Karamat-e-Sheikh Hamiduddin Nagori

کرامتِ شیخ حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

بیان کیا جاتا ہے کہ ناگور میں ایک ہندو رہتا تھا جب وہ شیخ حمید الدین کی نظرِ مبارک کے سامنے آتا تو آپ فرماتے یہ خدا کا دوست ہے اور مرنے کے وقت با ایمان ہوکر دنیا سے اٹھے گا اور اس کا خاتمہ بخیر ہوگا۔ انجام کار ایسا ہی ہوا جیسا کہ آپ فرمایا کرتے تھے۔ حقیقت میں شیخ حمید الدین کی یہ پیشین گوئی آپ کے علوء درجات اور کرامت کی بہت بڑی دلیل ہے اور اس سے بد یہی طور پر استدلال کیا جاتا ہے کہ عواقب امور اور خاتمہ پر آپ کی نظر بہت وسیع اور غائر تھی۔

منقول ہے کہ جس زمانہ میں شیخ حمید الدین سوالی کی شہرت کا آوازہ جہان میں پھیلا اور آپ کی باطنی تصرف و کرامات کے ڈنکے عالم میں بج گئے تو ناگور میں ایک سودا گر تھا جو ناگور سے ملتان میں تِل لے جایا کرتا تھا اور ملتان سے ناگور میں روئی لایا کرتا تھا۔ جو خط و کتابت اور مراسلات شیخ حمید الدین اور شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا کے مابین ہوتی تھی وہ اس کی معرفت ہوتی تھی۔ ایک دفعہ شیخ حمید الدین نے جناب شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا کی خدمت لکھا کہ میں یقینی طور پر جانتا ہوں کہ شیخ واصلان خدا میں ایک نہایت اعلیٰ درجہ کے واصل ہیں اور یہ بھی تحقیق ہوا ہے کہ دنیا اور اس کے سازو سامان خدا تعالیٰ کے نزدیک نہایت مبغوض و مکروہ ہیں پھر یہ کیا بات ہے کہ آپ جیسے بزرگ اور محبوبِ خدا اس دشمن خدا کو اپنے پاس سے دور نہیں کرتے۔ شیخ بہاؤ الدین نے اس بارہ میں بہت جوابات لکھے۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ دنیا کیا ہے اور اس میں سے کِس مقدار میں میرے پاس موجود ہے۔ ہر چند کہ شیخ بہاؤ الدین دنیا کی حقارت و قلت کی بہت سی مثالیں بیان کرتے تھے اور پے در پے جواب لکھتے تھے لیکن شیخ حمید الدین کو اطمینان و تسلی نہ ہوتی تھی اور فرماتے تھے کہ یہ جملہ ’’الضّدان لا یجتمعان‘‘ یعنی دو متضاد و متخالف باتیں ایک جگہ نہیں ہوتی۔ کس چیز پر محمول ہوسکتا ہے۔ الغرض شیخ حمید الدین نے اسباب میں یہاں تک غلو کیا کہ اس معنی کا بھید آپ پر عالم غیب سے واضح ہوا لیکن آپ نے اس بھید کو کسی پر واضح نہیں کیا۔ منقول ہے کہ اسی زمانہ میں شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا قدس اللہ سرہ العزیز کے فرزندوں میں سے ایک صاحبزادے ناگور میں پہنچے اور سنا کہ شیخ حمید الدین نماز جمعہ میں حاضر نہیں ہوتے ہیں۔ یہ سن کر انہوں نے ایک شور و غوغا برپا کیا اور چند ظاہر بین دانشمندوں کو اپنا موافق بنا کر خصومت کا دروازہ کھولا اور ایک جماعت بہم پہنچا کر شیخ حمید الدین قدس اللہ سرہ العزیز کے دروازہ پر آئے اور امر بالمعروف کرنے لگے جسے شیخ نہایت خاموشی اور تحمل کے ساتھ سنتے رہے لیکن جب ان کا غلبہ زیادہ ہوا اور بہت کچھ شور مچایا تو شیخ نے فرمایا کہ تم اس درجہ غلبہ و زیادتی نہ کرو۔ میں جمعہ میں اس وجہ سے حاضر ہونا ضروری نہیں سمجھتا کہ ناگور شہر کا حکم نہیں رکھتا ہے۔ غرضکہ شرعی حجت سے انہیں ملزم کیا لیکن چونکہ شیخ الاسلام بہاؤ الدین کے فرزند رشید نے جناب حمید الدین کو بے وجہ رنج پہنچایا تھا اور آپ کے معمورہ اوقات کو شور غل سے پریشان و متفرق کر دیا تھا لہذا شیخ حمید الدین کی زبانِ مبارک پر یہ الفاظ جاری ہوئے۔ کہ صاحبزادے! جس قدر تم نے میرے وقت کو غارت کیا ہے میں نے اس کے جرم کے مقدار تمہارے لیے حبس دردیشانہ کا حکم لگایا ہے جسے تم عنقریب بھگتوگے۔ چنانچہ جب شیخ حمید الدین اور شیخ بہاؤ الدین قدس اللہ سرہما العزیز کا انتقال ہوگیا تو شیخ بہاؤ الدین زکریا کے فرزند کو کسی مقام کا سفر پیش آیا اثناء راہ میں سرکش ڈاکو نے انہیں پکڑ لیا اور کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ شیخ بہاؤ الدین کی میراث سے تمہیں بے حد مال پہنچا ہے لاؤ وہ سب مال میرے حوالہ کرو تاکہ میں تمہیں رہائی دوں۔ یہ کہہ کر شیخ بہاؤ الدین کے فرزند کو قید کر دیا انہوں نے اپنے بھائی شیخ صدر الدین قدس اللہ سرہ العزیز کی طرف یہ سارا ماجرا لکھ بھیجا اور یہ بھی لکھا کہ میں قید سخت میں مبتلا ہوں جب تک تم میرے حصہ کا تقسیم شدہ مال نہ بھیجو گے میں اس قید سے نجات نہیں پاسکتا۔ شیخ صدر الدین نے وہ تمام مال بھیج دیا جسے اس متمرد ڈاکو نے اپنے قبضہ میں کیا اور کہا یہ تمہارا حصہ آیا ہے اب تم شیخ صدر الدین کو لکھو کہ وہ اپنے حصہ میں سے بھی کچھ بھیجے اس وقت میں چھوڑوں گا۔ انہوں نے مجبور ہوکر اس بارے میں ایک اور خط شیخ صدر الدین کو لکھا اور انہوں نے بھی اپنے حصہ میں سے ایک کثیر التعداد رقم اس ڈاکو کے پاس روانہ کی اور ایک مدت کے بعد اپنے بھائی کو قید سے نجات دلائی۔ کاتب الحروف عرض کرتا ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ نے ایک حکمت مضمر رکھی تھی اور وہ یہ تھی کہ شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا قدس اللہ سرہ العزیز کو خدا تعالیٰ نے وہ قوت عنایت فرمائی تھی کہ آپ مال کی حفاظت کر سکتے تھے اور ان کی معمورہ اوقات دنیاوی مال و دولت کی وجہ سے متفرق و پریشان نہ ہوتے تھے لیکن جب وہ مال بطریق ارث ان کے صاحبزادوں کو پہنچا تو ان کے حق میں خدا وندی ارشاد کہ دنیا کا مال آدمی کے لیے فتنہ ہے صادق ہونے والا تھا کیونکہ ان میں تو اتنی قوت کہا تھی جس کے سبب مال و دولت کی حفاظت کر سکتے پس خدا تعالیٰ نے شیخ بہاؤ الدین کے فرزندوں کے حق میں بہت بڑا کرم کیا کہ شیخ حمید الدین کی دعا سے سارا دنیاوی مال فرزندان شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا نور اللہ مرقدہ کے ہاتھ سے متفرق و پریشان کرادیا اور انہیں بلا میں نہیں ڈالا۔ یہ نقل بھی شیخ حمید الدین قدس اللہ سرہ العزیز کرامت اور علوء درجہ پر دلیل ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس بزرگوار کے مناقب و فضائل بے شمار اور انگنت ہیں۔ لیکن اس کتاب میں اسی مقدار پر اختصار و اکتفا کیا گیا۔

