فضائل و معمولاتِ اہلسنّت

1

نبی کریمﷺ نے فرمایا، ’’ رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے، اور رمضان میری اُمت کا مہینہ ہے۔‘‘

(ماثبت با السنۃ صفحہ۱۷۰بحوالہ جامع الکبیر بروایت امام حسن بصری رحمہ اللہ)

2

محدث دیلمی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں، ’’حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا، میں نے حضور اکرم محمد رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سُنا، اللہ تعالیٰ چار راتوں میں بھلائی کی مہر لگاتا ہے۔ (۱) شب عید الاضحی (۲) شب عید الفطر (۳) ماہ رجب کی پہلی شب (۴) شب نصف شعبان۔(مثیر الغرام الساکن الی اشرف الاماکن لابن الجوزی،رقم الحدیث: 72)

3

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ’’پانچ راتیں ایسی ہیں کہ ان میں کوئی دعا رد نہیں ہوتی، (۱) رجب کی پہلی رات (۲)نصف شعبان کی رات(۳) جمعہ کی رات (۴۔۵) دونوں عیدوں کی رات۔

(بیہقی،شعب الایمان،حدیث:3711)

4

حضور اکرمﷺ نے شعبان کی تیرہویں شب اپنی امت کی شفاعت کے لیے دعا کی تو آپ کو تہائی عطا ہوا، پھر چودہویں شب دعا کی تو دو تہائی عطا ہوا، پھر پندرہویں شب دعا کی تو سب کچھ عطا ہوا، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ سے بِدکے ہوئے اونٹ کی طرح بھاگے یعنی نافرمانی کرنے والا۔(مکاشفۃ القلوب صفحہ ۶۸۲)

5

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ آمد شعبان پر فرماتے، اس میں اپنی جانوں کو پاک کرو اور اپنی نیتوں کو درست کرو۔(مکاشفۃ القلوب ۶۸۱)

6

ابن اسحق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے بتایا نصف شعبان کی شب رسول اللہﷺ مسجد میں سجدہ کی حالت میں یہ دعا فرما رہے تھے، ’’سَجَدَ لَکَ سَوَا دِیْ وَخَیَالِیْ وَاٰمَنَ بِکَ فَوَا دِیْ وَہٰذِہٖ یَدِیْ وَمَا جَنَیْتُ بِہَا عَلیٰ نَفْسِیْ یَا عَظِیْمًا یُّرْ جیٰ لِکُلِّ عَظِیْمٍ اِغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِیْمَ سَجَدَوَجْہِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ وَصَوَّرَہٗ وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہٗ ‘‘ (میرے بدن اور میری صورت نے تجھے سجدہ کیا میرا دل تجھ پر ایمان لایا اور یہ میرے ہاتھ ہیں جن سے میں نے خود پر زیادتی کی، اے عظیم! ہر بڑی بات میں اس پر امید کی جاتی ہے، بڑا گناہ معاف فرمادے میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اس کی صورت بنائی اور کان اور آنکھ بنائے) پھر آپﷺ نے سر اٹھایا اور یہ دعا کی: ’’اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِیْ قَلْبًا تَقِیًّا نَقِیًّا مِّنَ الشِّرْکِ بَرِیًّا لَّا کَا فِرًا وَّ لَا شَقِیًّا‘‘ (اے اللہ! مجھے ایسا دل عطا فرما جو پر ہیزگار ہو شرک سے پاک ہو، نیک ہو ..... نہ کافر ہواور نہ ہی بدبخت ہو) پھر دوبارہ سجدہ کیا اور میں نے یہ پڑھتے ہوئے سُنا، ’’اَعُوْذُ بِرِضَائِکَ مِنْ سَخَطِکَ وَ بِعَفْوِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَبِکَ مِنْکَ لَا اُحْصِیْ ثَنَآئَ عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ اَقُوْلُ کَمَا قَالَ اَخِیْ دَاؤٗدُ اَغْفِرُ وَجْھِیْ فِیْ التُّرَابِ لِسَیِّدِیْ وَحَقَّ لِوَجْہِ سَیِّدِیْ اَنْ یُّغْفَرَ‘‘ (میں تیری ناراضگی سے تیری پناہ مانگتا ہوں تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ تجھ سے تیری پناہ، میں تیری تعریف نہیں کرسکتا بس تو ایسا ہے جیسے کہ تو نے خود اپنی تعریف فرمائی میں وہی کہتاہوں جو میرے بھائی حضرت داؤودعلیہ السلام نے کہا میں اپنے آقا کے لیے مٹی میں اپنے چہرے کو خاک آلود کرتا ہوں اور چہرے کا یہ حق ہے کہ اپنے آقا کے لیے خاک آلودہ ہو۔)

