Zia-e-Miracles  

Recovery to the patient after Dum

دم کرنے سے مریضوں کو شفایابی           منقول ہے کہ حضرت سیدنا شہباز قلندر محمد عثمان مروندی علیہ رحمۃ اللہ القوی جس مریض کے لئے دستِ دعا بلند فرما دیتے فوراً صحتیاب ہو جاتا۔ آپ ﷫قرآنِ کریم کی چند آیاتِ مبارکہ تلاوت  فرماتے  اور پانی پر دم کر کے مریض کو پلانے اور آنکھوں پر لگانے کا حکم فرماتے۔ نتیجۃً فوری طور پر مریض میں صحت یابی کے آثار نمودار ہو جاتے۔ آپ  ﷫ کے دم کرنے کا طریقہ یہ ...

Karamat-e-Sheikh Hamiduddin Nagori

کرامتِ شیخ حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیان کیا جاتا ہے کہ ناگور میں ایک ہندو رہتا تھا جب وہ شیخ حمید الدین کی نظرِ مبارک کے سامنے آتا تو آپ فرماتے یہ خدا کا دوست ہے اور مرنے کے وقت با ایمان ہوکر دنیا سے اٹھے گا اور اس کا خاتمہ بخیر ہوگا۔ انجام کار ایسا ہی ہوا جیسا کہ آپ فرمایا کرتے تھے۔ حقیقت میں شیخ حمید الدین کی یہ پیشین گوئی آپ کے علوء درجات اور کرامت کی بہت بڑی دلیل ہے اور اس سے بد یہی طور پر استدلال کیا جاتا ہے کہ عواقب امور اور ...

Qabar walon se Guftugu

امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ ایک نوجوان صالح کی قبر پر تشریف لے گئے اورفرمایا کہ اے فلاں !اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ   وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ۔ (ترجمہء کنزالایمان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ (پ۲۷،الرحمن:۴۶) یعنی جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرگیااس کے لیے دو جنتیں ہیں۔    اے نوجوان!بتا تیرا قبر میں کیا حال ہے؟اس نوجوان صالح نے قبر کے ا...

Qabar mey badan Salamat

ولید بن عبدالملک اموی کے دور حکومت میں جب روضہ منورہ کی دیوار گر پڑی اوربادشاہ کے حکم سے تعمیر جدیدکے لیے بنیادکھودی گئی توناگہاں بنیادمیں ایک پاؤں نظر آیا، لوگ گھبراگئے اورسب نے یہی خیال کیا کہ یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ  تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا پائے اقدس ہے لیکن جب عروہ بن زبیر صحابی رضی اللہ  تعالیٰ عنہمانے دیکھا اور پہچانا پھر قسم کھا کر یہ فرمایا کہ یہ حضورانورصلی اللہ  تعالیٰ علیہ والہ وسلم کامقدس پاؤں نہیں ہے بلکہ یہ امیرا...

Madina ki Awaz Nahawand tak

امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالاربنا کر نہاوند کی سرزمین میں جہاد کے لیے روانہ فرمادیا۔ آپ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجدنبوی کے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ یَاسَارِیَۃُ الْجَبَل (یعنی اے ساریہ!پہاڑکی طرف اپنی پیٹھ کرلو) حاضرین مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو سرزمین نہاوند میں مصروف جہاد ہیں ...

Maar se Zalzala khatam

امام الحرمین نے اپنی کتاب ’’الشامل‘‘میں تحریر فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں زلزلہ آگیا اورزمین زوروں کے ساتھ کانپنے اورہلنے لگی۔ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے جلا ل میں بھر کرزمین پر ایک درہ مار ااور بلندآواز سے تڑپ کر فرمایا: قِرِّیْ اَلَمْ اَعْدِلْ عَلَیْکِ  (اے زمین !ساکن ہوجا کیا میں نے تیرے اوپر عدل نہیں کیاہے) آپ کا فرمان جلالت نشان سنتے ہی زمین ساکن ہوگئی اورزلزلہ ختم ہوگیا۔(حج...

Logon ki taqdeer mey kiya hai

عبداللہ  بن مسلمہ کہتے ہیں کہ ہمارے قبیلہ کا ایک وفد امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی بارگاہ خلافت میں آیا تو اس جماعت میں اشترنام کا ایک شخص بھی تھا۔             امیرالمؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ اس کو سر سے پیر تک باربار گرم گرم نگاہوں سے دیکھتے رہے پھر مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا یہ شخص تمہارے ہی قبیلہ کا ہے ؟میں نے کہا کہ ’’جی ہاں‘‘ ا...

Jo keh diya woh ho gaya

ربیعہ بن امیہ بن خلف نے امیرالمؤمنین حضرت عمررضی اللہ  تعالیٰ عنہ سے اپنا یہ خواب بیان کیاکہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے کہ میں ایک ہرے بھرے میدان میں ہوں پھر میں اس سے نکل کر ایک ایسے چٹیل میدان میں آگیا جس میں کہیں دور دورتک گھاس یادرخت کا نام و نشان بھی نہیں تھا اورجب میں نیند سے بیدار ہوا تو واقعی میں ایک بنجر میدان میں تھا۔ آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تو ایمان لائے گا ، پھرا س کے بعد کافر ہوجائے گا اورکفرہی کی حالت میں مرے ...

Door se pukar ka Jawab

        حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے سرزمین روم میں مجاہدین اسلام کا ایک لشکر بھیجا ۔ پھر کچھ دنوں کے بعد بالکل ہی اچانک مدینہ منورہ میں نہایت ہی بلندآواز سے آپ نے دو مرتبہ یہ فرمایا :   یَالَبَّیْکَاہُ!یَالَبَّیْکَاہُ! (یعنی اے شخص! میں تیری پکار پر حاضر ہو)اںہل مدینہ حیران رہ گئے اوران کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کس فریاد کرن...

Darya k naam Khat

روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ایک مرتبہ مصرکا دریائے نیل خشک ہوگیا۔ مصری باشندوں نے مصر کے گورنر عمرو بن  عاص رضی اللہ  تعالیٰ عنہ سے فریاد کی اوریہ کہا کہ مصر کی تمام ترپیداوارکا دارومداراسی دریائے نیل کے پانی پر ہے ۔ اے امیر!اب تک ہمارا یہ دستور رہا ہے کہ جب کبھی بھی یہ دریا سوکھ جاتاتھا تو ہم لوگ ایک خوبصورت کنواری لڑکی کو اس دریا میں زندہ دفن کر کے دریا کی بھینٹ چڑھایا کرتے تھے ...