Gustakh Darindon k munh mey

 

 

منقول ہے کہ حجا ج کا ایک قافلہ مدینہ منورہ پہنچا ۔تمام اہل قافلہ حضرت امیر المؤمنین عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے مزار مبارک پر زیارت کرنے اور فاتحہ خوانی کے لئے گئے لیکن ایک شخص جو آپ سے بغض وعنادرکھتا تھا توہین واہانت کے طور پر آپ کی زیارت کے لئے نہیں گیا اورلوگوں سے کہنے لگا کہ وہ بہت دور ہے اس لئے میں نہیں جاؤں گا۔

 

یہ قافلہ جب اپنے وطن کو واپس آنے لگا تو قافلہ کے تمام افراد خیر وعافیت اورسلامتی کے ساتھ اپنے اپنے وطن پہنچ گئے لیکن وہ شخص جو آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی قبر انورکی زیارت کے لیے نہیں گیا تھا اس کا یہ انجام ہوا کہ درمیان راہ میں بیچ قافلہ کے اندر ایک درندہ جانور دراتا اورغراتاہواآیا اوراس شخص کو اپنے دانتوں سے دبوچ کر اور پنجوں سے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔

 

یہ منظر دیکھ کر تمام اہل قافلہ نے یک زبان ہوکر یہ کہا کہ یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی بے ادبی وبے حرمتی کا انجام ہے۔(شواہد النبوۃ،ص۱۵۸)

 

تبصرہ

 

مذکورہ بالا روایت سے امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی جلالت شان اور دربارخداوندی میں انکی مقبولیت اورولایت وکرامت کا ایسا عظیم الشان نشان ظاہر ہوتاہے کہ ان کے مراتب کی بلندیوں کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا اور یہ روایت تو ان گستاخوں کے لیے بہت ہی عبرت خیز اورخوفناک نشان ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی شان میں بدزبان ہوکر خلفاء ثلاثہ پر تبرابازی کیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہمارے دور کے شیعوں کا مذموم وناپاک طریقہ ہے ۔

 

اہل سنت حضرات پر لازم ہے کہ ان کی مجالس میں ہرگزہرگز قدم نہ رکھیں ورنہ قہر الٰہی میں مبتلا ہونے کا خطرناک اندیشہ ہے۔خداوندکریم ہر مسلمان کو اپنے قہرو غضب سے بچائے رکھے اورحضرات خلفاء کرام اورتمام صحابہ کرام رضی اللہ  تعالیٰ عنہم کی محبت وعقیدت کی دولت عطافرمائے ۔ آمین!

 


All Related

Comments