Hazrat Molana Jalaluddin Muhammad Balkhi

حضرت مولانا جلال الدین محمد   البلخی علیہ الرحمۃ

          مولانا کی ولادت ۶ربیع الاول ۶۰۴ھ کو بلخ میں ہوئی ہے۔کہتے ہیں کہ مولانا پانچ سال کی عمر میں روحانی صورتوں اور غیبی شکلوں،یعنی ملائکہ لکھنے والوں نیک کاروں،جنوں،خواص انسانوں پر جوکہ عزت کے قبوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ظاہر ہوا کرتے تھے۔اور ان کے ہم شکل بن جایا کرتے تھے۔مولانا بہاؤ الدین کی تحریر میں یہ لکھ ہوا پایا گیا ہے کہ جلال الدین محمد شہر بلخ میں چھ سال کے تھے۔جمعہ کے دن چند اور لڑکوں کے ساتھ ہمارے گھروں کے کوٹھوں پر سیر کر رہے تھے۔ایک بچہ نے دوسرے بچہ سے کہاآ، اس مکان سے دوسرے مکان پر کود جائیں۔جلال الدین محمد ؑ نے کہا،اس قسم کی حرکت تو کتے،بلی اور جانوروں میں ہوتی ہے۔افسوس ہے کہ آدمی اس میں مشغول ہوجائے،اگر تمہاری جان میں قوت ہے،تو آؤ آسمان پر اڑیں۔اس حالت میں بچوں کی نگاہ سے غائب ہوگئے۔بچے فریاد کرنے لگے۔ایک لحظہ کے بعد ان کا رنگ اور طرح کا اور آنکھیں بدلی ہوئی واپس آئے اور کہا،جب مین تم سے باتیں کرتا تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک جماعت سبز کپڑے پہنے ہوئے آکر مجھے کو تم سے اٹھا کر لے گئی ہےاور آسمانوں کے گرد اگرد چکر دیا۔عالم بالا کے عجائبات مجھ کو دکھائے،لیکن جب تمہاری فریاد کی آواز سنی،تو پھر اسی جگہ اتار لائے۔کہتے ہیں کہ اسی عمر میں تین چار دن میں ایک دفعہ کھایا کرتے تھے کہ جب آپ مکہ معظمہ گئے۔میں نیشاپور میں شیخ فریدالدین عطار کی صحبت میں پہنچے تھے۔شیخ نے "کتاب اسرار نامہ"ان کو دی تھی۔جس کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔مولوی کہتے ہیں کہ میں یہ جسم نہیں ہوں کہ عاشقوں کی نگاہ میں منظور ہوں۔بلکہ وہ ذوق اور وہ خوشی ہوں  کہ مریدوں کے باطن میں میرے کلام سے سر نکالتا ہے۔اللہ اللہ جب اس دم کو پائے،اور اس ذوق کو چکھے ،تو غنیمت سمجھ اور شکر کر کہ وہ میں ہوں۔مولوی کی خدمت میں لوگوں نے کہا۔گلاں شخص کہتا ہے،میرا دل و جان خدمت میں ہے۔فرمایا کہ چپ رہو۔لوگوں  میں یہ بات کہنا ،جھوٹ مشابہ ہے۔جو یہ کہتے ہیں،اس نے ایسا دل و جان کہا ں سے پایا کہ مردان کدا کی خدمت میں رہے۔اس کے بعد حسام الدین چلپی کی طرف متوجہ ہو کر کہا،اللہ اللہ ! اولیا ء خدا کے ساتھ زانو بزانو ہو کر بیٹھنا  چاہیے۔کیونکہ اس قرب کے بڑے آثار ہیں۔رباعی

