Syedna Umar Farooq

 

 امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

بن خطاب بن یعل بن عبدالعزی بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی۔ قریشی عددی کینت ان کی ابوخفص تھی والدس ان کا ختمہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمربن مخزوم تھیں اوربعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ ختمہ بنت ہشام بن مغیرہ تھیں اس دوسری روایت کی بناء پرابوجہل کی حقیقی بہن ہوجائیں گی اورپہلی روایت کی بناپروہ ابوجہل کی چچازاد بہن ہوں گی۔ ابوعمرنے بیان کیاہے کہ جس شخص نے ختمہ کوبنت ہشام لکھاہے اس نے غلطی کی ہے کیوں کہ اس صورت میں ابوجہل اورحارث فرزندان ہشام کی حقیقی بہن ہوجائیں گی حالانکی ایسانہیں ہے بلکہ ابوجہل اورحارث کی چچازادبہن ہیں ہشام اورہاشم فرزندان مغیرہ دوبھائی تھے ہاشم ختمہ کے والد تھےاورہشام ابوجہل اورحارث کے والد تھے۔ہشام کوجدعمرذوالرمحین ۱؎کہتےہیں۔اورابن مندہ نے بیان کیاہے کہ حضرت عمر کی والدہ ابوجہل کی حقیقی بہن تھیں اورابونعیم نے بیان کیاہے کہ وہ ہشام کی بیٹی تھیں جوابوجہل کی بہن کا بیٹاتھا(یعنی ابوجہل ہشام کاماموں تھا)ابونعیم نے اس کواسحاق سے روایت کیاہے زبیرنے بیان کیاہے ختمہ ہاشم کی بیٹی تھیں لہذاوہ ابوجہل کی چچازاد بہن ہوئیں جیسا کہ ابوعمرنے بیان کیاہے۔ہاشم کے کئی لڑکے تھے مگرسب سے نسلیں نہیں چلیں۔

۱؎ذوالرمحین کے معنی دونیزہ والاشاید وہ لڑائی میں دونیزہ اپنے پاس رکھتےہوں۱۲۔

حضرت عمراورسعید بن زید رضی اللہ عنہما کا نسب نفیل میں جاکرمل جاتاہے حضرت عمرکی ولادت فیل کے ۱۳؟برس کے بعدہوئی خود حضرت عمرسے روایت ہے وہ کہتےتھے واقعہ فجار اعظم کے چار برس بعد میں پیداہواتھا۔حضرت عمراشراف قریش میں سے تھے زمانہ جاہلیت میں سفارت کاعہدہ انھی کوملتاتھاقریش کادستورتھا کہ جب ان میں باہم کوئی لڑائی ہوتی یاکسی غیرقوم سے جنگ درپیش ہوتی توحضرت عمرہی کو سفیربناکربھیجتےتھے اورجب کسی غیرقوم کاکوئی شخص مفاخرت یامناخرت کے مضامین بیان کرناہوتےتھے توحضر ت عمرہی کو اس کے مقابلہ میں بھیج دیاکرتےتھے۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ کااسلام قبول کرنا جب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تو حضرت عمرآپ صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمانوں پرنہایت سخت تھے پھرکچھ لوگوں کے اسلام لانے کے بعد اسلام کوقبول کیا۔ہلال بن یساف نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہچالیس مرداورگیارہ عورتوں کے بعداسلام لائے اوربعضوں نے قبول کیا۔ہلال بن یساف نے کہاکہ عمر رضی اللہ عنہچالیس مرد اورگیارہ عورتوں کے بعداسلام لائے۔اوربعضوں نے کہاہے کہ ۳۹مرداور۲۳عورتوں کے بعد اسلام لائے پس ان سے مردوں کی تعداد چالیس پوری ہوگئی ۔ہم کوابومحمد عبداللہ بن علی بن سویدہ تکرینی نے اپنی اسناد ابوالحسن علی بن احمد بن سعویہ تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم کواحمد بن محمد بن احمد اصفہانی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوعبداللہ بن محمدبن جعفر حافظ نے خبردی وہ کہتے تھےہم سے ابوبکربن ابی عاصم نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے صفوان بن مغلس نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے اسحاق بن بشرنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے خلف بن خلیفہ نے ابوہشام رمانی سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے سعید بن جبیر؟سے انھوں نے ابن عباس سے روایت کی وہ کہتے تھےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ۳۹مردوں اورعورتوں نے اسلام قبول  کیاتھااس کے بعد عمراسلام لائے تووہ چالیس آدمی ہوگئےپس جبرئیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کایہ قول لے کرنازل ہوئے یاایھاالنبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنینترجمہ اے نبی تجھ کواللہ تعالیٰ اور وہ مومنین کافی ہیں جنھوں نے تیری پیروی کی۔اورعبداللہ بن ثعلبہ بن صغیر نے کہاکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ۴۵مرداورااعورتوں کے بعداسلام لائے اور سعیدبن مسیب  نےکہاکہ حضرت عمر نے چالیس مرداوردس عورتوں کے بعداسلام قبول کیاپھرحضرت عمرکے اسلام لانے کے بعد مکہ میں اسلام ظاہرہوا۔اورزبیرنے کہاکہ ارقم کے گھرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کے بعداورچالیس یا چالیس سے کچھ زائد مردوں اورعورتوں کے مسلمان ہونے کےبعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیاآپ کے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعاکیاکرتے تھےکہ خدا دوشخص عمربن خطاب یاعمربن ہشام یعنی ابوجہل میں سے جوتجھ کوپسندیدہ ہواس سے اسلام کو غلبہ دے ہم کو یاسر بن ابی حبہ نے اپنی اسناد عبداللہ بن احمد تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے ہمارے باپ نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے ابومغیرہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے صفوان نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے شریح بن عبدنے بیان کیاوہ کہتےتھے عمربن خطاب نے کہاکہ اسلام لانے سے قبل میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے تعرض کرنے کے لئے نکلا تو میں نے آپ کومسجد میں پایا میں آپ کے پیچھے کھڑاہوگیا آپ نے سورہ الحاقہ پڑھناشروع کی مجھ  کوقرآن کی تالیف سے تعجب ہوا اورمیں نے کہاواللہ یہ شاعرہیں جیساکہ قریش کہتےہیں آپ نے پڑھا انہ لقول رسول کریم وما ھو بقول شاعر قلیلا ماتومنون(ترجمہ۔یہ بزرگ رسول کاقول ہے اورشاعرکاکلام نہیں تم لوگ بہت کم ایمان لاتے ہو)میں نے کہا یہ کاہن ہیں آپ نے پڑھاوبقول کاہن قلیلا ماتذکرون تنزیل من رب العالمین ولو تقول علینابعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین فمامنکم من احد عنہ حاجزیناخیرسورۃ تک (ترجمہ۔اورنہ کاہن کا کلام ہے تم لوگ بہت کم نصیحت پکڑتےہو رب العالمین کی طرف سے اس کانزول ہے اوراگرہم پر کوئی بات افتراکرتاتہ ہم اس کو داہنے ہاتھ سے پکڑلیتے پھر اس کی رگ قلب کاٹ دیتے اورتم میں سے کوئی اس کا بچانے والانہ ہوسکتا)پس اسلام میرے دل میں بخوبی اتر گیا۔

ہم لوگ عدل ابوالقاسم حسین بن ہبتہ اللہ بن محفوظ بن مصری ثعلبی دمشقی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو شریف نقیب ابوطالب علی بن حیدرہ بن جعفر علوی حسینی اورابوالقاسم حسین بن حسن بن محمدنے خبردی اس طرح کہ ان کے سامنے حدیث پڑھی جاتی تھی اور میں سن رہاتھاوہ دونوں کہتےتھے ہم کو فقیہ ابوالقاسم علی بن محمد بن علی بن ابوالعلاء مصیعی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومحمد عبدالرحمن بن عثمان بن قاسم بن ابی نصر نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو محمد بن عوف نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو سفیان طائی نے خبردی وہ کہتےتھے کہ میں نے اسحق بن ابراہیم حنفی کے سامنے یہ حدیث پڑھی انھوں نےکہااسامہ بن زید نے اپنے باپ سے روایت کرکےاس کوبیان کیاانھوں نے ان کے دادا اسلم سے روایت کی وہ کہتےتھے ہم سے عمربن خطاب نے کہاکیاتم چاہتےہو کہ میں تم کوبتاؤں کہ میرے اسلام کی ابتدا کیونکرہوئی؟ہم نے کہاہاں۔حضرت عمرنے کہاکہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر سب لوگوں سے زیادہ شدت کرنے والاتھاایک روز سخت گرمی کے دنوں میں دوپہرکے وقت ایک گلی میں جارہاتھا کہ قریش کا ایک شخص مجھ سے ملااورپوچھنے لگااے خطاب کہاں جاتے ہو تم اپنے کوایسا(یعنی سخت مخالف اسلام)خیال کرتےہو حالانکہ یہ امر(اسلام)خود تمھارے گھرمیں آ چکاہےکہایہ کیااس نے کہا کہ تمھاری بہن نے تبدیل مذہب کردیا(یعنی اپنا مذہب چھوڑکراسلام قبول کرلیا)میں غضبناک ہوکرلوٹا۔اس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کایہ دستورتھا کہ ایک ایک دودو(مفلس)آدمیوں کو جومسلمان ہوجاتےتھے کسی ایسے شخص کی کفالت میں کردیتے تھے جس کوقوت ہو وہ اس کی کفالت میں رہتے اوراس کے کھانے میں سے کھاتے تھے چنانچہ میری بہن کے شوہر کی کفالت میں بھی دوآدمی کردئےتھے میں نے وہاں آکردروازہ کھٹکھٹایا(اندرسے) کسی نے پوچھا کون ہے میں نے کہا ابن الخطاب اور(مکان کے اندر)کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ایک صحیفہ میں قرآن پڑھ رہےتھے میری آواز سن کر جلدی سے منتشرہوگئے اور(گھبراہٹ میں)وہ صحیفہ بھی چھوڑدیا یابھول گئے پھرمیری بہن نے دروازہ کھول دیامیں نے جوکچھ میرے ہاتھ میں آیااٹھاکر اس سے اس کومارناشروع کیایہاں تک کہ اس کے خون بہنے لگاجب اس نے خون دیکھاتو رونے لگی اورکہا اےابن خطاب  تم جوکچھ کرسکتےہو کرومیں مسلمان ہوچکی ہوں۔میں اسی غصہ کی حالت میں ایک تخت پرجاکر بیٹھ گیااورمکان کے ایک طرف ایک کتاب دیکھی میں نے پوچھا یہ کیسی کتاب ہے مجھ کو دےاس نے کہامیں تم کونہ دوں گی کیوں کہ تم اس کے لائق نہیں ہو تم نہ توغسل جنابت کرتے ہو اور نہ  ظاہردھوتے ہواس کتاب کوپاک لوگوں کے سواکوئی نہیں چھوسکتا میں ان سے جھگڑتارہا حتی کہ انھوں نے مجھ کووہ کتاب دے دی۔اس میں بِسمِ اللہِ الَّرحمٰنِ الرَّحِیمِ پڑھی تومیں بے خود ہوگیا اورکتاب ہاتھ سے پھینک دی جب میرادل قابو میں آیاتواس میں آیہ سبح للہ مافی السموات والارض وہوالعزیزالحکیمدیکھی اورجب میں اللہ عزوجل کے ناموں میں سے کسی نام پرپہنچتا توبے خودہوجاتا پھرآپے میں آتا حتیٰ کہ آیہ آمنوبااللہ ورسولہ وانفقوامما جعلکم مستخلفین فیہ ان کنتم مومنین تک پہنچا پس میں نے کہا اشہد ان لاالہ الااللہ واشہدان محمد الرسول اللہپھرلوگ نکل آئے اورمیری بات سنکر بوجہ خوشی کے تکبیر کہنے لگے اوراللہ عزوجل کی حمد کی پھرکہا اے ابن خطاب تم کوبشارت ہو اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوشنبہ کے دن یہ دعاکی تھی کہ اے اللہ دوشخصوں میں سے ایک سے یعنی عمروبن ہشام سے یاعمربن خطاب سے اسلام کو غلبہ دے اورہم امید کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاتمھارے ہی لیے تھی پس ہم تم کو بشارت دیتے ہیں جب ان لوگوں نے میرا صدق جان لیاتومیں نے ان سے کہاکہ مجھ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامقام بتادوان لوگوں نے کہاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفااورصفوۃ کے نیچے ایک مکان میں ہیں میں وہاں آیااوردروازہ کھٹکھٹایا  کسی نے پوچھاکون ہے میں نے کہا ابن الخطاب چونکہ وہ لوگ میری سختی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت جانتےتھے اورمیرے اسلام لانے کی ان کو خبرنہ تھی اس وجہ سے کسی نے دروازہ کھولنے کی جرات نہیں کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایادروازہ کھول دو اگراللہ تعالیٰ ان کے ساتھ بھلائی چاہتاہے توان کوہدایت کردے گا لوگوں نے دروازہ کھول دیا اور دو آدمیوں نے میرے بازو پکڑلیے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیاآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان کو چھوڑدو انھوں نے مجھ کوچھوڑدیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیاآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میراکرتا پکڑ کرمجھ کو اپنی طرف کھینچااورفرمایااے ابن خطاب اسلام لے آؤ اے اللہ ان کوہدایت دے میں نے کہااشہد ان لاالہ الااللہ واشہدانک رسول اللہ پھرمسلمانوں نے تکبیرکہی جو کہ گلیوں میں سنی گئی (یعنی مسلمانوں نےتکبیرایسی بلند آواز سے کہی کہ مکہ کی تمام گلیاں گونج اٹھیں) حالانکہ اس سے پہلے مخفی طورپر کہتےتھے اس کے بعد میں چلاآیا اورمیرایہ حال ہواکہ میں کسی مسلمان کو (کفاروں کے ہاتھوں)مارکھاتے نہیں دیکھنا چاہتاتھا لیکن جب میں نے یہ دیکھا توپھر یہی پسندکیاکہ جومصیبت مسلمانوں کوپہنچتی ہےوہ مجھ کو بھی پہنچے پس میں اپنے ماموں کے پاس جو کفاروں میں شریف تھےگیااوردروازہ کھٹکھٹایاانھوں نے پوچھاکون ہے میں نے کہا ابن الخطاب وہ میرے پاس آئے میں نے ان سے کہاتم کومعلوم ہو کہ میں اسلام میں داخل ہوگیاانھوں نے کہاکیا تم نے ایساکیا میں نے کہاہاں انھوں نے کہاایسانہ کرو میں نے کہا میں توکرچکاانھوں نے کہا نہیں ایسانہ کرو اورمجھ کو باہر نکال کر دروازہ بندکرلیا میں نے کہا یہ کچھ نہیں اوررؤساء قریش میں سے ایک شخص کے یہاں آیااوردروازہ کھٹکھٹایا اس نے پوچھاکون ہے میں نے کہا عمربن الخطاب وہ میرےپاس آیا میں نے کہاتم کوخبرہو کہ میں اسلام لے آیا اوراس نے کہاکیاتم نےایساکیاہے میں نے کہاہاں اس نے کہاایسانہ کرومیں نے کہامیں توکرچکااس نے کہانہیں ایسانہ کروپھروہ اٹھ کرچلاگیااوردروازہ بندکرلیا جب میں نے یہ دیکھاتومیں لوٹ آیا مجھ سے ایک شخص نے کہاکیاتم اپنے مسلمان ہوجانے کا اعلان رکناچاہتےہو میں نے کہاہاں اس نے کہاجب لوگ حرم کعبہ میں جمع ہوں توتم فلاں شخص کے پاس جو راز کو نہیں چھپاتا ہے جاؤ اوراس سے چپکے سے اپنا مسلمان ہوجانا کہہ دو وہ غل مچادے گااورتمھار ے مسلمان ہوجانے کااعلان کردے گا پس جب لوگ کعبہ میں جمع ہوئےتو میں اسی شخص کے پاس گیا اوراس سے چپکے سے کہاکیاتم کومعلوم ہے کہ میں مسلمان ہوگیااس نے بآواز بلندپکارکرکہناشروع کیا کہ اے لوگوآگاہ ہوجاؤکہ عمربن خطاب اسلام میں داخل ہوگئے پس لو گ مجھے مارنے لگےاورمیں بھی ان کومارنے لگامیرےماموں نے پوچھایہ کون ہے لوگوں نے کہا ابن الخطاب وہ ایک پتھرپر کھڑے ہوگئے اورآستین سے اشارہ کرکے کہا اے لوگومیں اپنے بھانجے کوپناہ دیتاہوں لوگ مجھ سے الگ ہوگئے اورمیں نہیں چاہتاتھا کہ (کفاروں کےہاتھ سے)کسی مسلمان کو مارکھاتے دیکھوں مگر مجھے دیکھناپڑتاتھااور میں نہ ماراجاتاتھا میں نے کہا یہ کچھ نہیں حتی کہ مجھ کو بھی وہی تکلیف پہنچے جو مسلمان پرہےمیں خاموش رہوں جب کہ لوگ حرم کعبہ میں جمع ہوئے میں اپنے ماموں کے پاس آیا اورکہاسنیے انھوں نے کہاکیاسنوں میں نے کہاآپ کی پناہ کو میں واپس کرتاہوں انھوں نے کہااے میرے بھانجے ایسانہ کرو میں نے کہانہیں ایساہی ہوگا انھوں نے کہاتم کو اختیارہے جو چاہوکرو اس کے بعدمیں مارتااورمارکھاتارہا یہاں تک کہ اسلام کو خدانے غالب کردیا۔