اصحاب سلوک کو راہ حق میں دشوار و مشکل نظر آنے والے سوالات کا بیان اور ان کے جوابات جو شیخ حمید الدین سوالی کی علمی مجلس میں وقتاً فوقتاً پیش ہوتے تھے

اس کتاب میں ان سوالات و جوابات کا بطریق اختصار ذکر ہوتا ہے۔

کاتب حروف عرض کرتا ہے کہ اصحابِ سلوک کو طریقت و حقیقت میں جو مسئلہ مشکل اور دشوار پیش آتا تھا جناب شیخ حمید الدین سوالی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش ہوتا تھا اور آپ جواب شافی عنایت فرماتے تھے بعض وہ سوالات جو لوگوں نے آپ کی خدمت میں پیش کیے اور آپ نے ان کے شافی جوابات دیے ہیں۔ اس ضعیف نے ایک ایسی کتاب میں لکھے دیکھے ہیں جو جناب سلطان المشائخ کی نظر مبارک سے گزری ہے جن میں سے بعض سوالات و جوابات کو خود سلطان المشائخ نے اپنے قلمِ مبارک سے (حح) اعلامت دے کر حاشیہ پر نقل کیا ہے۔ میں ان تمام سوالات اور سوالات کے جوابات کو اس کتاب میں درج کرتا ہوں تاکہ سالکانِ راہ حق کو ان کے مطالعہ سے ذوق و شوق پیدا ہو اور امید وار کاتب کو ان کے وسیلہ سے مغفرت حاصل ہو۔

سوال: ایک مرتبہ لوگوں نے آپ سے دریافت کیا کہ وسوسہ شیطانی اور اندیشہ نفسانی اور القاء ملکی اور روحی ربانی یہ سب چیزیں ایک رنگ اور ایک صفت میں عالم انسانی میں ظہور کرتی ہیں پھر ان میں مابہ الامتیاز کون سی چیز اور کس وجہ سے پہچان سکتے ہیں کہ یہ وسوسہ شیطان ہے اور وہ اندیشہ نفسانی اور القاء ملکی کیا صورت ہے اور وحی ربانی کسے کہتے ہیں؟

جواب: شیخ حمید الدین نے اس کے جواب میں یوں ارشاد فرمایا کہ طالبون کے تین گروہ ہیں۔ ایک گروہ طالبانِ مولی اور دوسرا ابنائے عقبیٰ، تیسرا طالبان دنیا۔ جو لوگ دنیا کے طالب ہیں انہیں اپنے خواطر کی معرفت سخت دشوار و محال ہے کیونکہ ان کے تمام خواطر ایک ہی رنگ میں ڈوبے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ لکثرۃ اشتغالھم بالکمال والامال۔ یعنی وجہ یہ کہ انہیں تحصیل مال اور دنیاوی امیدوں میں بکثرت مشغولی رہتی ہے اور جو لوگ عقبیٰ کے طالب ہیں وہ دینی و دنیاوی خواطر میں فرق کر سکتے ہیں۔ لان الخاطر الدنیوی ملوث بنصیب حالی مکدر بکدورۃ الحظ الوقتی والخاطر الاخروی مجرد من الحظ الحالی ومصفی من النصیب الوقتی۔ یعنی طالب عقبیٰ دینی و دنیاوی خطروں میں اس لیے تمیز کر سکتے ہیں کہ دنیاوی خطرہ حال کے حصہ سے آلودہ اور دنیاوی بہرہ کی کدورت سے مکدر ہوتا ہے۔ اور اخروی خطرہ حال کے حصہ سے مجرد اور دنیاوی بہرہ سے صاف ہوا کرتا ہے اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے طالب ہیں وہ عقبیٰ اور مولیٰ کے خطرہ میں فرق کر لیتے ہیں۔ لان الخاطر العقبوی کان صافیا من الحظوظ الحالیتہ ومجرد من النصائب المالیۃ۔ اس واسطے کہ عقبی کا اندیشہ دنیاوی بہرہ سے صاف اور مالی حصوں سے خالی ہوا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کا اندیشہ دنیاوی بہروں سے پاک صاف اور مالی حصوں سے منزہ ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ جو لوگ طالبان دنیا ہیں ان کا دل پریشان و متفرق ہوتا ہے اور طالبان عقبی کا دل مطمئن رہتا ہے اور طالبان مولی کو کوئی اندیشہ ہی نہیں ہوتا کیونکہ اندیشہ تصور کو چاہتا ہے اور خدا تعالیٰ تصور نیز اس چیز سے منزہ ہے جو خاطر میں آتی ہے تعالیٰ اللہ عن ذالک علوا کبیر۔ الفقرا خیر کے یہی معنی ہیں۔ اور یہ جو لوگوں نے کہا ہے کہ عبادۃ الفقر انفی الخواطر۔ یعنی فقر کی عبادت خطروں کی نفی کرنے میں اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ فقر کا مرتبہ مقام تصوف سے بالاتر ہے کیونکہ اگر اصحاب ترقی کرنے والے ہوتے اور اہل فقر سے بالا تر ہوتے تو ان کی عبادت فقرا کی عبادت سے برتر ہوتی اور اگر کوئی یوں کہے کہ صوفی فقیر سے بالا تر ہے کیونکہ فقیر مقام عبادت میں ہے اور صوفی مقام عبادت سے ترقی کر گیا ہے تو میں کہوں گا این مقام الصوفی اذاتم الفقر۔ یعنی جب درویشی و فقیری تمام ہوجاتی ہے تو مقام صوفی کہا ہے۔

