Hazrat Sheikh Maroof Karkhi 3

حضرتِ سیِّدُناشیخ معروف کرخی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی وِلادت مقامِ کرخ میں ہوئی ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نام اسد الدین ہے لیکن معروف کرخی کے نام سے مشہور ہیں۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کنیت ابومحفوظ ہے۔آپ کے والدِ ماجد کا نام فیروز ہے۔

قبولِ اسلام کا واقعہ
ابتداء میں حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ غیر مسلم تھے مگر بچپن ہی سے آپ کے قلب وجگر میں اسلام کی تڑپ اور جوش و عقیدت موجود تھی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسلمان بچوں کے ساتھ نماز پڑھتے اور ماں باپ کو اسلام کی ترغیب دیتے رہتے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والدین نے ایک عیسائی معلم کے پاس آپ کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے بٹھا دیا۔اس معلم نے پہلے آپ سے سوال کیا کہ بچے! یہ بتاؤ کہ تمہارے گھر میں کتنے افراد ہیں؟آپ نے کہا :""میں ، میرے والد اور میری والدہ کل تین افراد ہیں ۔""وہ کہنے لگا:""تو تم کہو ""ثَالِثُ ثَلَا ثَۃٍ "" یعنی عیسیٰ تین خداؤں میں تیسرا ہے ۔""آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:""میری غیرت نے یہ گوارہ نہ کیا کہ ایک کے سوا دوسرے کو رب مانوں، اس لئے میں نے فوراً انکار کر دیا۔ اس پر معلم نے مجھ کو مارنا شروع کیا۔ وہ جس شدت سے مارتا میں اسی جرأت سے انکار کرتا ۔آخر عاجز ہو کر اس نے میرے والدین سے کہا کہ اس کو قید کر دو۔تین روز تک قید میں رہا اور ہر روز ایک روٹی ملتی تھی مگر میں نے اس کو چھوا تک نہیں ۔ جب مجھے وہاں سے نکالا گیا تو میں بھاگ گیا ۔چونکہ میں والدین کا ایک ہی بیٹا تھا اس لئے میری جدائی سے انہیں سخت قلق ہوا ۔وہ کہنے لگے :""ہمارا بیٹا جہاں بھی گیاہے ہمارے پاس لوٹ توآئے ،وہ جس مذہب کو چاہے اختیار کرے ہم بھی اسی کے ساتھ اپنا دین تبدیل کردیں گے۔"" جب میں حضرت سیدنا امام علی رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دست مبارک پر داخلِ اسلام ہو کر ایمان کی انمول دولت کو اپنے سینے سے لگائے گھر واپس ہوا ،میرے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے الحمد للہ عَزَّوَجَلَّ میرے والدین بھی مسلمان ہو گئے۔

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مکمل تعلیم وتربیت حضرت سیدنا امام علی رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے زیرِ سایہ پائی اور علمِ طریقت کے لئے حضرت سیِّدُنا حبیب راعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے زانوئے تلمذطے کئے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عارفِ اسرارِ معرفت، قطبِ وقت اور بدرِ طریقت تھے۔

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال شریف ۲محرم الحرام ۲۰۰ھ کو ہوا ۔آپ کا مزار شریف بغدادِ معلی میں زیارت گاہِ خلائق ہے۔حضرت سیدنا خطیب بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں :""آپ کی قبرمبارک حاجتیں اور ضرورتیں پوری ہونے کے لئے مجرّب (یعنی آزمودہ)ہے۔""

(شرح شجرہ قادریہ عطاریہ)

آپ امام الصدیقین، شمس العارفین، سلطان المتعبدین، رئیس السّالکین، سیّد الاولیا، عمدۃ الاتقیا، مقتدائے صدرِ طریقت، رہنمائے راہِ حقیقت مہبطِ انوارِ الٰہی، مصدرِ اسرارِ نا متناہی، کرامات و ریاضات میں مشہور، اور فتوٰے و تقوٰے میں آیتِ عظیم تھے، مقامِ شوق و اُنس میں درجہ اعلیٰ رکھتے تھے، آپ حضرت خواجہ شیخ داوٗد طائی رحمۃ اللہ  علیہ کے مرید و خلیفہ اکبر و جانشینِ اعظم تھے۔

نام و نسب

آپ کا نامِ نامی معروف، کنیت ابو المحفوظ، لقب اسد الدین۔ [۱] [۱۔ آئینہ تصوف ۱۲]

والد بزرگوار کا نام فیروز یا فیروزان تھا، مذہب نصارٰے رکھتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد ان کا نام علی رکھا گیا، جد امجد کا نام مرزبان الکرخی تھا۔

ف     کرخ ایک گاؤں ہے قریب بغداد کے، اور بعض کہتے ہیں کہ بغداد کے ایک محلہ کا نام ہے جہاں آپ کے آبا و اجداد سکونت رکھتے تھے۔ [۱] [۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ۱۲]