ہم کو ابوجعفر بن احمدبن علی نے اپنی اسناد کے ساتھ یونس بن بکیرسے روایت کرکے خبردی انھوں نے ابن اسحاق سے روایت کی وہ کہتےتھے کہ قریش نے عمربن خطاب کوجب کہ وہ مشرک تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوگرفتارکرنے کے لیے بھیجا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفاکے نیچے ایک گھرمیں تھے۔عمرکو(راستے میں)نحام جوپہلے اسلام لاچکے تھے ملے یہ نحام نعیم بن  عبداللہ ابن اسید ہیں اوراسید کے بھائی ہیں بنی عدی بن کعب کے عمرتلوارلٹکائے ہوئےتھےنحام نے پوچھا اے عمرکہاں کاارادہ ہے عمرنے کہامحمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کوقتل کرنے جاتاہوں جس نے قریش کے دانش مندوں کوبے عقل بتایااوران کے معبودوں کوگالیاں دیں اوران کی جماعت کی مخالفت کی نحام نے کہا اے عمرقسم ہے خدا کی تم بہت برے راستہ پرچل رہےہواورسخت نادانی کررہے ہو آخر کوعمرنے کہامیں خیال کرتاہوں کہ توبھی اسلام میں داخل ہوگیااوراگرمجھے یقینا تیرا مسلمان ہونا معلوم ہوجائے تومیں تجھی سے ابتداکروں (یعنی پہلے تجھی کوقتل کردوں)نحام نے جب دیکھاکہ عمر بازآنے والے نہیں توکہامیں تم کوخبردیتاہوں کہ تمھارے اعزا مسلمان ہوگئے اورتم کو اورتمھارے طریقہ ضلالت کو چھوڑدیا جب عمرنے یہ سنا توپوچھا کہ وہ کون کون ہیں نحام نے کہاکہ تمھاری بہن اور ان کے شوہر اورتمھارے چچاکے بیٹے ۔عمروہاں سے چلے اوراپنی بہن کے یہاں آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب میں سے وسعت والوں کوحاجت مندوں  کامتکفل کردیتےتھے اورخباب بن ارث کوعمرکی بہن کے شوہرسعیدبن زید بن عمروبن نفیل کی کفالت میں کردیاتھااوراللہ تعالیٰ نے طہ ماانزلنا علیک القرآن لتشقینازل کی تھی اس کے بعد (راوی نے)اسی واقعہ کے مثل ذکرکیاجوپہلے بیان ہوچکا اور اس میں کچھ زیادتی اور کی ہےابن اسحاق کہتے ہیں کہ عمرنے اسلام لاکر کہاخداکی قسم جیساہم کفر کی حالت میں کفرکااظہارکرتےتھے اس سے زیادہ اب اسلام کی حالت میں ہم کواسلام  کے اظہارکاحق ہے پھراگرہماری قوم ہم پر ظلم وتعدی کرناچاہےگی توہم اس سے لڑیں گےاوراگرہماری قوم انصاف کرے گی توہم قبول کریں گے پھر حضرت عمر اوران کے ساتھی مسجد میں آکربیٹھے اورجب قریش نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کااسلام دیکھا توبہت پریشان ہوئے ابن اسحاق نے کہامجھ سے نافع نےابن عمرسے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے جب عمربن الخطاب اسلام لائے تو (لوگوں سے)پوچھا کہ اہل مکہ میں سے کون شخص سب سے زیادہ بات کو شائع کرنے والاہے لوگوں نےکہاجمیل بن معمر۔حضرت عمرچلےاور میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چلا اور میں (اس وقت)لڑکاتھا(مگر)جوکچھ دیکھتااس کو سمجھتاتھا۔حضرت عمر جمیل بن معمر کے پاس آئےاورکہا اے جمیل تم کو معلوم ہوکہ میں اسلام لے آیا خداکی قسم آپ اورکچھ نہ کہنے پائےتھے کہ جمیل کھڑاہو گیااورچادر گھسیٹتے ہوئے چلا حضرت عمربھی اس کے پیچھے پیچھے چلے اور میں بھی اپنے باپ (یعنی عمر) کے ساتھ تھاجمیل مسجدکعبہ کے دروازہ پرکھڑاہوگیااوربلند آواز سے چلاکرکہنے لگا اے گروہ قریش عمربے دین ہوگیاحضرت عمرنے اس سے کہاتوجھوٹ کہتاہے میں نے تواسلام قبول کیاپھرلوگوں نے حضرت عمرپرشورش کی اور ان کو مارنےلگے اور حضرت عمر بھی لوگوں کو مارنے لگے حتی کہ آفتاب سروں پرآگیا(یعنی دوپہرہوگئی)حضرت عمر تھک گئے اورلوگوں نے ان پر حملہ کیاحضرت عمرکہنے لگے جوکچھ تم سے ہوسکے کرو قسم ہےخداکی اگرہم تین سوہوتے توکعبہ کویاتم ہمارے لئے چھوڑ دیتے یا ہم تمہارے لئے۔

اب اسحاق نے ذکرکیاہے کہ جس نے حضرت عمرکوپناہ دی وہ عاص بن وائل ابوعمروبن عاص سہمی ہیں اورحضرت عمرنے ان کواپنا ماموں اس وجہ سے کہا کہ عمرکی ماں ختمہ ہاشم بن مغیرہ کی بیٹی ہیں اور ختمہ کی ماں شفابنت عبدعیس بن سعد بن سہم مکیہ ہیں اورماں کی طرف کے لوگ سب ماموں ہوتے ہیں اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن ابی وقاص کی نسبت فرمایاتھا کہ یہ میرے ماموں ہیں کیوں کہ زہری تھےاوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والد بھی زہریہ تھیں۔اسی طرح حضرت عمر کے دوسرے ماموں کی نسبت جس نے حضرت عمرکوباہرنکال کر دروازہ بند کرلیاتھا جو یہ قول ہے کہ وہ ابوجہل تھاپس ان لوگوں کے قول کی بناپرجویہ کہتےہیں حضرت عمرکی والدہ ابوجہل کی بہن ہیں ابوجہل حضرت عمرکوحقیقی ماموں ہوگا اوران لوگوں کے قول کی بناپرجویہ کہتےہیں کہ حضرت عمرکی والدہ ابوجہل کے چچاکی بیٹی ہیں ابوجہل حضرت عمر کا ویساہی ماموں ہو گاجیسا اوپر بیان ہوا(یعنی ماں کی طرف کے سب ماموں ہوتےہیں)حضرت محمد بن سعد کاقول ہے کہ عمرکااسلام لانا۶ھ؁؟ میں ہوا۔

ہم کوکئی آدمیوں نے اجازۃً خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوبکرمحمد بن عبدالباقی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو حسن ابن علی نے خبردی وہ کہتےتھےہم کوابوعمرحیویہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو احمدبن معروف نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوعلی بن فہم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو محمد بن سعد نے خبر دی وہ  کہتےتھےہم کومحمد بن عمرنے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوحزرہ یعقوب ابن مجاہد نے بیان کیا انھوں نے محمد بن ابراہیم سے انھوں نے ابی عمروذکوان سے روایت کی وہ کہتےتھے میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے پوچھا کہ حضرت عمرکانام فاروق کس نے رکھا عائشہ نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔حرزہ۔حاء محملہ کوزبراورزاء کومعجمہ ساکن اس کے بعد راء مہملہ پرتھا۔

ہم کو محمد بن سعد نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو احمد بن محمد ازرقی مکی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے عبدالرحمن بن حسن نے ایوب بن موسیٰ سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ بیشک اللہ تعالیٰ نے عمرکے زبان و دل پر حق کو قائم کردیااوروہ فاروق ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی وجہ سے حق وباطل میں تفریق کردی۔ابن شہاب نے کہاہم کو خبر پہنچی ہے کہ سب سےپہلے اہل کتاب نے حضرت عمرکوفاروق کہا۔

ہم کو ابوالقاسم حسین بن ہبتہ اللہ بن محفوظ بن صصری دمشقی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو شریف ابو طالب علی بن حیدرہ بن جعفرعلوی حسینی اورابوالقاسم حسین ابن حسن بن محمد اسدی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو فقیہ ابوالقاسم علی بن محمد بن علی بن ابی العلاء مصیصی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوعبدالرحمن بن عثمان بن قاسم بن ابی نصر نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوالحسن خثیمہ بن سلیمان بن حیدرہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوعبیدہ سری بن یحییٰ بن اخی ہنادبن سری نے بیان کیاوہ  کہتےتھےہم سے شعیب بن ابراہیم نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سیف بن عمرنے وائل بن داؤد سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے یزیدالبہی سے روایت کی و ہ کہتےتھے زبیربن عوام نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاکی تھی کہ اے اللہ اسلام کو عمر بن خطاب سے عزت دے ہم کو احمد بن عثمان بن ابی علی نے خبردی وہ کہتےتھےہم کوابورشید عبدالکریم بن احمد بن منصور بن محمد بن سعید نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومسعود سلیمان  بن ابراہیم بن محمدبن سلیمان نے خبردی وہ کہتے تھےہم سے ابوبکراحمد بن موسیٰ بن مردویہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن جعفرنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سےاحمد بن یونس نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے جعفر بن عون اوریعلی بن عبید اور فضل بن دکین نےبیان کیایہ سب کہتےتھےہم سے مسعربن قاسم عبدالرحمن سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھےعبداللہ بن مسعود نے کہاکہ عمرکا اسلام لاناایک فتح تھااوران کی ہجرت ایک نصرت تھی اوران کا امیرہونارحمت تھااورہم لوگ کعبہ میں نمازپڑھ سکتے تھےیہاں تک کہ جب حضرت عمراسلام لائےاورکافروں سے لڑے تب کافروں نے ہم کو چھوڑا اورہم کعبہ میں نماز پڑھنے لگے۔کہاہم سے ابن مزویہ نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے احمدبن کامل نےبیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حسن بن علی معمری نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن حمید نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے جریرنے عمربن سعید سےروایت کرکے بیان کیاانھوں نے مسروق سے انھوں نے منصور سے انھوں نے ربعی سے انھوں نے حذیفہ سے روایت کی وہ کہتےتھے جب حضرت عمراسلام لائے تواسلام مثل ایک آنے والے شخص کے تھاکہ اس سے قربت ہی زیادہ ہوتی جاتی تھی پھرجب حضرت عمرشہیدہو گئے تواسلام مثل ایک جانے والے شخص کے ہوگیاکہ اس سے دوری زیادہ ہوتی گئی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہجرت ہم کوعبدالوہاب بن ہبتہ اللہ دقاق نے بطور اذن کے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوبکرمحمدبن عبدالباقی نے خبردی وہ کہتےتھےہم سے ابومحمد جوہری نے بطور اعلا کے بیان کیا وہ کہتےتھےہم کوابوالحسن علی بن احمد حافظ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سےابوروق احمد بن محمد ابن بکرہزانی نے بصرہ میں بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے زبیربن محمد بن خالد عثمانی نے مصرمیں ۲۶۵ھ؁ ہجری میں بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن قاسم آملی نے اپنے باپ سے روایت کرکے بیان کیا انھوں نے عقیل بن خالد سے انھوں نے محمدبن علی بن عبداللہ بن عباس سے انھوں نے اپنے باپ سے انھوں نے عبداللہ بن عباس سے روایت کی وہ کہتےتھے ہم سے علی بن ابی طالب نے کہاکہ میں نہیں جانتاہوں کہ مہاجرین میں سے کسی نے چھپ کرعبادت نہ کی ہو مگرعمربن خطاب نے جب ہجرت کاارادہ کیا توتلوار گلے میں لٹکائی اورکمان دوش پر لگائی اورتیرہاتھ میں لئے اورنیزہ بلندکئے ہوئےکعبہ کے پاس گئے حالانکہ قریش کا گروہ کعبہ کے گرداگرد موجودتھا مگرحضرت عمرنے تمکین کےساتھ سات مرتبہ کعبہ کا طواف کیا پھرمقام ابراہیم میں آکر اطمینان سے نمازپڑھی پھرہر ایک کے درواز ہ پرگئے اور ایک ایک دروازہ پرکھڑےہوکر لوگوں سے کہاکہ جوشخص یہ چاہتاہوکہ اس کی ماں اس کوروئے اوراس کابیٹاماتم کرے اوراس کی زوجہ بیوہ ہوجائے تواس کو چاہیے کہ اس وادی کے اس پار ہم سےملے۔حضرت علی کہتےہیں کہ حضرت عمرکے ساتھ صرف وہی لوگ گئے جو ضعیف اورکمزورتھے ان کوآپ نے تعلیم اورہدایت کی اورہجرت کرگئے۔ہم کو عبیداللہ بن احمد بن علی نے اپنی اسناد کے ساتھ یونس بن بکیرسے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے اپنے باپ عمربن خطاب سے روایت کی  انھوں نے کہا جب ہم لوگ ہجرت کے لیے جمع ہوئے توہم نے اورعیاش بن ابی ربیعہ اورہشام بن عاص بن وائل نے باہم یہ معاہدہ کیاکہ بنی غفار کے چشمہ کے پاس ہم سب ملیں گے اورجوشخص وہاں نہ آئے تواس کے ساتھی اس کوچھوڑدیں پس ہم اورعیاش بن ربیعہ وہاں آئےاورہشام رک رہے جو فتنہ میں  پڑے اورہم لوگ مدینہ چلے آئے۔ابن اسحاق نے کہا کہ عمربن  الخطاب  اورعمربن سراقہ اورعبداللہ بن سراقہ اورخنیس بن حذاقہ اورسعید بن زید بن عمروبن نضیل اورواقد بن عبداللہ اورخولی اورہلال بن ابی خولی اورعیاش بن ابی ربیعہ اورخالد بن بکیر اور ایاس بن بکیراورعاقل بن بکیریہ سب لوگ قبیلہ بنی عمروبن عوف بن رفاعہ بن منذر کے یہاں اترے ہم کو ابوالفضل عبداللہ بن احمد بن عبدالقاہر نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوبکر احمد بن علی بن بدران نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابومحمدحسن بن علی فارسی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوبکر قطیعی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو عبداللہ بن احمد نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ہمارے باپ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو عمروبن محمد نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ہمارے باپ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عمروبن محمد بن ابوسعید نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے اسرائیل نے ابی اسحاق سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے براء بن عازب سے روایت کی انھوں نے کہا کہ مہاجرین میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس مصعب  بن عمیر بنی عبداللہ کے بھائی آئے پھرابن مکتوم آئے جو بنی فہر کے بھائی تھے پھرعمروبن الخطاب سواری  پرآئے ہم نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیاکیا انھوں نے کہا ہمارے پیچھے آرہے ہیں پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اورابوبکر صدیق آپ کے ساتھ تھے۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ کابدروغیرہ جہادوں میں شریک ہونا: حضرت عمربن خطاب رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم کے ساتھ بدر،احد،خندق،بیعتہ الرضوان،خیبر،فتح ،حنین وغیرہ میں شریک ہوئے حضرت عمررضی اللہ عنہ کفاروں پرسب سے زیادہ سخت تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں حضرت عمرکواہل مکہ کے پاس بھیجناچاہاحضرت عمرنے عرض کیا یارسول اللہ قریش کے ساتھ جو سخت عداوت مجھ کوہے وہ قریش کومعلوم ہے اس لئے اگروہ موقع پائیں گے تومجھ کو قتل کردیں گےپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرکونہیں بھیجا بلکہ حضرت عثمان کو(اہلہ مکہ کےپاس)روانہ فرمایا۔

