Seeney Se Apne Mujh Ko Lagakar Chale Gaey

سینے سے اپنے مجھ کو لگا کر چلے گئے
اِک بے ہُنر کو اپنا بنا کر چلے گئے

یادِ خُدا و یادِ نبی اور یادِ غوث
یادوں سے اپنے گھر کو بسا کر چلے گئے

تعظیم سے ہمیشہ لیا نام پیر کا
مُرشد کا احترام سکھا کر چلے گئے

تازہ رکھیں گے یاد کو حضرت کی عمر بھر
ایسے کرم کے پھول لٹا کر چلے گئے

ہر جان سوگوار ہے، ہر آنکھ اشک بار
ہر دِل کو بے قرار بنا کر چلے گئے

غافل کے دِل پہ کھول دی عظمت رُسول کی
عشقِ نبی کے جام پلا کر چلے گئے

آنکھوں کو بند کر لیا، دیدار کےلیے
کیسی عجیب بات بتا کر چلے گئے

دِل نے کہا جنازے کی وہ دُھوم دیکھ کر
مقبولیت کی شان دکھا کر چلے گئے

لختِ جگر کی شکل میں جاری ہے اُن کا فیض
کیسے کوئی کہے کہ بُھلا کر چلے گئے

حضرت ضیا کے اور بھی درجات ہوں بُلند
جو سنّتوں کو اوج پر لا کر چلے گئے

مرؔزا ملے گی ویسی محبّت کہاں مجھے
جس کی بہار مجھ کو دکھا کر چلے گئے

 

...
See More

Latest Zia-e-Bakhshish  

See More Latest

Most Favourite Poetry  

Nigah e Lutf K Umeedwar Hum Bhi Hain

نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
لیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں

ہمارے دستِ تمنا کی لاج بھی رکھنا
ترے فقیروں میں اے شہر یار ہم بھی ہیں

اِدھر بھی توسنِ اقدس کے دو قدم جلوے
تمہاری راہ میں مُشتِ غبار ہم بھی ہیں

کھلا دو غنچۂ دل صدقہ باد دامن کا
اُمیدوارِ نسیمِ بہار ہم بھی ہیں

تمہاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے
پڑئے ہوئے تو سرِ رہ گزار ہم بھی ہیں

جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاکِ حضور
تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں

یہ کس شہنشہِ والا کا صدقہ بٹتا ہے
کہ خسروؤں میں پڑی ہے پکار ہم بھی ہیں

ہماری بگڑی بنی اُن کے اختیار میں ہے
سپرد اُنھیں کے ہیں سب کاروبار ہم بھی ہیں

حسنؔ ہے جن کی سخاوت کی دُھوم عالم میں
اُنھیں کے تم بھی ہو اک ریزہ خوار، ہم بھی ہیں

ذوقِ نعت

...

