Seeney Se Apne Mujh Ko Lagakar Chale Gaey

سینے سے اپنے مجھ کو لگا کر چلے گئے
اِک بے ہُنر کو اپنا بنا کر چلے گئے

یادِ خُدا و یادِ نبی اور یادِ غوث
یادوں سے اپنے گھر کو بسا کر چلے گئے

تعظیم سے ہمیشہ لیا نام پیر کا
مُرشد کا احترام سکھا کر چلے گئے

تازہ رکھیں گے یاد کو حضرت کی عمر بھر
ایسے کرم کے پھول لٹا کر چلے گئے

ہر جان سوگوار ہے، ہر آنکھ اشک بار
ہر دِل کو بے قرار بنا کر چلے گئے

غافل کے دِل پہ کھول دی عظمت رُسول کی
عشقِ نبی کے جام پلا کر چلے گئے

آنکھوں کو بند کر لیا، دیدار کےلیے
کیسی عجیب بات بتا کر چلے گئے

دِل نے کہا جنازے کی وہ دُھوم دیکھ کر
مقبولیت کی شان دکھا کر چلے گئے

لختِ جگر کی شکل میں جاری ہے اُن کا فیض
کیسے کوئی کہے کہ بُھلا کر چلے گئے

حضرت ضیا کے اور بھی درجات ہوں بُلند
جو سنّتوں کو اوج پر لا کر چلے گئے

مرؔزا ملے گی ویسی محبّت کہاں مجھے
جس کی بہار مجھ کو دکھا کر چلے گئے

 

...
See More

Latest Zia-e-Bakhshish  

See More Latest

Most Favourite Poetry  

Nigah e Lutf K Umeedwar Hum Bhi Hain

نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
لیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں

ہمارے دستِ تمنا کی لاج بھی رکھنا
ترے فقیروں میں اے شہر یار ہم بھی ہیں

اِدھر بھی توسنِ اقدس کے دو قدم جلوے
تمہاری راہ میں مُشتِ غبار ہم بھی ہیں

کھلا دو غنچۂ دل صدقہ باد دامن کا
اُمیدوارِ نسیمِ بہار ہم بھی ہیں

تمہاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے
پڑئے ہوئے تو سرِ رہ گزار ہم بھی ہیں

جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاکِ حضور
تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں

یہ کس شہنشہِ والا کا صدقہ بٹتا ہے
کہ خسروؤں میں پڑی ہے پکار ہم بھی ہیں

ہماری بگڑی بنی اُن کے اختیار میں ہے
سپرد اُنھیں کے ہیں سب کاروبار ہم بھی ہیں

حسنؔ ہے جن کی سخاوت کی دُھوم عالم میں
اُنھیں کے تم بھی ہو اک ریزہ خوار، ہم بھی ہیں

ذوقِ نعت

...