سوال: جوانمردی فتوت اور مروت میں کیا فرق ہے؟

جواب: ما قال اھل المعرفۃ المرو ۃ شعب من الفتوۃ وھو الا عراض عن الکونین والدعۃ منھما۔ یعنی ان دونوں میں وہ فرق جو اہل معرفت نے ذکر کیا ہے یہ ہے کہ مروت جوانمردی کی ایک شاخ ہے اور جوانمردی کہتے ہیں دونوں جہان کی راحت سے چشم پوشی کرنے کو۔ مروۃ درخت فتوت کی ایک شاح ہے جو دوستون کے بوستان دل میں اُگتا ہے جس کا ثمرہ یہ ہے کہ داد و ستد میں مشغول ہو اور اپنے تئیں اس مرتبہ میں نہ رکھے اور فتوت کا ثمرہ داد و ستد کا ترک کرنا اور کونین کے اندیشہ سے دل کو دھونا اور اس میں اپنا حصہ ڈھونڈنا اور محظوظ نہ ہونا ہے۔

سوال: خدا تعالیٰ کا بندۂ خاص کون ہے؟

جواب: حق تعالیٰ کا بندۂ خاص وہ ہے جسے خدا تعالیٰ عام کی صحبت سے محفوظ رکھے اور خاص و عام کے دام قبول میں نہ چھوڑے اور جس شخص کو تو نے دیکھا کہ اس کا دل کا رخ خلق کی طرف ہے اور اس کا یار اس کی طرف متوجہ ہے ایسے شخص کو خصوصیت کے حلقہ سے باہر نکال دینا چاہیے دنیا شیطان کا جال ہے اور خواہش نفس کا۔ توجہ جو شخص اس جال میں پھنسنا نہیں چاہتا اس سے کہہ دینا چاہیے کہ دنیا سے ہاتھ اٹھالے اور دانہ کو ترک کردے اور خلق کو جو اس جال میں پھنسنے والی ہے بجائے خود چھوڑ دے۔ درویش! یہ بات نہایت دقیق و باریک ہے جو عبارت سے ادا ہونے کی گنجائش نہیں رکھتی۔

با خلق نشتۂ خدا مے طلبی
اینجا کہ توئی ھوا خدا مے طلبی

 

در شیوۂ باسزا سزا مے طلبی
نیکو بنگر کئی کرامے طلبی

 

سوال: اصحابِ دل اپنی اصطلاحات میں لفظ خرابات اور صومعہ کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے معانی ہماری سمجھ میں نہیں آتے۔ آپ فرمائیے کہ خرابات سے کیا مراد ہے اور صومعہ کیا معنی رکھتا ہے؟

