ جائیں گے اَعدا تیرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا

تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
جب بڑھائے تجھے اللہ تعالیٰ تیرا

سُمِّ قاتل ہے خدا کی قسم اُن کا اِنکار
منکرِ فضلِ حضور آہ یہ لکھا تیرا

میرے سیّاف کے خنجر سے تجھے باک نہیں
چیر کر دیکھے کوئی آہ کلیجا تیرا

ابنِ زَہرا سے تِرے دل میں ہیں یہ زہر بھرے
بل بے او منکرِ بے باک یہ زہرا تیرا

بازِ اَشہب کی غلامی سے یہ آنکھیں پھرنی
دیکھ اُڑ جائے گا ایمان کا طوطا تیرا

شاخ پر بیٹھ کے جڑ کاٹنے کی فکر میں ہے
کہیں نیچا نہ دکھائے تجھے شجرا تیرا

حق سے بد ہو کے زمانے کا بھلا بنتا ہے
ارے میں خوب سمجھتا ہوں معمّا تیرا

سگِ در قہر سے دیکھے تو بکھرتا ہے ابھی
بند بندِ بدن اے روبہِ دنیا تیرا

غرض آقا سے کروں عرض کہ تیری ہے پناہ
بندہ مجبور ہے خاطر پہ ہے قبضہ تیرا

حکم نافذ ہے تِرا خامہ تِرا سیف تِری
دم میں جو چاہے کرے دور ہے شاہا تیرا

جس کو للکار دے آتا ہو تو الٹا پھر جائے
جس کو چمکار لے ہر پھر کے وہ تیرا تیرا

کنجیاں دل کی خدا نے تجھے دیں ایسی کر
کہ یہ سینہ ہو محبّت کا خزینہ تیرا

دِل پہ کندہ ہو تِرا نام کہ وہ دُزدِ رجیم
الٹے ہی پاؤں پھرے دیکھ کے طغرا تیرا

نزع میں، گور میں، میزاں پہ، سرِ پل پہ کہیں
نہ چھٹے ہاتھ سے دامانِ معلّٰی تیرا

دھوپ محشر کی وہ جاں سوز قیامت ہے مگر
مطمئن ہوں کہ مِرے سر پہ ہے پلّا تیرا

بہجت اُس سِرّ کی ہے جو ’’بَہْجَۃُ الْاَسْرَار‘‘ میں ہے
کہ فلک وار مریدوں پہ ہے سایہ تیرا

اے رؔضا! چیست غم ار جملہ جہاں دشمنِ تست
کردہ ام مامنِ خود قبلۂ حاجاتے را

حدائقِ بخشش

...

Hum khaak Hain Aur Khaak Hi Maawa Hai Hamara

ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
خاکی تو وہ آدم جَدِ اعلیٰ ہے ہمارا

اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میں
یہ خاک تو سرکار سے تمغا ہے ہمارا

جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سیّدِ عالم
اُس خاک پہ قرباں دلِ شیدا ہے ہمارا

خم ہوگئی پشتِ فلک اِس طعنِ زمیں سے
سُن ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ ہے ہمارا

اُس نے لقبِ ’’خاک‘‘ شہنشاہ سے پایا
جو حیدرِ کرّار کہ مولا ہے ہمارا

اے مدّعیو! خاک کو تم خاک نہ سمجھے
اِس خاک میں مدفوں شہِ بطحا ہے ہمارا

ہے خاک سے تعمیرِ مزارِ شہِ کونین
معمور اِسی خاک سے قبلہ ہے ہمارا

ہم خاک اڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی
آباد رؔضا جس پہ مدینہ ہے ہمارا

حدائقِ بخشش

 

...

