Qabar mey badan Salamat

ولید بن عبدالملک اموی کے دور حکومت میں جب روضہ منورہ کی دیوار گر پڑی اوربادشاہ کے حکم سے تعمیر جدیدکے لیے بنیادکھودی گئی توناگہاں بنیادمیں ایک پاؤں نظر آیا، لوگ گھبراگئے اورسب نے یہی خیال کیا کہ یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ  تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا پائے اقدس ہے لیکن جب عروہ بن زبیر صحابی رضی اللہ  تعالیٰ عنہمانے دیکھا اور پہچانا پھر قسم کھا کر یہ فرمایا کہ یہ حضورانورصلی اللہ  تعالیٰ علیہ والہ وسلم کامقدس پاؤں نہیں ہے بلکہ یہ امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کا قدم شریف ہے تو لوگوں کی گھبراہٹ اوربے چینی میں قدرے سکون ہوا۔(صحیح البخاری،کتاب الجنائز، باب ماجاء فی قبرالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وابی  بکر و عمر رضی اللّٰہ عنہما، الحدیث:۱۳۹۰، ج۱، ص۴۶۹) (بخاری شریف ج۱،ص۱۸۶)

تبصرہ

 

بخاری شریف کی یہ روایت اس بات کی زبردست شہادت ہے کہ بعض اولیائے کرام رحمۃ اللہ  تعالیٰ علیہم کے مقدس جسموں کو قبر کی مٹی برسوں گزرجانے کے بعد بھی نہیں کھاسکتی ۔ بدن تو بدن ان کے کفن کو بھی مٹی میلا نہیں کرتی۔ جب اولیاء کرام کا یہ حال ہے تو بھلا حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا کیا حال ہوگا۔ پھر حضور سیدالانبیاء خاتم النبیین، شفیع المذنبین صلی اللہ  تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے جسم اطہر کا کیا کہنا؟جبکہ وہ اپنی قبر منور میں جسمانی لوازم حیات کے ساتھ زندہ ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے:

فَنَبِیُّ اللّٰہِ حَیٌّ یُّرْزَقُ(سنن ابن ماجہ،کتاب الجنائز،باب ذکر وفاتہ ...الخ،الحدیث:۱۶۳۷،ج۲،ص۲۹۱) (یعنی اللہ  تعالیٰ کے نبی زندہ ہیں اوران کور وزی بھی دی جاتی ہے۔)

 

 

 

Comments