ہم کوابوجعفر بن سمین نے اپنی اسناد یونس بن بکیرتک پہنچاکرخبردی انھوں نے ابن اسحاق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدرتشریف  لے جانے کی بابت روایت کی وہ کہتےتھے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی ذنارکی طرف چلے تھوڑی دورجاکراترپڑے اورآپ کوخبرپہنچی کہ قریش اپنے قافلہ کوبچانے کے لیے آرہے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے مشورہ لیاابوبکرنے ایک عمدہ تقریرکی پھرحضرت عمرکھڑے ہوئے اورایک عمدہ تقریر کی اورپوری خبرکاذکرکیااورحضرت عمرہی نے بدرکے قیدیوں کوقتل کردینے کا مشورہ دیاتھاجس کا قصہ مشہورہے۔ابن اسحاق اوردیگرارباب سیرنے کہاہے کہ بنی عدی بن کعب میں سے جو لوگ جنگ بدر  میں شریک ہوئےمنجملہ ان کے عمربن خطاب بن نفیل بھی ہیں اس میں کچھ اختلاف نہیں کیاگیااورحضرت عمررضی اللہ عنہ جنگ احد میں بھی شریک ہوئے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ ثابت قدم رہے۔

ہم کو عبیداللہ بن احمد نے اپنی اسنادکے ساتھ یونس بن بکیرسے روایت کرکے خبردی انھوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کی وہ کہتےتھے ہم سے زہری اورعاصم بن عمربن قتادہ نے بیان کیا وہ دونوں کہتےتھےجب ابوسفیان نے لوٹ جانے کاارادہ کیاتوپہاڑ پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارنے لگاکہ لڑائی بدرکے دن ہوگی اے ہبل عالی ہویعنی اپنے دین کوغالب کر۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمربن خطاب سے فرمایااے عمراٹھو اوراس کاجواب دوحضرت عمرنے(سفیان کے جواب میں)کہا کہ اللہ سب سے بزرگ اوربرترہے اس کے سواکوئی چارہ نہیں ہماری طرف کے مقتول جنت میں ہیں اور تمھاری طرف کے مقتول دوزخ میں ۔حضرت عمرنے ابوسفیان کویہ جواب دیاتوابوسفیان نے کہا اے  عمرہمارے پاس آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرسے فرمایاجاؤ دیکھوکیاکہتاہے حضرت عمر اس کے پاس گئےابوسفیان نے حضرت عمرسے کہااے عمرمیں تم کوخداکی قسم دیتاہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مقتل میں لاؤ حضرت عمرنے کہانہیں وہ تیری بات اس وقت سن رہے ہیں ابوسفیان نے کہاتم میرے نزدیک ابن قمئہ سے زیادہ سچے ہو کیوں کہ ابن قمئہ نے ان لوگوں سے کہاتھاکہ میں نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کوقتل کردیا۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ کاعلم :ہم کواحمد بن عثمان بن ابی علی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابورشید عبدالکریم بن احمد بن منصوربن محمدبن سعید نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابومسعود سلیمان بن ابراہیم بن محمد بن سلیمان نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوبکر بن مردویہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن جعفرنے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے احمد بن یونس نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبدالعزیز بن ابان نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے اعمش سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے ابی وائل سے روایت کی وہ کہتےتھے ابن مسعود نے کہاکہ اگرحضرت عمر رضی اللہ عنہ کا علم ترازوکے ایک پلہ میں رکھاجائے اورتمام آدمیوں کاعلم دوسرے پلہ میں تو حضرت  عمرکاعلم بھاری ہوگامیں نے اس کا ذکرابراہیم سے کیاتوانھوں نے کہاخداکی قسم نے حصے جاتےرہے۔ہم کو اسمعیل بن علی بن عبیدوغیرہ نے اپنی اسناد محمدبن عیسیٰ تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھےہم سے قتیبہ نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے لیث نے عقیل سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے زہری سے انھوں نے حمزہ بن عبداللہ بن عمرسے انھوں نے ابن عمرسے روایت کی وہ کہتےتھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایاکہ میں نے رویا(خواب)میں دیکھاکہ ایک پیالہ دودھ کا مجھ کو دیا گیا میں نے اس میں سے پیااورباقی عمربن خطاب کودیا۔صحابہ نے عرض کیایارسول اللہ اس کی کیاتاویل ہے آپ نے فرمایاعلم۔ہم کوابومحمد بن ابی القاسم حافظ نے اجازۃً خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابومحمد جوہری نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوبکرابن محمدبن فضل بن جراح نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سےابوجعفر احمدبن عبداللہ حیری نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوسائب نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم نے قریش کے ایک شیخ کوسناوہ عبدالملک بن عمیرسے روایت کرکے بیان کرتاتھا انھوں نے قبیصہ بن جابرسے روایت کی وہ کہتےتھے خدا کی قسم میں نے ابوبکرصدیق سے زیادہ کسی کو رعیت پر رحم اورنرم دل نہیں دیکھااورعمربن خطاب سے زیادہ کسی کوکتاب اللہ کاقاری اوردین الٰہی کافقیہ اورحدود الٰہیہ کاقائم کرنے والااورلوگوں کے دلوں میں رعب ڈالنے والانہیں دیکھااور نہ  عثمان بن عفان سے زیادہ کسی کو باحیادیکھا۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ کازہد وتواضع:ہم کو ابومحمد بن ابوالقاسم دمشقی نے اجازۃً خبردی وہ کہتےتھے ہم کوہمارے باپ نے خبردی وہ کہتےتھےہم کوابوبکرمرزقی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوالحسین بن مہتدی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو علی بن عمربن محمد حربی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوسعید ماتم بن حسن شاشی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے احمد بن عبداللہ  نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سفیان نے اسمعیل بن ابی خالد سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے قیس بن ابی حازم سے روایت کی انھوں نے کہاطلحہ بن عبیداللہ کہتےتھے کہ عمربن خطاب نہ اسلام لانے میں ہم سے مقدم تھےنہ ہجرت کرنے میں لیکن وہ ہم سے زیادہ دلیر؟تھے دنیامیں اورہم سب سے راغب تھے آخرت کے۔کہااورہم کوخبردی ہمارے باپ نے وہ کہتےتھے ہم سے ابوعلی مقرفی نے کتابتہً بیان کیااورابومسعود اصبہانی نے ان سے روایت کرکے ہم سے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم ابونعیم حافظ نےخبردی وہ کہتےتھے ہم سے ہمارے باپ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوعبداللہ محمد بن احمد بن ابی یحییٰ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سےاحمدبن سعید بن جریرنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبدالرحمن بن مغردوسی نے بیان کیاوہ کہتےتھے محمد بن عمرونے ابی سلمہ سےروایت کرکے بیان کیا انھوں نے سعد بن ابی وقاص کہتےتھے قسم ہے خداکی حضرت عمررضی اللہ عنہ ہم پر ہجرت میں مقدم نے تھے مگرہم کو معلوم ہوگیاجس چیزسے ان کو ہم پرفضیلت تھی وہ دنیا میں ہم سے زیادہ زاہد تھےہم کو ابن ابی حبہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوغالب بن نبانے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومحمد بن جوہری نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوعمربن حیویہ اورابوبکرمحمد بن اسماعیل بن عباس نے خبردی وہ دونوں کہتےتھے ہم سے یحییٰ بن محمد بن صاعہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو حسین بن حسن نے خبر دی وہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے روایت کرکے خبردی کہ عمرنے ایک مرتبہ پانی مانگا پس ایک پیالہ شہد لایاگیاآپ اس کے اپنے ہاتھ پررکھ کرکہنےلگےکہ اگرمیں اس کوپی لوں گاتواس کی حلاوت جاتی رہے گی مگراس کی پاداش باقی رہےگی اس کوتین مرتبہ فرمایاپھروہ شہد ایک شخص کودے دیااس نے اس کو پی لیا۔

ہم کوابومحمدقاسم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوہمارے باپ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو اسمعیل بن احمد ابوالقاسم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوالحسین بن نقود نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوالقاسم عیسی بن علی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوعبداللہ بن محمد بغوی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے داود بن عمرونے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو ابن ابی غنیہ نے خبردی یہ یحییٰ بن عبدالملک بن سلامہ ابن صبیح تمیمی ہیں انھوں نے کہااحنف کہتےتھے کہ میں عمربن خطاب کے ساتھ تھاآپ کوایک شخص ملا اس نے کہااے امیرالمومنین میرے ساتھ چلیے اورفلاں شخص پر میراانصاف کیجیے کیونکہ اس نے مجھ پر ظلم کیاہے حضرت عمرنے درہ اٹھایااوراس کے سرپرماردیااورکہاتم لوگ امیرالمومنین کا بلاتے ہو حالانکہ وہ خود تمہار کاموں کے لیے مستعد رہتےہیں حتیٰ کہ جب وہ مسلمانوں کسی کام میں مشغول ہوتےہیں تب بھی ان کے پاس آکرفریاد کرتےہو۔وہ شخص ملامت کرتاہوالوٹ کرچلا حضرت عمر نےاس کوبلاکردرہ اس کے سامنے ڈال دیا اورفرمایاتواپنا قصاص لے لے اس نے کہانہیں میں خدا کے واسطے اورتیرے واسطے درگذرکرتاہوں حضرت عمرنے کہاایسانہیں ہے بلکہ خداکے پاس اجر پانےکے لیے خداکے واسطے درگزرکرو اس نے کہاخداکے واسطے چھوڑے دیتاہوں یہ کہہ کروہ شخص چلاگیاکچھ دیربعد آیااوردورکعت نماز پڑھ کربیٹھ گیا اور کہنے لگا اے خطاب تو پست تھا خدا نے تجھ کوبلند کیااورگمراہ تھاخدانے تجھ کو ہدایت کی اورذلیل تھا خدا نے تجھ کو عزت دی پھرتجھ کو لوگوں پرحاکم بنایالیکن ایک شخص تیرے پاس دادخواہی کے لیے آیااور تونے اس کو مارا کل کو جب تو خداکے پاس جائےگاتوخداکوکیاجواب دے گا۔احنف کہتےہیں کہ اس معاملہ میں حضرت عمراپنے کو اس قدر ملامت کرتے تھے کہ ہم کو یقین ہوگیاکہ تمام زمین والوں سے آپ بہترہیں۔

کہااورہمارے باپ نے ہم سے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوبکرمحمدبن حسن نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کوابوالحسین بن مہتدی نے خبردی و ہ کہتےتھے ہم کو عیسیٰ بن علی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو عبداللہ بن محمد نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے داؤد بن عمرونے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبدالجبار بن ورد نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے ایک مرتبہ حضرت عمرنےاپنے سامنے کھانا(کھانے کے لیے) رکھاتھاکہ غلام نے آکرکہاعتبہ ابی فرقد دروازہ پر کھڑے ہیں حضرت عمرنے ان کوآنے کی اجازت دی جب وہ آئے توحضرت عمرکے آگے روٹی اورزیت کودیکھاحضرت عمرنے فرمایااے عتبہ قریب آؤ وہ قریب گئے حضرت عمرنے اس کھانے میں سے کچھ ان کودیا عتبہ اس کوکھانے لگے تووہ ایسابدمزہ تھا کہ عتبہ اس کو نگل نہ سکے اورکہنے لگے اے امیرالمومنین کیاآپ کے لیے فائد ہ نہیں ہے آپ نے کہاکیاتمام مسلمانوں کے لیے یہ ہوسکتاہے عتبہ نے کہانہیں خدا کی قسم آپ نے فرمایاافسوس ہوتم پرچاہتےہو کہ میں دنیاوی زندگی میں مزہ دارکھاناکھاؤں۔

محمد بن سعد نے کہاہم کوولید بن اغرسکی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے عبدالحمید بن سلیمان نے ابی حازم سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے عمربن خطاب ایک مرتبہ اپنی بیٹی حفصہ کے پاس آئے حفصہ نے آپ کے سامنے شورباپیش کیااوراس میں زیتون ڈال دیاحضرت عمرنے فرمایاایک پیالے میں دوسالن ؟میں اس کوہرگزنہ کھاؤنگا کہ خدا کے پاس چلاجاؤں (یعنی مرتے وقت تک)ہم کو عمر بن محمد بن طبرزد نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوغالب بن بنا نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومحمد جوہری نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوعمربن حیویہ نے اورابوبکربن اسمعیل نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے یحییٰ بن محمد بن صاعہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حسین بن حسن نےبیان کیاوہ کہتےتھے ہم کوعبداللہ بن مبارک نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوسلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے روایت کرکے خبردی انھوں نے انس سے روایت کی وہ کہتےتھے میں نے حضرت عمرکے دونوں مونڈھے کے درمیان کرتے میں چارپیوند دیکھے۔اورہم کو کئی آدمیوں نے اجازۃً خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوغالب بن نبانے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوالفضل عبیداللہ بن عبدالرحمٰن بن محمد نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن ابی داؤد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے منذر ابن ولید بن عبدالرحمن جارودی نے بیان کیاوہ کہتےتھے مجھ سے میرے باپ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے شعبہ نے سعید جریری سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے ابی عثمان سے روایت کی وہ کہتےتھے میں نے عمربن خطاب کو دیکھا رمی جمرہ کرتے اورایک ازارپہنے تھے جس میں چمڑے کاپیوند لگاہواتھا۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ کے فضائل:ہم کوعبداللہ محمد بن عمربن سرایا بن علی فقیہ اورابوالفرج محمد بن عبدالرحمن بن ابی العزاورابوعبداللہ حسین بن ابی صالح بن فناخسروتکریتی وغیرہ نے اپنی اسناد محمد بن اسمعیل حنفی تک پہنچاکر خبردی وہ کہتےتھے ہم سے سعیدبن ابی  مریم نے بیان کیا وہ کہتےتھے ہم سے عقیل نے ابن شہاب سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو سعید بن مسیب نے خبردی وہ کہتےتھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہاکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرتھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں سورہاتھاخواب میں میں نے اپنے کو جنت میں دیکھاناگاہ کیادیکھتا ہوں کہ ایک عورت ایک قصرکی طرف وضوکررہی ہے میں نے پوچھایہ قصر کس کے واسطے ہے اس نے کہاعمرکے واسطے میں نے عمرکی غیرت یادکی اورپیچھے لوٹا اس واقعہ کے سننے سے حضرت عمررونے لگے اورعرض کیایارسول اللہ کیاآپ پر میں غیرت کروں گا۔

کہااورہم سے محمد بن اسمعیل نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابراہیم بن سعد نےاپنے باپ سے روایت کرکےبیان کیاانھوں نے ابی سلمہ سے انھوں نے صالح سے انھوں نے کیسان سے انھوں نے  ابن شہاب سے انھوں نےابی امامہ ابن سہل سےروایت کی انھوں نے ابوسعید خدری کو سناوہ کہتےتھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں سورہا تھا خواب میں میں نے دیکھاکولوگ میرے سامنے پیش کیے جاتے ہیں وہ لوگ پیراہن پہنے ہوئے ہیں کسی کو پیراہن سینہ تک ہے اورکسی کااس سے کم اورعمربن خطاب میرے سامنے پیش کیے گئے ان کا پیراہن اس قدرلمباتھاکہ زمین پر لوٹتاتھاصحابہ نے پوچھایارسول اللہ اس کی کیاتعبیرہے آپ نے فرمایا پیراہن سے مراد دین ہے۔

