Most Favourite Miracle  

Darya k naam Khat

روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ایک مرتبہ مصرکا دریائے نیل خشک ہوگیا۔ مصری باشندوں نے مصر کے گورنر عمرو بن  عاص رضی اللہ  تعالیٰ عنہ سے فریاد کی اوریہ کہا کہ مصر کی تمام ترپیداوارکا دارومداراسی دریائے نیل کے پانی پر ہے ۔ اے امیر!اب تک ہمارا یہ دستور رہا ہے کہ جب کبھی بھی یہ دریا سوکھ جاتاتھا تو ہم لوگ ایک خوبصورت کنواری لڑکی کو اس دریا میں زندہ دفن کر کے دریا کی بھینٹ چڑھایا کرتے تھے ...

Chadar dekh kar Aag bujh gae

روایت میں ہے آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دور میں ایک مرتبہ ناگہاں ایک پہاڑ کے غار سے ایک بہت ہی خطرناک آگ نمودار ہوئی جس نے آس پاس کی تمام چیزوں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنادیا،جب لوگوں نے دربار خلافت میں فریاد کی تو امیر المؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے حضرت تمیم داری رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کو اپنی چادر مبارک عطافرمائی اور ارشادفرمایا کہ تم میری یہ چادر لے کر آگ کے پاس چلے جاؤ ۔ چنانچہ حضرت تمیم داری رضی اللہ  تعالیٰ...

2 Ghaibi Sher

            روایت ہے کہ بادشاہ روم کا بھیجا ہوا ایک عجمی کا فرمدینہ منورہ آیا اورلوگوں سے حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کا پتہ پوچھا، لوگوں نے بتادیا کہ وہ دوپہر کو کھجور کے باغوں میں شہر سے کچھ دور قیلولہ فرماتے ہوئے تم کو ملیں گے ۔ یہ عجمی کافر ڈھونڈتے ڈھونڈتے آپ کے پاس پہنچ گیااور یہ دیکھا کہ آپ اپنا چمڑے کا درّہ اپنے سر کے نیچے رکھ کر زمین پر گہری نیند سو رہے ہیں ۔ عجمی کافر اس ار...

Gustakh Darindon k munh mey

    منقول ہے کہ حجا ج کا ایک قافلہ مدینہ منورہ پہنچا ۔تمام اہل قافلہ حضرت امیر المؤمنین عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے مزار مبارک پر زیارت کرنے اور فاتحہ خوانی کے لئے گئے لیکن ایک شخص جو آپ سے بغض وعنادرکھتا تھا توہین واہانت کے طور پر آپ کی زیارت کے لئے نہیں گیا اورلوگوں سے کہنے لگا کہ وہ بہت دور ہے اس لئے میں نہیں جاؤں گا۔   یہ قافلہ جب اپنے وطن کو واپس آنے لگا تو قافلہ کے تمام افراد خیر وعافیت اورسلامتی کے ساتھ اپنے ا...

Khwab mey Pani pee kar sairab

    حضرت عبداللہ  بن سلام رضی اللہ  تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں باغیوں نے حضر ت عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے مکان کا محاصرہ کرلیا اوران کے گھر میں پانی کی ایک بوند تک کا جانا بند کردیا تھا اورحضرت عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ پیاس کی شدت سے تڑپتے رہتے تھے میں آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی ملاقات کے لیے حاضرہوا تو  آپ اس دن روزہ دار تھے ۔ مجھ کو دیکھ کرآپ نے فرمایا کہ اے عبداللہ  بن سلام!آج...

Madfan mey Firishton ka hujoom

    روایت ہے کہ باغیوں کی ہلڑبازیوں کے سبب تین دن تک آپ کی مقدس لاش بے گوروکفن پڑی رہی۔ پھر چند جاں نثاروں نے رات کی تاریکی میں آپ کے جنازہ مبارکہ کو اٹھاکر جنت البقیع میں پہنچادیا اورآپ کی مقدس قبر کھودنے لگے ۔ اچانک ان لوگوں نے دیکھا کہ سواروں کی ایک بہت بڑی جماعت ان کے پیچھے پیچھے جنت البقیع میں داخل ہوئی ان سواروں کو دیکھ کر لوگوں پر ایسا خوف طاری ہوا کہ کچھ لوگوں نے جنازہ مبارکہ کو چھوڑ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرلیا۔ یہ دیکھ کر سو...

Shahadat k baad ghaibi Awaz

حضر ت عدی بن حاتم صحابی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت امیر المؤمنین عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی شہادت کے دن میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ کوئی شخص بلند آواز سے یہ کہہ رہا تھا:   "اَبْشِرِ ابْنَ عَفَّانَ بِرَوْحٍ وَّرَیْحَانٍ وَّبِرَبِّ غَیْرِ غَضْبَانَ اَبْشِرِ ابْنَ عَفَّانَ بِغُفْرَانَ وَّرِضْوَانَ" (یعنی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کو راحت اورخوشبو کی بشارت دو اورنہ ناراض ہونے والے رب کی ملاقات ک...

Apne Madfan ki khabar

    حضرت امام مالک رحمۃ اللہ  تعالیٰ علیہ  نے فرمایا کہ امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ  تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع کے اس حصہ میں تشریف لے گئے جو "حش کوکب"کہلاتا ہے توآپ نے وہاں کھڑے ہوکر ایک جگہ پر یہ فرمایا کہ عنقریب یہاں ایک مرد صالح دفن کیا جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد ہی آپ کی شہادت ہوگئی ا ورباغیوں نے آپ کے جنازہ مبارکہ کے ساتھ اس قدر ہلڑبازی کی کہ آپ کونہ روضہ منورہ کے قریب دفن کیا جا...

Gustakhi ki Saza

حضرت ابو قلابہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں ملک شام کی سرزمین میں تھا تو میں نے ایک شخص کو بار بار یہ صدا لگاتے ہوئے سنا کہ ’’ہائے افسوس! میرے لئے جہنم ہے ۔‘‘میں اٹھ کر اس کے پاس گیاتو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس شخص کے دونوں  ہاتھ اورپاؤں کٹے ہوئے ہیں اور وہ دونوں آنکھوں سے اندھا ہے اوراپنے چہرے کے بل زمین پر اوندھا پڑا ہو اباربار لگاتاریہی کہہ رہا ہے کہ ’’ہائے افسوس ! میرے لئے جہنم ہے ۔...

Zina kaar Ankhen

علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ  تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب"طبقات"میں تحریرفرمایا ہے کہ ایک شخص نے راستہ چلتے ہوئے ایک اجنبی عورت کو گھور گھور کر غلط نگاہوں سے دیکھا۔ اس کے بعد یہ شخص امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ اس شخص کو دیکھ کر حضرت امیرالمؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے نہایت ہی پرجلال لہجہ میں فرمایا کہ تم لوگ ایسی حالت میں میرے سامنے آتے ہو کہ تمہاری آنکھوں میں زنا کے اثرات ہوتے ہ...