جواب: ہمارا از خرابات خانہ آوردند۔ یہ اور ان جیسے اور جملے تو نے سنے ہوں گے۔ لیکن اب گوش ہوش سے سن کہ اس سے زیادہ روشن و واضح کبھی نہ سنا ہوگا خرابات سے مراد یہ ہے کہ پہلے تو نہ تھا اور بغیر تیرے۔ تیرے ساتھ موافقت کرتے تھے بلکہ تیرے بغیر اپنے ساتھ عیش کی شطرنج کھیلتے تھے۔ تجھے خرابات عدم سے صومعہ وجود میں بھیجا اور وہ چیز عنایت کی جو کسی اور کو عنایت نہیں کی اور جب تو صومعۂ وجود میں آیا خرابات عدم سے باہر آیا یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہوں کہ جب خرابات عدم سے باہر آیا صومعۂ وجود میں آیا اور صومعۂ وجود میں شرابِ معہود نوش کی اور جب تو مست ہوا تو الست بربکم کا زمانہ خرابات کو بھول گیا۔ محبوب اول جو تجھے فنائے ابد سے وجود میں لایا ہے اس نے تقاضا کرنے والوں کو تیرے پاس بھیجا اور داعیوں کو مقرر کیا تاکہ تجھے صومعۂ وجود سے خرابات عدم کی طرف مدعو کریں اور وفائے عہد کی ندا کہ واللہ یدعو الٰی دار السلام پہنچائیں ان ندا دینے والوں میں سے ایک کہتا ہے سارعو الی مغفرۃ دوسرا کہتا ہے وانیبو الی ربکم تیسرا ندا دیتا ہے۔ توبو الی اللہ چوتھا آواز دیتا ہے کہ یا ایتھا النفس المطمئنۃ۔ پانچواں کہتا ہے وتبتل الیہ تبتیلا۔ یہ تمام جو تم دیکھ رہے ہو ایک پہاڑ ہے اور دانشمند مرد صومعہ وجود کو گلشن بناتا ہے۔ اب وہ وقت ہے کہ اٹھو اور اپنے دل کا رخ خرابات عدم کی طرف لاؤ اور خرابات عدم کو آثار قدم اور انوار دم سے منور کرو۔ اور شراب محبت نوش کرو۔ اور اول روز کے محبوب کو فراموش نہ کرو۔

ھل فوأد ک حیث الھویٰ
یا یحب الا للحبیب الاول

یعنی کیا تیرا دل ازروے دوستی کے دوست اول کے سوا اور کسی کو دوست نہیں رکھتا۔

سوال: دُرد کسے کہتے ہیں اور صافی کون شخص ہے؟

جواب: دُرْد جگر کو کہتے ہیں اور صافی دل کو۔ خدا تعالیٰ نے جگر اور دل کو برابر ایک دوسرے کے رکھا ہے۔ آج مجھے درد میں اس لیے لایا کہ درد وہی کھائے جو صافی خورہ ہے چونکہ مرید طالب ہے مروتاً جگر میں ہے اور درد اس کا حصہ ہے اور چونکہ مراد مطلوب ہے اس لیے ساتھ دل کے ہے اور صافی حصہ اس کا ہے۔

سوال: دَرْد کون ہے اور دوا کیا ہے؟

جواب: درد کے ساتھ آکہ دوا کو پہنچے یعنی نا یافت درد کے ساتھ آتا کہ یافت کہ دوا حاصل کرے۔ درد شوق کےساتھ آتا کہ ذوق کی دوا لے جائے۔ درد فراق کے ساتھ آ کہ وصال کی دوا پائے۔ درد نیستی کے ساتھ آ کہ ہستی کی دوا حاصل کرے۔ درد فنا کے ساتھ آ کہ بقا کی دوا پائے اور دنیا کے ساتھ آتا کہ بے نیازی کی دوا حاصل کرے۔

سوال: معرفت کسے کہتے ہیں؟

جواب: معرفت یہ ہے کہ تو حق تعالیٰ کو ساتھ حق تعالیٰ کے عقول کے ادراک اور وہم و خیال کے احساس سے خالی اور مجر پہنچانے کیونکہ اسے کوئی شخص پہنچان نہیں سکتا۔ وجہ یہ کہ ایسا شخص چاہیے کہ جب اسے پہچانے تو حاصل کرے ولیس فی الوجود غیر اللہ یعنی وجود میں سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں ہے۔