ہم کواحمد بن عثمان بن ابی علی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابورشیدعبدالکریم بن احمد بن منصور نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومسعود سلیمان بن ابراہیم بن محمد نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوبکر احمد بن موسیٰ بن مردویہ نے بیان کیا وہ کہتےتھےہم سے احمد بن محمد بن عبداللہ بن زیاد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے احمد بن عبدالجبارعطاردی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابومعاویہ حریرنے اعمش سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے عطیہ سے انھوں نے ابوسعید خدری سے روایت کی وہ کہتےتھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اعلی درجات کے لوگ نیچے درجےوالوں کوایسے دکھائی دیں گے جیسے روشن ستارہ آسمان کے افق میں دکھائی دیتاہے اوربیشک ابوبکراورعمرانہی عالی درجہ لوگوں میں سے ہیں اوران پرانعام کیاگیاہے۔

ہم کوابوالبرکات حسن بن محمد بن حسن دمشقی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوالعشائر عمربن خلیل ابن فارس قیسی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو فقیہ ابوالقاسم علی بن محمدبن علی مصیصی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومحمد عبدالرحمن بن  عثمان بن قاسم بن ابی نصر نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوالحسن خثیمہ بن سلیمان ابن حیدرہ طرابلسی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوقلابہ رقاشی نے بیان کیا وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے اسمعیل بن زکریانے نضرابی عمرخراز سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے عکرمہ سے انھوں نے ابن عباس سے روای کی وہ کہتےتھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حراسے جب وہ ہلنے لگافرمایاٹھہرجا کیونکہ تجھ پر نبی اورصدیق اور شہیدکے سواکوئی اورنہیں ہے اوراس پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم اورابوبکراورعمراورعثمان اورعلی اورطلحہ اورزبیراورعبدالرحمن اورسعد اورسعید رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔

کہااور ہم کو ابوخثیمہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن عوف طائی اورابویحییٰ بن ابی سبرہ نے بیان کیا وہ کہتےتھے ہم سے ابوجابر بن عبدالملک نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے معلی بن ہلال نے بیان کیا وہ کہتےتھے ہم سے لیث بن ابی سلیم نے مجاہد سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے ابن عباس سے روایت کی وہ کہتےتھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ آسمان والوں میں سے میرے دو وزیرہیں جبریل اورمیکائیل اوراہل زمین میں سے میرے دووزیر ہیں ابوبکر اورعمر رضی اللہ عنہما۔

کہااورہم کوخثیمہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابراہیم بن ابی عنبس قاضی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے عبیداللہ ابن موسیٰ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو یونس بن ابی اسحاق نے شعبی سے روایت کرکے خبردی انھوں نے علی بن ابی طالب سے روایت کی وہ کہتےتھے میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھاکہ ابوبکراورعمرآتے ہوئے دکھائی دیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے علی یہ دونوں انبیااور مرسلین کے سواتمام اولین اور آخرین میں سے پیران اہل جنت کے سردارہیں پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے علی ان دونوں کو اس کی خبرنہ کرنا۔

ہم کو ابواسحاق ابراہیم بن محمد وغیرہ نےاپنی اسناد کے ساتھ ابوعیسی ترمذی سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن بشارنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوعامر نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے خارجہ بن عبداللہ نے نافع سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے ابن عمرسے روایت کی وہ کہتےتھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ بیشک اللہ تعالیٰ نے حق کوعمرکی زبان اوردل پر قائم کردیا۔ اور ابن عمرکہتےتھے کہ لوگوں کوکوئی ایساامرہرگز نہیں پیش آیا کہ اس میں لوگوں نے مشورہ دیا ہو اورعمرنے بھی مشورہ دیاہے مگریہ کہ اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق قرآن نازل ہوا۔جیساکہ قیدیان بدرکی نسبت جب عمررضی اللہ عنہ نے قتل کرنے کا مشورہ دیا اوراوروں نے فدیہ لینےکی رائے دی (اورقیدیوں کو فدیہ لے کرچھوڑدیاگیا)تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۱؎ لولا کتاب من اللہ سبق لکم فیمااخذتم فیہ عذاب عظیم)۔اسی طرح حجاب اور شراب کی بابت حضرت عمررضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق اللہ تعالی نے قرآن میں حکم نازل کیا۔

۱؎ترجمہ۔اگرخداکی طرف سے کتاب نہ ہوتی توجوکچھ تم نے لیا ہے اس میں تمھارے لیے عذا ب عظیم آچکاہوتا۔

کہااورہم کو ابوعیسیٰ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن داؤد واسطی ابومحمد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبدالرحمن بن اخی محمد بن منکدرسے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے جابربن عبداللہ سے روایت کی وہ کہتےتھے کہ حضرت عمر نے ابوبکرسے کہایا خیرالناس بعدرسول اللہ (یعنی اے بہترین انسان بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے )ابوبکر نے فرمایاتم کہتےہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ عمر سے بہتر کسی شخص پر آفتاب طلوع نہیں ہوا(یعنی عمرسے بہترکوئی شخص نہیں ہے)۔

کہااورہم کوابوعیسی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے مقری نے حیوۃ بن شریح سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے بکربن عمروسے انھوں نے مسرح بن ہاعان سے انھوں نے عقبہ بن عامر سے روایت کی وہ کہتےتھےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگرمیرے بعد کوئی نبی ہوتاتوعمربن خطاب ہوتے۔

کہااورہم کوابوعیسیٰ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے اسمعیل بن جعفر نے حمید سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے انس سے روایت کی وہ کہتےتھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں (رویاخواب میں)جنت میں داخل ہواناگاہ میں نے ایک محل سونے کادیکھامیں نے پوچھا یہ کس کاقصر ہے فرشتوں نے کہا قریش کے ایک جوان کا میں نے خیال کیاغالباوہ جوان میں ہی ہوں گا پس میں نے پوچھا وہ جوان کو ن ہے فرشتوں نے کہا عمربن خطاب۔

کہااورہم کوابوعیسی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سےحسین بن حریث نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کوعلی بن حسین بن واقد نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ہمارے باپ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم نے برہددکو سناوہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں گئے تھے جب واپس تشریف لائےتوایک حبشیہ لونڈی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئی اورعرض کیایارسول اللہ میں نے نذرکی تھی کہ اگراللہ تعالی آپ کو سلامت لائےگاتومیں آپ کے سامنے دف بجاؤنگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااگرتونذرکی تھی توبجالے ورنہ نہیں اس لونڈی نے دف بجاناشروع کیااتنے میں ابوبکرآئے اوروہ بجاتی رہی پھرعلی آئے اوروہ بجاتی رہی پھرعثمان آئے اور وہ بجاتی رہی پھرحضرت عمرتواس لونڈی نے دف نیچے رکھ لیا اور اسی پر بیٹھ گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے عمرتم سے شیطان ڈرتاہے میں بیٹھاتھا اوروہ بجاتی رہی پھرابوبکرآئے اوروہ بجاتی رہی پھرعلی آئے اوروہ بجاتی رہی پھرعثمان آئےاور وہ بجاتی رہی پھراے عمر تم آئے تواس نے دف کو چھپالیا۔

کہااورہم سے ابوعیسیٰ نے بیان کیاہوکہتےتھے ہم سے قتیبہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے لیث نے ابن عجلان سےروایت کرکے بیان کیاانھوں نے سعدبن ابراہیم سےانھوں نے ابی سلمہ سے انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہاسےروایت کی وہ کہتی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ اگلی امتوں میں محدّث ہواکرتےتھےاورمیری امت میں اگرمحدث ہوگاتوعمربن خطاب ہیں۔ہم کو احمد بن عثمان بن ابی علی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابورشید عبدالکریم بن احمد بن منصور نے خبردی وہ کہتے تھے ہم کوابومسعود سلیمان بن ابراہیم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوبکراحمد بن موسیٰ بن مردویہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن سفیان بن ابراہیم  نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے مسلم بن سعید نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے مجاشع بن عمرونے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے معتمربن سلیمان نے اپنے باپ سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے حسن سے روایت کی وہ کہتےتھے کہ عمربن خطاب نے قریش مدینہ کی ایک قوم میں نکاح کاپیغام بھیجا ان لوگوں نے نامنظورکیااورمغیرہ بن شعبہ نے جو اس قوم میں نکاح کاپیغام دیاتوان کے ساتھ نکاح کردیا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ان لوگوں نے ایسے شخص کونامنظورکیا جس سے بہترزمین پرکوئی نہیں ہے۔

کہا اورہم کوابوبکرنے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو عبدالرحمن بن حسن اسدی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے عیسیٰ بن ہارون بن فرج نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے احمد بن منصورنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے اسحاق ابن بشرنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے یعقوب نے جعفر بن مغیرہ سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے سمید بن جبیرسے انھوں نے ابن عباس سے روایت کی وہ کہتےتھے کہ عمرکاذکر بہت کیاکروکیوں کہ ان کاذکرکروگے توعدل کاذکرکروگے اورجب عدل کاذکرکروگے تو اللہ تعالیٰ کا ذکرکروگے۔

کہا اورہم کوابوبکرنے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن اسحاق نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے جعفر صائغ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حسین بن محمد مردوی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حراث بن سائب نے میمون بن مہران سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے ابن عمرسے انھوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبرپرخطبہ پڑھ رہےتھے کہ یکایک آپ نے خطبہ میں چلاکرکہاساریہ بن حصن الجبل الجبل من استرعی الذاب ظلم(یعنی پہاڑ کی طرف آجاؤ جس نے بھیڑیے سے نگہبانی چاہی اس نے ظلم کیا) یہ سن کر سب لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے حضرت علی نے کہاعمرکاکلام سچاہوتاہے خدا کی قسم جو کچھ عمرنے کہاہے اس سے کچھ نہ کچھ ضرورنتیجہ نکلے گاجب نمازسے فارغ ہوچکے توحضرت علی نے حضرت عمرسے پوچھا کہ خطبہ پڑھتے وقت آپ کو کیاظاہرہواتھا حضرت عمرنے کہایہ کیا حضرت علی نے کہایہ جوآپ نے کہاتھایاساریتہ الجبل الجبل من استرعی الدیب ظلم حضرت عمرنے تعجب سے پوچھاکیامیں نے یہ کہاتھا حضرت علی نے کہاہاں کہاتھااورمسجد کے تمام لوگوں نے سنا ہے  حضر ت عمرنے فرمایاکہ میرے وطین یہ خیال گزرا کومشرکین نے ہمارے مسلمان بھائیوں کو ہزیمت دے دی ہے پس مجھ سے وہ کلام نکل پڑا جو تم نے سنااس واقعہ کے ایک ماہ بعد فتح کی بشارت لے کر قاصد آیااوراس نے بیان کیاکہ اسی جمعہ کو اسی وقت ایک آوازسنی جیسے حضرت عمرکہہ رہے ہیں یاساریتہ بن حصن الجبل الجبل۔اس قاصد نے کہایہ آواز سن کرہم لوگ پہاڑ کی طرف پھرگئے پس اللہ تعالیٰ نے فتح دی۔

کہااورہم سے ابوبکربن دعلج بن احمد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن یحییٰ بن منذر نے بیان کیا وہ کہتےتھے ہم سے ابوعتاب سہل بن حماد نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے مختاربن  نافع نے ابی حبان تیمی سےروایت کرکے بیان کیا انھوں نے اپنے باپ سے روایت کی انھوں نے علی سے روایت کی وہ کہتےتھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ تعالیٰ ابوبکرپر رحم کرے انھوں نے اپنی بیٹی کا نکاح ہم سے کردیااورہم کو دارالحجرۃ میں لائے اوراپنے مال سے بلال کوآزاد کرایااوراللہ تعالیٰ عمربن خطاب پررحم کرے کہ وہ حق کہتےہیں میں اگرچہ تلخ معلوم ہو۔

کہااورہم سے ابوبکرنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے احمدبن کامل نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابواسمعیل ترمذی نے بیان کیا وہ کہتےتھے ہم سے اسحاق بن سعید دمشقی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سعید بن بشیرنے حرب بن خطاب سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے روح سے انھوں نے ابی سلمہ سے انھوں نے ابوہریرہ سے روایت کی وہ کہتےتھے کہ ایک مرتبہ ایک شخص بیل پر سوار  ہوگیا بیل(بحکم الٰہی)بولا کہ خدا کی قسم میں سواری کے لیے نہیں پیداکیاگیابلکہ کھیتی کے لیے پیداکیاگیا ہوں لوگوں نے (بیل کے بولنے پرتعجب کرکے)کہاسبحان اللہ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں (خداکی اس قدرت پر)شہادت دیتاہوں اورابوبکروعمربھی گواہی دیتےہیں حالانکہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاحضرت ابوبکراورعمراس جگہ موجودنہ تھے۔

کہااورہم سے ابوبکرنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمدبن احمد بن ابراہیم نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے بکربن سہل نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے عبدالغنی بن سعید نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے موسیٰ بن عبدالرحمن صنعانی نے ابن جریج سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے عطاسے انھوں نے ابن عباس سے روایت کی وہ کہتےتھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن تمام لوگوں پرعموماً فخرکرتاہے اور عمربن خطاب پر خصوصاً فخرکرتاہے۔

ہم کو ابوالفضل عبداللہ بن احمد خطیب نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومحمد جعفربن حسین سراج نے خبردی وہ کہتےتھےہم سے احمد بن خلیل برجلانی نے احمدبن شاذان نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو عثمان  بن احمد بن سماک نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے احمد بن خلیل برجلانی نےبیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابونضر مسعودی نے ابونہشل سے روایت کرکے بیان کاانھوں نے ابی وائل سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے عبداللہ بن مسعود نے کہاکہ عمربن خطاب کولوگوں پر چارفضیلت ہیں اول یہ بدر کے قیدیوں  کی بابت کہ حضرت عمرنے انک قتل کامشورہ دیااوراسی کے موافق خدانے یہ آیت نازل کی لولاکتاب من اللہ سبق لمسکم فیمااخذتم عذاب عظیمدوسرے حجاب کے متعلق حضرت عمرنے مشورہ دیاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات پردہ میں رہیں اس پر زینب نے کہا اے ابن خطاب تم ہم پر حکم کرتےہو حالانکہ وحی ہمارے گھرمیں آتی ہے پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کی واذا سئالتموہن متاعافاسئالومن وراء حجاب(ترجمہ جب ازواج مطہرات سے کچھ مانگو توپردہ کے پیچھےسے مانگو)اورحضرت عمرکے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاتھی اللہم ایدالاسلام بعمر(اے اللہ عمرسے اسلامی کی تائید کر)اورحضرت عمرکی رائے حضرت ابوبکرکی خلافت کی بابت ہوئی۔ہم کو ابومحمد نے خبردی  وہ کہتےتھے ہم کو ہمارے باپ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوطالب علی بن عبدالرحمن نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوالحسن علی بن حسن بن حسین نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابومحمد بن نحاس نے خبردی  وہ کہتےتھے ہم کو ابوسعید بن اعرابی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے علائی یعنی محمد بن زکریانے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے بشربن حجر شامی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حفص بن عمردارمی نے حسن بن عمارہ سے روایت کر کےبیان کیاانھوں نے منہال سے انھوں نے عمروسےانھوں نے سوید بن غفلہ سے روایت کی وہ کہتے تھےمیں شیعوں کی ایک قوم پر گذراوہ لوگ حضرت ابوبکراورحضرت عمرکوبراکہہ رہےتھے اور ان کی منقصت بیان کرتےتھے میں علی بن ابی طالب کے پاس آیااورکہااے امیرالمومنین میں شیعوں کے ایک گروہ پرگذرا جوحضرت ابوبکراورحضرت عمرکوگالیاں دیتے اوربراکہتےہیں اوراگروہ لوگ یہ نہ جانتے کہ آپ کے دل میں حضرت ابوبکراورعمرکی برائی ہے توہرگزان کویہ جرات نہ ہو سکتی تھی حضرت علی نے فرمایامعاذاللہ میرے دل میں ابوبکراورعمرکی سوا اچھائی کے ذرابھی برائی نہیں ہے اوراس شخص پر خداکی لعنت ہوجوحضرت عمراورابوبکرذرابھی برائی دل میں رکھے اس کے بعد حضرت علی روتے ہوئے اٹھے اورنمازکے لئے منادی کی لوگ جمع ہوئے اور حضرت علی منبر پربیٹھے اورآپ کے اس قدرآنسوجاری تھے کہ آپ کی داڑھی ترتھی پھرآپ کھڑے ہوگئے اورنہایت بلیغ خطبہ پڑھاپھرکہا کہ وہ لوگ کیسے ہیں جومیری نسبت ایسی بات کہتےہیں جس سے میں بری اوربے زار ہوں بلکہ جو کچھ وہ کہتےہیں اس پر سزادینے کو تیارہوں قسم ہے خداکی ابوبکراورعمرکو ہرایک مومن متقی دوست رکھتاہے اور ان سے وہی بغض رکھےگا جوفاجراوربدکارہوگا ابوبکراورعمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی اور آپ صلی اللہ علی ہوسلم کے یاراوروزیرتھے۔

