Zia-e-Miracles  

Gustakhi ki Saza

حضرت ابو قلابہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں ملک شام کی سرزمین میں تھا تو میں نے ایک شخص کو بار بار یہ صدا لگاتے ہوئے سنا کہ ’’ہائے افسوس! میرے لئے جہنم ہے ۔‘‘میں اٹھ کر اس کے پاس گیاتو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس شخص کے دونوں  ہاتھ اورپاؤں کٹے ہوئے ہیں اور وہ دونوں آنکھوں سے اندھا ہے اوراپنے چہرے کے بل زمین پر اوندھا پڑا ہو اباربار لگاتاریہی کہہ رہا ہے کہ ’’ہائے افسوس ! میرے لئے جہنم ہے ۔...

Zina kaar Ankhen

علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ  تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب"طبقات"میں تحریرفرمایا ہے کہ ایک شخص نے راستہ چلتے ہوئے ایک اجنبی عورت کو گھور گھور کر غلط نگاہوں سے دیکھا۔ اس کے بعد یہ شخص امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ اس شخص کو دیکھ کر حضرت امیرالمؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے نہایت ہی پرجلال لہجہ میں فرمایا کہ تم لوگ ایسی حالت میں میرے سامنے آتے ہو کہ تمہاری آنکھوں میں زنا کے اثرات ہوتے ہ...

Karamat-e-Auliya

حضرت مدنی﷫ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ پر فالج کا شدید حملہ ہوا۔ اس کی وجہ سے میرا آدھا جسم بالکل بے کار ہوگیا۔ سب لوگ یہ سمجھ رہےتھے کہ اب ان کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ ان دنوں میں اپنے پرانے مکان میں جو باب السلام کی طرف تھا اوپر والی منزل میں رہتا تھا۔ ایک شب میں نے رو رو کر بارگاہِ مصطفیٰﷺ میں عرض کیا: یارسول اللہ(ﷺ)! مجھے میرے پیرومرشد نے آپ کی بارگاہ میں خادم بنا کر بھیجا ہے۔ میرے آقا! اگر مجھ سے غلطی ہوئی ہے تو میرے پیر و مرشد کے صدقے م...

Malka Noor Jahan Ki Suhbat Yabi

ملکہ نور جہاں کی صحبت یابی حضرت خواجہ ایشاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مستجاب الدعوات ولی اللہ تھے ایک مرتبہ شہنشاہ جہانگیر کی چہیتی ملکہ نور جہاں بہت سے پیچیدہ امراض میں مبتلا ہوگئی کسی بھی طرح اُس کو افاقہ نہ ہوتا تھا بہت علاج کرائے گئے مگر صحت یابی کی کوئی اُمید دکھائی نہ دیتی تھی آخر آپ سے ملکہ نور جہاں کی صحبت یابی کی دُعا کروائی گئی آپ کی دُعا بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوئی اور ملکہ نور جہاں کو شفا حاصل ہوگئی۔...

Gustakhi Ka Anjam

گستاخی کا انجام ایک مرتبہ آپ لاہور میں نماز عید کی ادائیگی کی غرض سے عیدگاہ میں تشریف فرما تھے۔ نمازیوں کا بہت بڑا اجتماع تھا لیکن لاہور کے صوبہ دار کا انتظار تھا اس کا انتظار کرتے کرتے نماز کے آخری وقت کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا کہ آخر وقت تابہ زوال ہے۔ آپ کی بات سے مولوی ابو صالح لاہور نے انکار کیا اور کافی گستاخی کے ساتھ آپ سے گفتگو کی آپ کو جلال آگیا اور فرمایا اے آفتابِ حیات تیرا تیراز برابر ممات آگیا۔ چنانچہ نماز کے بعد مولوی صاحب گھوڑے پر ...