Shajrah Sharif Hazrat Data Ali Hajveri

گنج بخش فض  عالم مظہرِ نور خدا
ناقصاں راپر  کامل کاملاں را راہنما

ہو رقم کس سے تمہارا مرتبہ یا گنج بخش
ہیں ثناء خواں آپ کے شاہ وگدا یا گنج بخش

بحر غم میں ہوتی ہے زیروزبر کشتی میری
لو خبر بحرِ محمد مصطفی یا گنج بخش

مہربان ہو کر ہماری مشکلیں آساں کرو
صدقہ حضرت علی مرتضیٰ یا گنج بخش

ازپئے خواجہ حسن بصری مجھے ہونے نہ دو
پھندہ حرص وہوا میں مبتلا یا گنج بخش

از برائے طاعت حضرت حبیب عجمی کرو
نور ایماں سے منور دل مرا یا گنج بخش

حضرت داؤد طائی پیر کامل کے طفیل
کیجیے سب حاجتیں سب کی روا یا گنج بخش

از پئے معروف کرخی خواب میں آکر مجھے
چہرہ انور دکھا دو بر ملا یا گنج بخش

از برائے سری سقطی رہے لب پر میرے
اسم اعظم آپ کا جاری سدا یا گنج بخش

ازپئے الطاف وتکریم وفیوضیات جنید
ہو ہمارے حال پر نظر عطا یا گنج بخش

از برائے حضرت ابوبکر شبلی نامدار
ہو ہمارے دل کا حاصل مدعا یا گنج بخش

از پئے حضرت علی حسری مجھے کردو رہا
ہوں گرفتار غم ورنج وبلا یا گنج بخش

از برائے ابوالفضل ختلی رہے جلوہ نما
ہر گھڑی دل میں  تصور آپ کا یا گنج بخش

یا علی مخدوم ہجویری برائے ذات خویش
غیر کا ہونے نہ دو ہم کو گدا یا گنج بخش

جب نظر لطف وکرم کی شیخ ہندی پر پڑی
کردیا قطرے سے دریا آپ نے یا گنج بخش

حضرت خواجہ معین الدین بابا فرید الدین کو
گنج عرفاں آپ کے در سے ملا یا گنج بخش

آپ کے دربار میں آکر کیا جس نے سوال
آپ نے بخشا اس کو گنج بے بہا یا گنج بخش

اس بشر کے ہوگئے فوراً سبھی مطلب روا
صدق سے اک مرتبہ جس نے کہا یا گنج بخش

کس کے در پر یہ ظہور الدین کرے جاکر سوال
آپ کے دربار عالی کے سوا یا گنج بخش

گنج بخشی آپ کی مشہور ہم پہ کر کرم
کر کرم کرواکرم دونوں جہاں میں رکھ شرم

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما

...

Kabe ke Badrudduja Tumpe Karoron Durood

کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروڑوں درود (الف)

شافعِ روزِ جزا تم پہ کروڑوں درود
دافعِ جملہ بلا تم پہ کروڑوں درود

جان و دلِ اَصفیا تم پہ کروڑوں درود
آب و گِلِ انبیا تم پہ کروڑوں درود

لائیں تو یہ دوسرا دوسرا جس کو ملا
کوشکِ عرش و دنیٰ تم پہ کروڑوں درود

اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود

طور پہ جو شمع تھا چاند تھا ساعیر کا
نیّرِ فاراں ہوا تم پہ کروڑوں درود

دل کرو ٹھنڈا مِرا وہ کفِ پا چاند سا
سینے پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود

ذات ہوئی انتخاب وصف ہوئے لا جواب (ب)
نام ہوا مصطفیٰ تم پہ کروڑوں درود

غایت و علّت سبب بہرِ جہاں تم ہو سب
تم سے بَنا تم بِنا تم پہ کروڑوں درود

تم سے جہاں کی حیات تم سے جہاں کا ثبات (ت)
اصل سے ہے ظل بندھا تم پہ کروڑوں درود

مغز ہو تم اور پوست اور ہیں باہر کے دوست
تم ہو درونِ سرا تم پہ کروڑوں درود

کیا ہیں جو بے حد ہیں لوث تم تو ہو غیث اور غوث (ث)
چھینٹے میں ہوگا بھلا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو حفیظ و مغیث کیا ہے وہ دشمن خبیث
تم ہو تو پھر خوف کیا تم پہ کروڑوں درود

وہ شبِ معراج راج وہ صفِ محشر کا تاج (ج)
کوئی بھی ایسا ہوا تم پہ کروڑوں درود

نُحْتَ فَلاَحَ الْفَلَاحْ رُحْتَ فَرَاحَ الْمَرَاحْ (ح)
عُدْ لِیَعُوْدَ الْھَنَا تم پہ کروڑوں درود

جان و جہانِ مسیح داد کہ دل ہے جریح
نبضیں چھٹیں دم چلا تم پہ کروڑوں درود

اُف وہ رہِ سنگلاخ آہ یہ پا شاخ شاخ (خ)
اے مِرےمشکل کُشا تم پہ کروڑوں درود

تم سے کُھلا بابِ جود تم سے ہے سب کا وجود (د)
تم سے ہے سب کی بقا تم پہ کروڑوں درود

