Most Favourite Miracle  

Malka Noor Jahan Ki Suhbat Yabi

ملکہ نور جہاں کی صحبت یابی حضرت خواجہ ایشاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مستجاب الدعوات ولی اللہ تھے ایک مرتبہ شہنشاہ جہانگیر کی چہیتی ملکہ نور جہاں بہت سے پیچیدہ امراض میں مبتلا ہوگئی کسی بھی طرح اُس کو افاقہ نہ ہوتا تھا بہت علاج کرائے گئے مگر صحت یابی کی کوئی اُمید دکھائی نہ دیتی تھی آخر آپ سے ملکہ نور جہاں کی صحبت یابی کی دُعا کروائی گئی آپ کی دُعا بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوئی اور ملکہ نور جہاں کو شفا حاصل ہوگئی۔...

Gustakhi Ka Anjam

گستاخی کا انجام ایک مرتبہ آپ لاہور میں نماز عید کی ادائیگی کی غرض سے عیدگاہ میں تشریف فرما تھے۔ نمازیوں کا بہت بڑا اجتماع تھا لیکن لاہور کے صوبہ دار کا انتظار تھا اس کا انتظار کرتے کرتے نماز کے آخری وقت کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا کہ آخر وقت تابہ زوال ہے۔ آپ کی بات سے مولوی ابو صالح لاہور نے انکار کیا اور کافی گستاخی کے ساتھ آپ سے گفتگو کی آپ کو جلال آگیا اور فرمایا اے آفتابِ حیات تیرا تیراز برابر ممات آگیا۔ چنانچہ نماز کے بعد مولوی صاحب گھوڑے پر ...

Badaz Wisal Karamat

بعد از وصال کرامت آپ کے وصال کے بعد جب آپ کے روضہ کی عمارت تعمیر کی جا رہی تھی تو حاکم لاہور خان دوران جو کہ اولیاء اللہ سے عداوت و پُر خاش رکھتا تھا اس نے مجاور کو بلا کر بڑی گستاخی سے کہا کہ آج تک خاندان نقشبندیہ میں سے کسی بزرگ کا روضہ نہیں بنا بلکہ شاہ نقشبند کا بھی روضہ نہیں ہے لہٰذا اس روضہ کی عمارت کو گرا دیا جائے مجاور نے بڑی نے باکی سے جواب دیا کہ مجھے تو اس کے گرانے کا کوئی اختیار نہیں ہے اگر آپ کو اختیار ہے تو گرادو یہ کہہ کر مجاور تو ...

Gustakhi Ka Hashar

گستاخ کا حشر حضرت خواجہ ایشاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عمر مبارک تقریباً بیس برس کی تھی کہ جب آپ بخارا سے دخش تشریف لے گئے ایک روز حاکم دخش باقی بیگ کی مجلس میں جانے کا اتفاق ہوا۔ باقی بیگ بڑا تند مزاج اور متکبر شخص تھا اس نے جب آپ کو دیکھا تو بڑی گستاخی سے کہنے لگا کہ یہ لوگ جو خواجہ زادہ کہلاتے ہیں اصل میں لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ان لوگوں کے تو کان اور ناک کاٹ کر تشہیر کرنی چاہیے میرا نام باقی بیگ نہیں اگر مَیں یہ کام نہ کروں باقی بیگ کی اس گست...

Hakim Shehar Ki Dhamki

حاکم شہر کی دھمکی جن دنوں میں آپ کشمیر میں اقامت گزین تھے اُن دنوں کشمیر کا حاکم حسین چک تھا اُس نے آپ کو اپنے پاس بلایا اور دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر یہاں سے چلے جاؤ ورنہ قتل کردیا جائے گا۔ آپ نے حاکم شہر کے تیور اور اس کی بد تمیزی و گستاخی ملاحظہ فرمائی تو اُس سے ایک ماہ کی مہلت طلب کی وہ مہلت دینے پر راضی ہوگیا ابھی پندرہ یوم بھی نہ گزرے تھے کہ قاسم خان میر بحری اکبر فوج کے ہمراہ کشمیر پہنچا اور کشمیر کی حکومت کو چک قوم سے چھین لیا اس...

