سرکارِ دو عالم ﷺ کو خبر ملی کہ بنو فزارہ اور بنو عذرہ و بنو غطفان مسلمانوں کے خلاف بہت بڑی فوج کے ساتھ مقام عذرہ پر جمع ہورہے ہیں۔رسو ل اللہ ﷺ نے حضرت بشیر بن کعب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تین سو (۳۰۰)سواروں کے ہمراہ اس مقام کی طرف روانہ فرمایا تاکہ دشمنوں پر اچانک حملہ آور ہوکر ان کی طاقت کو منتشر کردیں اور یوں کفار کی طرف سے مدینہ منورہ پر حملہ کا خطرہ نہ رہے ۔ مجاہد مدینہ منورہ سے رات کے وقت روانہ ہوئے۔

حضرت بشیر بن کعب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سریہ میں یہ حکمتِ عملی اختیار کی کہ رات کے وقت سفر جاری رکھتے اور دن کو کسی پوشیدہ مقام پر آرام کرتے تاکہ دشمن ان کی آمد سے باخبر نہ ہوجائے۔ اُدھر کفار کو بھی کسی نہ کسی طریقے سے مسلمانوں کی آمدکی خبر ہوگئی ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں پر مسلمانوں کا اس قدر رعب ڈال دیا کہ وہ اپنے مال مویشی وغیرہ بھی چھوڑ کر جدھر سینگ سمائے بھاگ کھڑے ہوئے۔ حضرت بشیر بن کعب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت سے جانوروں پر قبضہ کرلیا اور ساتھ کفار کے دو آدمی بھی گرفتار کرلے اور یوں مالِ غنیمت اور قیدیوں کو ہمراہ لے کر مدینہ منورہ حاضرِ خدمت ہوئے۔ دونوں قیدیوں نے سرکارِ دو عالم ﷺ کے دستِ حق پرست پر بیعت کرنے کے بعد اسلام قبول کرلیا۔(واللہ اعلم)


All Related

Comments