ولادت

آپ کے والد فیروز کرخی کو حضرت شیخ داوٗد طائی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی روٹی سے ایک تکڑا تبرک دیا تھا، انہوں نے کھا کر اپنی اہلیہ سے صحبت کی، اُسی رات آپ کا نورِ ولایت رحمِ والدہ میں جا گزین ہوا، اور بوقتِ سعید ماہِ عید کی طرح طلوع ہوا۔ [۱] [۱۔ تذکرۃ الاولیا ۱۲ شرافت]

تحصیلِ علوم

چونکہ آپ کے والدین ترسا تھے اس لیے انہوں نے ایک نصرانی عالِم کے پاس آپ کو تعلیم کے لیے سپرد کیا، اُستاد نے کہا کہو ثالث ثلاثۃ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ ھو اللہ الاحد بہتیرا معلم نے سمجھایا مگر آپ تثلیث کے قائل نہ ہوئے، توحید کا اقرار کرتے رہے، اوستاد نے ایک دن تنگ آکر آپ کو مارا، آپ اُس سے بھاگ گئے۔

قبولِ اسلام

اور حضرت امام علی رضا علیہ السّلام کی خدمت میں پہنچے، اور ان کے دست حق پرست پر دین نصارٰے سے توبہ کی، اور اسلام قبول کیا، حضرت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ آپ سے محبت رکھتے، اور آپ پر نہایت شفقت و عنایت فرماتے، آپ نے ان کی خدمتِ دربانی اختیار کی، اور تربیت ظاہری و باطنی پاتے رہے۔

اسلامِ والدین

آپ مسلمان ہونے کے بعد اپنے ماں باپ کے گھر واپس آئے اور دستک دی، انہوں نے پوچھا کون ہے؟ فرمایا معروف! پوچھا کس دین پر، فرمایا دین اسلام پر، پس وہ دونو بھی مشرف با سلام ہوئے۔

بیعت و خلافت

آپ نے بیعت طریقت حضرت خواجہ شیخ ابو سلیمان داوٗد بن نصیر طائی رحمۃ اللہ علیہ سے کی، اور ان کی صحبت میں رہ کر خرقہ خلافت و اجازت حاصل کیا۔

بیعتِ روحی

آپ کو روحی بیعت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ  وآلہٖ وسلم اور اصحابِ سبعہ رضی اللہ عنہم اور حضرات امامین ہمامین علیہم السّلام سے تھی۔

مشائخ صحبت

علامہ ابن الندیم رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ آپ کو شیخ فرقد سنجی رحمۃ اللہ علیہ سے فیض پہنچا ہے، نیز ابو العباس محمد سماک رحمۃ اللہ علیہ اور شیران المانی رحمۃ اللہ علیہ اور خواجہ شمس الدین سجا وندی سے بھی بہرہ مند ہوئے۔ اکثر صحبت و معیت آپ کی حضرت امام ابو الحسن علی رضا رضی اللہ عنہ سے تھی، ان کی صحبت میں رہ کر تکمیل علوم ظاہری و باطنی فرمائی، اور ریاضت و عبادت کا طریقہ سیکھ کر صدق و صفا میں قدم رکھا حتّٰی کہ درجہ کمال کو پہنچ کر پیشوائے طریقت و مقتدائے حقیقت ہوئے، اور حضرت امام رضی اللہ عنہ سے بھی خرقہ پہنا، اور اجازتِ طریقۂ اہل بیت حاصل کی۔

طہارت

آپ ہمیشہ با وضو رہتے تھے، ایک بار عین دجلہ پر آپ کا وضو جاتا رہا، آپ نے اُسی دم تیمم کیا، اور وضو کو چلے، حاضرین نے کہا جس حال میں کہ دس قدم پر دریا کا پانی موجود ہے تو تیمم کی کیا ضرورت تھی، فرمایا زندگی کا کیا بھروسا، شائد پانی تک پہنچتے پہنچتے میری موت آجاتی تو میں بے وضو مرتا، اسی لیے میں نے تیمم کر لیا ہے۔ [۱] [۱۔ تذکرۃ الاولیاء ۱۲ شرافت]

روزہ و رغبتِ دُعا

آپ صائم الدہر تھے، ایک روز ظہر کے وقت بازار میں گئے، ایک سَقّہ نے کہا رحم اللہ من شرب یعنی خدا اس پر رحم کرے جو یہ پانی پئے، آپ نے پانی لے کر پی لیا، لوگوں نے کہا آپ تو روزہ سے تھے، فرمایا ہاں، لیکن میں نے اُس کی دعا پر رغبت کی۔

کہتے ہیں کہ جب آپ نے وفات پائی، لوگوں نے آپ کو خواب میں دیکھا، پوچھا خدا تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا، فرمایا مجھے اُس سقہ کی دعا کی برکت سے بخش دیا۔ [۱] [۱۔ تذکرۃ الاولیاء ۱۲ شرافت]

