Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jilani Ghous Pak

 

یکم رمضان المبارک ۴۷۰؁ھ ۱۰۷۷؁ء  

۱۱، ۱۷ ربیع الثانی ۵۶۱؁ھ ۱۱۶۶؁ء

اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمْ وَعَلَی الْمَولی السَیِّدِ الْکَرِیْم غَوثِ الثقلَیْنِ وَغیث الکونَیْن الاِمَامِ اِبِی مُحمَد عَبْدالقَادِرِ الحسنی الحُسَیْنی الجِیْلَانی صَلَّ اللہ تعالٰی جَدِّہِ الکَرِیْمِ وَعَلَیْہ وَعَلیٰ مشائخِہٖ الْعِظَامِ وَاصُوْلِہِ الکِرَامِ وَفُرُوْعِہٖ الفِخَامِ وَمُحبِتیْہِ وَالْمُنْتِمِیْنَ الیْہِ اِلٰی یَومِ القِیَامِ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ اَبَدًاط

قادری کر ، قادری رکھ، قادریوں میں اٹھا

قدرعبدالقادر قدرت نما کے واسطے

ولادت شریف:

آپ کی ولادت باسعادت یکم رمضان المبارک بروز جمعہ ۴۷۰؁ھ  ۱۰۷۵؁ء کو گیلان میں ہوئی[1]۔

اسم مبارک :

        آپ کا نام نامی و اسم گرامی سید عبدالقادر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔

لقب و کنیت:

        آپ کی کنیت ابی محمد اور لقب محی الدین ، محبوب سبحانی ہے۔

والدین کریمین:

        آپ کے والد ماجد کا اسم مبارک شریف سید ابو صالح موسی جنگی دوست اور والدہ ماجدہ کا نام ام الخیر فاطمہ ہے[2]۔

نسب نامہ شریف:

        آپ کے نسب نامہ کے سلسلہ میں یہ دو شعر بہت ہی عمدہ ہے جسے قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔

آں شاہ سرفراز کہ غوث الثقلین است
از سوئے پد رتابہ حسن سلسلہ اوست

 

دراصل سیادت چہ صحیح النسبین است
از جانب مادر، در دریائے حسین است

اور آپ کا نسب نامہ شریف حسنی منجاب والد ماجد اس طرح ہے۔

        حضرت سید محی الدین عبدالقادر بن سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست بن سید ابو عبداللہ بن سید یحییٰ زاہد بن سید محمد بن سید داؤد بن سید موسیٰ ثانی بن سید موسیٰ بن سید عبداللہ ثانی بن عبداللہ محض بن سید حسن مثنیٰ بن سرکار امام حسن بن امیر المومنین سیدنا علی مرتضیٰ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔

آپ چونکہ نجیب الطرفین ہیں والد ماجد کی طرف سے حسنی اور والدہ ماجدہ کی جانب سے حسینی ہیں۔ جس کی تفصیل اس طرح ہے۔

        حضرت ام الخیرفاطمہ بنت سید عبداللہ صومعی بن ابو جمال الدین بن سید محمد بن سید ابوالعطاء بن سید کمال الدین عیسیٰ بن سید علا الدین الجواد بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن سید الشہدا سرکار امام حسین بن سیدنا امیر المومنین علی مرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین[3]۔

حلیہ مبارک:

        آپ نحیف البدن، میانہ قد، کشادہ سینہ ، لمبی چوڑی ڈاڑھی، گندمی رنگ، پیوستہ ابرو، بلند آواز تھے، پاکیزہ سیرت، بلند مرتبہ اور علم کامل کے حامل تھے۔ صاحب شہرت و سیرت اور خاموش طبع تھے آپ کے کلام کی تیزی اور بلند آواز، سننے والے کے دل میں رعب و ہیبت زیادہ کرتی تھی۔ اور یہ آپ کی خصوصیت تھی کہ مجلس میں قریب و بعید بیٹھنے والے بے کم و کاست بغیر کسی تفاوت کے آپ کی آواز بآسانی یکساں طور پر سن لیتے تھے۔ جب آپ کلام کرتے تو ہر شخص پر خاموشی چھا جاتی تھی، جب آپ کوئی حکم دیتے تو اس کی تکمیل میں سرعت و مبادرت کے سوا اور کوئی صورت نہ ہوتی اور بڑے سے بڑے سخت دل پر نظر جمال پڑجاتی تو وہ خشوع و خضوع اور عاجزی و انکساری کا مرقع بن جاتا اور جب آپ جامع مسجد میں تشریف لاتے تو تمام مخلوق دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر بارگاہ قاضی الحاجات میں دعا کرتی[4]۔