Jinno Insaan o Malak Ko Hai Bharosa Tera

جن و اِنسان و ملک کو ہے بھروسا تیرا
سرورا مرجعِ کل ہے درِ والا تیرا

واہ اے عطرِ خدا ساز مہکنا تیرا
خوب رو ملتے ہیں کپڑوں میں پسینہ تیرا

دَہر میں آٹھ پہر بٹتا ہے باڑا تیرا
وقف ہے مانگنے والوں پہ خزانہ تیرا

لا مکاں میں نظر آتا ہے اُجالا تیرا
دُور پہنچایا ترے حسن نے شہرہ تیرا

جلوۂ یار اِدھر بھی کوئی پھیرا تیرا
حسرتیں آٹھ پہر تکتی ہیں رستہ تیرا

یہ نہیں ہے کہ فقط ہے یہ مدینہ تیرا
تو ہے مختار، دو عالم پہ ہے قبضہ تیرا

کیا کہے وصف کوئی دشتِ مدینہ تیرا
پھول کی جانِ نزاکت میں ہے کانٹا تیرا

کس کے دامن میں چھپے کس کے قدم پہ لوٹے
تیرا سگ جائے کہاں چھوڑ کے ٹکڑا تیرا

خسروِ کون و مکاں اور تواضع ایسی
ہاتھ تکیہ ہے ترا، خاک بچھونا تیرا

خوب رویانِ جہاں تجھ پہ فدا ہوتے ہیں
وہ ہے اے ماہِ عرب حُسنِ دل آرا تیرا

دشتِ پُر ہول میں گھیرا ہے درندوں نے مجھے
اے مرے خضر اِدھر بھی کوئی پھیرا تیرا

بادشاہانِ جہاں بہر گدائی آئیں
دینے پر آئے اگر مانگنے والا تیرا

دشمن و دوست کے منہ پر ہے کشادہ یکساں
روے آئینہ ہے مولیٰ درِ والا تیرا

پاؤں مجروح ہیں منزل ہے کڑی بوجھ بہت
آہ اگر ایسے میں پایا نہ سہارا تیرا

نیک اچھے ہیں کہ اعمال ہیں اُن کے اچھے
ہم بدوں کے لیے کافی ہے بھروسا تیرا

آفتوں میں ہے گرفتار غلامِ عجمی
اے عرب والے اِدھر بھی کوئی پھیرا تیرا

اُونچے اُونچوں کو ترے سامنے ساجد پایا
کس طرح سمجھے کوئی رُتبۂ اعلیٰ تیرا

خارِ صحراے نبی پاؤں سے کیا کام تجھے
آ مرِی جان مرِے دل میں ہے رستہ تیرا

کیوں نہ ہو ناز مجھے اپنے مقدر پہ کہ ہوں
سگ ترا، بندہ ترا، مانگنے والا تیرا

اچھے اچھے ہیں ترے در کی گدائی کرتے
اُونچے اُونچوں میں بٹا کرتا ہے صدقہ تیرا

بھیک بے مانگے فقیروں کو جہاں ملتی ہو
دونوں عالم میں وہ دروازہ ہے کس کا تیرا

کیوں تمنا مری مایوس ہو اے ابرِ کرم
سُوکھے دھانوں کا مددگار ہے چھینٹا تیرا

ہائے پھر خندۂ بے جا مرے لب پر آیا
ہائے پھر بھول گیا راتوں کا رونا تیرا

حشر کی پیاس سے کیا خوف گنہ گاروں کو
تشنہ کاموں کا خریدار ہے دریا تیرا

سوزنِ گم شدہ ملتی ہے تبسم سے ترے
شام کو صبح بناتا ہے اُجالا تیرا

صدق نے تجھ میں یہاں تک تو جگہ پائی ہے
کہہ نہیں سکتے اُلش کو بھی تو جھوٹا تیرا

خاص بندوں کے تصدّق میں رہائی پائے
آخر اس کام کا تو ہے یہ نکما تیرا

بندِ غم کاٹ دیا کرتے ہیں تیرے اَبرو
پھیر دیتا ہے بلاؤں کو اشارہ تیرا

حشر کے روز ہنسائے گا خطاکاروں کو
میرے غمخوارِ دل شب میں یہ رونا تیرا

عملِ نیک کہاں نامۂ بدکاراں میں
ہے غلاموں کو بھروسا مرے آقا تیرا

بہر دیدار جھک آئے ہیں زمیں پر تارے
واہ اے جلوۂ دل دار چمکنا تیرا

اُونچی ہو کر نظر آتی ہے ہر اک شے چھوٹی
جا کے خورشید بنا چرخ پہ ذرّہ تیرا

اے مدینے کی ہوا دل مرا افسردہ ہے
سُوکھی کلیوں کو کھلا جاتا ہے جھونکا تیرا

میرے آقا تو ہیں وہ ابرِ کرم، سوزِ اَلم
ایک چھینٹے کا بھی ہو گا نہ یہ دُہرا تیرا

اب حسنؔ منقبتِ خواجۂ اجمیر سنا
طبع پرُ جوش ہے رُکتا نہیں خامہ تیرا

ذوقِ نعت

...

Kabe ke Badrudduja Tumpe Karoron Durood

کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروڑوں درود (الف)

شافعِ روزِ جزا تم پہ کروڑوں درود
دافعِ جملہ بلا تم پہ کروڑوں درود

جان و دلِ اَصفیا تم پہ کروڑوں درود
آب و گِلِ انبیا تم پہ کروڑوں درود

لائیں تو یہ دوسرا دوسرا جس کو ملا
کوشکِ عرش و دنیٰ تم پہ کروڑوں درود

اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود

طور پہ جو شمع تھا چاند تھا ساعیر کا
نیّرِ فاراں ہوا تم پہ کروڑوں درود

دل کرو ٹھنڈا مِرا وہ کفِ پا چاند سا
سینے پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود

ذات ہوئی انتخاب وصف ہوئے لا جواب (ب)
نام ہوا مصطفیٰ تم پہ کروڑوں درود

غایت و علّت سبب بہرِ جہاں تم ہو سب
تم سے بَنا تم بِنا تم پہ کروڑوں درود

تم سے جہاں کی حیات تم سے جہاں کا ثبات (ت)
اصل سے ہے ظل بندھا تم پہ کروڑوں درود

مغز ہو تم اور پوست اور ہیں باہر کے دوست
تم ہو درونِ سرا تم پہ کروڑوں درود

کیا ہیں جو بے حد ہیں لوث تم تو ہو غیث اور غوث (ث)
چھینٹے میں ہوگا بھلا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو حفیظ و مغیث کیا ہے وہ دشمن خبیث
تم ہو تو پھر خوف کیا تم پہ کروڑوں درود

