Jo keh diya woh ho gaya

ربیعہ بن امیہ بن خلف نے امیرالمؤمنین حضرت عمررضی اللہ  تعالیٰ عنہ سے اپنا یہ خواب بیان کیاکہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے کہ میں ایک ہرے بھرے میدان میں ہوں پھر میں اس سے نکل کر ایک ایسے چٹیل میدان میں آگیا جس میں کہیں دور دورتک گھاس یادرخت کا نام و نشان بھی نہیں تھا اورجب میں نیند سے بیدار ہوا تو واقعی میں ایک بنجر میدان میں تھا۔ آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تو ایمان لائے گا ، پھرا س کے بعد کافر ہوجائے گا اورکفرہی کی حالت میں مرے گا ۔ اپنے خواب کی یہ تعبیر سن کر وہ کہنے لگا کہ میں نے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے ،میں نے یوں ہی جھوٹ موٹ آپ سے یہ کہہ دیا ہے ۔ آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے یہ فرمایا کہ تو نے خواب دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو مگر میں نے جو تعبیردی ہے وہ اب پوری ہوکر رہے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مسلمان ہونے کے بعد اس نے شراب پی اور امیر المؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے اس کو درہ مار کر سزادی اور اس کو شہر بدر کر کے خیبر بھیج دیا۔وہ ظالم وہاں سے بھاگ کر روم کی سرزمین میں چلا گیا اور وہاں جاکر وہ مردود نصرانی ہوگیا اورمرتد ہوکر کفر ہی کی حالت میں مرگیا۔ (ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء، مقصد دوم، الفصل الرابع،ج۴،ص۱۰۱) (ازالۃ الخفاء،مقصد ۲،ص۱۷۰ )

Comments