ابوبکرخطیب نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن احمد بن رزق نے بیان کیا وہ کہتےتھے ہم سے احمد بن علی بن عبدالجبار بن خیرویہ ابوسہل کلودابی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے محمد بن یونس قرشی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے روح بن عبادہ نے عوف سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے قسامہ بن زبیرسے روایت کی وہ کہتےتھے ایک اعرابی حضرت بن خطاب کے سامنے کھڑاہوکرکہنے لگا اے عمرخیرات کرواس کی جزا جنت ملے گی میرے کھانے اور کپڑے کا سامان کردو میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ آپ ضرور ایسا کریں گے حضرت عمرنے فرمایا کہ اگرہم ایسانہ کریں توکیاہوگا اعرابی نے کہا خداکی قسم میں اسی طرح گذاردوں گاحضرت عمرنے فرمایاپھرکیاہوگااعرابی نے کہاخداکی قسم تم سے میری بابت سوال ہوگااورجس ے سوال کیاجائے گاوہ یا جنت میں جائے گا یادوزخ میں پس حضرت عمررونے لگے یہاں تک کہ آپ کی داڑھی آنسوؤں سے ترہوگئی پھرآپ نے اپنے غلام سے کہاکہ اس کو میراکرتادےدےاورفرمایاقسم ہے خداکی اس کرتے کے سوا میں کسی چیزکامالک نہیں ہوں زید بن اسلم نے اپنے باپ سے روایت کرکے وہ کہتےتھے کہ عمرابن خطاب ایک رات کو گشت کرنے کے لئے نکلے ناگاہ ایک مکان کی طرف گذرے دیکھا کہ اس مکان میں ایک عورت ہے اور اس کے گرد چند لڑکے رورہے ہیں اورایک ہانڈی جس میں پانی بھراہواہے آگ پر رکھی ہوئی ہے حضرت عمربن خطاب دروازہ کے قریب گئے اوراس عورت سے کہا اے اللہ کہ بندی یہ لڑکے کیوں رورہے ہیں اس عورت نے جواب دیاکہ بھوک سےرورہے ہیں پھرآپ نے پوچھاکہ یہ ہانڈی آگ پر کیوں رکھی ہے اس عورت نے کہا اس ہانڈی میں پانی بھرکرجوش دیتی ہوں اور ان لڑکوں سےیہ حیلہ کرتی ہوں کہ اس میں آٹا اورروغن ہے (یعنی کھانا پک رہاہے)یہاں تک کہ یہ لڑکے سوجاتے ہیں۔حضرت عمر بیٹھ گئے اوررونے لگے پھرداراالصدقہ میں آئےاورایک بوری لے کراس میں کچھ آٹا اورروغن اورچربی اورکھجور اورکپڑے اورکچھ درہم بھرکر کہا اے اسلم مجھ پر اٹھادے میں نے عرض کیا یاامیرالمومنین میں اس کو اٹھاکرلے چلوں گاآپ نے فرمایاہرگزنہیں اے اس کو میں ہی لے چلوں گاکیونکہ آخرت میں مجھی سے بازپرس ہوگی پھرآپ اس کو اپنے کندھے پراٹھاکر اس عورت کے گھرمیں لائے اوراس میں سے کچھ آٹااورکچھ چربی اورکھجورہانڈی میں ڈال کر پکانے لگے اوراس کو ہاتھ سے چلاتے جاتے تھےاورہانڈی کے نیچے آگ پھونکتےجاتے تھے اسلم کابیان ہے کہ حضرت عمر کی داڑھی بڑی تھی  میں نے دیکھا کہ آگ پھونکنے میں دھواں آ پ کی داڑھی کے درمیان سے نکلتاتھا الغرض جب کھاناتیارہوگیا تو حضرت عمر نے اپنے ہاتھ سے ان لڑکوں کو کھلایا یہاں تک کہ آسودہ ہوگئے پھرآپ ان لڑکوں کے سامنے لیٹ گئے اور میں خوف سے کچھ کہہ نہ سکتا تھا جب وہ لڑکے کھیلنے اور ہنسنے لگے توآپ وہاں سے چلے اور مجھ سے پوچھا اے اسلم تم جانتے ہو کہ میں کیوں ان لڑکوں کے سامنے لیٹ گیا میں نے کہانہیں آپ نے فرمایا میں نے ان لڑکوں کوروتاہوا دیکھاتھاپس میں نے نہیں پسند کیا کہ ان لڑکوں کو ہنستاہوادیکھ بغیرچھوڑ کرچلاجاؤں اس وجہ سے میں نے ایسا کی اورجب وہ ہنسنے لگے تومیرادل خود ہوگیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت:ہم کو محمد بن محمدبن سرایاوغیرہ نے اپنی اسناد کے ساتھ محمد بن اسمعیل سےروایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیرنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا وہ کہتےتھےہم سے ابوبکربن سالم نےسالم سے روایت کرکے بیان کیا انھوں نے عبداللہ بن عمرسے روایت کی وہ کہتےتھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک چاہ پر ایک ڈول جولکڑی پر لٹکاہواہے کھینچ رہاہوں پھرابوبکرآئے اورانھوں نے ایک یادوڈول آہستگی سے کھینچا اور خدا ان کی مغفرت کرے پھر عمربن خطاب آئے اور وہ ڈول بہت بڑاہوگیا(اورعمر نے اس قدر ڈول کھینچے کہ)میں نے کسی قوی آدمی کوایساکرتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ سب لوگ سیراب ہوکرپانیکے کنارہ بیٹھ گئے یہ اس طرف اشارہ ہے جوکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں شہروں پرفتح دی اور مسلمانوں کوکفاروں سے اس قد بکثرت مال غنیمت ملا کہ تمام مسلمان آسودہ حال ہوگئے۔

اوردوسری حدیث میں آیاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ اگرتم لوگ عمربن خطاب کو خلیفہ بناؤگے توان کو امرالٰہی اورامردنیامیں نہایت قوی پاؤگے۔یہ حدیث پہلے بیان ہوچکی۔احمد بن عثمان نے کہاہم کو ابورشید نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومسعود سلیمان نےخبردی اورہم کو ابوبکربن مردویہ حافظ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے سلیمان بن احمد نے بیان کیا وہ کہتے تھےہم سے ہاشم بن مرتدنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوصالح فراء نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابواسحاق فزاری نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے شعبہ نے سلمہ بن کہیل سے روایت کرکے بیان کیا انھوں نے ابی زعرایازید بن وہب سے روایت کی وہ کہتےتھے کہ سوید بن غفلہ جعفی حضرت علی کی خلافت کے زمانہ میں ان کے پاس آئے اورکہااے امیرالمومنین میں کچھ لوگوں کے پاس گذرا جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی نسبت ان کی شان کے خلاف باتیں ذکرکرتے تھے اور یہ حدیث بیان کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ وفات قریب آیاتوآپ نے فرمایاکہ ابوبکرسے کہو کہ لوگوں کونماز پڑھا ئیں حضرت ابوبکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں سات روز تک نماز پڑھائی پھرجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نےوفات دی توکچھ لوگ اسلام سے مرتد ہوگئے اورکہاہم نماز پڑھیں گے مگرزکوۃ نہ دیں گے تمام صحابہ اس پر راضی ہوگئے لیکن ابوبکر صدیق نے انکارکیااورتنہا اپنی رائے کوسب صحابہ کی رائے پر ترجیح دی اورکہاخداکی قسم اگروہ لوگ خدا اوررسول کی مقررکردہ زکوۃ سے ایک رسی بھی نہ دیں گے تو میں ان سے اسی طرح لڑوں گا جس طرح نماز کے چھوڑنے پر پھرسب مسلمانوں نے بخوشی بیعت کی اور عبدالمطلب کی اولاد میں سے سب سے پہلے میں نے سبقت کی حضرت ابوبکر صدیق دنیا سے بے تعلق تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی تما م سیرتیں آپ میں موجودتھیں ہم لوگ آپ کے کسی حکم سےانکارنہیں کرتےتھے جب آپ کی وفات قریب ہوئی  توآپ نے دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلافت کے زیادہ لائق ہیں اوراگرخلافت کے بارے میں یگانگت کاخیال ہوتاتوحضرت ابوبکر اپنے بیٹےکو خلیفہ بناتے پھر آپ نےحضرت عمرکوخلیفہ بنانے کے بارے میں مسلمانوں سے مشورہ لیابعض مسلمان راضی ہوئے اوربعض مسلمانونے کہا کہ آپ ہم لوگوں پر ایسے کوامیربناتے ہیں جو آپ کی زندگی میں ہم پر نہایت سختی کرتےہیں  آپ خداکوکیاجواب دیں گے حضرت ابوبکر نے کہاکہ جب میں خدا کے پاس جاؤنگا تو کہوں گاکہ اے میرے پروردگا میں نےمسلمانوں پر ایسے شخص کو امیربنایا جوسب سے بہترتھا الغرض حضرت ابوبکر نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ہم پر خلیفہ بنایا پھرحضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورابوبکرنے تمام احکام ہم پر قائم رکھے اور ہم لوگوں نے ان سے کوئی خرابی نہیں دیکھی آپ سے ہرروز دین ودنیاکی ترقی ہوتی رہی خدا نے آپ کو زمین پر فتوحات دیں اور آپ کی وجہ سے شہر آبادہوئے آپ خد اکی باتوں میں کسی کی ملامت کا خیال نہ کرتےتھے حق اورعدل میں آپ کے نزدیک  دوراورنزدیک والے سب برابرتھے خدانے آپ کے دل اورزبان پر حق جاری کر دیاتھاحتی کہ ہم خیال کرتےہیں کہ آپ کی زبان پر روح القدس کی آواز تھی اور ملائکہ آپ کی اعانت کرتےتھے۔

کہااورہم کو ابن مردویہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا وہ کہتےتھے ہم سے احمد بن قاسم بزاء نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے یحییٰ بن مسعود نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن محمد بن ایوب نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے اسمعیل بن عبدالرحمن ہاشمی نے عہد خیرسے روایت کرکے بیان کیا انھوں نے علی بن ابی طالب سے روایت کی حضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکراورعمرکوقیامت تک کےبادشاہوں کے لئے حجت بنایا ہے خداکی قسم وہ دونوں سبقت لے گئے اور اپنے بعد والوں کو سخت مشقت میں ڈال گئے ان کی یاد امت کو غمگین کرتی ہے اور سر؟ان کے لیے موجب طعن۔

ہم کو عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے بطور اذن کے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوبکر محمد بن عبدالباقی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو حسین بن فہم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمدبن سعد نے بیان کیا وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن عمرنےبیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوبکر عبداللہ بن ابی سبرہ نے عبدالمجید بن سہیل سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے ابی سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی دوسری سند محمد نےکہااورہم کو عمروبن عبداللہ بن غلبہ نے ابی نضر سے روایت کرکے خبردی انھوں نے عبداللہ بہسی سے روایت کی کہ جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیمارہوئےتو عبدالرحمن یعنی ابن عوف کو بلایا اوران سے عمربن خطاب کاحال پوچھا عبدالرحمن نےکہا آپ ہم سے وہ بات پوچھتےہیں جو آپ کوخود ہم سے زیادہ معلوم ہے پھرابوبکرصدیق نے عثمان بن عفان کو بلایا اوران سےحضرت عمرکاحال پوچھاحضرت عثمان نےکہاآپ کو خود ہم سے زیادہ معلوم ہے لیکن اس قدرمجھے معلوم ہے کہ حضرت عمرکاباطن ان کے ظاہر سے بہترہے اور ہم میں ان کے مثل کوئی نہیں ہے پھرابوبکر نے سعید بن زید اورابوالعور اور اسید بن حضیر وغیرہ کوبلاکرمشورہ لیا اسید نے کہاکہ میں حضرت عمرکو آپ کے بعد سب سے بہترجانتاہوں اوران کا باطن ان کے ظاہر سے بہت اچھاہے پھر جب دیگر صحابہ  نے عبدالرحمن اور عثمان کا ابوبکرصدیق کےپاس خلوت میں جاناسنا تووہ لوگ بھی ابوبکرکے پاس آئے اور ان میں سے کسی نےکہااے ابوبکر جب خدائے تعالیٰ تم سے عمرکے خلیفہ بنانے کی بابت سوال کرے گا توکیاجواب دوگے کیونکہ عمر کی سختی تم دیکھ رہے ہو ابوبکرنے کہا مجھ کو اٹھا کر بٹھاؤ(لوگوں نے آپ کو بٹھایاتو)آپ نے فرمایا تم لوگ مجھے خدا کاخوف دلاتے ہومیں خدا سےکہوں گا کہ اے پروردگار میں نے ایسے شخص کو خلیفہ بنایاجوسب سے بہتر تھا یہ کہہ کرحضرت ابوبکرلیٹ گئے اورعثمان بن عفان کو بلاکرکہا  لکھو بِسمِ اللہِ الَّرحمٰنِ الرَّحِیمِ یہ وہ عہد ہے جوابوبکر بن ابوقحافہ نے دنیاسے دارآخرت کی طرف جاتے وقت لکھا بیشک میں نے اپنے بعد عمربن  خطاب کوتم لوگوں پر خلیفہ بنایاتم سب لوگ ان کا حکم سنو اوراطاعت کرواگروہ عدل کریں تو ان کے سات میرا یہی خیال ہے اور اگربدل جائیں توہرشخص کے لیےوہی ہے جو وہ کرے اس پر مہرکردی حضرت عثمان وہ مہری تحریر لے کرباہرآئے اور ان کے ساتھ عمر بن خطاب اوراسد بن سعید قرظی بھی تھے حضرت عثمان نے لوگوں سے کہاکیاتم لوگ اس شخص کی بیعت کروگے جس کا نام اس تحریرمیں ہے سب لوگوں نے کہاہا ں اوربعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اس شخص کوجان لیاابن سعد نے اس کہنے والے سے کہا کہ وہ عمر ہیں الغرض سب لوگوں نے اقرارکیااورراضی ہوگئےاور سبھوں نے بیعت کرلی اس کے بعد حضرت ابوبکرنے حضرت عمرکو خلوت میں بلایا اور جو کچھ وصیت کرناتھا وصیت کی پھرحضرت عمرباہرنکلے اورحضرت ابوبکرہاتھ اٹھاکریہ دعاکرنے لگے اے پروردگار میں نے یہ کام محض لوگوں کی بھلائی کے لیے کیاہے مجھ کو لوگوں پر فتنہ کاخوف ہوااس لئے میں نے ان میں وہ کام کیاجس کوتوخوب جانتاہے اور میں نے خوب سمجھ کر لوگوں پرایسے شخص کو خلیفہ بنایا جو سب سے بہتراورتمام لوگوں کی اصلاح چاہنے والاہے۔