Badaz Wisal Karamat

بعد از وصال کرامت آپ کے وصال کے بعد جب آپ کے روضہ کی عمارت تعمیر کی جا رہی تھی تو حاکم لاہور خان دوران جو کہ اولیاء اللہ سے عداوت و پُر خاش رکھتا تھا اس نے مجاور کو بلا کر بڑی گستاخی سے کہا کہ آج تک خاندان نقشبندیہ میں سے کسی بزرگ کا روضہ نہیں بنا بلکہ شاہ نقشبند کا بھی روضہ نہیں ہے لہٰذا اس روضہ کی عمارت کو گرا دیا جائے مجاور نے بڑی نے باکی سے جواب دیا کہ مجھے تو اس کے گرانے کا کوئی اختیار نہیں ہے اگر آپ کو اختیار ہے تو گرادو یہ کہہ کر مجاور تو ...

Gustakhi Ka Hashar

گستاخ کا حشر حضرت خواجہ ایشاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عمر مبارک تقریباً بیس برس کی تھی کہ جب آپ بخارا سے دخش تشریف لے گئے ایک روز حاکم دخش باقی بیگ کی مجلس میں جانے کا اتفاق ہوا۔ باقی بیگ بڑا تند مزاج اور متکبر شخص تھا اس نے جب آپ کو دیکھا تو بڑی گستاخی سے کہنے لگا کہ یہ لوگ جو خواجہ زادہ کہلاتے ہیں اصل میں لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ان لوگوں کے تو کان اور ناک کاٹ کر تشہیر کرنی چاہیے میرا نام باقی بیگ نہیں اگر مَیں یہ کام نہ کروں باقی بیگ کی اس گست...

Hakim Shehar Ki Dhamki

حاکم شہر کی دھمکی جن دنوں میں آپ کشمیر میں اقامت گزین تھے اُن دنوں کشمیر کا حاکم حسین چک تھا اُس نے آپ کو اپنے پاس بلایا اور دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر یہاں سے چلے جاؤ ورنہ قتل کردیا جائے گا۔ آپ نے حاکم شہر کے تیور اور اس کی بد تمیزی و گستاخی ملاحظہ فرمائی تو اُس سے ایک ماہ کی مہلت طلب کی وہ مہلت دینے پر راضی ہوگیا ابھی پندرہ یوم بھی نہ گزرے تھے کہ قاسم خان میر بحری اکبر فوج کے ہمراہ کشمیر پہنچا اور کشمیر کی حکومت کو چک قوم سے چھین لیا اس...

Zindagi Aur Shifa

زندگی اور شفا ایک مرتبہ ایک شخص شرف بیگ کابل کے سفر پر روانہ ہونے لگا تو حضرت خواجہ خاوند محمود رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ایک کام کے متعلق ارشاد فرمایا لیکن اس نے کوئی پرواہ نہ کی جس کے باعث آپ کو رنج ہوا۔ دوسری طرف شرف بیگ کو بخار لاحق ہوگیا تین ماہ تک بخار میں مبتلا رہا کسی بھی طرح بخار پیچھا نہ چھوڑتا تھا آخر اس کا بھائی عوض بیگ اس کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے بیمار بھائی کو آپ کے پاؤں میں ڈالتے ہوئے عقیدت کا اظہار کیا اور اس کے حق ...

Asdah Ka Muhafiz Hona

اژدہا کا محافظ ہونا شواہد النبوت میں لکھا ہے کہ منصور کے مقربین  میں سے ایک شخص کا بیان ہے ایک دن میں نے دیکھا کہ منصور (خلیفہ المنصور عباسی) متفکر بیٹھا ہے۔ میں نے تفکر کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا کہ میں نے بیشمار علویوں کو تہ تیغ کیا ہے لیکن ان کے پیشوا کو چھوڑ رکھا ہے۔ میں نے کہا کونسا پیشوا  میں نے کہا جعفر بن محمد میں نے کہا وہ ایسا مرد ہے جو ہر وقت عبادت الٰہی میں مشغول رہتا ہے اور ہر گز دنیا کی طرف نظر نہیں کرتا۔ منصور نے کہا ...