اولیائے سابقین کی پیشن گوئیاں

اکثر اولیائے کبار و مشائخ ذی وقار نے آپ کی ولادت باسعادت سے پہلے آپ کے ورد و مسعود کی خبر بتائی۔ کچھ نے ولادت کے تھوڑے ہی دنوں بعد اور اکثر نے آپ کے مشہور ہونے سے پہلے آپ کی عظمت و جلالت کی خبر  دی ہے۔ ان میں سے چند کے اقوال یہاں پیش کئے جاتے ہیں۔

قلائد الجواہر میں شیخ محمد سبکی سے مروی ہے کہ میں نے اپنے شیخ حضرت ابوبکر بن ہورا رضی اللہ عنہما سے سنا ہے ہک عراق کے اوتاد کی تعداد آٹھ ہیں جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔

۱۔ حضرت خواجہ  معروف کرخی      ۲۔حضرت امام احمد بن حنبل

۲۔ حضرت خواجہ بشر حافی          ۴۔ حضرت منصور بن عمار

۵۔ حضرت خواجہ سری سقطی                ۶۔ حضرت جنید بغدادی

۷۔ حضرت سہل بن عبداللہ تشتری   ۸۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی

رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین

راوی نے پھر سوال کیا کہ حضرت کون عبدالقادر؟

تو ارشاد فرمایا کہ یہ شخص شرفائے عجم سے ہوگا، اور بغداد میں آکر قیام کرے گا اور اس ظہور پانچویں صدی ہجری میں ہوگا اور یہ صدیقین و اوتاد و اقطاب زمانہ سے ہوگا۔

غبط الناظر میں ہے کہ حضرت شیخ ابو احمد عبداللہ بن علی موسیٰ نے ۴۶۴؁ھ میں فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی کہ عنقریب عجم میں ایک لڑکا بڑا صاحب کرامات اور ذی شرف پیدا ہوگا اور جو اس کو دیکھے گا فائدہ پائےگا۔ وہ فرمائے گا۔ قَدْمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقْبَۃِ کُلِّ وَلِی اللہِ اور اسی کتاب میں ہے کہ حضرت شیخ عقیل سنجی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ اس زمانے کا قطب کون ہے؟ تو ارشاد فرمایا کہ اس زمانے کا قطب مدینہ طیبہ میں پوشیدہ ہے سوائے اولیاء اللہ کے کوئی اس کو نہیں جانتا۔ پھر عراق کی جانب اشارہ کرکے فرمایا کہ اس طرف ایک عجمی نوجوان ظاہر ہوگا۔ وہ بغداد میں وعظ کہے گا اور اس کی کرامتوں کو ہر خاص و عام جان لے گا۔ وہ قطب زمانہ ہوگا اور فرمائے گا۔ قَدْمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقْبَۃِ کُلِّ وَلِی اللہِ

زبدۃ الابرار میں ہے کہ ایک روز دن درویش حجرت شیخ علی بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت کیا کہ کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ عجم سے، پھر دریافت کیا کہ کس شہر سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ جیلان سے تو حضرت شیخ نے ارشاد فرمایا۔

 

اِنَّ اللہ نَوَّرَ وُجوھکُمْ بظھورِ رجُلٍ مِنْکُمْ قَرِیبٌ مِنْ فَضْلِ اللہِ تَعالیٰ اسمہ عبدالقادر مَظْہَرہٗ فِی العِرَاقِ وَمسْکَنُہٗ فی البغداد یقول قَدْمِی ھٰذِہٖ عَلٰی رقبۃ کل وَلِّی اللہِ ویُقرہٗ اَوْلیَاءُ وَعصرِہٖ باَمْرِ اللہِ تعالیٰ[5]

 