وہ شبِ معراج راج وہ صفِ محشر کا تاج (ج)
کوئی بھی ایسا ہوا تم پہ کروڑوں درود

نُحْتَ فَلاَحَ الْفَلَاحْ رُحْتَ فَرَاحَ الْمَرَاحْ (ح)
عُدْ لِیَعُوْدَ الْھَنَا تم پہ کروڑوں درود

جان و جہانِ مسیح داد کہ دل ہے جریح
نبضیں چھٹیں دم چلا تم پہ کروڑوں درود

اُف وہ رہِ سنگلاخ آہ یہ پا شاخ شاخ (خ)
اے مِرےمشکل کُشا تم پہ کروڑوں درود

تم سے کُھلا بابِ جود تم سے ہے سب کا وجود (د)
تم سے ہے سب کی بقا تم پہ کروڑوں درود

خستہ ہوں اور تم معاذ بستہ ہوں اور تم ملاذ (ذ)
آگے جو شہ کی رضا تم پہ کروڑوں درود

گرچہ ہیں بے حد قصور تم ہو عفوّ و غفور! (ر)
بخش دو جرم و خطا تم پہ کروڑوں درود

مہرِ خُدا نور نور دل ہے سیہ دن ہے دور
شب میں کرو چاندنا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو شہید و بصیر اور میں گنہ پر دلیر
کھول دو چشمِ حیا تم پہ کروڑوں درود

چھینٹ تمھاری سحر چھوٹ تمھاری قمر
دل میں رچا دو ضیا تم پہ کروڑوں درود

تم سے خدا کا ظہور اس سے تمھارا ظہور
لِمْ ہے یہ وہ اِنْ ہوا تم پہ کروڑوں درود

بے ہنر و بے تمیز کس کو ہوئے ہیں عزیز (ز)
ایک تمھارے سوا تم پہ کروڑوں درود

آس ہے کوئی نہ پاس ایک تمھاری ہے آس (س)
بس ہے یہی آسرا تم پہ کروڑوں درود

طارمِ اعلیٰ کا عرش جس کفِ پا کا ہے فرش (ش)
آنکھوں پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود

کہنے کو ہیں عام و خاص ایک تمھیں ہو خلاص (ص)
بند سے کر دو رہا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو شفائے مرض خلقِ خدا خود غرض (ض)
خلق کی حاجت بھی کیا تم پہ کروڑوں درود

آہ وہ راہِ صراط بندوں کی کتنی بساط (ط)
المدد اے رہ نُما تم پہ کروڑوں درود

بے ادب و بد لحاظ کر نہ سکا کچھ حفاظ (ظ)
عفو پہ بھولا رہا تم پہ کروڑوں درود

لو تہِ دامن کہ شمع جھونکوں میں ہے روز جمع (ع)
آندھیوں سے حشر اٹھا تم پہ کروڑوں درود

سینہ کہ ہے داغ داغ کہہ دو کرے باغ باغ (غ)
طیبہ سے آ کر صبا تم پہ کروڑوں درود

گیسو و قد لام الف کر دو بلا منصرف (ف)
لا کے تہِ تیغِ لَا تم پہ کروڑوں درود

تم نے برنگِ فلق جیبِ جہاں کر کے شق (ق)
نور کا تڑکا کیا تم پہ کروڑوں درود

نوبتِ در ہیں فلک خادمِ در ہیں مَلک (ک)
تم ہو جہاں بادشا تم پہ کروڑوں درود

خلق تمھاری جمیل خُلق تمھارا جلیل (ل)
خَلق تمھاری گدا تم پہ کروڑوں درود

طیبہ کے ماہِ تمام جملہ رُسُل کے امام (م)
نوشہِ مُلکِ خدا تم پہ کروڑوں درود

تم سے جہاں کا نظام تم پہ کروڑوں سلام
تم پہ کروڑوں ثنا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو جواد و کریم تم ہو رؤف و رحیم
بھیک ہو داتا عطا تم پہ کروڑوں درود