(مکاشفۃ القلوب صفحہ۶۸۳۔۶۸۴)

7

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہﷺ کو نہ پاکر آپ کی تلاش میں نکلی آپ جنت البقیع میں تھے، آپ کا سر آسمان کی جانب اٹھا ہوا تھا، آپ نے مجھے فرمایا، اے عائشہ کیا تمہیں ڈر ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا؟ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے گمان ہوا شاید آپ دوسری ازواج کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات آسمانِ دنیا پر (اپنی شایانِ شان) نزول فرماتا ہے اور بنو کلب قبیلہ کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔(ترمذی جلد اول صفحہ۲۷۵)

8

مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا، نصف شعبان کی رات میں قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسی رات غروب آفتاب تا طلوع فجر آسمانِ دنیا کی طرف متوجہ رہتا ہے اور فرماتا ہے ’’کوئی ہے مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اسے بخش دوں، کوئی رزق طلب کرے تو اس کو رزق دوں، کوئی مصیبت سے چھٹکارا چاہے تو اس کو عافیت دوں۔(ابن ماجہ شریف صفحہ نمبر۹۹)

9

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، ’’نبی کریمﷺ نے فرمایا! اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب ظہور فرماتا ہے اور مشرک و چغل خور کے علاوہ سب کی بخشش فرمادیتا ہے۔(سنن ابن ماجہ صفحہ ۹۹)

دعائے نصف شعبان المعظم

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَللّٰہُمَّ یَا ذَ الْمَنِّ وَلَا یُمَنُّ عَلَیْہِ یَاذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِط یَا ذَاالطَّوْلِ وَالْاِنْعَامِ فلَاَ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ ظَہْرُ اللَّاجِئِیْنَط وَجَارُ الْمُسْتَجِیْرِیْنَط وَاَمَانُ الْخَآئِفِیْنَط اَللّٰہُمَّ اِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِیْ عِنْدَکَ فِٓی اُمِّ الْکِتٰبِ شَقِیًّا اَوْ مَحْرُوْمًا اَوْ مَطْرُوْدًا اَوْ مُقَتَّرًاعَلَیَّ فِی الرِّزْقِط فَامْحُ اللّٰہُمَّ بِفَضْلِکَ شَقَا وَتِیْ وَحِرْ مَا نِیْ وَطَرْدِیْ وَاقْتِتَارَرِزْقِیْط وَاثْبِتْنِیْ عِنْدَکَ فِیٓ اُمِّ الْکِتٰبِ سَعِیْدًا امَّرْزُوْقًا مُّوَفَّقًا لِّلْخَیْرَاتِط فَاِنَّکَ قُلْتَ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ فِیْ کِتَابِکَ الْمُنَزَّلِط عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکَ الْمُرْسَلِط یَمْحُو اللہُ مَا یَشَآئُ وَیُثْبِتُ وَ عِنْدَہٗ اُمُّ الْکِتٰبِ۝ اِلٰہِیْ بِالتَّجَلِّیِّ الْاَعْظَمِط فِیْ لَیْلَۃِ النِّصْفِ مِنْ شَہْرِ شَعْبَانَ الْمُکَرَّمِط اَلَّتِیْ یُفْرَقُ فِیْہَا کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ وَّ یُبْرَمُط اَنْ تَکْشِفَ عَنَّا مِنَ الْبَلَائِ وَالْبَلْوَ آئِ مَا نَعْلَمُ وَمَا لَا نَعْلَمُ وَاَنْتَ بِہٖ اَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعَزُّالْاَکْرَمُط وَصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ وَسَلَّمْ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَلَمِیْنَ۝


