Hazrat Molana Ghulam Jilani Meerthi 2

حضرت سید غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اﷲ علیہ

٭…… مخدومِ ملت،فخرالمتکلمین،عمدۃ المحققین،استاذالاساتذہ ، صدر ا لعلماء، امام النحو،حضرت علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اﷲ علیہ کی ولادت با سعادت۱۱رمضان المبارک ۱۳۱۷ ھ بمطابق ۰ ۱۹۰ ء کودادوں (ریاست علی گڑھ ) ہند میں ہوئی ۔

٭……آپ رحمۃ اﷲ علیہ کی ابتدائی تعلیم تربیت گھر پر ہوئی ،بعد ازاں اجمیر ومرادآباد میں وقت کی نامور درس گاہوں مایہ ناز علماء سے اکتسابِ فیض کیا،دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی سے سندِ فراغت حاصل کی،حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خان نے دستارِ فضیلت سے نوازا،قدوۃ السالکین اشرف المشائخ سید علی حسین کچھوچھوی رحمۃ اﷲ علیہ سے بیعت وخلافت سے مشرف ہوئے،آپ کے اساتذہ میں صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی اور صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اﷲ علیہ کانام محتاجِ تعارف نہیں، آپ علم وفضل میں یگانۂ روزگار اور اپنے دور کے امام النحو ہیں،جاہ وحشم ،علم وفضل آپ کی ذات سے نمایاں اور تاباں تھا،بلند وبالا منصب پر پہنچ کر اطراف واکنافِ عالم میں مشہور ہوئے،آپ کی شخصیت خواص وعوام میں صدرالعلماء سے متعارف ہے۔

٭……آپ رحمۃ اﷲ علیہ تا حیات درس وتدریس سے منسلک رہے،اپنے علمی خزانہ کے گوہرہائے آبدار کی چمک سے رشد وہدایات کے مینار تعمیر کئے ،علوم وفنون کے دریا بہائے، مسندِ تدریس کو عروج وکمال تک پہنچایا،ترقی کی بلند ترین منازل سے مزین کیا،آپ کی ذات ملجائے خواص وعوام اور مرجعِ اصاغر واکابرتھی،وقت کے ممتاز علماء وفقہاء نے آپ کے سامنے زانوئے علم وادب تہہ کئے،آپ کی کوششوں سے علوم وفنون کی ترویج ہوئی، آپ کی علمی بصیرت اور دینی خدمات کا زمانہ معترف ہے،آپ کی مثالی اور عبقری شخصیت نے تحقیقی اور تجدیدی خدمات سے علم میں ایک نئی جان ڈال دی،آپ کی تصنیفات میں سے ’’البشیرالقاری شرح صحیح البخاری،البشیر الناجیہ ،البشیرالکامل‘‘ کی جہاں میں دھوم مچی ہے ۔

٭……آپ رحمۃ اﷲ علیہ نے ۲۹ جمادی الاولی ۱۳۸۹ ھ بمطابق ۸مئی۱۹۷۳ ء کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک مدرسہ اسلامیہ عربیہ اندر کوٹ میرٹھ (ہند) میں زیارت گاہِ خواص وعوام ہے

 

Comments