Gham Ho Gaye Bay Shumar Aaqa

غم ہوگئے بے شمار آقا
بندہ تیرے نثار آقا

بگڑا جاتا ہے کھیل میرا
آقا آقا سنوار آقا

منجدھار پہ آ کے ناؤ ٹوٹی
دے ہاتھ کہ ہوں میں پار آقا

ٹوٹی جاتی ہے پیٹھ میری
لِلّٰہ یہ بوجھ اتار آقا

ہلکا ہے اگر ہمارا پلّہ
بھاری ہے تِرا وقار آقا

مجبور ہیں ہم تو فکر کیا ہے
تم کو تو ہے اختیار آقا

میں دور ہوں تم تو ہو مِرے پاس
سن لو میری پکار آقا

مجھ سا کوئی غم زدہ نہ ہوگا
تم سا نہیں غم گُسار آقا

گرداب میں پڑ گئی ہے کشتی
ڈوبا ڈوبا، اتار آقا

تم وہ کہ کرم کو ناز تم سے
میں وہ کہ بدی کو عار آقا

پھر منھ نہ پڑے کبھی خزاں کا
دے دے ایسی بہار آقا

جس کی مرضی خدا نہ ٹالے
میرا ہے وہ نام دار آقا

ہے مُلکِ خدا پہ جس کا قبضہ
میرا ہے وہ کام گار آقا

سویا کیے نابکار بندے
رویا کیے زار زار آقا

کیا بھول ہے ان کے ہوتے کہلائیں
دنیا کے یہ تاج دار آقا

اُن کے ادنیٰ گدا پہ مٹ جائیں
ایسے ایسے ہزار آقا

بے ابرِ کرم کے میرے دھبّے
لَا تَغْسِلُہَا الْبِحَار آقا

اتنی رحمت رؔضا پہ کرلو
لَا یَقْرُبُہُ الْبَوَار آقا

حدائقِ بخشش

 

...

Muhammad Mazhar e Kamil Hai

محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزّت کا
نظر آتا ہے اِس کثرت میں کچھ انداز وحدت کا

یہی ہے اصلِ عالم مادّہ ایجادِ خلقت کا
یہاں وحدت میں برپا ہے عجب ہنگامہ کثرت کا

گدا بھی منتظر ہے خلد میں نیکوں کی دعوت کا
خدا دن خیر سے لائے سخی کے گھر ضیافت کا

گنہ مغفور، دل روشن، خنک آنکھیں، جگر ٹھنڈا
تَعَالَی اللہ ماہِ طیبہ عالم تیری طلعت کا

نہ رکھی گُل کے جوشِ حسن نے گلشن میں جا باقی
چٹکتا پھر کہاں غنچہ کوئی باغِ رسالت کا

بڑھا یہ سلسلہ رحمت کا دَورِ زلفِ والا میں
تسلسل کالے کوسوں رہ گیا عصیاں کی ظلمت کا

صفِ ماتم اٹھے، خالی ہو زنداں، ٹوٹیں زنجیریں
گنہگارو! چلو مولیٰ نے دَر کھولا ہے جنّت کا

سکھایا ہے یہ کس گستاخ نے آئینہ کو یا رب
نظارہ روئے جاناں کا بہانہ کرکے حیرت کا

اِدھر اُمّت کی حسرت پر اُدھر خالق کی رحمت پر
نرالا طَور ہوگا گردشِ چشمِ شفاعت کا

بڑھیں اِس درجہ موجیں کثرتِ افضالِ والا کی
کنارہ مل گیا اس نہر سے دریائے وحدت کا

خمِ زلفِ نبی ساجد ہے محرابِ دو ابرو میں
کہ یا رب تو ہی والی ہے سیہ کارانِ امّت کا

مدد اے جوششِ گریہ بہا دے کوہ اور صحرا
نظر آجائے جلوہ بے حجاب اِس پاک تربت کا

ہوئے کمخوابیِ ہجراں میں ساتوں پر دے کمخوابی
تصوّر خوب باندھا آنکھوں نے استار تربت کا

یقیں ہے وقتِ جلوہ لغزشیں پائے نگہ پائے
ملے جوشِ صفائے جسم سے پا بوس حضرت کا

یہاں چھڑکا نمک واں مرہمِ کافور ہاتھ آیا
دلِ زخمی نمک پَروردہ ہے کس کی مَلاحت کا

الٰہی! منتظر ہوں وہ خَرام ناز فرمائیں
بچھا رکھا ہے فرش آنکھوں نے کمخوابِ بصارت کا

نہ ہو آقا کو سجدہ آدم و یوسف کو سجدہ ہو
مگر سدِّ ذرائع داب ہے اپنی شریعت کا

زبانِ خار کِس کِس دَرد سے اُن کو سناتی ہے
تڑپنا دشتِ طیبہ میں جگر افکار فرقت کا

سِرھانے ان کے بسمل کے یہ بے تابی کا ماتم ہے
شہِ کوثر تَرَحَّمْ تشنہ جاتا ہے زیارت کا

جنھیں مَرقد میں تا حشر امّتی کہہ کر پکارو گے
ہمیں بھی یاد کرلو اُن میں صدقہ اپنی رحمت کا

وہ چمکیں بجلیاں یا رب! تجلّیہائے جاناں سے
کہ چشمِ طُور کا سُرمہ ہو دل مشتاق رُوْیَت کا

رؔضائے خستہ جوشِ بحرِ عصیاں سے نہ گھبرانا
کبھی تو ہاتھ آجائے گا دامن اُن کی رحمت کا

حدائقِ بخشش

...