خستہ ہوں اور تم معاذ بستہ ہوں اور تم ملاذ (ذ)
آگے جو شہ کی رضا تم پہ کروڑوں درود

گرچہ ہیں بے حد قصور تم ہو عفوّ و غفور! (ر)
بخش دو جرم و خطا تم پہ کروڑوں درود

مہرِ خُدا نور نور دل ہے سیہ دن ہے دور
شب میں کرو چاندنا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو شہید و بصیر اور میں گنہ پر دلیر
کھول دو چشمِ حیا تم پہ کروڑوں درود

چھینٹ تمھاری سحر چھوٹ تمھاری قمر
دل میں رچا دو ضیا تم پہ کروڑوں درود

تم سے خدا کا ظہور اس سے تمھارا ظہور
لِمْ ہے یہ وہ اِنْ ہوا تم پہ کروڑوں درود

بے ہنر و بے تمیز کس کو ہوئے ہیں عزیز (ز)
ایک تمھارے سوا تم پہ کروڑوں درود

آس ہے کوئی نہ پاس ایک تمھاری ہے آس (س)
بس ہے یہی آسرا تم پہ کروڑوں درود

طارمِ اعلیٰ کا عرش جس کفِ پا کا ہے فرش (ش)
آنکھوں پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود

کہنے کو ہیں عام و خاص ایک تمھیں ہو خلاص (ص)
بند سے کر دو رہا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو شفائے مرض خلقِ خدا خود غرض (ض)
خلق کی حاجت بھی کیا تم پہ کروڑوں درود

آہ وہ راہِ صراط بندوں کی کتنی بساط (ط)
المدد اے رہ نُما تم پہ کروڑوں درود

بے ادب و بد لحاظ کر نہ سکا کچھ حفاظ (ظ)
عفو پہ بھولا رہا تم پہ کروڑوں درود

لو تہِ دامن کہ شمع جھونکوں میں ہے روز جمع (ع)
آندھیوں سے حشر اٹھا تم پہ کروڑوں درود

سینہ کہ ہے داغ داغ کہہ دو کرے باغ باغ (غ)
طیبہ سے آ کر صبا تم پہ کروڑوں درود

گیسو و قد لام الف کر دو بلا منصرف (ف)
لا کے تہِ تیغِ لَا تم پہ کروڑوں درود

تم نے برنگِ فلق جیبِ جہاں کر کے شق (ق)
نور کا تڑکا کیا تم پہ کروڑوں درود

نوبتِ در ہیں فلک خادمِ در ہیں مَلک (ک)
تم ہو جہاں بادشا تم پہ کروڑوں درود

خلق تمھاری جمیل خُلق تمھارا جلیل (ل)
خَلق تمھاری گدا تم پہ کروڑوں درود

طیبہ کے ماہِ تمام جملہ رُسُل کے امام (م)
نوشہِ مُلکِ خدا تم پہ کروڑوں درود

تم سے جہاں کا نظام تم پہ کروڑوں سلام
تم پہ کروڑوں ثنا تم پہ کروڑوں درود

تم ہو جواد و کریم تم ہو رؤف و رحیم
بھیک ہو داتا عطا تم پہ کروڑوں درود

خلق کے حاکم ہو تم رزق کے قاسم ہو تم
تم سے ملا جو ملا تم پہ کروڑوں درود

نافع و دافع ہو تم شافع و رافع ہو تم
تم سے بس افزوں خدا تم پہ کروڑوں درود

شافی و نافی ہو تم کافی و وفی ہو تم
درد کو کردو دوا تم پہ کروڑوں درود

جائیں نہ جب تک غلام خلد ہے سب پر حرام
ملک تو ہے آپ کا تم پہ کروڑوں درود

مظہرِ حق ہو تمھیں مُظہرِ حق ہو تمھیں (ن)
تم میں ہے ظاہر خدا تم پہ کروڑوں درود

زور دہِ نا رساں تکیہ گہِ بے کساں
بادشہِ ماوَرا تم پہ کروڑوں درود

برسے کرم کی بھرن پھولیں نِعَم کے چمن
ایسی چلا دو ہوا تم پہ کروڑوں درود

کیوں کہوں بے کس ہوں میں، کیوں کہوں بے بس ہوں میں
تم ہو میں تم پر فدا تم پہ کروڑوں درود