خلق کے حاکم ہو تم رزق کے قاسم ہو تم
تم سے ملا جو ملا تم پہ کروڑوں درود

نافع و دافع ہو تم شافع و رافع ہو تم
تم سے بس افزوں خدا تم پہ کروڑوں درود

شافی و نافی ہو تم کافی و وفی ہو تم
درد کو کردو دوا تم پہ کروڑوں درود

جائیں نہ جب تک غلام خلد ہے سب پر حرام
ملک تو ہے آپ کا تم پہ کروڑوں درود

مظہرِ حق ہو تمھیں مُظہرِ حق ہو تمھیں (ن)
تم میں ہے ظاہر خدا تم پہ کروڑوں درود

زور دہِ نا رساں تکیہ گہِ بے کساں
بادشہِ ماوَرا تم پہ کروڑوں درود

برسے کرم کی بھرن پھولیں نِعَم کے چمن
ایسی چلا دو ہوا تم پہ کروڑوں درود

کیوں کہوں بے کس ہوں میں، کیوں کہوں بے بس ہوں میں
تم ہو میں تم پر فدا تم پہ کروڑوں درود

گندے نکمّے کمین مہنگے ہوں کوڑی کے تین
کون ہمیں پالتا تم پہ کروڑوں درود

باٹ نہ در کے کہیں گھاٹ نہ گھر کے کہیں
ایسے تمھیں پالنا تم پہ کروڑوں درود

ایسوں کو نعمت کھلاؤ دودھ کے شربت پلاؤ (و)
ایسوں کو ایسی غذا تم پہ کروڑوں درود

گرنے کو ہوں روک لو غوطہ لگے ہاتھ دو
ایسوں پر ایسی عطا تم پہ کروڑوں درود

اپنےخطا واروں کو اپنے ہی دامن میں لو
کون کرے یہ بھلا تم پہ کروڑوں درود

کر کے تمھارے گناہ مانگیں تمھاری پناہ (ہ)
تم کہو دامن میں آ تم پہ کروڑوں درود

کر دو عَدُو کو تباہ حاسدوں کو رُو براہ
اہلِ وِلا کی بھلا تم پہ کروڑوں درود

ہم نے خطا میں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی (ی)
کوئی کمی سَروَرا! تم پہ کروڑوں درود

کام غضب کے کیے اس پہ ہے سرکار سے (ے)
بندوں کو چشمِ رضا تم پہ کروڑوں درود

آنکھ عطا کیجیے اس میں ضیا دیجیے
جلوہ قریب آ گیا تم پہ کروڑوں درود

کام وہ لے لیجیے تم کو جو راضی کرے
ٹھیک ہو نامِ رضؔا تم پہ کروڑوں درود

حدائقِ بخشش

...

Tumhara Naam Musibat Mein Jab Liya Hoga

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہو گا

گناہگار پہ جب لطف آپ کا ہو گا
کیا بغیر کیا ، بے کیا کیا ہو گا

خدا کا لطف ہوا ہو گا دستگیر ضرور
جو گرتے گرتے ترا نام لے لیا ہو گا

دکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبی
کہ آپ ہی کی خوشی آپ کا کہا ہو گا