حلم و بُرد باری

ایک روز آپ اپنا مصلّٰے و قرآن مجید مسجد میں چھوڑ کر طہارت کے لیے دجلہ پر گئے، پیچھے سے ایک بڑھیا آئی اور مصلّٰے و قرآن مجید لے کر چلتی ہوئی، آپ دیکھ کر اس کے پیچھے پیچھے چلے، جب قریب پہنچے آنکھیں نیچی کر کے اس سے پوچھا کہ آپ کا کوئی لڑکا قرآن مجید پڑھتا ہے؟ بڑھیا نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا تو آپ قرآن مجید لے کے کیا کریں گی، قرآن مجید مجھے دیجیے اور مصلّٰے آپ لے لیجیے، وہ آپ کے حلم اور بردباری سے متعجب ہوئی اور دونو چیزیں چھوڑ کر چلی گئی۔ [۱] [۱۔ تذکرۃ الاولیاء ۱۲ شرافت]

پردہ پوشی

ایک روز آپ کی خانقاہ میں ایک مسافر آیا، اس کو سمت قبلہ معلوم نہ تھی، اُس نے دوسری سمت پر نماز پڑھ لی، جب اس کو اپنی غلطی معلوم ہوئی تو شرمندہ ہوکر آپ سے کہنے لگا کہ آپ نے مجھے کیوں نہ اطلاع دی، آپ نے فرمایا درویش کو تصرّف سے یعنی کسی کے کام میں دخل دینے سے کیا کام؟ اور اس مسافر کے ساتھ نہایت مہربانی سے پیش آئے۔ [۱] [۱۔ تذکرۃ الاولیاء ۱۲ شرافت]

انکسار

آپ کے ماموں حاکم شہر تھے، انہوں نے ایک دن دیکھا کہ آپ ویرانہ میں بیٹھے روٹی کھا رہے ہیں، ایک کُتا سامنے بیٹھا ہے، ایک نوالہ اپنے منہ میں ڈالتے ہیں اور ایک کتے کے منہ میں دیتے ہیں، انہوں نے کہا معروف! تجھے شرم نہیں آتی کہ کتے کے ساتھ کھا رہا ہے آپ نے فرمایا میں شرم کے باعث ہی ایسا کر رہا ہوں۔ [۱] [۱۔ تذکرۃ الاولیاء ۱۲]

حَیا

اُس وقت آپ نے سَر اٹھایا، ایک پرندہ اڑ رہا تھا اُس کو آواز دی وہ آکر آپ کے ہاتھ پر بیٹھ گیا، اور پروں سے اپنی آنکھوں اور منہ کو چھپالیا، آپ نے فرمایا دیکھو جو اللہ تعالیٰ سے شرم رکھتا ہے، اس سے ساری چیزیں شرم کرتی ہیں، آپ کے ماموں اپنی بات سے شرمندہ ہوئے۔ [۱] [۱۔ تذکرۃ الاولیاء ۱۲]

یتیم پروری

حضرت شیخ سَری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے عید کے روز دیکھا کہ آپ کھجوریں چن رہے ہیں، میں نے عرض کیا یہ آپ کیا کرتے ہیں، فرمایا میں نے اِس لڑکے کو روتے دیکھا، پوچھا تو کیوں روتا ہے، اس نے کہا میں یتیم ہوں، آج اور لڑکے عمدہ عمدہ لباس پہنے ہوئے ہیں، اور میرے پاس کچھ نہیں، پس میں یہ کھجوریں اس لیے چنتا ہوں کہ بیچ کر اِس کو جَوزلے دوں تاکہ اس سے کھیلے اور نہ روئے۔ [۱] [۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ۱۲ شرافت]

ذوق و شوق

ایک بار آپ حالتِ ذوق و شوق میں ایک ستون کو لپٹ گئے، اور اس کو ایسا بھینچا کہ قریب تھا کہ وہ ستون پارہ پارہ ہوجائے۔ [۱] [۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ۱۲ شرافت]

طعام

ایک روز آپ کھانا کھا رہے تھے، کسی نے پوچھا کیا کھاتے ہیں، فرمایا میں مہمان ہوں جو کچھ کھلاتے ہیں کھاتا ہوں۔ [۱] [۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ۱۲ شرافت]

نفس سے خطاب

ایک روز آپ اپنے نفس سے فرما رہے تھے اے نفس مجھے خلاصی دے کہ اس میں تیری بھی خلاصی ہے۔ [۱] [۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ۱۲ شرافت]

تجرید

آپ تجرید میں یگانہ عصر تھے، اور اسی قوّتِ تجرید سے بعد از وفات بھی تِریاقِ مجرّب ہوئے۔ [۱] [۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ۱۲ شرافت]

 

مقاماتِ فقر

تجلّٰے ذات

آپ کو حضرت خضرت علیہ السّلام کی طرح تجلے ذاتِ اقدس ہوکر وصل ہوا۔ [۱] [۱۔ آئینہ تصوّف ۱۲]