گندے نکمّے کمین مہنگے ہوں کوڑی کے تین
کون ہمیں پالتا تم پہ کروڑوں درود

باٹ نہ در کے کہیں گھاٹ نہ گھر کے کہیں
ایسے تمھیں پالنا تم پہ کروڑوں درود

ایسوں کو نعمت کھلاؤ دودھ کے شربت پلاؤ (و)
ایسوں کو ایسی غذا تم پہ کروڑوں درود

گرنے کو ہوں روک لو غوطہ لگے ہاتھ دو
ایسوں پر ایسی عطا تم پہ کروڑوں درود

اپنےخطا واروں کو اپنے ہی دامن میں لو
کون کرے یہ بھلا تم پہ کروڑوں درود

کر کے تمھارے گناہ مانگیں تمھاری پناہ (ہ)
تم کہو دامن میں آ تم پہ کروڑوں درود

کر دو عَدُو کو تباہ حاسدوں کو رُو براہ
اہلِ وِلا کی بھلا تم پہ کروڑوں درود

ہم نے خطا میں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی (ی)
کوئی کمی سَروَرا! تم پہ کروڑوں درود

کام غضب کے کیے اس پہ ہے سرکار سے (ے)
بندوں کو چشمِ رضا تم پہ کروڑوں درود

آنکھ عطا کیجیے اس میں ضیا دیجیے
جلوہ قریب آ گیا تم پہ کروڑوں درود

کام وہ لے لیجیے تم کو جو راضی کرے
ٹھیک ہو نامِ رضؔا تم پہ کروڑوں درود

حدائقِ بخشش

...

Aasman Gar Tere Talwo Ka

آسماں گر ترے تلووں کا نظارہ کرتا
روز اک چاند تصدق میں اُتارا کرتا

طوفِ روضہ ہی پہ چکرائے تھے کچھ ناواقف
میں تو آپے میں نہ تھا اور جو سجدہ کرتا

صَرصرِ دشتِ مدینہ جو کرم فرماتی
کیوں میں افسردگیِ بخت کی پرواہ کرتا

چھپ گیا چاند نہ آئی ترے دیدار کی تاب
اور اگر سامنے رہتا بھی تو سجدہ کرتا

یہ وہی ہیں کہ گرِو آپ اور ان پر مچلو
اُلٹی باتوں پہ کہو کون نہ سیدھا کرتا

ہم سے ذرّوں کی تو تقدیر ہی چمکا جاتا
مہر فرما کے وہ جس راہ سے نکلا کرتا

دُھوم ذرّوں میں اناالشمس کی پڑ جاتی ہے
جس طرف سے ہے گزر چاند ہمارا کرتا

آہ کیا خوب تھا گر حاضرِ دَر ہوتا میں
اُن کے سایہ کے تلے چین سے سویا کرتا

شوق وآداب بہم گرمِ کشاکش رہتے
عشقِ گم کردہ تواں عقل سے اُلجھا کرتا

آنکھ اُٹھتی تو میں جھنجھلا کے پلک سی لیتا
دِل بگڑ تا تو میں گھبرا کے سنبھالا کرتا