خداے پاک کی چاہیں گے اگلے پچھلے خوشی
خداے پاک خوشی اُن کی چاہتا ہو گا

کسی کے پاوں کی بیڑی یہ کاٹتے ہوں گے
کوئی اسیرِغم اُن کو پکارتا ہو گا

کسی طرف سے صدا آئے گی حضور آؤ
نہیں تو دَم میں غریبوں کا فیصلہ ہو گا

کسی کے پلّہ پہ یہ ہوں گے وقتِ وزنِ عمل
کوئی اُمید سے منہ اُن کا تک رہا ہو گا

کوئی کہے گا دہائی ہے یَا رَسُوْلَ اﷲ
تو کوئی تھام کے دامن مچل گیا ہو گا

کسی کو لے کے چلیں گے فرشتے سوے جحیم
وہ اُن کا راستہ پھِر پھِر کے دیکھتا ہو گا

شکستہ پا ہوں مرے حال کی خبر کردو
کوئی کسی سے یہ رو رو کے کہہ رہا ہو گا

خدا کے واسطے جلد اُن سے عرضِ حال کرو
کسے خبر ہے کہ دَم بھر میں ہائے کیا ہو گیا

پکڑ کے ہاتھ کوئی حالِ دل سنائے گا
تو رو کے قدموں سے کوئی لپٹ گیا ہو گا

زبان سُوکھی دِکھا کر کوئی لبِ کوثر
جنابِ پاک کے قدموں پہ گر گیا ہو گا

نشانِ خسروِ دیں دُور کے غلاموں کو
لِواے حمد کا پرچم بتا رہا ہو گا

کوئی قریبِ ترازو کوئی لبِ کوثر
کوئی صراط پر اُن کو پکارتا ہو گا

یہ بے قرار کرے گی صدا غریبوں کی
مقدس آنکھوں سے تار ا شک کا بندھا ہو گا

وہ پاک دل کہ نہیں جس کو اپنا اندیشہ
ہجومِ فکر و تردد میں گھر گیا ہو گا

ہزار جان فدا نرم نرم پاؤں سے
پکار سن کے اَسیروں کی دوڑتا ہو گا

عزیز بچہ کو ماں جس طرح تلاش کرے
خدا گواہ یہی حال آپ کا ہو گا

خدائی بھر اِنھیں ہاتھوں کو دیکھتی ہو گی
زمانہ بھر اِنھیں قدموں پہ لوٹتا ہو گا

بنی ہے دَم پہ دُہائی ہے تاج والے کی
یہ غل، یہ شور، یہ ہنگامہ، جابجا ہو گا

مقام فاصلوں ہر کام مختلف اِتنے
وہ دن ظہورِ کمالِ حضور کا ہو گا

کہیں گے اور نبی اِذھَبُوْاِلٰی غَیرِی
مرے حضور کے لب پر اَ نَا لھَا ہو گا

دُعاے اُمتِ بدکار وردِ لب ہو گی
خدا کے سامنے سجدہ میں سر جھکا ہو گا

غلام اُن کی عنایت سے چین میں ہو نگے
عدو حضور کا آفت میں مبتلا ہو گا

میں اُن کے دَر کا بھکاری ہوں فضل مولیٰ سے
حسنؔ فقیر کا جنت میں بسترا ہو گا

ذوقِ نعت

...

Kahoun Kiya Haal Zahid Gulshan e Taiba Ki Nuzhat Ka

کہوں کیا حال زاہد، گلشن طیبہ کی نزہت کا
کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا

تعالیٰ اللہ شوکت تیرے نامِ پاک کی آقا
کہ اب تک عرشِ اعلیٰ کو ہے سکتہ تیری ہیبت کا

وکیل اپنا کیا ہے احمد مختار کو میں نے
نہ کیوں کر پھر رہائی میری منشا ہو عدالت کا

بلاتے ہیں اُسی کو جس کی بگڑی وہ بناتے ہیں
کمر بندھنا دیارِ طیبہ کو کھلنا ہے قسمت کا

کھلیں اسلام کی آنکھیں ہوا سارا جہاں روشن
عرب کے چاند صدقے کیا ہی کہنا تیری طلعت کا

نہ کر رُسواے محشر، واسطہ محبوب کا یا ربّ
یہ مجرم دُور سے آیا ہے سن کر نام رحمت کا

مرادیں مانگنے سے پہلے ملتی ہیں مدینہ میں
ہجومِ جود نے روکا ہے بڑھنا دستِ حاجت کا

شبِ اسریٰ ترے جلوؤں نے کچھ ایسا سماں باندھا
کہ اب تک عرشِ اعظم منتظر ہے تیری رُخصت کا

یہاں کے ڈوبتے دَم میں اُدھر جا کر اُبھرتے ہیں
کنارا ایک ہے بحرِ ندامت بحرِ رحمت کا

غنی ہے دل، بھرا ہے نعمت کونین سے دامن
گدا ہوں میں فقیر آستانِ خود بدولت کا

طوافِ روضۂ مولیٰ پہ ناواقف بگڑتے ہیں
عقیدہ اَور ہی کچھ ہے اَدب دانِ محبت کا

خزانِ غم سے رکھنا دُور مجھ کو اُس کے صدقے میں
جو گل اے باغباں ہے عطر تیرے باغِ صنعت کا

الٰہی بعدِ مردن پردہ ہاے حائل اُٹھ جائیں
اُجالا میرے مرقد میں ہو اُن کی شمعِ تُربت کا

سنا ہے روزِ محشر آپ ہی کا منہ تکیں گے سب
یہاں پورا ہوا مطلب دلِ مشتاقِ رؤیت کا

وجودِ پاک باعث خِلقتِ مخلوق کا ٹھہرا
تمہاری شانِ وحدت سے ہوا اِظہار کثرت کا

ہمیں بھی یاد رکھنا ساکنانِ کوچۂ جاناں
سلامِ شوق پہنچے بے کسانِ دشتِ غربت کا

حسنؔ سرکارِ طیبہ کا عجب دربارِ عالی ہے
درِ دولت پہ اک میلہ لگا ہے اہلِ حاجت کا

ذوقِ نعت

...
See More Favorite