Hazrat Sheikh Maroof Karkhi 2

حضرت معروف کرخی﷫

نام ونسب: اسمِ گرامی: معروف۔ کنیت: ابو المحفوظ۔ لقب: اسد الدین۔ والد بزرگوار کا نام فیروز یا فیروزان تھا، مذہب نصاریٰ رکھتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد ان کا نام علی رکھا گیا، جد امجد کا نام مرزبان الکرخی تھا۔

تاریخِ ولادت: آپ دوسری صدی ہجری میں پیداہوئے۔

قبولِ اسلام: آپ کےوالدین نصرانی تھے۔انہوں نے  آپ کو ایک معلم کے پا س بھیجا معلم نے کہا کہو"ثالث ثلاثہ" آپ نے کہا میں تو "ھواللہ احد"کہتاہوں۔استاد نے خوب مارامگرآپ اس بات پر ڈٹے رہے۔باالآخر اس سے بھاگ کر شہزادۂ رسول ﷺحضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے اور ان کےہاتھ پراسلام قبول کرلیا۔والدین کے اکلوتے تھے،اسلئے وہ بھی بے قرارتھے۔جب کچھ عرصے کے بعد گھر پہنچے تو والدنے پوچھا کہ تم نے کونسا دین اختیار کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ محمد رسول اللہﷺ کا۔آپ کے والدین بھی یہ بات سنتے ہی مسلمان ہو گئے۔

سیرت مبارکہ: آپ اپنے زمانہ کے مقتدائے صدر طریقت ،رہنمائے راہ حقیقت ،عارف اسرار الٰہی، قطب وقت اور مستجاب الدعوات تھے۔ آپ حضرت امام علی رضا،اور حضرت  داؤد طائی شاگرد امام ابو حنیفہ کے پاس بیٹھے اور ان سے ظاہری و باطنی علوم تکمیل کی اور مقام علیا میں فائز المرام ہوئے۔مخدوم شیخ علی الہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ ساداتِ مشائخ سے تھے، اور مردانگی میں مشہور اور پرہیزگاری میں معروف تھے، آپ کے مناقب و فضائل بہت ہیں کہ فنون علم میں آپ کا باکمال تھے۔ ( کشف المحجوب )

شیخ ابو الحسن قرشی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں: میں چار شخصوں کو مشائخ رحمۃ اللہ علیہ میں سے جانتا ہوں کہ وہ اپنی قبروں میں زندوں کی طرح تصرّف کرتے ہیں اوّل شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ دوم شیخ عبد القادِر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سوم شیخ عقیل منبجی رحمۃ اللہ علیہ چہارم شیخ حیات بن قیس رحمۃ اللہ علیہ۔ (سیرۃ غوث اعظم ) حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور امام یحییٰ بن معین محدث رحمۃ اللہ علیہ آپ کے پاس آیا جایا کرتے اور آپ سے تعلیم روحانی حاصل کرتے تھے،اور حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے خلیفۂ اعظم تھے۔

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال: 2محرم الحرام 200ھ کو ہوا ۔آپ کا مزار شریف بغدادِ معلی میں زیارت گاہِ خلائق ہے۔حضرت خطیب بغدادی فرماتے ہیں:""آپ کی قبرمبارک حاجتیں اور ضرورتیں پوری ہونے کے لئے مجرب ہے۔"

ماخذومراجع: حدائق الحنفیہ۔کشف المحجوب۔شریف التواریخ۔

Comments