کرامات

کتاب آئینہ تصوّف میں ہے کہ آپ سے پینسٹھ (۶۵) خوارق ظہور میں آئے، ازانجملہ

استجابتِ دعا

ایک چور کو پھانسی دی گئی تھی، آپ اُس طرف سے گذرے، چور کو پھانسی پر دیکھ کر بیتاب ہوگئے، اور اس کے واسطے دعا کی کہ الٰہی یہ اپنے کیے کی سزا پا چکا، اب اس کی خطا سے در گذر، اور اس کو مغرز دارین کر، پس یکا یک شہر والوں کو منادی غیب نے ندا دی کہ جو اس چور کی نماز  پڑھے گا وہ جنتی ہوگا، تمام شہر والے جمع ہوگئے اور چور کو ہاتھوں ہاتھ پھانسی پر سے اتار کر بخوبی غسل دے کے کفناد فنا دیا، بعد اس کے کسی نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہے، اور وہ چور معہ تمام نمازیوں کے کمال زرق برق پوشاک سے وہاں جلوہ افروز ہے، پوچھا یہ  دولت اور نعمت کیونکر پائی، کہا خواجہ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کی دعا سے۔ [۱] [۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ۱۲ شرافت]

تصرّف فی القلوب

آپ ایک جماعت کے ساتھ جا رہے تھے، دیکھا کہ ایک جماعت جوانوں کی شراب پینے اور فسق و فساد میں مصروف ہے، جب دجلہ کے کنارہ پر پہنچے تو آپ کے ہمراہیوں نے کہا یا شیخ! دعا کیجیے کہ حق تعالیٰ ان سب کو غرق کر دے تاکہ ان کی نحوست منقطع ہوجائے، اور ان کے فساد کا اثر دوسروں کو نہ پہنچے، آپ نے دعا کی یا آلہ العالمین جس طرح تو نے اس جہان میں ان کو عیش خوش دیا ہے، اسی طرح اُس جہان میں بھی ان کو عیش خوش فرمائیو، ہمراہیوں کو تعجب ہوا، کہنے لگے یا شیخ ہم اس راز کو نہیں جانتے، فرمایا تھوڑا توقف کرو خود ظاہر ہوجائے گا، جب اُس جماعت کی نظر آپ پر پڑی، انہوں نے اپنے رباب توڑ ڈالے، اور شراب پھینک دی، اور زار زار روتے ہوئے آئے، اور آپ کے قدموں پر گِرے اور توبہ کی، آپ نے فرمایا تم نے دیکھاکہ بغیر ڈوبے سب کی مراد حاصل ہوگئی۔ [۱] [۱۔ تذکرۃ الاولیاء ۱۲]

طیِّ ارض

شیخ محمد بن منصور طوسی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں بغداد میں آپ کے نزدیک تھا، میں نے ایک نشان روئے مبارک پر دیکھا، عرض کیا میں نے گل یہ نشان آپ کے چہرہ پر نہ دیکھا تھا، یہ کیا ہے؟ فرمایا جو بات تیرے حوصلہ سے باہر ہے اس کو مت پوچھ، وہ بات پوچھ جو تیرے کام آوے، میں نے کہا آپ کو خدا پاک کی قسم ہے فرمائیے یہ کیا ہے، فرمایا کل کی رات میں نماز پڑھ رہا تھا یکایک دل میں آیا کہ مکہ معظمہ جاؤں، اور طواف کروں، چنانچہ میں زمزم پر پانی پینے گیا، میرا پاؤں پھسل پڑا، اور میرا منہ اُس میں جا رہا یہ اسی کا نشان ہے۔ [۱] [۱۔ تذکرۃ الاولیا ۱۲]

عملیات

برائے عفوِ جرائم

آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص یکشنبہ کے دن اشراق کے وقت دو رکعت نفل پڑھے، اور ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص تین بار پڑھے، اور سلام کے بعد یہ اسمِ جمالی ۱۰۰ بار پڑھے، اللہ تعالیٰ اُس پر مہربان ہوگا اور اس کے گناہ معاف فرمائیے گا، اسم جمالی یہ ہے یا رحیم اجب یا میکائیل یا قبولا ئیل بحق یا رحیم۔ [۱] [۱۔ جواہر الاولیا جوہر دوم ۱۲]

برائے حصولِ مرتبہ ابدال

آپ نے فرمایا ہے جو شخص ہر روز یہ دعا تین مرتبہ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کو ابدال لکھ لیتا ہے، دعا یہ ہے اللھم اصلح امّۃ محمد اللّھمّ ارحم امّۃ محمّد اللھمّ فرج عن امّۃ محمّد۔ [۱] [۱۔ ایضًا جوہر پنجم بحوالہ احیاء العلوم ۱۲ شرافت]

ف     جواہر خمسہ میں ہے کہ ہر روز کسی نماز کے بعد تین مرتبہ پڑھا کرے، اور لفظ محمّد کے ساتھ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم بھی پڑھے۔

برائے حل مہمات

آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی مہم ہو جو کسی طرح حلّ نہ ہوتی ہو اس کو چاہیے کہ شب چہار شنبہ و شب پنجشنبہ و شب جمعہ تین بار درود شریف اور ہزار بار یہ دعا پڑھے تو وہ ضرور مہم حلّ ہوجاوے گی، دعا یہ ہے، اٰمنت باللہ العلی العظیم وتوکلت علی الحیّ القیّوم۔ [۱] [۱۔ جواہر الاولیا جوہر پنجم ۱۲ شرافت]