بے خودانہ کبھی سجدہ میں سوے دَر گرِتا
جانبِ قبلہ کبھی چونک کے پلٹا کرتا

بام تک دل کو کبھی بالِ کبوتر دیتا
خاک پر گر کے کبھی ہائے خدایا کرتا

گاہ مرہم نہیِ زخمِ جگر میں رہتا
گاہ نشتر زنیِ خونِ تمنا کرتا

ہم رہِ مہر کبھی گردِ خطیرہ پھرتا
سایہ کے ساتھ کبھی خاک پہ لوٹا کرتا

صحبتِ داغِ جگر سے کبھی جی بہلاتا
اُلفتِ دست و گریباں کا تماشا کرتا

دلِ حیراں کو کبھی ذوقِ تپش پہ لاتا
تپشِ دل کو کبھی حوصلہ فرسا کرتا

کبھی خود اپنے تحیّر پہ میں حیراں رہتا
کبھی خود اپنے سمجھنے کو نہ سمجھا کرتا

کبھی کہتا کہ یہ کیا بزم ہے کیسی ہے بہار
کبھی اندازِ تجاہل سے میں توبہ کرتا

کبھی کہتا کہ یہ کیا جوشِ جنوں ہے ظالم
کبھی پھر گر کے تڑپنے کی تمنا کرتا

ستھری ستھری وہ فضا دیکھ کے میں غرقِ گناہ
اپنی آنکھوں میں خود اُس بزم میں کھٹکا کرتا

کبھی رَحمت کے تصور میں ہنسی آجاتی
پاسِ آداب کبھی ہونٹوں کو بخیہ کرتا

دل اگر رنجِ معاصی سے بگڑنے لگتا
عفو کا ذکر سنا کر میں سنبھالا کرتا

یہ مزے خوبیِ قسمت سے جو پائے ہوتے
سخت دیوانہ تھا گر خلد کی پروا کرتا

موت اُس دن کو جو پھر نام وطن کا لیتا
خاک اُس سر پہ جو اُس در سے کنارا کرتا

اے حسنؔ قصدِ مدینہ نہیں رونا ہے یہی
اور میں آپ سے کس بات کا شکوہ کرتا

ذوقِ نعت

...

Khuda Ke Fazal Se Hum Per Hai Saya

خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا
ہمیں دونوں جہاں میں ہے سہارا غوث اعظم کا

بلیات و غم افکار کیوں کر گھیر سکتے ہیں
سروں پر نام لیووں کے ہے پنجہ غوث اعظم کا

مریدی لاتخف کہہ کر تسلی دی غلاموں کو
قیامت تک رہے بے خوف بندہ غوث اعظم کا

جواپنے کو کہےمیرا مریدوں میں وہ داخل ہے
یہ فرمایا ہوا ہے میرے آقا غوث اعظم کا

سجل ان کو دیا وہ رب نے جس میں صاف لکھا ہے
کہ جائے خلد میں ہر نام لیوا غوث اعظم کا

ہماری لاج کس کے ہاتھ ہے بغداد والے کے
مصیبت ٹال دینا کام کس کا غوث اعظم کا

جہاز تاجراں گرداب سے فوراً نکل آیا
وظیفہ جب انہوں نے پڑھ لیا یا غوث اعظم کا

گئے اک وقت میں ستر مریدوں کے یہاں آقا
سمجھ میں آنہیں سکتا معمار غوث اعظم کا

شفا پاتے ہیں صدہا جاں بلب امراض مہلک سے
عجب دار الشفا ہے آستانہ غوث اعظم کا

نہ کیوں کر اولیا اس آستانے کے بنیں منگتا
کہ اقلیم ولایت پر ہے قبضہ غوث اعظم کا

بلاکر کافروں کو دیتے ہیں ابدال کا رتبہ
ہمیشہ جوش پر رہتا ہے دریا غوث اعظم کا

بلاداللہ ملکی تحت حکمی سے یہ ظاہر ہے
کہ عالم میں ہر اک شے پہ ہے قبضہ غوث اعظم کا

وولانی علی الاقطاب جمعاً صاف کہتا ہے
کہ ہر قطب ہے عالم میں چیلا غوث اعظم کا

فحکمی نافذ فی کل حال سے ہوا ظاہر
تصرف انس و جن سب پر ہی آقا غوث اعظم کا

سلاطین جہاں کیوں کر نہ ان کے رعب سے کانپیں
نہ لایا شیر کو خطرے میں میں کتا غوث اعظم کا

