سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت عبد اللہ لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دو سو تیس (۲۳۰) پیادہ مجاہدین کا سردار بناکر بنو عوال اور بنو عبد ثعلبہ کی تادیب کے لئے اور اکثر روایات میں قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ حرقات کی تادیب کے لیے روانہ کیا یہ قبیلہ جہینہ کی شاخ مدینہ منورہ سے 98 میل کے فاصلے پر رہائش پذیر تھی۔(مدینہ منورہ سے مقام میفعہ کافاصلہ بطن نخل سے نجد کی جانب تقریبا98 میل ہے)۔ حضرت عبد اللہ لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھی مسلمانوں کے ہمراہ اچانک ان لوگوں پر زبردست شب خون مارا۔ جس شخص نے بھی مسلمانوں کی اس اجتماعی حملے کے سامنے سر اُٹھایا اس کو اسی جگہ قتل کردیا گیا۔ پھر اہل قبیلہ کے تمام چوپائے بھیڑ بکریاں ہانک کر مدینہ منورہ لے آئے۔ اہل سیر بیان کرتےہیں کہ اس سریہ میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہیک بن مرداس کواس کے باجود کہ اس نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کلمہ شریف لا الہ الا اللہ پڑھا اس کو قتل کردیا۔ واپسی پر سرکارِ دو عالم ﷺ کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید سے دریافت فرمایا کہ ’’تم نے ایک ایسے شخص کو قتل کر ڈالا جس نے کلمہ شریف(لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) پڑھ لیا تھا تو نے اس شخص کا دل چیر کر دیکھا تھا کہ وہ کاذب ہے یا نہیں‘‘۔ بخاری شریف میں حضرت ابی طبیال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خود حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ہم لوگوں کو حرقہ کی جانب روانہ کیا۔ ہم دو سو تیس لوگ صبح کے وقت اچانک اجتماعی طور پر اہلِ حرقہ کے سروں پر پہنچ گئے جس نے تھوڑی سی بھی مزاحمت کی ہم نے اس کو فوراً ہی قتل کرڈالا۔ حربی حملے کے دوران ایک انصاری مجاہد دشمن کے ایک آدمی کے سر پر جا پہنچا اس شخص نے جب ہم لوگوں کو اپنے اس قدر قریب دیکھا تو فوراً بولا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم)وہ انصاری مجاہد یہ سن کر اس کے قتل سے باز رہا اور فوراً اپنا ہاتھ روک لیا مگر میں نے اپنے نیزے سے اس شخص پر وار کیا یہاں تک وہ مرگیا۔اس کے بعد جب ہم لوگ مدینہ منورہ واپس ہوئے اور اس واقعہ کی خبر سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مجھ سے فرمایا’’اے اسامہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تو نے اس شخص کو اس وقت قتل کرڈالا جب کہ وہ تمہارے سامنے کلمہ شریف بھی پڑھ چکا تھا‘‘۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم بیشک میں نے ایسا ہی کیا مگر وہ شخص کلمہ شریف صرف اس لئے پڑھ رہا تھا تاکہ قتل ہونے سے بچ جائے۔اس پر سرکار علیہ السلام باربار یہ کلمہ ارشاد فرمارہے تھے کہ ’’تو نے اس شخص کو اس وقت قتل کرڈالا جبکہ وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم) پڑھ چکا تھا۔‘‘ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے اس دن یہ تمنا کی کہ اے کاش! میں آج کے دن سے پہلے مسلمان نہ ہوتا۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ تمنا کرنا اسلئے تھا کہ میں نے اس شخص کو قتل کرڈالا جس کی وجہ سے شاید میرے گزشتہ تمام اعمالِ صالحہ ہی برباد ہوگئے۔ اگر میں پہلے مسلمان نہ ہوتا تو اس قتل سے بچ جاتا اور یوں میرے تمام اعمالِ صالحہ تو برباد نہ ہوتے۔ اس سے بڑھ تقویٰ اور خوفِ خدا ہونے کی کیا مثال مل سکتی ہے کہ ایک طرف کافر کو صرف اس خیال سے کہ وہ شاید جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا ہے خدا کے راستے میں قتل کرڈالا اور دوسری طرف محبوب ِ کائنات کا فرمان سنا تو اپنے سابقہ نیک اعمال ہی ہاتھ سے جاتے ہوئے لگے۔ (صحیح بخاری شریف) (مواہب لدنیہ جلد 1 صفحہ 489)


All Related

Comments