Sheikh Auhad uddin Kramaani

 

آپ حضرت شیخ رکن الدین منجاسی کے خلیفہ کبیر تھے شیخ رکن الدین شیخ قطب الدین سہروردی کے خلیفہ اور وہ شیخ ابوالنجیب سہروردی کے خلیفہ تھے آپ شیخ ابن عربی کی مجالس میں حاضر ہوتے تھے حضرت ابن عربی نے اپنی مشہور کتاب فتوحات مکیہ میں آپ کے واقعات لکھے ہیں۔ اس کتاب کے باب ہشتم میں لکھتے ہیں کہ شیخ کرمانی فرماتے ہیں کہ میں اپنے شیخ کے ساتھ ہم سفر تھا۔ آپ اونٹ کے کجاوے میں سفر فرما تھے آپ کے پیٹ میں شدید درد اٹھا ایک دواخانہ میں پہنچے یہ سرکاری دواخانہ تھا میں نے شیخ سے اجازت چاہی کہ دواخانہ سے دوائی لے آؤں مجھے پریشان اور مضطرب دیکھا تو آپ نے بادلِ نخواستہ اجازت دے دی میں اندر گیا تو خیمہ میں ایک شخص بیٹھا تھا اس کے سامنے ایک شمع روشن ہے مجھے دیکھتے ہی اٹھا اور بڑے احترام سے بٹھایا میں نے اپنے پیرومرشد کی حالت بیان کی اس نے دوائی دی مجھے چھوڑنے کے لیے دروازے سے تک آیا اس کا ایک خادم شمع اٹھائے ساتھ ساتھ تھا میں نے اسے قسم دی کہ تشریف رکھو اتنا تکلف نہ کرو میں باہر آیا دوائی حضرت کی خدمت میں پیش کی اور اس شخص کے احترام و اعزاز کا واقعہ بیان کیا آپ نے سن کر تسلیم فرمایا اور کہا دراصل میں تمہارا اضطراب اور پریشانی دیکھ کر دوائی لانے سے روک نہ سکا میں نے ہی شکل بدل کر اپنے آپ کو اس شخص کی جگہ بٹھا دیا عزت و تکریم کی دوائی دی تاکہ تم مایوس نہ ہوجاؤ کہ درویشوں کی پرواہ نہیں کی جاتی اور امیروں کے ہاں پذیرائی نہیں ہوتی۔

حضرت اوحدالدین کرمانی ظاہری جمال انسانی پر بڑے گرویدہ تھے ایک دن خوش شکل لڑکے کو دیکھنے میں محو ہوگئے آپ کے ساتھ ہی شیخ شمس الدین تبریزی کھڑے تھے کہنے لگے آپ کیا دیکھ رہے ہیں فرمایا ’’چاند کا عکس پانی میں دیکھ رہا ہوں‘‘ آپ نے فرمایا اگر سر اٹھا کر دیکھتے تو آسمان پر چاند بے حجاب نظر آتا۔‘‘

آپ حالت سماع میں اس قدر وجد میں آتے کہ کپڑے پھاڑ دیتے لڑکوں کے سینے سے سینہ ملاتے بغداد میں خلیفہ عباسی کا بیٹا بڑا خوبصورت تھا۔ خلیفہ نے کہا۔ یہ بدعتی شخص ہے اسے سماع اور ولایت سے کیا واسطہ ہوسکتا ہے اگر مجلس سماع میں میرے بیٹے سے کوئی حرکت کی تو میں اُس کی گردن اڑادوں گا مجلس سماع گرم ہوئی تو خلیفہ کے دل میں پھر وہی خیال آیا حضرت شیخ نے کرامتِ فراست سے معلوم کرکے یہ شعر پڑھا۔

سہل است مرا برسرِ خنجر بودن
تو آمدۂِ کہ کافر بے رابکشی

 

درپائےمراد و دست بے سر بودن
غازی چو توئی رواست کافر بودن

 

(میرے سر کو خنجر کی نوک سے کاٹنا درست ہے میرے سر کو کاٹ کر پاؤں میں پھینک دینا درست ہے تو اس لیے آئے ہوکہ ایک کافر قتل کرو۔ اگر تم جیسا خوب روغازی ہوتو کافر ہو ناروا ہے)

یہ شعر سنتے ہی خلیفہ اور اس کا خوبرو بیٹا قدموں میں گرپڑے اور مرید ہوگئے آپ کی وفات ۶۳۵ھ میں ہوئی تھی بعض تذکرہ نوسیوں نے ۶۳۴ھ بھی لکھی ہے۔

چوں سفر کر د از جہاں فنا
متقی پاک بیں بگو سالش
۶۳۵ھ

 

درجناں بادشاہ کرمانی
ہم بگو بادشاہ کرمانی
۶۳۴ھ

(خزینۃ الاصفیاء)

Comments