ہوئی اک دیو سے لڑکی رہا اس نام لیوا کی
پڑھا جنگل میں جب اس نے وظیفہ غوث اعظم کا

ہوا موقوف فوراً ہی برسنا اہل مجلس پر
جو پایا ابر باراں نے اشارہ غوث اعظم کا

نیا ہفتہ نیا دن سال نو جس وقت آتا ہے
ہر اک پہلے بجا لاتا ہے مجرا غوث اعظم کا

جو حق چاہے وہ یہ چاہیں جو یہ چاہیں وہ حق چاہے
تو مٹ سکتا ہے پھر کس طرح چا غوث اعظم کا

فقہیوں کے دلوں سے دھو دیا ان کے سوالوں کو
دلوں پر ہے بنی آدم کے قبضہ غوث اعظم کا

وہ کہہ کر قم باذن اللہ جِلا دیتے ہیں مردوں کو
بہت مشہور ہے احیائے موتٰی غوث اعظم کا

جِلایا استخوانِ مرغ کو دست کرم رکھ کر
بیاں کیا ہو سکے احیائے موتٰی غوث اعظم کا

الی یا مبارک آتی تھی آواز خلوت میں
یہیں سے جان لے منکر تو رتبہ غوث اعظم کا

فرشتہ مدرسے تک ساتھ پہنچا نے کو جاتےتھے
یہ دربا الہٰی میں ہے رتبہ غوث اعظم کا

سفر سے واپسی میں دین اقدس کو کیا زندہ
محی الدین ہو ایوں نام والا غوث اعظم کا

جو فرمایا کہ دوشِ اولیا پر ہے قدم میرا
لیا سر کو جھکا کر سب نےتلوا غوث اعظم کا

دمِ فرماں خراساں میں معین الدین چشتی نے
جھکا کر سرلیا آنکھوں پہ تلوا غوث اعظم کا

نہ کیوں کر سلطنت دونوں جہاں کی ان کو حاصل ہو
سروں پر اپنے لیتے ہیں جو تلوا غوث اعظم کا

لعاب اپنا چٹایا احمد مختار نے ان کو
تو پھر کیسے نہ ہوتا بول بالا غوث اعظم کا

رسول اللہ نے خلعت پنہایا برسرِ مجلس
بجے کیوں کر نہ پھر عالم میں ڈنکا غوث اعظم کا

محرر چارسو مجلس میں حاضر ہوکے لکھتے تھے
ہوا کرتا تھا جو ارشاد والا غوث اعظم کا

اگر چہ مرغ سب کے بول کر خاموش ہوتے ہیں
مگر ہاں مرغ بولے گا ہمیشہ غوث اعظم کا

کھلے ہفتا دوراک آن میں علم لدنی کے
خزینہ بن گیا علموں کا سینہ غوث اعظم کا

ہمارا ظاہر و باطن ہے ان کے آگے آئینہ
کسی شے سے نہیں عالم میں پردہ غوث اعظم کا

پڑھی لاحول اور شیطاں کے دھوکے کو کیا غارت
علو م و فضل سے وہ نور چمکا غوث اعظم کا

قصیدے میں جناب غوث کے دیکھو نظرت کو
تو سوجھے دور کے ظاہر ہو رتبہ غوث اعظم کا

رہے پابند احکامِ شریعت ابتداہی سے
نہ چھوٹا شیر خواری میں بھی روزہ غوث اعظم کا

ہے جب عرشِ الٰہی پہلی منزل ان کے زینہ کی
تو پھر کس کی سمجھ میں آئے رتبہ غوث اعظم کا

محمد کا رسولوں میں ہے جیسے مرتبہ اعلیٰ
ہے افضل اولیا میں یوں ہی رتبہ غوث اعظم کا

عطا کی ہے بلندی حق نے اہل اللہ کے جھنڈوں کو
مگر سب سے کیا اونچا پھریرا غوث اعظم کا