صالح بن کیسان نے حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے انھوں نے اپنے باپ سے روایت کی وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس مرض موت میں آئے اس وقت آپ کو کچھ افاقہ تھا عبدالرحمن نے کہا بحمداللہ اب توآپ کو صحت ہے ابوبکر نے فرمایا تم ایساخیال کرتے ہو انھوں نے کہاہاں ابوبکرنے فرمایا اس حالت میں بھی مجھ کو نہایت شدید دردہے اوراے گروہ مہاجرین جو صدمہ تم لوگوں سے مجھ کو پہنچاہے وہ اس میرے درد سے بھی زیادہ سخت ہے کیوں کہ تم پر ایک ایسے شخص کو خلیفہ بنایاجو تم  سب سے بہترہے لیکن تم میں سے ہر شخص میرے اس کام سے سخت ناراض اورخشمناک ہے اور یہ چاہتاہے  کہ خلافت اسی کوملے تم لوگ یہ دیکھتے ہو کہ دنیاآرہی ہے لیکن وہ  آتی رہے گی یہاں تک کہ تم لوگ حریرکافرش اوردیبا کی مسندبناناشروع کروگے اورتم لوگوں کو صوف پر لیٹنے سے ایسی تکلیف ہوگی جیسے ببول کے کانٹوں پرلیٹنے سے ہوتی ہے۔

ہم کوابومحمد بن ابوالقاسم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوہمارے باپ نے خبردی وہ کہتےتھےہم کو ابوالقاسم بن سمرقندی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوالحسین بن  نقور نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوعیسیٰ بن علی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم ابوالقاسم بغوی نے خبردی وہ کہتےتھےہم سے داؤد بن عمرو نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے یحییٰ بن عبدالملک بن حمید بن ابی عینیہ نے صلت بن بہرام سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے یسارسے روایت کی وہ کہتےتھے جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سخت بیمار ہوئے توایک روز مکان کے روزن سے جھانک کرفرمایااے لوگومیں نے ایک عہد لکھاہے پس کیا تم سے اس پر راضی ہوجاؤگے سب لوگوں نے کہا یاخلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے شک ہم لوگ راضی ہیں حضرت علی نے فرمایاہم تو اسی وقت راضی ہوں گے جب عمربن خطاب (خلیفہ)ہوں۔

ہم کو ابوالقاسم حسین بن ہبتہ اللہ بن محفوظ بن مصری تغلبی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو شریف ابوطالب علی بن حیدرہ بن جعفر علوی حسینی اورابوالقاسم حسن بن محمد بن اسدی نے خبردی وہ دونوں کہتےتھے ہم کو ابوالقاسم علی بن محمد بن علی بن ابوالعلا نے خبردی وہ کہتےتھےہم کو ابومحمد عبدالرحمن بن عثمان ا بن  قاسم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوالحسن خثیمہ بن سلیماب بن حیدرہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے سلیما ن بن عبدالحمید مہرانی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو عبدالغفار بن داؤد حرانی نے خبردی وہ کہتے تھے ہم  سے یعقوب بن عبدالرحمن بن عبدالقادی نے موسیٰ بن عقبہ سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے ابن شہاب سے انھوں نے سلیمان بن ابی خثیمہ سے انھوں نے اپنی دادی شفاسے روایت کی ۔یہ شفااول ہجرت کرنے والوں میں سے ہیں اورحضرت عمررضی اللہ عنہ جب سوق میں آتے توان کے پاس ضرورجاتےتھے۔ابی خثیمہ نے کہاکہ میں نے اپنی دادی شفاسے پوچھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو امیرالمومنین کب سے لکھاگیا انھوں نے کہا کہ حضرت عمر نے عراق کے عامل کو لکھاکہ دو دانشمند اورہوشیارآدمی ہمارے پاس بھیج دو تاکہ میں ان سے لوگوں کے حالات دریافت کروں عامل عراق نے عدی بن حاتم اورلبید بن ربیعہ کوحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا یہ دونوں آئے اور اپنے اونٹوں کو مسجد کے پاس بٹھلاکر مسجد میں داخل ہوئے اورعمروبن عاص سے ملاقات کی اوران سے کہاکہ ہمارے واسطے امیرالمومنین کے حضور میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کردوعمروبن عاص کہتےہیں کہ میں عدی بن حاتم اورلبید بن ربیعہ سے کہاخدا کی قسم تم نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کابہت اچھانام رکھاکیوں کہ وہ امیرہیں اورہم لوگ مومنین ہیں پھر میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کے پاس حاضرہواورکہایاامیرالمومنین جب حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس کی بابت دریافت کیا تومیں نے کہایاامیرالمومنین عراق کے عام نے عدی بن حاتم اورلبید بن ربیعہ کویہاں بھیجاوہ دونوں یہاں پہنچے تواپنے اونٹوں کو مسجد کے پاس بٹھلاکر میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ ہمارے واسطے امیرالمومنین کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کردو میں نے کہا کہ تم نے بہت اچھا نام رکھاکیوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ امیرہیں اورہم سب لوگ مومنین ہیں۔ اس کے پہلے (فرمان نامہ وغیرہ میں )یہ لکھاجاتاتھا من عمرخلیفہ خلیفتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مگراسی دن سے یہ لکھاجانے لگامن عمرامیرالمومنین۔بعضوں نے کہا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کویا خلیفتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاجاتاتھااورمجھ کو یا خلیفہ خلیفتہ الرسول اللہ کہاجاتاہے مگراس میں طوالت ہے تم سب لوگ مومنین ہواورمیں تمھار اامیرہوں (لہذا امیرالمومنین کہان نہایت مناسب ہے)اوربعض لوگ کہتےہیں کہ مغیرہ بن شعبہ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو امیرالمومنین کہاتھا۔واللہ اعلم۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سیرت:حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فتوحات بہت ہوئیں اورآپ نے بہت شہر آبادکیے عراق،شام،مصر،حریرہ،دیاربکر،آرمینیہ،آذربیجان،آرانیہ ،بلاد جبال،بلاد فارس اور خوزستان وغیرہ سب آپ ہی نے فتح کیے خراسان کی بابت اختلاف ہے بعض کاقول ہے کہ اس کو بھی  حضرت عمرہی نےفتح کیاتھامگرآپ کے بعد نکل گیاپھرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فتح کیا اور بعضوں  کاقول ہے حضرت عمرنے اس کونہیں فتح کیاتھا بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں  فتح ہوا اور یہی صحیح ہے حضرت عمررضی اللہ عنہ تمام لوگوں پرعطاو بخشش کرتےاوراپنے کوبیت المال میں مثل اجیرکے سمجھتے تھے اوراپنے کو کسی مسلمان پر ذرابھی فوقیت نہ دیتے۔ہرقسم کے دفترمرتب کیےاور ہرشخص کو اس کے درجہ کہ موافق رتبہ دیاپس اہل اللہ کوآپ کے پاس جانے میں سب لوگوں پر اولیت تھی اوراہل بدر میں سے حضرت علی کو اولیت تھی اور یہی ترتیب عطا میں بھی تھی اورجولوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قریب تھے جیسےبنی ہاشم اور ان کے نام سب سے پہلے درج کیے تھے پھران کے بعد ان لوگوں کے نام تھے جو بہ نسبت بنی ہاشم کے کچھ کم قربت رکھتےتھے وعلی ہذاالقیاس۔

ہم کو قاسم بن علی بن حسن نے اجازۃً خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ہمارے باپ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو فاطمہ بنت حسین بن حسن بن فضلویہ  نے خبردی وہ کہتی تھیں ہم کوابوبکراحمد بن خطیب نے خبر دی  وہ کہتےتھے شافعی نے کہاہم کوہمارے عم محمد بن شافع نے کسی فقہ یعنی محمد بن علی بن حسن یا کسی دوسرے سے روایت کرکے خبردی انھوں نے عثمان بن عفان کےغلام سے روایت کی وہ کہتےتھے ہم ایک مرتبہ سخت گرمی کے دنوں میں حضرت عثمان کے پاس ان کےمکان میں تھے ناگاہ دیکھا کہ ایک شخص اونٹ کے دوبچے ہانکے لیے جارہاہے اورتپش  کی وجہ سے زمین پراس کے پیرجلے جاتے ہیں حضرت عثمان نے فرمایادیکھویہ کون شخص ہے میں نے دیکھ کر عرض کیا ایک شخص چادر سر میں لپیٹے ہوئے اونٹ کے دوبچے لیے جارہاہے پھرجب وہ شخص اور قریب آیا تو حضر ت عثمان نے فرمایا اب دیکھوکون شخص ہے میں نے دیکھاتو حضرت عمر بن خطاب تھے میں نے حضرت عثمان سےعرض کیایہ توامیرالمومنین ہیں حضرت عثمان کھڑے ہوگئے اور(دیکھنے کے لیے)دروازہ سے سرنکالا مگرگرم ہواکی تکلیف سے پھر سراندرکرلیا جب حضرت عمررضی اللہ عنہ سامنے آئے توحضرت عثمان نے ان سے پوچھاکہ آپ اس وقت کیوں نکلے حضرت عمر نے فرمایاکہ صدقہ کے اونٹ چرائی کے لیے آگے چلے گئے اوران کے یہ دوبچے پیچھے چھوٹ گئے میں نے چاہاان کوچراگاہ میں اونٹوں کے پاس پہنچادوں کیونکہ مجھ کوخوف ہے کہ اگر یہ دونوں بچے ضائع ہوگئے تو مجھ سے اللہ تعالیٰ بازپرس کرےگا۔حضرت عثمان نے کہاکہ اے امیرالمومنین آپ سایہ میں ٹھہریں ہم آپ کا کام کردیں گےحضرت عثمان نے کہایاامیرالمومنین آپ پانی کے قریب سایہ میں آکر ٹھہریں ہم آپ  کاکام کردیں گے حضرت عمرنے فرمایاتم سایہ میں بیٹھے رہو اور اس کے بعد چلے گئے حضرت عثمان نے کہاجوشخص قوی امین کودیکھنا چاہتاہو وہ ان کو دیکھے۔

سری بن یحییٰ نے روایت کی کہ ہم سے یحییٰ بن مصعب کلبی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عمربن نافع ثقفی نے ابوبکر عیسیٰ سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے میں عمربن خطاب اورعثمان بن عفان اور علی بن ابی طالب کے ساتھ صدقہ کے وقت آیاحضرت عثمان سایہ میں بیٹھ گئے اورحضرت علی ان کے پاس کھڑے ہوگئےوہ باتیں ان سے کہتےجاتے جوحضرت عمرکہتے تھے اورحضرت عمررضی اللہ عنہ باوجود سخت گرمی کے دن ہونے کے دھوپ میں کھڑے تھے اورآپ کے پاس دوسیاہ چادریں تھیں ایک کی تہ بندباندھ لی تھی اورایک سرپرڈال لی تھی اورصدقہ کے اونٹ معائنہ کررہے تھے اوراونٹ کے رنگ اور ان کی عمریں لکھتےتھے حضرت علی نے حضرت عثمان سے کہاکہ کتاب اللہ میں تم نے حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی کایہ قول سنا ہے ان خیر استاجرت لقوی الامین (یعنی بے شک بہترمزدورقوی امین ہے)پھرحضرت علی نے حضرت عمرکی طرف اشارہ کرکے کہا یہ وہی قوی امین ہیں ۔

مجھ کو کئی آدمیوں نے اجازۃً ابوغالب بن ؟سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوعلی حسن بن محمد بن فہد خلَّاف نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوالحسن محمد بن عبداللہ بن محمد بن احمد بن حماد موصلی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوالحسین محمد بن عثمان نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو محمد بن صبیح نے اسماعیل بن زیاد سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوالحسین محمد بن عثمان نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو محمد بن صبیح نے اسماعیل بن زیادسے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے حضرت علی بن ابی طالب رمضان کے مہنیہ میں مسجدوں پر گذرے اور ان مسجدوں میں قندیلیں روشن تھیں حضرت علی نے فرمایاکہ  اللہ تعالیٰ حضرت عمرکی قبرکو روشن کرے جیساکہ انھوں نے ہماری مسجدیں روشن کردیں۔حماد بن سلمہ نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی انھوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت کی وہ کہتےتھے ہم حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ مکہ معظمہ چلے آپ نے قیام کے لیے کہیں کوئی خیمہ نہیں نصب کرایا بلکہ جب اترتے تھے توکسی درخت پر چادر یا چرسہ تان دیاجاتااسی کے  سایہ میں ٹھہرتےتھے۔

موسیٰ بن ابراہیم مروزی نے فضیل بن عیاض سے انھوں نے لیث سے انھوں نے مجاہد سے روایت کی وہ کہتےتھے حضرت عمربن خطاب نےایک مرتبہ حج کیااوراس میں مدینہ سے مکہ تک اورمکہ سے مدینہ تک اسی ۸۰درہم خرچ کیےاس پر بھی افسوس کرتےتھے اورہاتھ ملتےتھے اور کہتےتھے کہ اس لیے خلیفہ نہیں بنائے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مال میں اسراف کریں۔

ہم کومحمد بن ابوالقاسم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ہمارے باپ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوغالب بن نبانے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومحمد جوہری نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوعمر بن حیویہ اور ابوبکر بن اسمعیل نے خبردی وہ  دونوں کہتےتھے ہم کو یحییٰ بن محمد نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوحسین بن حسن نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابن المبارک نے مالک بن مفول سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوخبرملی کہ عمربن خطاب نے فرمایاہے کہ اپنے نفسوں کامحاسبہ کرو قبل اس کے کہ تم سے محاسبہ کیاجائے کیونکہ یہ بہت آسان ہے اوراپنے نفسوں کو وزن کرو قبل اس کے کہ وزن کیے جاؤاورقیامت کے لیےسامان مہیاکرلواس دن خداکے سامنے پیش کیے جاؤگےاورتمھاراکوئی راز مخفی نہ رہے گا۔حضرت عمرکی سیرت میں نہایت ہی عجیب باتیں ہیں جن کی استطاعت اسی  شخص کو ہوسکتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ توفیق دے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اپنے احسان وکرم سے ان کو راضی کرے۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ کی شہادت:ہم کوابوالبرکات حسن بن محمد بن حسن شافعی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوالعشائر محمدبن خلیل نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوالقاسم علی بن محمد بن علی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومحمد عبدالرحمن بن عثمان نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوالحسن خثیمہ بن سلیمان نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن حسن ہاشمی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبدالاعلی بن حماد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرکے بیان کیا وہ کہتےتھے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد پرچڑھے اورآپ کے ہمراہ ابوبکراورعمر اورعثمان بھی تھے احد ہلنے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پائے مبارک اس پر مارا اور فرمایا اے احد ٹھہرجا کیونکی تجھ پر نبی اور صدیق اوردو شہیدوں کے سواء کوئی اور نہیں ہے ہم کو عاصم بن علی بن حسن نے بطور کتابت کے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ہمارے باپ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو قاسم  بن علی بن حسن نے بطورکتابت کے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ہمارے باپ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومحمد بن طاؤس نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو طراد بن محمدنے خبردی  اور ہم کوبسندعالی ابوالفضل عبداللہ بن احمد نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو طراز بن محمد نے بطوراجازۃ کے اگر سماع نہ ہواہو خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوالحسین ابن بشران نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوعلی بن صفوان نے خبردی وہ کہتےتھےہم کو ابوبکر بن ابی الدنیا نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابو خثیمہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے یزید بن ہارون نے یحییٰ بن سعید بن مسیب سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ عمربن خطاب جب (مقام) منیٰ سے لوٹے تو بطحا میں ٹھہرے اوروہاں کنکریوں کاایک تودہ بنا کراپنی چادرکاایک گوشہ بچھادیااوراس پر سر رکھ کر دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور یہ دعا کرنے لگے کہ اے اللہ میں بوڑھاہوں اورمیری قوت ضعیف اور میری عقل سست ہوگئی پس اے اللہ تومجھ کو اپنے پاس اٹھالے اس کے بعد ذی الحجہ کا مہینہ بھی نہیں گذراکہ آپ زخمی کیے گئے اور آپ کی وفات ہوگئی۔