سوال: پھر معرفت ہے کیا چیز؟

جواب: اپنے تئیں پہچاننا معرفت ہے چنانچہ موجودات کے سردار جناب صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عبارت میں اس معنی کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔ من عرف نفسہ فقد عرف ربہ۔

سوال: اپنے تئیں پہنچاننے کے کیا معنی ہیں؟

جواب: اپنے تئیں پہنچاننے کا یہ مطلب ہے کہ اپنے مجموع کو پہچانے اور اپنے اجزا کی معرفت حاصل کرے پھر اپنے اجزا کی کلیات کو تمیز کرے اور ہر ایک جزو سے جو مقصود ہے اسے معلوم کرے پھر اس کے ساتھ ہر کلی کی مراد کا ادارک کرے اور ہر جزو کی خاصیت پہچانے اور اپنے تئیں اپنی حقیقت سے خبر دار کرے اور جانے کہ کیا چیز ہے اس طرح کلیات کی طبعتیں قبل الترکیب و بعد التعریف پہچانے کہ پہلے کیا تھیں اور آئندہ کیا ہوں گی پھر تو عالم پر گزر کر کے اپنے تئیں پہچانے اور جو تیری اصل ہے اسے حاصل کرے علم کے ساتھ نہیں بلکہ عمل کے ساتھ کیونکہ تیرا عمل ایک دوسری چیز ہے سوائے اس کے جو تو کرتا ہے اور علم دوسری چیز ہے علاوہ اس کے جو تو جانتا ہے اور اپنی فرع اور اپنی روح کی نسبتیں معلوم کرے علم کے ساتھ نہیں بلکہ عمل کے ساتھ پھر اگر تو بہشت کے ملنے سے راضی ہے (حالانکہ بہشت کے طالب اور درجات کے ڈھونڈنے والے بھی اس زمانہ میں بہت تھوڑے ہیں) تو صفات ذمیمہ اور نفس کی نسبتوں کو مٹادے کیونکہ بہشت کے ملنے کے لیے اسی قدر کفایت کرتا ہے اور یہ بھی اگر تجھے میسر ہوجائے تو معلوم کر لے کہ خدا کی محض عنایت سے ہے وہ نہایت ہی صاحب اقبال اور نصیبہ ور شخص ہے جسے خدا تعالیٰ بہشت کے ساتھ اختیار کرے اور اگر تیری ہمت عالی ہے تو اس کی طرف گردن نہ جھکائے گی اور تیرا برتر سریر اس کی جانب سر نیچا نہ کرے گا اور تو اوصاف کو خواہ برے ہوں یا اچھے مع روح کی نسبتوں کے دریائے عدم میں ڈال دے گا۔ پھر یہ بھی واضح رہے کہ اوصاف کی چند قسمیں ہیں۔ ۱۔ اوصاف حِسّی۔ ۲۔ اوصاف نفسانی۔ ۳۔ اوصاف قلبی۔ اوصاف روحی۔ جو باری تعالیٰ کی نسبتوں کی ہم نشینی کی وجہ سے معتبر ہوتے ہیں اگر بندہ کے ساتھ خدا وندی سعادت موافق پڑے اور وہ دولت و صلت معلوم کرے اور اس میں ہمت سلوک ظاہر ہو۔ پختہ کار اور جہاندیدہ پیر طلب کرے اگر ایسا پیر دستیاب ہو جائے تو اس کے قدموں پر سر رکھنا چاہیے اور جان اس کے شکرانہ میں قربان کر ڈالنا مناسب ہے اور اگر دستیاب نہ ہو تو ان باتوں کو جنہیں ہم اوپر بیان کر آئے ہیں اپنا مقتدابنانا چاہیے۔

از بخت بدم گر فر و شُد خورشید
از نور رخت مھا چراغے گیرم

(اپنی بد نصیبی ہے اگر آفتاب غروب ہوگیا تو میں اے چاند تیرے رخ انور سے چراغ روشن کروں گا)

ان کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف مشغول نہ ہو کیونکہ اس کا زمانہ ان چیزوں کی مشغولی میں پریشان اور مشوش ہوگا۔ وجہ یہ کہ جو کچھ دل میں آتا ہے اسی رستہ سے آتا ہے۔