فاتحہ اور حلوہ کھانے اور کھلانے کے فائدے

۱۴ شعبان کو گھر میں خواتین (باوضو ہوں تو بہتر ہے) حلوہ پکائیں اور آقائے دوجہاں حضور اکرم حضرت محمد مصطفیﷺ خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت سیدنا حمزہ اور حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہما کی خصوصیت کے ساتھ نیز دیگر صالحین، اولیائے کاملین، سلاسل تصوف و طریقت کے بزرگان دین، اپنے آباؤ اجداد، اعزاو اقربا(جو حالتِ ایمان پر رحلت کر گئے ہوں) اور عام مومنین کی حلوے پر فاتحہ دلائیں اور ہمسایوں میں تقسیم کریں، خصوصاً محتاج و مستحقین امداد کو حلوے کے علاوہ کچھ خیرات بھی دیں۔ مشائخ سے منقول ہے یہ ارواح اپنے عزیزوں کی جانب سے فاتحہ و نذور کے منتظر ہوتے ہیں۔ ایصالِ ثواب کے تحفے وصول کرکے خوش ہوتے ہیں اور بارگاہ الٰہی میں اپنے زندہ عزیزوں کے حسنِ خاتمہ و آخرت کے لیے سفارش بھی کرتے ہیں۔ بخاری شریف کی حدیث جلد دوم صفحہ ۸۱۷ کے مطابق حلوہ کھانا رسول اکرمﷺ کی سنت متواتر اور سنتِ عادیہ دونوں پر عمل ہے۔ جبکہ حلوہ کھلانے سے متعلق اللہ کے پیارے حبیب ہمارے طبیب مصطفی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم فرماتے ہیں ’’جس نے اپنے مسلمان بھائی کو میٹھا لقمہ کھلایا اس کو سبحانہ و تعالیٰ حشر کی تکلیف سے محفوظ رکھے گا۔

(شرح الصدور، للعلامہ امام سیوطی مجدد قرن نہم)

قبرستان حاضری کے آداب

مرحومین اور عزیزوں کی مغفرت کے لیے: باوضو ہو کر اور تازہ گلاب (یا دوسرے پھول) لے کر قبرستان جائیں، قبروں کے آداب اور خصوصًاقبروں کے سرہانے لوح پر لکھی آیاتِ قرآنی کا احترام کریں، قبروں پر نہ چلیں، قبروں پر آگ نہ جلائیں یعنی روشنی کے لیے موم بتی یا چراغ جلانا منع ہے، ہر قبرستان میں شہری انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ بجلی کے کھمبوں کی تنصیب کرے اور ان ہی کھمبوں پر تیز روشنی کے بلب لگائے جائیں تاکہ پورا قبرستان روشن ہوکیونکہ قبرستان بہت گنجان ہوتا ہے قبروں کے درمیان قطعاً جگہ نہیں ہوتی کہ وہاں موم بتی یا چراغ جلا سکیں لیکن بعض نادان حضرات ایسا کرتے ہیں جو شرعاً منع ہے، خوشبو کے لیے اگر بتی جلا کر قبر سے ایک فٹ دور رکھیں۔ اپنی موت کو بھی یاد رکھیں، خواتین قبرستان میں نہ جائیں۔ قبرستان میں داخلہ کے وقت یہ دعا پڑھیں۔’’اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ یَا اَہْلَ الْقُبُورِ الْمُسْلِمِیْنَ اَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَّ اَنَا اِنْشَاءَ اللہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ نَسْاَلَ اللہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَفْوَ وَ الْعَافِیَۃِ‘‘ پھر درج ذیل درود شریف ایک مرتبہ پڑھنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ مُردوں پر سے ستر سال کے لیے اور چار دفعہ پڑھنے پر قیامت تک کا عذاب اٹھا لیتا ہے۔ چوبیس مرتبہ پڑھنے والے کے والدین کی مغفرت ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کے والدین کی قیامت تک زیارت کرتے رہو۔

Comments