Zia-e-Miracles  

Pari kamon Ki Tarah Pigal Jana

پری کاموم کی طرح پگھل جانا  حضرت جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں حضرت سری سقطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضرہوا تو آپ کے حال کو متغیر پایا۔ دریافت کیا کہ حضور! کیا ہوا ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ پریوں میں سے ایک جوان پری میرے پاس آئی اور مجھ سے سوال کیا کہ حیا کس کو کہتے ہیں؟ میں نے جواب دیا تو وہ سنتے ہیں موم کی طرح پگھل کر پانی ہوگئی۔ یہاں تک کہ میں نے اس پانی کو بھی دیکھا جو پری کے جسم کا تھا....

Sharabi Ko Namazi Banadiya

شرابی کو نمازی بنا دیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک مرتبہ ایک شرابی کو دیکھا جو نشے کی حالت میں مدہوش زمین پر گرا ہو ا تھااور اسی نشے کی حالت میں اللہ ،اللہ کہہ رہا تھا ۔ آپ نے اس کا منہ پانی سے صاف کیا اور فرمایا کہ اس بے خبر کو کیا خبر کہ ناپاک منہ سے کس ذات کا نام لے رہا ہے ؟آپ کے جانے کے بعد جب شرابی ہوش میں آیا تو لوگوں نے اس کو بتایا کہ تمہاری بے ہو شی کی حالت میں تمہارے پاس حضرت سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی تشریف لائے تھے اور تمہارامنہ...

The Miswak tuned into a shadowy tree

مسواک سایہ دار درخت بن گئی           گرمیوں کے دن تھے، سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور  حضرت لعل شہباز قلندر﷫ اپنی خانقاہ کے صحن میں وضو فرما رہے تھے۔ ایک عقیدت مند نے دھوپ  کی تپش کو دیکھتے ہوئے عرض کی: حضور! ہم اس جگہ پر ایک سایہ دار درخت لگائیں گے تاکہ آنے والے اس کے سائے میں آرام پائیں۔ آپ ﷫ نے وضو سے فراغت کے بعد ایک مرید کو اپنی مسواک دیتے ہوئے فرمایا: اسے یہاں زمین میں گ...

Recovery to the patient after Dum

دم کرنے سے مریضوں کو شفایابی           منقول ہے کہ حضرت سیدنا شہباز قلندر محمد عثمان مروندی علیہ رحمۃ اللہ القوی جس مریض کے لئے دستِ دعا بلند فرما دیتے فوراً صحتیاب ہو جاتا۔ آپ ﷫قرآنِ کریم کی چند آیاتِ مبارکہ تلاوت  فرماتے  اور پانی پر دم کر کے مریض کو پلانے اور آنکھوں پر لگانے کا حکم فرماتے۔ نتیجۃً فوری طور پر مریض میں صحت یابی کے آثار نمودار ہو جاتے۔ آپ  ﷫ کے دم کرنے کا طریقہ یہ ...

Karamat-e-Sheikh Hamiduddin Nagori

کرامتِ شیخ حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیان کیا جاتا ہے کہ ناگور میں ایک ہندو رہتا تھا جب وہ شیخ حمید الدین کی نظرِ مبارک کے سامنے آتا تو آپ فرماتے یہ خدا کا دوست ہے اور مرنے کے وقت با ایمان ہوکر دنیا سے اٹھے گا اور اس کا خاتمہ بخیر ہوگا۔ انجام کار ایسا ہی ہوا جیسا کہ آپ فرمایا کرتے تھے۔ حقیقت میں شیخ حمید الدین کی یہ پیشین گوئی آپ کے علوء درجات اور کرامت کی بہت بڑی دلیل ہے اور اس سے بد یہی طور پر استدلال کیا جاتا ہے کہ عواقب امور اور ...

Qabar walon se Guftugu

امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ ایک نوجوان صالح کی قبر پر تشریف لے گئے اورفرمایا کہ اے فلاں !اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ   وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ۔ (ترجمہء کنزالایمان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ (پ۲۷،الرحمن:۴۶) یعنی جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرگیااس کے لیے دو جنتیں ہیں۔    اے نوجوان!بتا تیرا قبر میں کیا حال ہے؟اس نوجوان صالح نے قبر کے ا...

Qabar mey badan Salamat

ولید بن عبدالملک اموی کے دور حکومت میں جب روضہ منورہ کی دیوار گر پڑی اوربادشاہ کے حکم سے تعمیر جدیدکے لیے بنیادکھودی گئی توناگہاں بنیادمیں ایک پاؤں نظر آیا، لوگ گھبراگئے اورسب نے یہی خیال کیا کہ یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ  تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا پائے اقدس ہے لیکن جب عروہ بن زبیر صحابی رضی اللہ  تعالیٰ عنہمانے دیکھا اور پہچانا پھر قسم کھا کر یہ فرمایا کہ یہ حضورانورصلی اللہ  تعالیٰ علیہ والہ وسلم کامقدس پاؤں نہیں ہے بلکہ یہ امیرا...

Madina ki Awaz Nahawand tak

امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالاربنا کر نہاوند کی سرزمین میں جہاد کے لیے روانہ فرمادیا۔ آپ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجدنبوی کے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ یَاسَارِیَۃُ الْجَبَل (یعنی اے ساریہ!پہاڑکی طرف اپنی پیٹھ کرلو) حاضرین مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو سرزمین نہاوند میں مصروف جہاد ہیں ...

Maar se Zalzala khatam

امام الحرمین نے اپنی کتاب ’’الشامل‘‘میں تحریر فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں زلزلہ آگیا اورزمین زوروں کے ساتھ کانپنے اورہلنے لگی۔ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے جلا ل میں بھر کرزمین پر ایک درہ مار ااور بلندآواز سے تڑپ کر فرمایا: قِرِّیْ اَلَمْ اَعْدِلْ عَلَیْکِ  (اے زمین !ساکن ہوجا کیا میں نے تیرے اوپر عدل نہیں کیاہے) آپ کا فرمان جلالت نشان سنتے ہی زمین ساکن ہوگئی اورزلزلہ ختم ہوگیا۔(حج...

Logon ki taqdeer mey kiya hai

عبداللہ  بن مسلمہ کہتے ہیں کہ ہمارے قبیلہ کا ایک وفد امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی بارگاہ خلافت میں آیا تو اس جماعت میں اشترنام کا ایک شخص بھی تھا۔             امیرالمؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ اس کو سر سے پیر تک باربار گرم گرم نگاہوں سے دیکھتے رہے پھر مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا یہ شخص تمہارے ہی قبیلہ کا ہے ؟میں نے کہا کہ ’’جی ہاں‘‘ ا...