                   یکے  لحظہ  ازو  دوری  نشاید                 کہ از  دوری خرا  بیہا  فزاید

                   بہر حالیکہ باشی پیش اوباش              کہ ازنزدیک بودن مہر زاید

          آپ فرماتے ہیں۔جو پرندہ زمین سے اوپر کو اڑے۔اگرچہ آسمان تک نہ پہنچے،مگر اس قدر تو ہوتا ہے کہ جال سے بہت دور جا رہتا ہے۔اس طرح اگر کوئی درویش ہوجائے اور کمال درویشی تک گو نہ پہنچے ،مگر اس قدر تو ہوجاتا ہے کہ مخلوق اور بازاری لوگوں کے گروہ سے ممتاز ہوتا ہے۔دنیا کی زحمتوں سے چھوٹ جاتا ہےاور ہلکا ہوجاتا ہے۔کیونکہ آیاہے،نجا المخففون وھلک المشقلون یعنی ہلکے نجات پا گئےاور بھاری ہلاک ہوگئے۔ایک دنیا وار اور مولانا کی خدمت مین آکر عذر کرنے لگا کہ میں خدمت کرنے سے قصوروار ہوں۔آپ نے فرمایا،عذر کرنے کی ضرورت نہیں۔جس قدر کے اور لوگ تمہارے آنے سے احسان مند ہوتے ہیں۔ہم اسی قدر نہ آنے سے احسان مند ہیں۔ایک دوست کو غمناک دیکھا،تو فرمایا کہ یہ ساری دل بستگی اس جہان کی محبت کی وجہ سے ہے۔مردمی یہ ہے کہ اس جہان سے آزاد رہے۔اپنے آپ کو مسافر سمجھے۔ہر رنگ میں کہ دیکھے،اور ہر مزہ کے چکھے جان لے کہ اس کے ساتھ نہ رہے گا۔پھر دوبارہ کبھی دلتسنگ نہ ہوگا۔فرماتے ہیں کہ آزاد مردہ وہ ہے کہ کسی کی تکلیف دینے سے رنجیدہ نہ ہو۔جوان مرد وہ ہے کہ تکلیف دینے کے مستحق کو تکلیف نہ دے۔مولانا سراج الدین قونوی صاحب صدر اور بزرگ وقت تھے،لیکن مولوی سے خوش نہ تھے۔لوگوں نے ان کے سامنے بیان کیا کہ مولانا یہ کہتے ہیں۔میں تہتر مذہب کے ساتھ ایک ہوں۔جب وہ صاحب غرض تھے۔چاہا کہ مولانا کو تکلیف دے اور اور بے عزت کرے۔اپنے مقربوں میں سے ایک شخص کو جو بڑا دانا عالم تھا۔بھیجا کہ سب کے سامنے مولانا سے پوچھ کہ  تم نے ایسا کہا ہے کہ میں تہتر مذاہب سے ایک ہوں۔مولانا نے کہا،ہاں میں نے کہا ہے۔اس شخص نے زبان کھولی اور گالیاں اور کمینہ پن کرنے لگا۔مولانا ہینس پڑے،اور فرمایا کہ میں اس کے ساتھ بھی جو تم کہتے ہوں،ایک ہوں۔وہ شخص شرمندہ ہوگیا اور واپس چلاگیا۔شیخ رکن الدین علاؤالدولہ کہتے ہین کہ مجھ کو یہ بات بہت اچھی معلوم ہوئی۔مولوی خادم سے ہمیشہ یہ سوال کرتے کہ آج ہمارے گھر میں کچھ ہے،اگر کہتا کہ خیر ہے،اور کچھ چیز نہیں،تو خوش ہوتے اور شکر کرتے کہ الحمدللہ آج ہمارا گھرمحمدﷺکے گھر کے مشابہ اور اگر کہتا کہ آج باورچی خانہ کی ضرورت کے موافق ہے ،تو شرمندہ ہوتے اور فرماتے  کہ اس گھر سے فرعون کی بو آتی ہے۔کہتے ہیں،آپ کی مجلس میں شمع نہ جلاتے تھے،مگر اتفاقیہ ۔روغن و چراغ کے بغیر کہتے کہ ھذا للملوک ھذا الصعلوک یعنی یہ بادشاہ ہونے کے لیے رہے،اور یہ مفلسوں کے لیے ۔ایک دن آپ کی مجلس میں شیخ اوحد الدین کرمانی رحمتہ اللہ کی حکایت بیان کرتے تھے کہ وہ مرد شاہد باز تھے،لیکن پاکباز تھے۔ناشائستہ کام نہ کرتے تھے۔فرمایا،کاش کرتے اور گذر جاتے۔

