ojhri Ka Hukam

03/29/2016 AZT-17818

ojhri Ka Hukam


حلال جانوروں کی آنتوں اور اوجھڑی کاکیاحکم ہے؟

  الجواب بعون الملك الوهاب

جن جانوروں کاگوشت کھایاجاتاہے ان کے سب اجزاء حلال اوران کاکھاناجائزہے مگرجانورکے بعض اجزاء حرام یاممنوع یامکروہ ہیں۔آنت اور اوجھڑی مکروہ اجزاء میں سے ہے لہذا اس کاکھانامکروہ ہے۔

امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:" آنت کھانے کی چیز نہیں، پھینک دینے کی چیز ہے۔ وہ اگر کافر لے جائے یا کافر کو دی جائے تو حرج نہیں ۔﴿الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ﴾. ترجمہ:" خبیث چیزیں خبیث لوگوں کے لئے اور خبیث لوگ خبیث چیزوں کے لئے"۔ [فتاوی رضویہ، ج:۲۰، ص:۴۵۷، رضا فاؤنڈیشن لاہور]۔ مزید ایک اورمقام پرفرماتے ہیں:" حلال جانور کے سب اجزاء حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں: (1) رگوں کا خون (2) پتا (3) پُھکنا (4) و  (5) علامات مادہ ونر (6) بیضے (7) غدود (8) حرام مغز (9) گردن کے دو پٹھے کہ شانوں تک کھنچے ہوتے ہیں (10) جگر کا خون (11) تلی کا خون (12) گوشت کا خون کہ بعد ذبح گوشت میں سے لکھتا ہے (13) دل کا خون (14) پت یعنی وہ زرد پانی کہ پتے میں ہوتاہے (15) ناک کی رطوبت کہ بھیڑ میں اکثر ہوتی ہے (16) پاخانہ کا مقام (17) اوجھڑی (18) آنتیں (19) نطفہ (20) وہ نطفہ کہ خون ہوگیا (21) وہ کہ گوشت کا لوتھڑا ہوگیا (22) وہ کہ پورا جانور بن گیا اور مردہ نکلا یا بے ذبح مرگیا"۔[فتاوی رضویہ، جلد:20، صفحہ:240, 241, رضا فاؤنڈیشن لاہور]۔ واللہ تعالی اعلم ورسولہ اعلم بالصواب۔

  • رئیس دارالافتاء مفتی محمد اکرام المحسن فیضی

All Related

Comments