Lutf Unka Aam Ho Hi Jayega

لطف اُن کا عام ہو ہی جائے گا
شاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا

جان دے دو وعدۂ دیدار پر
نقد اپنا دام ہو ہی جائے گا

شاد ہے فردوس یعنی ایک دن
قسمتِ خدّام ہو ہی جائے گا

یاد رہ جائیں گی یہ بے باکیاں
نفس تو تو رام ہو ہی جائے گا

بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا

یادِ گیسو ذکرِ حق ہے آہ کر
دل میں پیدا لام ہو ہی جائے گا

ایک دن آواز بدلیں گے یہ ساز
چہچہا کہرام ہو ہی جائے گا

سائلو! دامن سخی کا تھام لو
کچھ نہ کچھ انعام ہو ہی جائے گا

یادِ ابرو کر کے تڑپو بلبلو!
ٹکڑے ٹکڑے دام ہو ہی جائے گا

مفلسو! اُن کی گلی میں جا پڑو
باغِ خلد اکرام ہو ہی جائے گا

گر یوں ہی رحمت کی تاویلیں رہیں
مدح ہر الزام ہو ہی جائے گا

بادہ خواری کا سماں بندھنے تو دو
شیخ دُرد آشام ہو ہی جائے گا

غم تو ان کو بھول کر لپٹا ہے یوں
جیسے اپنا کام ہو ہی جائے گا

مِٹ کہ گر یوں ہی رہا قرضِ حیات
جان کا نیلام ہو ہی جائے گا

عاقلو! اُن کی نظر سیدھی رہے
بَوروں کا بھی کام ہو ہی جائے گا

اب تو لائی ہے شفاعت عَفْو پر
بڑھتے بڑھتے عام ہو ہی جائے گا

اے رؔضا ہر کام کا اِک وقت ہے
دل کو بھی آرام ہو ہی جائے گا

حدائقِ بخشش

...

Lam Yati Nazeero Kafi Nazarin

لَمْ یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍ مثلِ تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تو رے سر سو ہے تجھ کو شہِ دو سَرا جانا

اَلْبَحْرُ عَلَا وَالْمَوْجُ طَغٰے من بے کس و طوفاں ہوشربا
منجدھار میں ہوں بگڑی ہے ہوا موری نیا پار لگا جانا

یَا شَمْسُ نَظَرْتِ اِلٰی لَیْلِیْ چو بطیبہ رسی عرضے بکنی
توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی مِری شب نے نہ دن ہونا جانا

لَکَ بَدْرٌ فِی الْوَجْہِ الْاَجْمَلْ خط ہالۂ مہ زلف ابرِ اجل
تورے چندن چندر پرو کنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا

اَنَا فِیْ عَطَشٍ وَّسَخَاکَ اَتَمّ اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند اِدھر بھی گرا جانا

یَا قَافِلَتِیْ زِیْدِیْٓ اَجَلَکْ رحمے بر حسرتِ تشنہ لبک
مورا جیرا لرجے درک درک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا

وَاھًا لِّسُوَیْعَاتٍ ذَھَبَتْ آں عہدِ حضورِ بارگہت
جب یاد آوت موہے کر نہ پرت دردا وہ مدینے کا جانا

اَلْقَلْبُ شَحٍ وَّالْھَمُّ شُجُوْں دل زار چناں جاں زیر چنوں
پت اپنی بپت میں کاسے کہوں مورا کون ہے تیرے سوا جانا

اَلرُّوْحُ فِدَاکَ فَزِدْ حَرْقَا یک شعلہ دگر بر زن عشقا
مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا

بس خامۂ خامِ نوائے رضاؔ نہ یہ طرز مِری نہ یہ رنگ مِرا
ارشادِ اَحِبّا ناطق تھا ناچار اِس راہ پڑا جانا

حدائقِ بخشش

...