سوال: یہ تو آپ نے سب کچھ بیان کر دیا لیکن ابھی تک یہ نہیں فرمایا کہ معرفت کیا ہے؟

جواب: معرفت یہ ہے تو حسوس نفوس قلوب ارواح میں سے ہر ایک مرکب کی صفات کو پہچانے جو باہم ایک دوسرے کے مخالف اور ضد ہیں اور ان صفات کی شناخت علم کے ساتھ بھی ہو اور عمل کے ساتھ بھی کیونکہ اگر تو انہیں علم کے ساتھ پہچانے گا اور عمل کے ساتھ دریافت نہ کرے گا تو تجھے کوئی فائدہ نہ ہوگا اور اس وقت تجھے عالم کہیں گے لیکن عمل کے ساتھ عارف اس وقت ہوگا جبکہ ان اوصاف کو محو کردے گا یا میں دوسرے لفظوں میں یوں کہوں کہ جب تو کامل اور پوری صفائی حاصل کر لے گا تو اس وقت تجھے عارف کہہ سکیں گے۔

سوال: اوصاف کے مٹانے اور محو کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: تو اول اوصاف جِسّی کو مٹا ڈال کہ اس کے مٹنے سے اوصاف نفسانی خود بخود مضمحل اور فنا ہو جائیں گے جب تک اوصاف حِسّی قائم ہیں اوصاف نفسانی کو اوصاف حِسّی سے مدد پہنچتی رہتی ہے اور جب تک یہ مدد قائم ہے ولایت برپا ہے جب اوصاف حِسّی مٹ جاتے اور اوصاف نفسانی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو انہیں بھی دست فنا میں سپرد کر دیتے ہیں کیونکہ اگر باوجود اوصاف نفسانی کے اوصاف حسی قلبی اوصاف کے مٹانے اور محو کرنے کی طرف متوجہ ہوں گے۔ تو اس میں انہیں ہر گز کامیابی نہ ہوگی وجہ یہ کہ اوصاف نفسانی کو حسّی اوصاف سے مدد پہنچ رہی ہے تاوقتیکہ یہ مدد محو نہ ہوگی انہیں صفات قلبی کی طرف رستہ نہیں ملے گا اور وہ یک سو ہوکر ان کی طرف متوجہ نہ ہوں گے جب تک صفات قلبی موجود رہیں گے نسبتوں کا اسقاط محال ہوگا۔ اور وحدت کے دروازہ تک پہنچنا خیال و وہم۔

بد ریای عصمت فرور فتہ بہ
کزا نجا بد ریاے وحدت رسی

(عصمت کے دریا میں ڈوب جانا بہتر ہے کہ وہاں سے دریائے وحدت میں پہنچنا ممکن ہے۔)

اس کام کی ابتدا خلوت ہے اور عزلت اور خدا تعالیٰ کی یاد میں مستغرق ہوکر اپنی فراموشی۔

بایا دخو دت یاد خدا شرک بود
آنجا کہ فنایٔ مطلقت مے یابد

 

تا تو نشوی ز خود جد اشرک بود
تاھستِ وجود تو ھدا شرک بود

 

(اپنی یاد کے ہوتے خدا کو یاد کرنا شرک ہے اور جب تک تو اپنی ہستی سے جدا نہ ہوگا شرک میں مبتلا رہے گا۔ تجھے فنائے مطلق چاہیے اور تاوقتیکہ تیرا وجود شرک میں گرفتار ہے۔)

آزاد کسیت کو زخود آزاد است
محصول دو کونین کہ درھمت او

 

ھر غم کہ بدور سد بدان غم شاد است
چون آب نگویم کہ ھمہ چون باد است

(جو اپنی ہستی سے آزاد ہے حقیقت میں وہی آزاد ہے۔ ایسا شخص ہر ایک غم میں خوش رہتا ہے اور جس کی ہمت صرف دین و دنیا کے حصول پر مبنی ہے۔ میں اسے پانی سے تشبیہ نہیں دیتا بلکہ ہوا سے تشبیہ دیتا ہوں۔)

 

(سیر الاولیاء)

Comments