Mayyit Ki Nama aur Rozay ka Fidya

07/11/2016 AZT-21050

Mayyit Ki Nama aur Rozay ka Fidya


مسئلہ یہ ہے کہ حال ہی میں میری دادی کا انتقال ہوگیا ۔ ان کی نماز اور روزے باقی ہیں ۔ میں فدیہ ادا کرنا چاہتا ہوں ۔برائے مہربانی ارشاد فرمائیں کہ کس طرح ادا کروں اور کس کس کو فدیہ دے سکتا ہوں؟ (محمد بلال،آندھرا پردیش ،انڈیا)

الجواب بعون الملك الوهاب

جس کی نمازیں قضا ہو گئیں اور انتقال ہوگیا۔ اب ورثا  اگر فدیہ دینا چاہیں تو ہر فرض نماز اور  وتر کے بدلے صدقہ فطر کی مقدار یعنی  2 کلو گندم یا اس کی قیمت مستحقِ زکوۃ کو دیں۔ مگر نماز وں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے شریعت مطہرہ نے یہاں ایک حیلہ تعلیم فرمایا ہے کہ مثلاً  ا یک دن کی 5 نمازوں اور  وتر   کا  فدیہ(12 کلو گندم یا  اس کی قیمت) مستحق کو دے دیں، وہ قبضہ کرنے کے بعد آپ کو تحفۃً واپس کردے، پھر آپ  اس کو وہی  5 نمازوں کے فدیے کی مد میں اسے دوبارہ  دے دیں۔  یوں 10 نمازوں کا فدیہ ادا  ہو جائیگا۔ اور یہ عمل کرتے جائے حتی کہ میت کی تمام نمازوں کا فدیہ ادا ہوجائے۔

 اور  ہر روزے کے بدلے میں  صدقہ فطر کی مقدار یعنی  2 کلو گندم یا اس کی قیمت مستحقِ زکوۃ کو دیں۔ اور روزوں میں حیلہ  نہیں کرنا ۔ حوالہ:  بہار شریعت، جلد 1، حصہ4، صفحہ 707، 909،  مکتبۃ المدینہ کراچی۔

  • رئیس دارالافتاء مفتی محمد اکرام المحسن فیضی

All Related

Comments