۹       ھ میں جب حضور ﷺ حج کے لئے تشریف لائے ، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاساتھ تھیں، اپنی بیمار ی کے باعث آپ طواف ادا نہ کرسکیں ، حضور ﷺ تشریف لائے تو انہیں مغموم پایا۔ فرمایا! عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) پریشان نہ ہوں یہ عارضہ بناتِ آدم پر لکھا گیا ہے ۔ حضورﷺ نے ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا، عائشہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیجائیں اور مقام تنعیم سے احرام باندھ کر عمرہ کرلیں۔ (بخاری شریف ، حدیث نمبر ۱۷۸۵،تاریخ مکہ، ص ۳۴۴)

مسجد تنعیم کے تعمیری مراحل:

          سب سے پہلے محمد بن علی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے مسجد تعمیر کی ، پھر ابو لعباس امیر مکہ نے قبہ بنوایا ۔ بعد ازاں ایک بوڑھی خاتون نےخوبصورت مسجد بنوائی۔ پھر ۶۱۹؁ھ میں ملک مسعود نے بنوائی ۔ ۱۰۱۱؁ھ میں سلطان محمود غزنوی رحمۃاللہ علیہ نے سعادت حاصل کی۔ ۹۷۸؁ھ میں سنان پاشا عمرہ ادا کرنے آئے تو یہاں پانی کی دقت کو دیکھ کر چشمہ بنوایا تاکہ انسانوں کے ساتھ جانور بھی فائدہ اٹھا ئیں ۔ چنانچہ قاضی حسین الحسینی نے پوری توجہ اور محنت سے اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا ۔(بلدالامین ،ص ۱۳۹)

فائدہ:

        مسجد عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیت اللہ سے جانب شمال مکہ، مدینہ روڈ پر (جسے ہجرت روڈ بھی کہا جاتا ہے)ساڑھے سات کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے ۔اس مسجد کی نئی توسیع   شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دور میں ہوئی۔ مسجد کی تعمیر ۶۰۰۰ (چھ ہزار) مربع میٹر پر ہے۔ اس مسجد میں پندرہ ہزار نمازیو ں کی گنجائش ہے۔ یہاں سے حاجی اور مکہ مکرمہ کے رہنے والے عمرہ کے لیے احرام باندھتے ہیں۔ کیونکہ حدود حرم میں سے سب سے زیادہ مسجد عائشہ نزدیک ہے۔(زیارات مکہ معظمہ ، ص۱۷۰)


All Related

Comments