Zindagi Aur Shifa

زندگی اور شفا ایک مرتبہ ایک شخص شرف بیگ کابل کے سفر پر روانہ ہونے لگا تو حضرت خواجہ خاوند محمود رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ایک کام کے متعلق ارشاد فرمایا لیکن اس نے کوئی پرواہ نہ کی جس کے باعث آپ کو رنج ہوا۔ دوسری طرف شرف بیگ کو بخار لاحق ہوگیا تین ماہ تک بخار میں مبتلا رہا کسی بھی طرح بخار پیچھا نہ چھوڑتا تھا آخر اس کا بھائی عوض بیگ اس کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے بیمار بھائی کو آپ کے پاؤں میں ڈالتے ہوئے عقیدت کا اظہار کیا اور اس کے حق ...

Asdah Ka Muhafiz Hona

اژدہا کا محافظ ہونا شواہد النبوت میں لکھا ہے کہ منصور کے مقربین  میں سے ایک شخص کا بیان ہے ایک دن میں نے دیکھا کہ منصور (خلیفہ المنصور عباسی) متفکر بیٹھا ہے۔ میں نے تفکر کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا کہ میں نے بیشمار علویوں کو تہ تیغ کیا ہے لیکن ان کے پیشوا کو چھوڑ رکھا ہے۔ میں نے کہا کونسا پیشوا  میں نے کہا جعفر بن محمد میں نے کہا وہ ایسا مرد ہے جو ہر وقت عبادت الٰہی میں مشغول رہتا ہے اور ہر گز دنیا کی طرف نظر نہیں کرتا۔ منصور نے کہا ...

Ghaib Se Khana Aana

غیب سے کھانا آنا  کتاب شواہد النبوت میں لکھا ہے کہ ابن جوزی اپنی کتاب میں لیث بن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ موسم حج میں ایک دفعہ میں مکہ معظمہ میں حاضر تھا۔ عصر کی نماز پڑھ کر میں کوہ ابو  قبیس پر چڑھ گیا وہاں میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو قبلہ رو ہوکر بیٹھے تھے اور یہ پڑھ رہے تھے یاربّ، یا اللہ یا حیی یا رحیم یا ارحم الراحمین ۔ سات مرتبہ یہ کلمات پڑھ کر انہوں نے حق تعالیٰ سے دعا کی اور کھانے کو کوئی چیز اور پہننے کو کپڑا طلب کیا۔ اسی وقت ...

Allah Ke Wali Zinda Hote Hein

اللہ کے ولی  زندہ ہوتے ہیں   خواجہ علاؤ اللدین عطار علیہ الرحمہ آپ مرض موت میں حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کو موجود دیکھتے اور ان سے باتیں کرتے اور ان کی باتون کو سنتے تھے۔  ...

Badmazhabo Ki Toba

بد مذہبوں کی توبہ  بخارا میں علماء کی ایک جماعت کے درمیان رؤیت باری تعالیٰ میں مباحثہ ہوا۔ انہوں نے بالا اتفاق خواجہ علاؤ الدین﷫  کو ثالث تسلیم کیا۔ اور خدمت شریف میں حاضر ہو کو طالب فیصلہ ہوئے۔ آپ نے منکرین رؤیت سے جو مذہب معتزلہ کی طرف مائل تھے فرمایا کہ تم تین دن چپ چاپ با وضو ہماری صحبت میں رہو۔ بعد ازاں ہم فیصلہ دیں گے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ تیسرے روز کے آخر میں ان پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ بیہوش ہوکر زمین پر لوٹنے لگے۔ جب ہوش میں...