اسی باعث سے ہیں قبروں میں اپنی اولیا زندہ
حیات دائمی پاتا ہے کشتہ غوث اعظم کا

مری جانکندنی کا وقت راحت سے بدل جائے
سر بالیں اگر ہوجائے پھیرا غوث اعظم کا

رہائی مل گئی اس کو عذاب قبرو محشر سے
یہاں پر مل گیا جس کو وسیلہ غوث اعظم کا

یہ سنتے ہیں نکیرین اس پہ کچھ سختی نہیں کرتے
لکھا ہوتا ہے جس کے دل پہ طغرا غوث اعظم کا

عزیز دکر چکو تیار جب میرے جنازے کو
تو لکھ دینا کفن پر نام والا غوث اعظم کا

لحد میں جب فرشتے مجھ سے پوچھیں گے تو کہہ دوں گا
طریقہ قادری ہوں نام لیوا غوث اعظم کا

ندا دے گا مناوی حشر میں یوں قادریوں کو
کدھر ہیں قادری کرلیں نظارہ غوث اعظم کا

چلا جائے بلا خوف و خطر فردوس اعلیٰ میں
فقط اک شرف ہے ہو نام لیوا غوث اعظم کا

فرشتو روکتے ہو کیوں مجھے جنت میں جانے سے
یہ دیکھو ہاتھ میں دامن ہے کس کا غوث اعظم کا

جناب غوث دولھا اور براتی اولیا ہوں گے
مزہ دکھلائے گا محشر میں سہرا غوث اعظم کا

یہ کیسی روشنی پھیلی ہے میدان قیامت میں
نقاب اٹھا ہوا ہے آج کس کا غوث اعظم کا

یہ محشر میں کھلے ہیں گیسوئے عنبر فشاں کس کے
برستا ہے کرم کا کس کے جھالا غوث اعظم کا

یہ قیدی چھٹ رہے ہیں اس لیے میدان محشر میں
خدا خود بانٹتا ہے آج صدقہ غوث اعظم کا

گزاری کھیل میں کل اب ہوئی اعمال کی پرسش
مگر کام آگیا اس دم وسیلہ غوث اعظم کا

کبھی قدموں پہ لوٹوں گا کبھی دامن پہ مچلوں گا
بتا دوں گا کہ یوں چھٹتا ہے بندہ غوث اعظم کا

ٹھکانا اس کے نیچے یا خدا مل جائےہم کو بھی
کھڑا ہو حشر میں جس وقت جھنڈا غوث اعظم کا

خدا وندا دعا مقبول کر ہم روسیاہوں کی
گناہوں کو ہمارے بخش صدقہ غوث اعظم کا

مری پھوٹی ہوئی تقدیر کی قسمت چمک جائے
بنائے مجھ کو سگ اپنا جو کتا غوث اعظم کا

لحد میں بھی کھلی ہیں اس لیے عشاق کی آنکھیں
کہ ہوجائے یہیں شاید نظارہ غوث اعظم کا

صدا ئے صور سن کر قبر سے اٹھتے ہی پوچھوں گا
کہ بتلاؤ کدھر ہے آستانہ غوث اعظم کا

کچھ اک ہم ہی نہیں ہیں آستانِ پاک کے کتے
زمانہ پل رہا ہے کھا کے ٹکڑا غوث اعظم کا

نبیﷺ نور الہٰی اور یہ نورِ مصطفائی ہیں
تو پھر نوری نہ ہو کیوں کر گھرانہ غوث اعظم کا

نبیﷺ کے نور کو گر دیکھنا چاہے انہیں دیکھے
سراپا نور احمد ﷺہے سراپا غوث اعظم کا

رسول اللہ کا ﷺدشمن ہے غوث پاک کا دشمن
رسول اللہﷺ کا پیارا ہے پیارا غوث اعظم کا

مخالف کیا کرے میرا کہ ہے بے حدکرم مجھ پر
خدا کا رحمۃ اللعٰلمین کا غوث اعظم کا

جمیل قادری سو جاں سے ہو قربان مرشد پر
بنایا جس نے تجھ جیسے کو بندہ غوث اعظم کا

قبالۂ بخشش

 
...
See More Favorite