                   اے برادر بے نہایت در گہے است                بر ہر آنچہ مے رسی بردے مایست

          ایک دن فرماتے تھے کہ ارباب کی آواز بہشت کی دروازے کی آواز ہے،جو ہم سنتے ہیں۔ایک منکر نے کہا،ہم بھی وہی آوازسنتے ہیں،لیکن یہ کیا بات ہے کہ ہم ویسے گرم نہیں ہوتے،جیسے مولانا ہوتے ہیں۔مولوی نے فرمایا،ہر گز نہین۔حاشاکہ جو کچھ ہم سنتے ہیں،وہ اس کے کھلنے کی آواز ہے،جو کچھ وہ سنتا ہے،وہ اس کے بند ہونے کی آواز ہے۔فرماتے ہیں کہ ایک شخص ایک درویش کی خلوت میں آیا اور کہا ،تنہا کیوں بیٹھا ہے؟کہا،اس وقت جو تو آیا ہے اور خدا سے مجھے روکا ہے،تنہا ہوا ہوں۔ایک جماعت نے مولوی ؒ سے امامت کی درخواست کی ۔شیخ صدر الدین قونیوی بھی اس مجلس میں تھے۔کہا،ہم ابدال لوگ ہیں۔جہاں جاتے ہیں،وہی بیٹھ جاتے ہیںاور وہی اٹھتے ہیں۔امامت کے لیے تصوف و تمکین کے لوگ مناسب ہیں۔شیخ صدر الدین کو اشارہ کیا۔یہاں تک کہ وہ امام بنے۔فرمایا،من صلی خلف امام تقی فکانما صلی خلف نبی یعنی جس متقی امام کے پیچھے نماز پڑھی،تو گویا اس نے نبی کے پیچھے نماز پڑھی۔مولانا سماع میں تھے۔ایک درویش کے دم میں یہ گذرا کہ آپ سے سوال کرے۔فقر کیا چیز ہے؟مولانا نے سماع کی حالت میں یہ رباعی پڑھی۔

                   الجوھر فقر وسوی الفقر عرض                     الفقر شفاء وسوی الفقر مرض

                   العالم    کلہ    خداع     و  غرور                            والفقر من  العالم  سی  و غرض

          یعنی جو ہر تو فقر ہے اور فقر کے سوا تو سب عرض ہے،فقر شفا ہے،ففقر کے سوا مرض ہے۔جہاں تمام دھوکا فریب ہے،فقر جہان کا بھید اور غرض ہے۔آپ سے پوچھا گیا کہ درویش گناہ کرتا ہے؟فرمایا،نہیں،مگر اس وقت کہ بے بھوک کھانا کھائے۔کیونکہ بغیر بھوک کے کھانا کھانا ،درویش کے لیے بڑا گناہ ہے۔فرمایا کہ صحبت پیاری شے ہے،لاتصا حبو اغیر ابنا الجنس یعنی ناجنسوں کے ساتھ صحبت نہ رکھو،اور کہا،اس بارے میں میرے  خداوند شمس الدین تبریزی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ مرید مقبول کی علامت یہ ہے کہ ہر گز بیگانہ مردوں کی صحبت میں نہ جاسکے،اگر اتفاقاً کبھی بیگانہ صحبت میں جا پھنسے ،تو ایسا بیٹھے۔جیسا منافق مسجد میں جا بیٹھا ہے،اور بچہ مکتب میں قیدی قید خانہ میں۔آخیر مرض اپنے اسباب سے کہا کہ میرے فوت ہونے سے غمناک نہ ہوناکہ منصور ؒ کی روح نے ڈیڑھ سو سال کے بعد شیخ فرید الدین عطار کی روح پر تجلی کی اور اس کی مرشد بنی۔جس حالت میں کہ رہو،میرے ساتھ رہنا اور مجھے یاد کرنا۔تاکہ میں تمہارا مدد گار معاون بنوں گا۔خواہ کسی لباس میں ہوگا۔اور فرمایا کہ جہاں میں تمہارے دو تعلق ہیں۔ایک تو بدن کے ساتھ اور دوسرا تمہارے ساتھ اور جب حق سبحانہ کی مہربانی سے فرد اور مجرو ہوتا ہوں اور تجرید و تفرید کا عالم نظر آتا ہے۔وہ تعلق بھی تمہاری ملک ہوجائے گا۔شیخ صدر الدین آپ کی عبادت کو آئے تو فرمایا شغالک اللہ عاجلاً یعنی خدا تم کو جلد شفا دے۔آپ کے درجات بلند ہوں،امید ہے کہ صحبت ہوگی۔مولانا جہان کی جان ہے۔فرمایا کہ اس کے بعد شفاک اللہ تمہارے لیے ہو۔بےشک عاشق و معشوق کے درمیان شعر سے بڑھ کر کوئی پردا نہیں رہا۔تم نہیںچانہتے کہ نور نور سے مل جائے۔

