یہ مسجد مقدس جبل   ابی قبیس کے اوپر واقع ہے ۔بعض روایتوں کے مطابق شق القمر کامعجزہ   یہیں پر ہوا تھا ۔واقعہ یوں ہے سرورِ عالم ﷺمنیٰ میں جس جگہ آج مسجدِ خیف ہے اس میں تشریف فرما تھے اہلِ مکہ نے معجزہ طلب کیا ۔ حضور علیہ الصلوۃوالسلام نے آسمان کی طرف دیکھا اور شہادت کی انگلی مبارک چاند کی طرف اٹھائی اور اسی لمحہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا ۔مکہ کے لوگوں نے دیکھا کہ چاند کا ایک ٹکڑا جبل ِ ابی قبیس کی گھاٹیوں میں اترتا چلا گیا ۔آج کل لوگ اس مقام پر حاضر ہو کر دعاؤں اور نوافل میں مشغول ہوتے ہیں ۔ (بلد الامین ، ص۱۳۶)

فائدہ:

     جبلِ ابی قبیس کا نام انبیا ء کرام کی کُتُب میں فاران ہے اور مسجدِ ہلال اسی پہاڑ پر واقع ہے حرمِ کعبہ میں بیٹھ کر صفا پہاڑی کےاوپر سے    پہاڑ کو دیکھیں تو یہ مسجد نظر آجاتی ہے اور بعض اوقات یہاں کی آذان حرَم شریف میں بھی سنائی دیتی ہے ۔(زیارات مکہ، ص ۱۷۹)


All Related

Comments