Door se pukar ka Jawab

        حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے سرزمین روم میں مجاہدین اسلام کا ایک لشکر بھیجا ۔ پھر کچھ دنوں کے بعد بالکل ہی اچانک مدینہ منورہ میں نہایت ہی بلندآواز سے آپ نے دو مرتبہ یہ فرمایا :   یَالَبَّیْکَاہُ!یَالَبَّیْکَاہُ! (یعنی اے شخص! میں تیری پکار پر حاضر ہو)اںہل مدینہ حیران رہ گئے اوران کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کس فریاد کرنے والے کی پکار کا جواب دے رہے ہیں؟ لیکن جب کچھ دنوں کے بعد وہ لشکر مدینہ منورہ واپس آیا اوراس لشکر کا سپہ سالاراپنی فتوحات اور اپنے جنگی کارناموں کاذکر کر نے لگا تو امیر المؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ان باتوں کو چھوڑدو! پہلے یہ بتاؤ کہ جس مجاہد کو تم نے زبردستی دریا میں اتاراتھا اوراس نے (اے میرے عمر!میری خبرلیجئے ) پکارا تھا اس کا کیا واقعہ تھا۔\

 

            سپہ سالارنے فاروقی جلال سے سہم کر کانپتے ہوئے عرض کیا کہ امیر المؤمنین!  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ مجھے اپنی فو ج کو دریا کے پاراتار نا تھا اس لئے میں نے پانی کی گہرائی کا  اندازہ کرنے کے لیے اس کو دریا میں اترنے کا حکم دیا ،چونکہ موسم بہت ہی سرد تھا اور زور دار ہوائیں چل رہی تھیں اس لئے اس کو سردی لگ گئی اوراس نے دو مرتبہ زور زور سے یَا عُمَرَاہُ! یَاعُمَرَاہُ! کہہ کر آپ کو پکارا،پھر یکایک اس کی روح پرواز کر گئی ۔ خدا گواہ ہے کہ میں نے ہرگز ہرگز اس کو ہلاک کرنے کے ارادہ سے دریا میں اترنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ جب اہل مدینہ نے سپہ سالارکی زبانی یہ قصہ سناتو ان لوگوں کی سمجھ میں آگیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے ایک دن جو دو مرتبہ یَالَبَّیْکَاہُ! یَالَبَّیْکَاہُ!   فرمایا تھا درحقیقت یہ اسی مظلوم مجاہد کی فریاد وپکارکا جواب تھا ۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ سپہ سالارکا بیان سن کر غیظ وغضب میں بھر گئے اورفرمایاکہ سر دموسم اور ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں میں اس مجاہد کودریا کی گہرائی میں اتارنا یہ قتل خطا کے حکم میں ہے ،لہٰذا تم اپنے مال میں سے اس کے وارثوں کو اس کا خون بہا ادا کرواورخبردار! خبردار!آئندہ کسی سپاہی سے ہرگز ہرگز کبھی کوئی ایسا کام نہ لینا جس میں اس کی ہلاکت کا اندیشہ ہوکیونکہ میرے نزدیک ایک مسلمان کا ہلاک ہوجانا بڑی سے بڑی ہلاکتوں سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر ہلاکت ہے۔(ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفائ، مقصد دوم،الفصل الرابع،ج۴،ص۱۰۹)(ازالۃ الخفاء ، مقصد۲،ص۱۷۲)

تبصرہ

 

امیرالمؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے اس وفات پانے والے سپاہی کی فریاد اور پکار  کو سینکڑوں میل کی دوری سے سن لیا اوراس کا جواب بھی دیا۔ اس روایت سے ظاہر ہوتاہے کہ اولیاء کرام دور کی آوازوں کو سن لیتے ہیں اوران کا جواب بھی دیتے ہیں ۔

 

Comments