                   من شدم عریاں زتن اواز خیال                  می خرامم درنہایات الوصال

          شیخ اصحاب کے ساتھ مل کر رونے لگے۔حضرت مولانا نے یہ غزل کہی۔

                   چہ    دانی    تو کہ    در    باطن                             چہ   شاہے   ہم   نشین   دارم

          مولانا نے اصحاب کی وصیت میں ایسا فرمایا،اوصیکم بتقوی اللہ فی السر والعلا ینۃ وبقلۃ الطعام وقلۃ الکلام وھجریان المعاصی والا نام ومو اظب الصیام  ودو ام القیام قترک الشھوات علے الدوام و احتمال الجفاءمن جمیع  الانام وترک  مجالستۃ السفھاء والعوام و مصاحبہ الصالحین والکرام وان خیر الناس من ینفع الناس وخیر  الکلام ماقل ودل و الحمد للہ وحدہ یعنی میں تم کو وسیت کرتا ہوں کہ  خدا سے باطن اور ظاہر میں ڈرتے ہو،تھوڑا کھانا کھایا کرو،تھوڑا سویا کرو،تھوری باتیں کیا کرواور گناہ چھوڑ دو۔ہمیشہ روزہ رکھا کرو،ہمیشہ قیام شب کیا کرو،ہمیشہ شہوت کو چھوڑدو،سب لوگوں کا ظلم اٹھاتے رہو،کمینوں اور عام کی مجلس ترک کر دو،نیک بختوں اور بززگوں کی صحبت رکھو۔بہتر وہ شخص ہے، جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔بہتر کلام وہ ہےکہ جو تھوڑااور بامعنی ہو اور خدا اکیلے کی تعریف ہے۔سوال کیا گیا کہ مولوی ؒ کی خلافت کے لیے کوئی شخص مناسب ہے؟  فرمایا"چلپی حسام الدین۔تین دفعہ یہی سوال و جواب مکرر ہوا۔چوتھی دفعہ لوگوں نے کہا کہ سلطان ولد کی نسبت آپ کیا فرماتے ہیں؟آپ نے فرمایا کہ وہ پہلوان ہے"وصیت کی حاجت نہیں۔چلپی حسام الدین نے پوچھا کہ آپ کی نماز کون پڑھائےگا؟فرمایا"شیخ صدر الدین اور فرمایا"یا تو مجھے ادھرکھینچتے ہیں"اور مولانا شمس الدین اس طرف بلاتےہیں۔یاقو منااجیبواداعی اللہیعنی اے ہماری  قوم کے پکارنے والے کی بات سنو"ضرور چلے جانا ہے۔آپ آفتاب کے غروب کے وقت ۵ جمادی الاخر ۶۷۶ھ میں فوت ہوئے۔شیخ  مویدالدین جندی سے سوال کیا گیا کہ شیخ صدر الدین مولویؒ کیشان میں کیا کہتے تھے؟کہا"واللہ ایک دن شیخ اپنے خاص یاروں جیسے شمس الدین ایکی ایک"فخر الدین عراقی "شرف الدین موصلی"شیخ سعید فرغانی وغیرہ ہم بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں مولانا  کی عادت و طبیعت کی نسبت باتیں ہونے لگیں۔حضرت شیخ نے فرمایا"اگر بایزید اوربسطامیؒ اس زمانے میں ہوتے" تو اس مرد مردانہ  کے غاشیہ بردار ہوتے اور اس کو بڑا احسان سمجھتے۔فقر محمدی کا خوان سالاروہ ہے۔ہم اس کی طفیل سے مزے لے رہے ہیں۔تمام مریدوں نے اس کا انصاف کیا اور شاباش کہا۔اس کے بعد شیخ موید نے کہا میں بھی اس سلطان کے نیاز مندوں میں سے ہوں اور یہ شعر پڑھا۔

لوکان فینا للالوھیۃ صورۃ       ھی انت لا اکنی ولا انردد

یعنی اگر ہم میں خدائی کے لیے کوئی صورت ہوتی" تو وہ ہم ہی ہوتے"نہ اس میں کنایہ کرتاہوں اور نہ ترود۔

(نفحاتُ الاُنس)

Comments