ہم کو ابومحمد بن ابی قاسم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوہمارے باپ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومحمد بن انکانی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو عبدالعزیزکنانی نے خبردی وہ کہتےتھےہم کو تمام بن محمد اور عبدالرحمن بن عثمان اور عقیل بن عبداللہ نے خبردی کہااورمجھ کو ابومحمد اکفانی نے خبردی وہ کہتے تھےہم کوابوعبداللہ  محمد بن عقیل بن کریدی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومحمدبن ابی نصر تمیمی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو احمد بن قاسم بن معروف نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا وہ  کہتےتھے ہم سے ابوالیمان نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو شعیب نے زہری سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے مجھ کو محمدبن جبیربن مطعم نے خبردی وہ کہتےتھے میں حضرت عمرکے ہمراہ اس حج میں تھا جوآپ نے آخرمیں کیاہم لوگ جبل عرفہ پر ٹھہرے تھے ایک شخص نے دورسے چلاکریاخلیفہ کہاپس ایک شخص قبیلہ لہب کاجوقبیلہ ازدشنؤہ کی ایک شاخ ہے کہنے لگاتجھ کوکیاہوگیاہے خداتیری آواز قطع کرے خداکی قسم حضرت عمراس سال کے بعد اس پہاڑ پرکبھی نہ ٹھہریں گےجبیرکہتےہیں کہ میں اس لہبی سے لڑنے لگا اور میں نےاس کوگالیاں دیں دوسرے دن جب لوگ رمی کررہےتھے اور حضرت عمر بھی رمی جمار کررہے تھے ناگاہ ایک کنکری آپ کے سرمیں آکرلگی اور خون بہنے لگا ایک شخص نے کہا قسم ہے رب کعبہ کی  کہ اس سال کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس جگہ نہ ٹھہریں گے۔جبیرکہتےہیں کہ میں نے جاکرجواس کہنے والے شخص کو دیکھا تووہ وہی لہبی شخص تھا جس نے جبل عرفہ پر حضرت عمرکی نسبت کہاتھا کہ خدا کی قسم حضرت عمررضی اللہ عنہ اس سال کے بعد کبھی اس پہاڑ پر نہ ٹھہریں گے۔

ہم کوابوالفضل بن ابی الحسن فقیہ نے اپنی اسناد کے ساتھ ابی یعلی سے روایت کرکے خبرکی وہ کہتےتھے ہم سے احمد بن ابراہیم بکری نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے شبابہ بن اسود نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سعیدنے قتادہ سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے سالم بن ابی جعد سے انھوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت کی وہ کہتےتھے حضرت عمررضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اوریہ فرمایاکہ میں نے خواب میں دیکھاکہ ایک مرغ نے ایک دوچونچ ماری ؟اورمیں اس کی تعبیر یہی سمجھتاہوں کہ میری موت قریب ہے پس اگر میری موت جلد آجائے توخلافت ان چھ آدمیوں میں بطورشوریٰ کے ہوناچاہئے جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے وقت تک راضی ہوگئے۔

ہم کواحمدبن عثمان نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابورشید عبدالکریم بن احمد بن منصورنے خبردی وہ کہتےتھےہم کو ابومسعود سلیمان بن ابراہیم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوبکربن مردویہ ؟نےخبر دی وہ  کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن اسحاق نے بیان کیا وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن جہم سمری نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے جعفربن عون نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو محمد بن بشرنے مسعربن کدام سے روایت کرکے خبردی انھوں نے عبدالملک ابن عمیرسے انھوں نے صقربن عبداللہ سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے عائشہ سے روایت کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی تھیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے تین دن قبل جن روتےتھےپھرحضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے یہ اشعار پڑھے۔

۱؎        ابعد قتیل بالمدینتہ اصبحت            لہ الارض تہتزالعضاہ بالسوق

                        جزی اللہ خیرامن امیروبارکت         اللہ فی ذاک الادیم الممزق

              فمن یسمع اوریرکب جناحی نعامتہ        قضیت اموراثم غادت بعدہا

          بوائق فی اکمامہالم تفتق              فماکنت اخشی ان یکون مامتہ                                                                     بکفے سنتی اخضر العین مطرق

کہاگیاہے کہ یہ اشعارشماخ کے یااس کے بھائی کے مرزد کے ہیں۔

۱؎ ترجمہ۔کیامدینہ میں ایک مقتول کے بعدکوئی بہتری ہے۔ جس کے غم میں زمین کا یہ حال ہوا کہ تمام گلی کوچوں میں شاخیں ہلتی ہیں ۔خداتعالی امیرالمومنین کوجزاء خیردے۔اورخداکاہاتھ اس شق شدہ زمین پربہت بابرکت ہے۔(اے امیرالمومنین)جوکچھ آپ کل کرچکے ہیں  ۔اس کے حاصل کرنے کے لیےاگرکوئی شخص پاپیادہ یاسواری پربھی دوڑے توپیچھے رہ جائے گا۔(یعنی آپ کے مرتبہ پرکوئی شخص کسی طرح نہیں پہنچ سکتا۔(اے امیرالمومنین)آپ نے بہت کام انجام دئیے۔ پھر اس کے بعدآپ چلے گئے ۔اور بہت سے فتنے (آپ کے سامنے )ظاہرنہ ہوسکے۔پس مجھ کویہ خوف نہ تھاکہ ان کی وفات ایسے شخص کے ہاتھ سے ہوگی جودرازسر،سبزآنکھ والاسست نظرہوگا۔

ہم کومسماد بن عمربن عویس نیارنے اورابوعبداللہ حسین بن ابی صالح بن فناخسرہ وغیرہ نے اپنی اسناد محمد بن اسمعیل تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے موسی بن اسمعیل نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو ابوعوانہ نے حصین سے روایت کرکے خبردی اور انھوں نے عمروبن میمون سے روایت کی وہ کہتےتھے ک میں نے حضرت عمربن خطاب کو ان کے مجروح ہونے کے چند روز پہلے مدینے میں دیکھا کہ انھوں نے حذیفہ بن الیمان اورعثمان بن حنیف سے فرمایاکہ تم نے کیساکیاتم کو کیااس بات کا خوف ہے کہ تم نے زمین پر ایسا بارڈالاجس کی اس کو طاقت نہیں ہے ان دونوں نے کہانہیں ہم نے زمین پرایسابارڈالاجس کی اس کو طانت ہے پھرحضرت عمرنے فرمایااگرخدا نے مجھ کو سلامت رکھا تو میں عراق کے محتاجوں کوایساکروں گاکہ میرے بعد کسی کی طرف حاجت نہ لے جائیں اس کے بعد چوتھادن نہیں گذراتھاکہ آپ زخمی کئے گئے۔کہاجس صبح کو آپ زخمی ہوئے میں جماعت میں کھڑا تھااورمیرےاورآپ کےدرمیان میں عبداللہ بن عباس تھے جب آپ صف میں آتے تھے تولوگوں سے کہتےتھے کہ صف برابرکرلو جب صف برابرہوجاتی توآپ آگےآجاتے اورتکبیرکہتےاوراکثر پہلی رکعت میں سورہ یوسف یا نحل یا اس کے مثل پڑھاکرتےتھے تاکہ لوگ جمع ہوجائیں۔آپ نے فقط تکبیر کہی تھی کہ میں نےآپ کویہ کہتےسنا کہ مجھ کو ایک بدخصلت نے یامجھ کو کسی زشت خونے  زخمی کردیاپھرایک  غلام جو دونوکوں والاخنجر لئے ہوئےتھاچپ وراست لوگوں کوزخمی کرنے لگا یہاں تک کہ تیرہ آدمیوں کو زخمی کردیاپھرجب ایک مسلمان نے اس پر لبادہ ڈال دیا اور اس نے دیکھا کہ اب وہ پکڑلیاجائے گاتو اس نے خودکشی کرلی حضرت عمرنےعبدالرحمن بن عوف کاہاتھ پکڑ کےنمازپڑھانے کے لیے آگے کردیا۔جولوگ حضرت عمرکے قریب تھے انھوں نے یہ واقعہ دیکھا لیکن اور لوگوں کوکچھ نہیں معلوم ہواسوائے اس کے کہ جب ان لوگوں نے حضرت عمرکی آواز نہ سنی توسبحان اللہ سبحان اللہ کہنے لگے پس عبدالرحمن نے ان کوجلدی جلدی نمازپڑھائی جب نماز ختم ہوگئی توحضرت عمرنے فرمایااے ابن عباس دیکھوکس نے مجروح کیاابن عباس ہرطرف تلاش کرکے ایک ساعت کے بعد مسجد میں آئے اورکہا کہ مغیرہ بن شعبہ کے غلام نے حضرت عمرنے پوچھا کہ وہی کاریگرغلام ۔ابن عباس نے کیاہاں حضرت عمرنے فرمایاکہ اللہ اس کو ہلاک کرے میں نے تواس کو اچھی بات کاحکم دیاتھاخیراللہ کاشکرہے کہ اس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھ پرمقدر نہیں کی جو اسلام کا دعوی کرتاہواے ابن عباس تم اور تمہارے والد دونوں کواس بات کی خواہش تھی کہ مدینہ میں غلاموں کی کثرت ہوجائے چنانچہ (ایک مرتبہ جب انھوں نے یہ پیشینگوئی سنی کہ ایک غلام مجھے قتل کرےگا)توانھوں نے کہاکہ اگرآپ چاہیں توہم غلاموں کو قتل کردیں میں نے کہا یہ رائے اچھی نہیں ہے جب وہ لوگ تمھاری زبان بولنے لگےاورتمھارے قبلہ کی طرف نمازپڑھنے لگے اورتمھاری طرح حج کرنے لگے(توقتل کرنے چہ معنی)اس کے بعد حضرت عمراپنے گھراٹھاکرلائےگئے ابن عباس کہتےہیں کہ ہم سب لوگ ان کے ساتھ چلے لوگوں کی کیفیت یہ تھی کہ گویا اس سے پہلے ان پر کبھی کوئی مصیبت نہ پڑی تھی کوئی کہتاتھا کہ کچھ حرج نہیں (امیرالمومنین اچھے ہوجائیں گے)کوئی کہتاتھاکہ مجھے اندیشہ ہے (غرضکہ کسی کی عقل بجانہ تھی)پھرنبیذ(وہ پانی جس میں کھجورترکی گئی ہو)لائی گئی اورحضرت عمرنے اس کو پیاپیتےہی پیٹ کے زخم سے نکل گئی پھر دودھ لایاگیاوہ بھی انھوں نے پیاوہ بھی پیٹ کے زخم سے نکل گیااس وقت لوگوں کویقین ہوگیا کہ اب اخیرحالت ہے ہم سب لوگ ان کے قریب گئے اورلوگوں نے ان کی تعریف کرنا شروع کی ایک نوجوان آیااوراس نے کہا کہ اے امیرالمومنین آپ کو خداکی طرف سے بشارت ہو کہ آپ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اورآپ قدیم الاسلام ہیں جیساکہ آپ خود جانتےہیں پھر آپ  خلیفہ بنائے گئے توآپ نے بہت انصاف کیاان سب پرمزید یہ کہ آپ کو شہادت کا رتبہ ملا حضرت عمرنےکہاکہ میں توآرزوکرتاہوں کہ(قیامت کےدن)برابرسرابراترجاؤں  نہ میرے اوپر عذاب کیاجائے نہ مجھ کو ثواب دیاجائے جب وہ نوجوان اٹھ کرجانے لگاتودیکھاگیاکہ اس کی ازار زمین سے مس کررہی ہے حضرت عمرنے فرمایااس نوجوان کو میرے پاس لاؤ اورفرمایااے میرے بھتیجے (ازاراونچی پہناکرو اس میں صفائی بھی ہے اورپرہیزگاری بھی ہے اس کے بعد اپنے صاحبزادے سے فرمایا کہ اے عبداللہ حساب کرو میرے اوپر کس قدر قرض ہے چنانچہ حساب کیاگیامعلوم ہوا کہ چھیاسی ہزار روپیہ قرض ہے حضرت عمرنے فرمایاکہ اگرمیرامال اس کے لئے کافی ہوجائے تویہ قرض میرے ہی مال سے اداکیاجائے ورنہ بنی   عدی سے سوال کرنااگران کا مال بھی کافی نہ ہوتوتمام قریش سے سوال کرنا اورکسی سے سوال نہ کرنایہ قرض میرااداکردواورام المومنین عائشہ کے پاس جاؤ اوران سے کہوکہ عمرآپ کوسلام عرض کرتاہے میرے نام کے ساتھ امیرالمومنین نہ کہنا کیوں کہ اب میں مومنوں کاامیرنہیں ہوں اورکہناکہ عمربن خطاب اس بات کی اجازت مانگتاہے کہ اپنے صاحبین کے ساتھ دفن کیاجائے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرگئے اورسلام کرکے اندر آنے کی اجازت مانگی جب اندرگئے تودیکھاکہ ام المومنین بیٹھی ہوئی رورہی ہیں حضرت ابن عمرنے عرض کیاکہ عمربن خطاب آپ کوسلام عرض کرتاہے اوراس بات کی اجازت چاہتاہے کہ اپنے صاحبین کے ساتھ دفن کیاجائے ام المومنین نے فرمایاکہ وہ جگہ میں نے اپنے واسطے رکھی تھی مگر میں  ان کو ترجیح دیتی ہوں یہ خوش خبری لے کر حضرت ابن عمر جب اپنے والد کے پاس پہنچے تو لوگوں نے کہادیکھئے عبداللہ بن عمرآگئے حضرت عمرنے فرمایامجھ کو اٹھاؤ چنانچہ ایک شخص نے ان کواپنا سہارا دے کر اٹھایاحضرت عمرنے پوچھاکیاخبرلائے ہو ابن عمرنے کہاوہی جوآپ چاہتےتھے ام المومنین نے اجازت دے دی حضرت عمرنے کہاالحمدللہ اس وقت مجھے کوئی آرزو اس سے زیادہ نہ تھی دیکھو جب میری روح مفارقت کرجائے تومجھے لے جانا اورام المومنین سے سلام عرض کرنااورکہناکہ عمربن خطاب  اجازت مانگتاہےاگراس وقت بھی وہ میرےلئے اجازت دے دیں تومجھے(اس روضہ مقدسہ میں)داخل کردیناورنہ جہاں اورمسلمانوں کی قبریں ہیں وہاں مجھےبھی دفن کردینااسی اثنا میں ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا مع چند عورتوں کے آگئیں ہم لوگ ان کو آتا ہودیکھ کراٹھ آئےوہ گئیں اورتھوڑی دیرتک روتی رہیں اتنے میں اورمردآگئے اورانھوں نے اجازت مانگی وہ پردہ میں چلی گئیں ہم لوگ ان کے رونے کی آواز پردہ سے سن رہےتھے لوگوں نے کہاکہ اے امیرالمومنین کچھ وصیت کیجئےکسی کوخلیفہ بنا جائیے حضرت عمرنے فرمایاکہ میں خلافت کا مستحق ان لوگوں سے زیادہ کسی کونہیں سمجھتا کہ جن سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم راضی گئے اس کے بعد انھوں نے علی کا اور عثمان کااورزبیرکااورطلحہ کا اورسعدکااورعبدالرحمن بن عوف کا نام لیااور فرمایاکہ عبداللہ بن عمربھی تمھاری خدمت میں حاضررہاکرے گامگرخلافت میں اس کا کچھ حق نہیں ہے اگرسعدخلیفہ بنائے جاتے ہیں توفہوالمرادورنہ جوشخص خلیفہ بنایاجائے اس کو چاہئے کہ سعد سے مدد لے کیوں کہ میں نے سعدکوناقابلیت یاخیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیایہ حدیث پوری حضرت عثمان بن عفان کے تذکرہ میں ہوچکی ہے۔

سماک بن حرب نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ حضرت عمرنے اپنے صاحبزادے عبداللہ سے کہا کہ میراسرتکیہ سے اوتارکر زمین پررکھ دو شایداللہ میرے اوپررحم کرے عمرکی خرابی اور عمرکی ماں کی خرابی اگر اللہ عزوجل اس پررحم نہ کرے جب میں مرجاؤں تومیری آنکھیں بندکردینا اورمجھے متوسط درجہ کا کفن دینااگراللہ کے یہاں میرے لیے کچھ بھلائی ہے تومجھے اس سے بہترلباس عنایت کرےگااوراگرکوئی دوسری حالت ہوتویہ بھی چھن جائےگا اس کے بعد یہ شعر پڑھنے لگے۔