برائے فرزندِ نیک

آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص شبِ شنبہ کو یہ بارہواں اسم ایک سو بار پڑھے اللہ تعالیٰ اس کو فرزند صالح اور پار سا عنایت فرماوے گا، بارھواں اسم یہ ہے یا خالق انت الذی تخلق اصناف الخلائق بقدرتہٖ۔ [۱] [۱۔ جواہر الاولیا جوہر پنجم ۱۲ شرافت]

برائے حصولِ کوثر

آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص شب جمعہ کو چار رکعت نماز پڑھے، ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی ایک بار اور سورۃ الکوثر پندرہ بار پڑھے، اللہ تعالیٰ اُس کو حوض کوثر کا پانی روزی کرے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ [۱] [۱۔ جواہر الاولیا جوہر پنجم ۱۲ شرافت]

 

تصنیفات

آپ نے ایک عربی زبان میں قرآن مجید کی تفسیر لکھی جو دریائے حقائق و معارف ہے، حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ اپنے ملفوظات میں اُس تفسیر کا حوالہ لکھتے ہیں، چنانچہ لکھا ہے۔

تفسیر معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ میں لکھا ہے کہ بروزِ حشر پچاس موقف (ٹھیراؤ کی جگہ) ہوں گے، وہاں پچاس چیزوں کا حساب ہوگا، اگر وہاں سب سے بندہ پار اُتر گیا تو بچا، ورنہ دوزخ میں جائے گا، سب سے زیادہ سخت موقف نماز کے حساب کی جگہ ہے جو اس سے بچا بچ گیا، دوسرے موقف میں نماز فریضہ کا حساب ہوگا، اگر اس کے عہد سے برآیا اچھی بات ہے ورنہ مؤکلوں کے ہمراہ دوزخ میں بھیجا جائے گا، دوسرے موقف سے بچے ہوئے تیسرے موقف میں جائیں گے، وہاں پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسّلام کی سنتوں کی پوچھ ہوگی اگر وہاں بچا بچ گیا، ورنہ مؤکلوں کے ہمراہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رو برو بھیجا جائے گا کہ یہ آپ کا امتی ہے جس نے آپ کی سنن ادا نہیں کیں۔ [۱] [۱۔ دلیل العارفین ۱۲ شرافت]

 

کلماتِ طیّبات

فتوت   فرمایا جوانمردی تین باتوں میں ہے، ایک وفائے بے خلاف، دوسری ستایش بے جود، تیسری عطائے بے سوال۔

مواخذہ  فرمایا علامت اللہ تعالیٰ کی گرفت کی یہ ہے کہ وہ بندے کو نفس کے کام میں مشغول کرتا ہے کہ وہ اس کے کام نہ آوے۔

محب    فرمایا علامت خدا کے دوستوں کی یہ ہے کہ ان کی فکر خدا ہی میں ہوتی ہے، اور ان کو قرار خدا ہی سے ہوتا ہے، اور ان کا شغل خدا ہی کی راہ میں ہوتا ہے۔

عمل    فرمایا حق تعالیٰ جب بندہ کی بھلائی چاہتا ہے تو عمل کا دروازہ اُس پر کھول دیتا ہے، اور دروازہ سخن اور کسل کا بند کرتا ہے۔

گمراہی   فرمایا ایسی بات میں گفتگو کرنی جس میں کسی کا فائدہ نہ ہو علامت گمراہی کی ہے۔

مکافات  فرمایا جو کسی کی برائی چاہتا ہے وہ خود برائی میں مبتلا ہوتا ہے۔

وفا      فرمایا حقیقت وفا کی یہ ہے کہ سر اس کا خوابِ غفلت سے ہوش میں آئے اور اندیشہ اس کا فضول و آفت سے خالی ہو۔

تصوّف  فرمایا تصوّف حقائق کا اختیار کرنا ہے، اور دقائق کا بیان کرنا، اور خلائق سے نا امید ہونا۔

ریاست  فرمایا ریاست کے شیدائی کو ہر گز فلاح نہیں۔

راہِ خدا  فرمایا نزدیک تر راہ خدا کی یہ ہے کہ تو کسی سے کچھ نہ چاہے اور تیرے پاس بھی کچھ نہ ہو کہ تجھ سے کوئی چاہے۔

دُنیا     لوگوں نے پوچھا کہ طاعت پر کس طرح دسترس ہوسکتی ہے، فرمایا جب دنیا کی محبت دل سے دور ہوجائے، کیونکہ اگر دنیا کی ذراسی چیز بھی تمہارے دل میں ہوگی تو جو سجدہ کرو گے اسی چیز کو کرو گے۔

محبت    لوگوں نے محبت کی نسبت پوچھا، فرمایا یہ سیکھنے اور کسی کے بتانے کی چیز نہیں، یہ خدا تعالیٰ کے فضل و بخشش پر موقوف ہے۔

