Most Favourite History of Islam  

سریہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (اُمِّ قرفہ) رمضان المبارک 6ہجری اسی سال حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے امّ قرفہ فاطمہ بنت ربیعہ بن زید فزاریہ کی طرف روانہ کیا۔ یہ عورت ام القری کے گرد و نواح میں رہائش پذیر تھی۔ یہ مقام مدینہ منورہ سے سات منزل کے فاصلہ پر ہے۔ وادی القریٰ کا اہم مقام العلاء ہے کسی زمانے میں قرح وا...

غزوہ طائف ماہ شوال ۸ھ میں ظہور پذیر ہوا غزوہ طائف اصل میں غزوہ حنین کے سلسلے کی ہی ایک کڑی تھی۔ طائف ایک سر سبز و شاداب بڑا شہر ہے جو مکہ مکرمہ سے دو تین منزلوں پر واقع ہے اس مقام تک عرفات کے راستے سے ہوتے ہوئے وادی نعمان میں ایک رات بسر کرنے کے بعد پہنچتے تھے ۔ طائف سطح سمندر سے ۱۷۰۰ میڑبلند اور مکہ مکرمہ سے فاصلہ ۶۵ کلو میٹر ہے ۔ طائف کے نواح میں ہی شحمہ کی پہاڑی بستی واقع ہے جہاں رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنا بچپن گزا...

سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے جب مکہ فتح فرمالیا اور یوں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا وعدہ سچا فرمایا، تو فتح کے بعد قبائلِ عرب جو کہ کافی عرصہ سے اسی انتظار میں تھے کہ مسلمانوں اور مشرکین میں سے کون اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا ہے تاکہ کامیاب ہونے والے گروہ کے ساتھ مستقبل کی وابستگی اختیار کرسکیں۔ جزیرۃ العرب کے قبائل کا اس بات پر یقین تھا کہ جو جماعت(پارٹی) بیت اللہ شریف کو اپنے قبضہ م...

Tareekh-e-Kaba in Urdu

  آدم علیہ السلام کی تعمیر: ابن عساکر وغیرہ سے تفسیر عزیزی میں نقل کیا گیا ہے حضرت آدم علیہ السلام جب جنت سے زمین پر تشریف لائے تو بارگاہ الٰہی میں عرض کیا: ’’خدایا میں یہاں نہ تو ملائکہ کی تسبیح و تکبیر سنتا ہوں اور نہ کوئی عبادت گاہ دیکھتا ہوں جیسے کہ آسمان میں بیت المعمور دیکھتا تھا جس کے اردگرد ملائکہ طواف کرتے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’جاؤ جہاں ہم نشان بناتے ہیں وہاں کعبہ بناکر اس کے اردگر...

اسی ماہ کی چودہ اور پندرہ تاریخ کو اسلام اور کفر کا دوسرا بڑا معرکہ(جسے ’’غزوہ اُحد‘‘ کہتے ہیں) ۳ہجری میں پیش آیا۔ امام الانبیاء والمرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قیادت میں صحابۂ کرام علیہم الرضوان جبل اُحد کے نیچے میدان میں صف آراء ہوئے۔ اسلامی افواج سات سو ۷۰۰ سے کم افراد پرمشتمل تھی۔ غزوۂ احد کے شہداء کے نام ذیل میں پیش کئے جا رہے ہیں: ۱۔ حضرت سیّدنا حمزہ بن عبدالمطلب بن ہاشم﷜ ۲۔ حضرت سیّدنا عبداللہ بن حجش ﷜ ( ان کا ...

سرکارِ دو عالم ﷺ کو خبر ملی کہ بنو فزارہ اور بنو عذرہ و بنو غطفان مسلمانوں کے خلاف بہت بڑی فوج کے ساتھ مقام عذرہ پر جمع ہورہے ہیں۔رسو ل اللہ ﷺ نے حضرت بشیر بن کعب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تین سو (۳۰۰)سواروں کے ہمراہ اس مقام کی طرف روانہ فرمایا تاکہ دشمنوں پر اچانک حملہ آور ہوکر ان کی طاقت کو منتشر کردیں اور یوں کفار کی طرف سے مدینہ منورہ پر حملہ کا خطرہ نہ رہے ۔ مجاہد مدینہ منورہ سے رات کے وقت روانہ ہوئے۔ حضرت بشیر بن کعب انصاری رضی اللہ تع...

        اس سال کے تمام  واقعات میں سب سے زیادہ اہم اور شاندار واقعہ ”بیعۃالرضوان “  اور ”صلح حدیبیہ “  ہے۔ تاریخِ  اسلام  میں اس واقعہ  کی بڑی اہمیت  ہے کیونکہ اسلام کی تمام  آئندہ  تر قیوں  کا راز اسی کے دامن سے وابستہ  ہے۔  یہی وجہ ہے کہ گو بظاہر یہ ایک مغلوبانہ  صلح تھی۔ مگر قرآن مجید میں خدا وند تعالیٰ  نے اس کو &rd...

اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الْبَیۡعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰواؕ فَمَنۡ جَآءَہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ فَانۡتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَؕ وَاَمْرُہٗۤ اِلَی اللہِؕ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۲۷۵﴾ وہ جو سُود کھاتے ہیں (۱) قیامت کے دن نہ کھ...

۱۸ رمضان المبارک رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بتاریخ ۱۰ رمضان المبارک ۸ھ دس ہزار آراستہ فوج لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے۔ حضرت عباس جو اب تک مکہ میں مقیم تھے اپنے اہل و عیال سمیت ہجرت کرکے مدینہ کو آرہے تھے وہ مقام حجفہ میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حسب ارشادِ نبوی انہوں نے اہل و عیال کو تو مدینہ بھیج دیا اور خود لشکر اسلام میں شامل ہوگئے۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ میں حص...

۱۷ رمضان المبارک معرکہ بدر تاریخ اسلام میں پہلا فیصلہ کن معرکہ ہونے کے لحاط سے خونریز مقابلہ کا پہلا مرحلہ ہے جس میں اسلام نے کفرو شرک کے خلاف فرضیت جہاد پر عمل کیا اور علی الاطلاق یہ پہلا معرکہ ہے جس میں فریقین نے ایک دوسرے کا سامنا کیا اور جب سے دعوتِ اسلام کاآغاز ہوا ہے اور اس کے اور کفر کے درمیان جنگ کی ٹھنی ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَقَدْ نَصَرَ کُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍوَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ ج فَاتَّقُوا اللّٰہَ لَ...