۱؎        ظلوم لنفسے غیرانی مسلم                       اصلے الصلوۃ کلہاواصوم

۱؎ ترجمہ۔میں سخت گناہ گارہوں صرف یہ ہے کہ مسلمان ہوں٘ نمازپڑھتاہوں اورروزہ رکھتاہوں۱۲۔

ہمیں ابومحمد نےخبردی وہ کہتےتھے مجھے میرےوالد نےخبردی وہ کہتےتھے ہمیں ام المجتبی علویہ نے خبردی وہ کہتی تھیں کہ میرے سامنے ابراہیم بن منصور نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہمیں ابومحمد بن مقری نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابویعلی نے خبردی وہ کہتےتھےہمیں ابوعباد قطن بن بشیرغفری نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں جعفر بن سلیمان نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ثابت نےابورافع سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ ابولولومغیرہ بن شعبہ کاغلام تھا اورچکیاں بنایاکرتاتھا مغیرہ ہرروز اس سے چاردرم لیاکرتاتھا ایک مرتبہ ابولولوحضرت عمرکے پاس آیا اورکہا یاامیرالمومنین مغیرہ نے مجھ پر بہت بھاری روزینہ باندھ دیاہے آپ ان سے کہئے کہ کچھ تخفیف کردیں حضرت عمرنےاس سے کہاخداسےڈر اوراپنےآقاکے ساتھ نیک سلوک کرمگرحضرت عمرکاارادہ یہ تھاکہ مغیرہ سے مل کر اس کےبارے میں سفارش کریں گےلیکن اس بدبخت کو غصہ آگیا اورکہنےلگاکہ عمرکا عدل سب لوگوں پر پھیلاہواہے سوامیرےاسی وقت اس کے دل میں امیرالمومنین کے قتل کاارادہ پیداہوگیا اس نے آپ کے لیے ایک خنجربنایاجس میں دونوکیں تھیں اوراس کوخوب تیزکیا اورزہرمیں بجھادیا بعداس کے ہرمزان کے پاس گیااور اس سے کہاکہ دیکھویہ خنجرکیساہے ہرمزان نے کہا کہ میرے نزدیک یہ خنجرایساہی ہے کہ جس کوماروگے مرجائے گاپس ابولولوحضرت عمرکی گھات میں رہنے لگاچنانچہ ایک روزصبح کی نماز میں حضرت عمر کے پاس پہنچا اور حضرت عمرکے پیچھے ہی کھڑاہوگیا حضرت عمرکی عادت تھی کہ نماز شروع کرنے سے پہلے کہاکرتےتھے کہ صفیں برابرکرلو عادت کے موافق انھوں نے اس روز بھی کہابعداس کے تکبیرتحریمہ کہی تکبیرکہتےہی ابولولونے وہ خنجر ان کے پہلومیں ماردیا بعض لوگوں کابیان ہے کہ چھ زخم اس نے لگائے حضرت عمرگرگئے اس بدبخت نے اپنے خنجرسے تیرہ آدمیوں کواورزخمی کیاجن میں سے سات مرگئے اور چھ اچھے ہوگئے بعد اس کے حضرت عمراٹھاکرگھرمیں لائے گئے۔

بہت لوگوں نے بیان کیاہے کہ حضرت عمرنے ابولولوسے کہاتھا کہ میرے لئے ایک چکی بنادے اور اس نے جواب دیا کہ بہت خوب میں آپ کے لیے ایسی چکی بنادوں گاکہ تمام شہروں میں اس کاچرچا ہوگا حضرت عمراس کی اس بات سے چونک اٹھے اورحضرت علی بھی ان کے ساتھ تھے حضرت علی نے کہا اے امیرالمومنین وہ آپ کوقتل کی دھمکی دیتاہے۔

کہا اورہم کوہمارے باپ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوبکرمحمدبن عبدالباقی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومحمد جوہری نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوعمر حیویہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو احمد بن معروف نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو حسن بن محمد نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن سعد نے بیان کیاوہ کہتےہم کوعبیداللہ بن موسیٰ نے اسرائیل بن یونس سے روایت کرکے خبردی انھوں نے کثیرالنوا سے انھوں نے ابوعبید مولی ابن عباس سے انھوں نے ابن عباس سے روایت کی وہ کہتے تھے میں حضرت علی کے ساتھ تھاکہ یکایک "ہائے عمر"کی آواز سنی  پس حضرت علی کھڑے ہوگئے اور میں بھی ان کے ساتھ کھڑاہوگیا اورہم دونوں اس گھرمیں آئے جس میں حضرت عمرتھے حضرت علی نے پوچھا یہ کیسی آوازتھی ایک عورت نے کہاکہ طبیب نے حضرت عمرکو نبیذ پلائی وہ نکل گئی پھر دودھ پلایاوہ بھی نکل گیااورطبیب نے یہ کہاکہ مجھے آپ کے لیے شام کی بھی امید نہیں ہے لہذا جوکچھ کرنا ہو کرلیجیےیہ سن کرام کلثوم واعمراہ (ہائے عمر)کہہ کررونے لگیں۱؎ اورتمام مکان رونے کی آواز سے گونج اٹھا حضرت عمرفرمانے لگے کہ خد اکی قسم اس وقت اگر مجھے تمام روئے زمین کی چیزیں مل جائیں تو میں اس ہولناک منظر پرجو پیش آنے والاہے فدیہ کردوں ابن عباس نے کہاخداکی قسم میں امیدرکھتاہوں کہ آپ کو کوئی ہولناک منظرنہ دیکھنا پڑےگاسوائے اس مقدارکے جواللہ تعالیٰ نے فرمایاہے۲؎  وان منکم الاواردہاجہاں تک ہماراعلم ہے آپ امیرالمومنین اورامین المومنین اورسیدالمومنین  ہیں کتاب اللہ کے موافق آپ فیصلہ کرتےتھے اوربرابری کی تقسیم کرتےتھے (ابن عباس کہتےہیں کہ)میری یہ بات حضرت عمرکواچھی معلوم ہوئی سیدھے ہوکربیٹھ گئےاورفرمایا کہ اے ابن عباس کیاتم میرے لئے اس کی گواہی دیتےہو ابن عباس کہتےہیں کہ میں نے اس کو پورے وثوق کے ساتھ بیان کیا حضرت عمرنے میرے شانےپرہاتھ پھیرا اورفرمایاکہ گواہ رہنا میں نے کہا ہاں ضرورگواہ رہوں گاپھرجب حضرت عمررضی اللہ عنہ کی روح مقدس مفارقت کرگئی تو حضرت صہیب نے ان کے جنازہ کی نمازپڑھائی اور نمازجنازہ میں چارتکبیریں کہیں۔

۱؎ شرعاً ہائے وائے کرکے رونا ممنوع ہے لیکن بسااوقات آدمی شدت غم میں مسلوب العقل ہوجاتاہے اورتکلیف شرع اس سے مرتفع ہوجاتی ہے حضرت ام کلثوم کی اس وقت یہی کیفیت تھی کہ بوجہ فرط غم کے مسلوب العقل ہوگئی تھیں ورنہ ایسانہ کرتیں۱۲۔

۲؎ترجمہ۔تم میں سے کوئی بھی نہیں ہے جس کوجہنم پرعبورنہ کرناپڑے مراد اس سے پل صراط کا عبورہو۱۲۔

ہم کوعبدالوہاب بن ہبتہ اللہ بن ابی حبہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو علی ابن اسحاق نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو عبداللہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوعلی ابن سعیدابن ابی حسین نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کرکے خبردی انھوں نے حضرت ابن عباس کوفرماتےہوئے سناکہ جب حضرت عمررضی اللہ عنہ کا جنازہ تیارہوا تولوگوں نے ان کوگھیرلیا اوردعائے رحمت کرنے لگے میں بھی ان لوگوں میں تھا یکایک ایک شخص نے آکرپیچھے سے میراشانہ پکڑلیامیں نے دیکھاتووہ علی بن ابی طالب تھے انھوں نے حضرت عمرکے لیے دعائے رحمت  کرنے کے بعد کہا کہ اے عمر تم نے اپنے بعد کسی کوایسانہیں چھوڑا کہ اس کے جیسے نامہ اعمال کی میں خواہش کروں بے شک میں نے اکثر رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے کہ کیامیں اورابوبکراورعمراورنکلامیں اورابوبکراورعمراور ایامین اورابوبکر اور عمر (غرض ہرکام میں تم دونوں کواپنے ساتھ ضرورشریک کرتےتھے)میراپہلے سے یقین تھا کہ اللہ تم کو بھی  ان دونوں کے پاس ہے جائے استراحت عنایت فرمائے گاجب حضرت عمر کی نمازجنازہ مسجد نبوی میں پڑھی گئی اورجس چارپائی پرحضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کاجنازہ گیاتھااسی پر ان کا جنازہ بھی گیااورغسل ان کو ان کے بیٹے عبداللہ نے دیاتھااوران کی قبرمیں ان کے بیٹے عبداللہ اورعثمان بن عفان اورسعیدبن زید اورعبدالرحمن بن عوف اترے تھے ابوبکربن اسمعیل بن محمد بن سعد نے روایت کی ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ ذی الحجہ کی چھبیسویں تاریخ ۲۳ھ؁ ہجری کوچہارشنبہ کے دن (صبح کی نماز میں)زخمی کیے گئے اورمحرم کی پہلی تاریخ ۲۴ھ؁ ہجری کو یک شنبہ کے روز دفن کیے گئے حضرت عمرکی خلافت کی مدت دس سال پانچ مہینہ اوراکیس دن تھے عثمان بن محمد اخمسی نے کہا یہ غلط ہے حضرت عمرکی وفات چھبیس ذی الحجہ کو ہوئی اور حضرت عثمان کے ہاتھ پر انتیس ذی الحجہ کو دوشنبہ کے دن بیعت کی گئی اورابن قتیبہ کابیان ہے کہ حضرت عمرکو ابولولو نے چھبیسویں ذی الحجہ کو دوشنبہ کے دن زخمی کیاگیاتھااس کے بعد وہ تین روززندہ رہے پھروفات ہوگئی اورحضرت صہیب نے ان کے جنازہ کی نمازپڑھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورابوبکرصدیق کے پاس دفن کیے گئے ان کی خلافت کی مدت دس سال چھ مہینہ  پانچ دن تھی بوقت وفات ان کی عمر۶۳سال تھی بعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ ان کی عمرپچپن سال تھی مگرپہلاہی قول زیادہ صحیح ہے۔

ہم کو احمد بن عثمان بن ابی علی اورحسین بن یوحن بن اتویہ بن نعمان بادردی نے خبردی وہ دونوں کہتےتھے ہم سے فضل بن محمد بن عبدالواحد بن عبدالرحمن بیلی اصبہانی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو ابوالقاسم احمد بن منصور خلیلی بلخی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوالقاسم علی بن احمد بن محمد خزاعی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم ابوسعید ہثیم بن کلیب بن شریح بن معقل شاشی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابوعیسیٰ ترمذی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمدبن بشار نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن جعفر نے شعبہ سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے ابی اسحاق سے انھوں نے عباس بن سعد سے انھوں نے جریرسے انھوں نے معاویہ  سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے ابی اسحاق سے انھوں نے عباس بن سعد سے انھوں نے جریرسے انھوں نے معاویہ سے روایت کی کہ میں نے امیرمعاویہ کو خطبہ پڑھتےوقت یہ کہتے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ۶۳ برس کی عمرمیں ہوئی اور ابوبکر اورعمررضی اللہ عنہم اورہماری عمربھی ۶۳ برس کی ہے۔قتادہ  کابیان ہے کہ حضرت عمر چہارشنبہ کو زخمی ہوئےاورپنجشنبہ کوان کی وفات ہوگئی۔حضرت عمررضی اللہ عنہ اپنے دونوں  ہاتھوں سے یکساں کام کرتےتھےاسی طرح بائیں ہاتھ سے بھی کام کرتےتھے ان کی پیشانی پربال نہ تھے آپ کاقد اس قدرلانباتھا کہ آپ سب لوگوں سے ایسے بلند ہوتے گویا آپ سواری پرہیں۔واقدی کابیان ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کارنگ چمکتاہواسفیدتھاجس پر سرخی غالب تھی اوروہ اپنی داڑھی میں زرد رنگ کاخضاب لگایاکرتےتھےان کارنگ عام الرمادہ (نام قحط سالی کا)میں سیاہ ہوگیاتھا وجہ اس کی یہ تھی کہ انھوں نے تمام زمانہ قحط سالی کے لئے گھی اوردودھ اپنے اوپرحرام کرلیاتھااورصرف روغن زیتون پرقناعت کرلی تھی اورسماک نے بیان کیاہے کہ حضرت عمرکی رفتارایسی تیزتھی کہ یہ معلوم ہوتاتھا کہ وہ کسی چیزپرسوارہیں شباہت ان کی قبیلہ بنی سدوس کے لوگوں سے ملتی تھی۔زربن حبیش نے بیان کیاہےکہ حضرت عمررضی اللہ عنہ دونوں ہاتھوں سے یکساں کام کرتےتھے رنگ گندمی تھا مگرواقدی نے بیان کیاہے کہ حضرت عمرکارنگ گندمی ہوناہمارے نزدیک غیرمعروف ہے شاید ان کو کسی نے زمانہ قحط سالی میں دیکھاہوگا(اس نےان کا رنگ گندمی بیان کیاہے)ابوعمر نے لکھاہے کہ زرابن حبیش وغیرہ نے حضرت عمرکارنگ شدت کے ساتھ گندمی بیان کیاہے اور یہی اہل علم کے نزدیک مشہورہے حضرت انس نے بیان کیاہے کہ حضرت عمرخالص مہندی کاخضاب لگایاکرتے تھےحضرت عمرسب سے پہلے شخص ہیں جنھوں نے درہ ہاتھ میں رکھناشروع کیااوروہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے نماز تراویح کی ترویج کی اوروہ پہلے شخص ہیں جوامیرالمومنین کے لقب سے ملقب ہوئے شعرانے ان کے مرثیہ بہت موزوں کئے منجملہ ان کے حضرت حسان بن ثابت انصاری کامرثیہ یہ ہے۔

۱؎                     ثلثتر برزوابفضلہم                                      نضرہم ربہم اذانشروا

                        ینکرتفضیلہم اذاذکروا                            عاشوابلافرقتہ ثلثتہم

                        فلیس من مون و بصر                                    واجتمعوا فی الممات اذقبروا

اور عاتکہ بنت زید بن عمروبن نفیل نے جوحضرت عمربن خطاب کی زوجہ تھیں یہ مرثیہ کہاہے۔

۲؎        عین جودی بعبرۃ ویخیب                                                لاتملی علی الامام النجیب

                        المعلم یوم الحیاج والتلبیب                عصمتہ الناس والمعین علی

                        فجمعتنی للنون بالفارس                           الدھروحیث المنتاب والمحروب

۱؎ترجمہ۔تین آدمی تھے جواپنےفضائل کے ساتھ ظاہرہوئے (یعنی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکروعمررضی اللہ عنہما)تروتازہ رکھاان کوان کے پروردگارنے جبکہ وہ ظاہرہوئے٘کوئی مومن صاحب بصیرت ایسانہیں ہے جوان تینوں کے فضائل کا منکرہو٘یہ تینوں زندگی میں بھی ایک دوسرے سے جدانہیں ہوئے اورموت کے بعدقبرمیں پھرمل گئے۱۲۔

۲؎ترجمہ۔اے آنکھ عبرت اورسختی کے ساتھ آنسوبہاامام برگزیدہ کے لیے رونے میں تاخیر نہ کر۔ اے شخص تونے مجھ کو اس کی خبرغم سنائی جس کی تلوارملک فارس میں چمکتی تھی اورمیدان کارزار کا وہ معلم تھا۔لوگوں کے لیے جائے پناہ اورمصائب دہرپرلوگوں کی اعانت کرنے والااورآفت رسیدوں کا فریادرس تھا۱۲۔

(اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)

Comments