عارف   فرمایا عارِف اگرچہ نعمت نہیں رکھتا مگر پھر بھی وہ ہمیشہ نعمت میں ہے۔

نصایح   ایک شخص نے وصیت چاہی، فرمایا خدا پر توکل کر، تاکہ خدا تیرے ساتھ ہو، اور باز گشت تیری اس کی طرف ہو، اور تو تمام شکایتیں اُسی سے کرے، کیونکہ تمام خلائق تجھ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتیں، اور نہ تیرا نقصان دفع کر سکتی ہیں، اپنی ساری التجائیں اُس شخص کے پاس لے جا جس کے پاس اس کا علاج ہے، جو کچھ کہ رنج و بلا و فاقہ سے تجھ کو پیش آوے اس کا کشود کار اس کے پوشیدہ رکھنے میں ہے ایک دوسرے شخص نے وصیت چاہی، فرمایا بچ اس سے کہ خدا دیکھے اور تو مساکین کے زمرہ میں نہ ہو۔

فرمایا بہشت کی طلب بغیر عمل کے گناہ ہے، اور شفاعت کا انتظار بغیر نگہداشت سنت کے ایک قسم کا غرور، اور رحمت کی امید بحالتِ نا فرمانی جہل و حماقت ہے۔

فرمایا آنکھ کو سب کی طرف سے بند کرلے اگرچہ پَری بھی ہو اور زبان کو  مدح سے بچا جس طرح ذم سے۔ [۱] [۱۔ تذکرۃ الاولیا ۱۲ شرافت]

 

معرفین کمال

۱۔      حضرت شیخ سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو خواب میں عرش مجید کے نیچے بحالتِ بیخودی و مدہوشی کے دیکھا، حضرتِ حق سے ندا ہوئی کہ اے فرشتو! یہ کون ہے، انہوں نے عرض کیا اے پروردگار تو دانا و بینا ہے، ارشاد ہوا کہ معروف رحمۃ اللہ علیہ ہے ہماری دوستی میں بیخود ہوا ہے سوائے ہمارے دیدار کے اس کو ہوش اور سوائے ہمارے لقا کے چین نہ آوے گا۔ [۱] [۱۔ مسالک السّالکین جلد اوٓل ۱۲]

۲۔     شیخ الاسلام عبد اللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ پیر ھرات نے لکھا ہے کہ معروف رحمۃ اللہ علیہ وزع و زہد و تقویٰ میں بہت بڑے شیخ، اور داوٗد طائی رحمۃ اللہ علیہ کے صحبت یافتہ تھے۔ [۱] [۱۔ ازالۃ الخفا جلد سوم ۱۲]

۳۔     شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر عارف نہوتا معروف نہ ہوتا۔ [۱] [۱۔ تذکرۃ الاولیا ۱۲]

۴۔     مخدوم شیخ علی الہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ ساداتِ مشائخ سے تھے، اور مردانگی میں مشہور اور پرہیزگاری میں معروف تھے، آپ کے مناقب و فضائل بہت ہیں کہ فنون علم میں آپ کا کمال تھا۔ [۱] [۱۔ کشف المحجوب ۱۲]

۵۔     علامہ دمیری رحمۃ اللہ علیہ حیات الحیوان میں لکھتے ہیں کہ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ اجابتِ دعا میں مشہور تھے،اور اہلِ بغداد آپ کی قبر مبارک کے توسّل سے طلب باراں کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ حضرت معروف رحمۃ اللہ علیہ کی قبر تریاقِ مجرب ہے۔ [۱] [۱۔ کتاب البرزخ ۱۲]

۶۔     شیخ ابو الحسن قرشی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں چار شخصوں کو مشائخ رحمۃ اللہ علیہ میں سے جانتا ہوں کہ وہ اپنی قبروں میں زندوں کی طرح تصرّف کرتے ہیں اوّل شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ دوم شیخ عبد القادِر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سوم شیخ عقیل منبجی رحمۃ اللہ علیہ چہارم شیخ حیات بن قیس حُرانی رحمۃ اللہ علیہ۔ [۱] [۱۔ سیرۃ غوث اعظم ۱۲ شرافت]

 

تلامذہ کرام

حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور امام یحییٰ بن معین محدث رحمۃ اللہ علیہ آپ کے پاس آیا جایا کرتے اور آپ سے تعلیم روحانی حاصل کرتے تھے۔ [۱] [۱۔ مذاق العارفین جلد اوّل ص ۴۲]

خلفائے عُظام

صاحب آئینہ تصوّف نے لکھا ہے کہ خلیفہ اکبر آپ کا ایک اور خلیفہ اصغر نو، اور صاحب مجاز آٹھ تھے۔

ان کا ذکر آگے آئے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

۲۔     حضرت شیخ ابراہیم بن عیسیٰ اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ

یہ خواص اصحابِ شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ سے تھے، شیخ ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں بغداد میں دجلہ کے کنارہ پر وضو کر رہا تھا، ایک شخص کو دیکھا کہ آگے سے پانی پر چلا آتا ہے، میں اُسی وقت سجدہ میں گِر پڑا، اور کہا اے اللہ! مجھے تیری عزّت کی قسم کہ جب تک میں اِس مرد کو نہ جانوں گا سر نہ اٹھاؤں گا، اتنے میں وہ مرد آگیا، اور وہ ابراہیم بن عیسیٰ رحمۃ اللہ علیہ تھے، اور مجھے سجدہ سے اٹھا کر فرمایا کہ جب تو اولیا کو پہچاننا چاہے تو کہہ ھو الاوّل والاٰخر والظّاھر والباطن وھو بکلّ شئی علیم (الحدید۔ ع ۱) اِن کی وفات ۲۴۷ھ میں ہوئی۔ [۱] [۱۔ نفحات الانس ص ۹۴ شرافت]

۳۔     حضرت شیخ ابو اسحاق ابراہیم الصّیّاد البغدادی رحمۃ اللہ علیہ

ان کا مذہب تجرید وانقطاع تھا، حضرت سید الطائفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک روز یہ حضرت سَرِیّ سقطی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آئے، اپنے بدن پر حصیر کو پہنا ہوا تھا، شیخ سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے دس درم سے ایک کپڑا بازار سے منگوایا، اور اِن کو کہا کہ لو یہ پہنو، میرے پاس دس درم تھے ان سے میں نے کپڑا منگوایا ہے، انہوں نے کہا کہ تم فقیروں میں بیٹھتے ہو، اور پھر دس درم ذخیرہ رکھتے ہو، اس لیے میں نہیں پہنتا، اور نہ پہنا۔ [۱] [۱۔  نفحات الانس ص ۳۳]

۴۔     حضرت شیخ علی رحمۃ اللہ علیہ

اِن کے سلسلہ میں ایک بزرگ شیخ فرید رحمۃ اللہ علیہ نام گذرا ہے، وہ مرید شیخ نظر باز رحمۃ اللہ علیہ کا، وہ مرید شیخ مظفر رحمۃ اللہ علیہ کے، وہ مرید شیخ علی رحمۃ اللہ علیہ کے۔ [۱] [۱۔  گلزار فقرا ۱۲]

۵۔     حضرت خواجہ ابو احمد محمد شامی رحمۃ اللہ علیہ

اِن کا سلسلہ فقر بطور اویسی جاری ہے۔ [۱] [۱۔  نسیمِ یمن ۱۲]

سلسلہ کرخیہ

آپ سے جو سلسلہ فقر چلا اُس کا نام صنفِ فقرا میں کرخیہ کہا جاتا ہے، تاریخ الاولیا میں ہے کہ سلسلہ کرخیہ کے درویش محبتِ دنیوی کو ترک کرتے ہیں، اور تجرید میں اپنی زندگی بسر کرتے ہیں، جو ان کے طریقہ میں ہیں وہ اپنے باپ دادا کی نسبت ترک کر کے اپنے آپ کو خیان مشہور کرتے ہیں، تمام روز عزلت میں بیٹھنا، شام کو نہا کر عبادت میں مشغول ہونا، کسی سے کچھ نہ مانگنا، صبر و شکر سے خاموش رہنا، اِن کا شیوہ ہے۔

واقعہ وفات

منقول ہے کہ ایک جماعت شیعہ نے اکیس (۲۱) روز تک حضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ کے دروازہ پر آپ کی مزاحمت کی، اور آپ کا پہلو توڑ ڈالا، اس پر آپ بیمار پڑے اور وفات پائی۔ [۱] [۱۔  مسالک السّالکین جلد اوّل ۱۲ شرافت]

وصایائے آخرین

آپ نے شیخ سَری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کو وصیت کی تھی کہ جب میں مرجاؤں میرے پیراہن کو خیرات کر دینا، میں چاہتا ہوں کہ دنیا سے برہنہ جاؤں جیسا کہ دنیا میں والدہ کے پیٹ سے برہنہ آیا تھا۔ [۱] [۱۔  تذکرۃ الاولیاء ۱۲]

شیخ سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ جب تجھ کو خدا تعالیٰ سے کوئی حاجت ہو تو اُس کو قسم دے کہ یا رب بحق معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے میری حاجت روائی کر، فی الفور تیری حاجت پوری ہوگی۔ [۱] [۱۔  تذکرۃ الاولیاء ۱۲]

تجہیز و تکفین

جب آپ نے وفات پائی، ہر دین کے لوگ آپ پر دعوٰی کرنے لگے، جہود کہتے تھے ک ہم آپ کا جنازہ اُٹھائیں گے اور ترسا کہتے تھے کہ ہم، اور مسلمان کہتے تھے کہ ہم آپ کے خادِم نے کہا کہ آپ نے وصیّت کی تھی کہ میرا جنازہ جو قوم زمین سے اٹھالیوے وہی میری تجہیز و تکفین کرے، اور میں اسی قوم سے ہوں، چنانچہ آپ کا جنازہ جہود و ترسا نے اٹھانا چاہا پَر نہ اٹھا سکے، آخر مسلمانوں نے اٹھالیا، اور آپ کی تجہیز و تکفین عمل میں لائے۔ [۱] [۱۔  تذکرۃ الاولیاء ۱۲]

واقعات بعد از وفات

حضرت محمد بن الحسین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو خواب میں دیکھا پوچھا کہ حق تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا، فرمایا بخش دیا، میں نے کہا زہد و ورع کی بدولت، فرمایا نہیں، بلکہ ایک بات کی برکت سے جو میں نے ابن سماک رحمۃ اللہ علیہ سے کوفہ میں سنی تھی، یعنی جو سب سے کنارہ کش ہوکر خدا کی طرف پھر جاتا ہے، خدا تعالیٰ اپنی رحمت سے اُس کی طرف پھرتا ہے، اور تمام خلائق کو اس کی طرف رجوع کر دیتا ہے اس بات نے میری دل پر اثر کیا، میں نے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کیا، اور سارے شغلوں سے دست بردار ہوا، سوائے خدمت حضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ کے، اور میں نے اِس بات کو ان سے بھی بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر تو اس پر عمل کرے گا تو یہ تیرے واسطے کافی ہوگا۔ [۱] [۱۔  تذکرۃ الاولیاء ۱۲]

تاریخ وفات

حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات بقول صاحب سفینۃ الاولیا و تاریخ الاولیا و مسالک السّالکین و فتاویٰ برہنہ دفتر دوم بروز جمعہ [۱] [۱۔ تقویم تاریخی کی رُو سے ۲؍ محرم ۲۰۰ھ کو یکشنبہ کا دن تھا ۱۲ شرافت] دوسری محرم ۲۰۰ھ دوسو ہجری ؟؟؟؟

عبد اللہ المامون الرشید بن الہارون خلیفہ ہفتم عباسی کے ہوئی۔

مدفن پاک

آپ کا مزار پر انور بغداد شریف محلہ کرخ میں ہے، گنبد بنا ہوا ہے پاس مسجد بھی ہے۔ رحمۃ اللہ علیہ

قطعہ تاریخ

از حضرت مولانا شاہ غلام مصطفٰے صاحب نوشاہی دام فیوضہٗ

ز عالم رفت چوں معروف کرخی ﷫
وصالش جست نوشاہی عزیزا

 

بفضلِ حق بجنت شد خراماں
ندا شد طیّبِ محبوب سبحاں (۲۰۰)

منہ

رفت چوں پیراز جہاں طاہر

 

قلبِ معروف(۲۰۰) سال شد ظاہر

منہ

درجناں رفت پیر ماچوں شاد

 

رحلتش گشت صوفِی جوّاد (۲۰۰)

منہ

رفت در عدن سالکِ آزاد

 

سالِ ترحیل عابدِ حق یاد (۲۰۰)

منہ

ز دنیا چو رفت عمدۂ اولیا

 

وصالش بخواں زبدۂ اصفیا (۲۰۰)

دیگر

از اسماء الحسنیٰ

اللہ صمد (۲۰۰)          اللہ وکیل (۲۰۰) مھیمن مجیب (۲۰۰)

بدیع جامع (۲۰۰)                مالک حنان (۲۰۰)               منعم (۲۰۰)

سمیع ودود (۲۰۰)        سمیع بدوح (۲۰۰)         ملک علی (۲۰۰)

سمیع ھادی (۲۰۰)

 (شریف التواریخ)

 معروف کرخی بن فیروز : اپنے زمانہ کے مقتدائے صدر طریقت رہنمائے راہ حقیقت عارف اسرار الٰہی قطب وقت اور مجاب الدعوات تھے۔آپ کا باپ جو نصرانی تھا۔جب اس نے آپ کو معلم کے پاس بھیجا اور معلم نے آپ کو کہا کہ ثالث ثلاثہ کہو،تو آپ نے اس وقت انکار کر کے کہا کہ میں ہو میں اللہ احد کہتا ہوں ،ہر چند اس نے آپ کو بڑی فہمائش کی مگر بے سود اور آپ اس کے پاس بھاگ کر امام علی بن موسیٰ رضا کے پاس آگئے اور ان کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے،چند روز کے بعد جب اپنے گھر میں واپس آئے تو باپ نے پوچھا کہ تم نے کونسا دین اختیار کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔آپ کے والدین بھی ہ بات سنتے ہی مسلمان ہو گئے بعد ازاں آپ داؤد طائی شاگرد امام ابو حنیفہ کے پاس بیٹھے اور ان سے ظاہری و باطنی علوم تکمیل کی اور ریاجت عبادت کا طریقہ سیکھ کر صدق و صفا میں مشار الیہ اور مقام علیا میں فائز المرام ہوئے۔شامی میں لکھا ہےکہ آپ سے سرسی سقطی نے ظاہری و باطنی علوم پڑھے اور مشائخ کبار میں سے آپ مستجاب الدعوات ہیں ،اکثر لوگ آپ کی خانقاہ کے پاس استسقاء کی نماز پڑھتے اور بارش باران پاتے ہیں ۔ وفات آپ کی ۲۰۰ھ میں ہوئی۔’’ مقبول ایزدو ‘‘ تریخ وفات ہے۔

(حدائق الحنفیہ)

Comments