"اللہ تعالیٰ تمہارے چہرے کو روشن کرے اس شخص کے ذریعے جو اللہ کے فضل سے تم میں عنقریب ظاہر ہوگا جس کا نام عبدالقادر ہوگا۔ اس کے ظہور کی جگہ عراق اور مسکن بغداد ہوگا، وہ کہے گا میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردنوں پرہے اور اس کے ہم عصر تمام اولیا اللہ اللہ کے حکم سے اس کے قول کو قبول کریں گے۔

قلائد الجواہر میں ہے کہ جب آپ عالم شباب میں حضرت تاج العارفین شیخ ابوالوفا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت بابرکت میں تشریف لاتے تو حضرت شیخ موصوف آپ کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے اور حاضرین سے بھی ارشاد فرماتے کہ ولی اللہ کی تعظیم کو اٹھو اور بعض اوقات دس پانچ قدم آپ کے استقبال کو بھی آگے بڑھتے۔ ایک بار لوگوں نے حضرت موصوف سے اس تعظیم و تکریم کی وجہ پوچھی تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ نوجوان ایک عظیم الشان ولی ہوگا، ہر خاص و عام اس کی طرف رجوع کریں گے اور گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ بغداد میں ایک مجمع عظیم میں قَدْمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقْبَۃِ کُلِّ وَلِی اللہِ کہہ رہا ہے۔ اور یہ قپنے اس قول میں حق بجانب ہوگا۔ اور تمام اولیاء اللہ اس کے سامنے گردنیں جھکائیں گے۔، یہ سب کا قطب ہوگا تو تم میں سے جو کوئی اس کا وقت پائے اس کو چاہیے کہ اس کی خدمت اپنے اوپر لازم کرے۔ اس کے بعد حضرت شیخ موصوف نے آپ سے فرمایا اے عبدالقادر! آج وقت ہمارے ہاتھ ہے اور قریب ہے کہ یہ وقت تمہارے ہاتھ آئے گا۔ اور یہ دستور ہے کہ ہر ایک چراغ روشن ہر کر گل ہوجاتا ہے۔ مگر تمہارا چراغ قیامت تک روشن رہے گا یہ فرما کر حضرت شیخ نے اپنی جانماز، تسبیح، قمیص، پیالہ اور اپنا عصا آپ کو عناعت فرمایا اور کہا: اے عبدالقادر! تمہارا وقت ایک عظیم الشان وقت ہوگا۔ اس وقت تم اس سفید داڑھی کو مت بھولنا؟ یہی کہتے کہتے روح پرفتوح حضرت شیخ موصوف کی عالم بقا کو پرواز کرگئی۔

اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔

حضرت عمر بزار کہتے ہیں کہ وہ تسبیح جو آپ کوحضرت تاج العارفین نے دی تھی جب اس کو زمین پر رکھا جاتا تواس کا ہر ایک دانہ خود گردش کرتا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد حضرت شیخ علی بن ہیتی نے اسے لیا اور پیالہ کو جب کوئی لینا چاہتاتو وہ خود بخود ہاتھ میں آجاتا تھا۔

غبط الناظر میں ہے کہ حضرت شیخ نجیب سہروردی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد باس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا کہ اس عجمی کا قدم ایک وقت کل اولیاء اللہ کی گردنوں پر ہوگا اور حضرت شیخ نجیب یہ بھی فرماتے کہ میں نے چالیس سے زیادہ مشائخین کو ایسا ہی فرماتے سنا ہے۔

          قلائد الجواہر میں ہے کہ جب آپ عالم شباب میں تھے تو حضرت شیخ حماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نسبت فرمایا کہ میں نے ان کے سر پر دو جھنڈے دیکھے جو زمین سے لے کر ملاء اعلیٰ تک تک پہنچے تھے اور افق اعلیٰ میں ان کے نام کی دھوم دھام سنی ہے[6] ۔

فضائل:

          مقبول بارگاہ الٰہی، مور دانوار نامتناہی ، شیر بستان، کمالِ مرد میداں، جمال خورشید الفاک کرامت، گوہر دریائے ولایت، گل سرسید گلشن شریعت، بہار بے خزاں گلستاں طریقت، میوۂ اشجار بستانِ معرفت، ذائقہ نعمت خوارق حقیقت افضل اتقیائے عظام، اصلح اولیائے کرام، فیض بخش زمانہ، مرشد یگانہ، ہادی روزگار، مظہر محبوب پروردگا، خلاصہ خاندان مصطفوی، نقارہ دودمان مرتضوی، مقتدائے ارباب ہدایت، پیشوائے اصحاب استقامت، سید صحیح النسب، عالی نقب، والا حسب سلطان اقلیم، فقر و توکل، رونق بزم، صبر و تحمل دلیل سبیل، فلاح و رشاد، رہبر طریق استقامت، خلف رشید حسن مجتبیٰ، نور دیدہ شہید کربلا، زندگی بخش دین متین سید المرسلین، پشت وپناہ امتِ خاتم النبین، محی السنہ، قامع البدعہ، قطب الاقطاب، فروالاحباب، مظہر ولایت خاصہ سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت ابو محمد سید محی الدین، محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی غوث اعظم قدس اللہ تعالیٰ سرہٗ العزیز۔ آپ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے سترہویں امام و شیخ طریقت ہیں۔ آپ کے فضائل کا احاطہ طاقت بشری سے بالاتر ہے۔

          تلخیص قلائد الجواہر میں حضرت ابو ذکریا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ حضرت محبوب سبحانی، قطب ربانی نے ارشاد فرمایا کہ ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک تخت مرصع پر جلوہ گر ہوکر تشریف لائے اور مجھے نہایت الفت و محبت سے اپنے پاس بٹھایااور میری پیشانی پر بوسہ دیا اور اپنے جسم انور سے پیراہن مبارک اتار کر مجھکو پہنایا ااور ارشاد فرمایا:

"ھَذہٖ خَلْعَۃُ الغَوْثِیَّۃِ عَلَی الاقطَابِ وَالْابدَالِ والْاَتاد"

آپ کی شان مبارک میں جلیل القدر اولیائے عظام نے اس طرح خراج عقیدت پیش فرمایا صرف چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔

۱۔       حضرت نور الدین یوسف سطنوتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا؛

غوث الوریٰ غیث الندیٰ نور الھدیٰ

 

بدر الدجی شمس الضحی کھف الوریٰ

۲ ۔      حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی سنجری ۶۳۳؁ھ ۱۲۳۵؁ء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:

یاغوث معظم نور ہدیٰ مختار نبی مختار خدا

 

سلطان دو عالم قطب علی حیران ز جلالت ارض و سما

۳۔       حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی  ۶۳۳؁ھ ۱۲۳۵؁ء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا

خاک پائے توتو بو دروشنی اہل نظر

 

دیدہ را بخش ضیا غوث الثقلین

۴۔      حضرت مخدوم علی احمد صابر کلیری ۶۹۰؁ھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:

من آمدم بہ پیش تو سلطان عاشقاں

 

ذات توست قبلہ ایمان عاشقاں

۵۔      حضرت بہاء الدین ذکریا ملتانی ۶۶۱؁ھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:

معلیٰ حب سبحانی مقدس قطب ربانی

 

علی سیرت حسن ثانی محی الدین جیلانی

مدد یا شاہ جیلانی بریں افتادہ حیرانی

 

تو ملجائی و جانانی محی الدین جیلانی

چہ تابد یا ثناخوانی اگر خواہد ہمیدانی

 

کنی ہر مشکل آسانی محی الدین جیلانی

مدد یا شاہ جیلانی نظر یا شاہ صمدانی

 

کرم یا شیخ ربانی محی الدین جیلانی

بکن کارم کہ تبوانی غریبم در پریشانی

 

جہاں را پیرو پیرانی محی الدین جیلانی

بدل از صدق روحانی چوں مدح پیر پیرانی

 

مرازغم تو برہا فی محی الدین جیلانی

سب درگاہ جیلانی بہاء الدین ملتانی

 

لقائے دین سلطانی محی الدین جیلانی

۶۔      حضرت عبدالرحمٰن جامی ۸۹۸؁ھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:

گویم ز کمال توچہ غوث الثقلینا

 

محبوب خدا، ابن حسن، آل حسینا

سرجملہ نہاوند در قدمت و گفتد

 

تاللہ لقد آثرک اللہ علینا

۷۔      حضرت شاہ ابوالمعالی ۱۰۲۴؁ھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:

گرکسے واللہ بہ عام از مئے عرفانی است

 

از طفیل شاہ عبدالقادرگیلانی است

یارب بحق جمال عبدالقادر

 

یارب بحق کمال عبدالقادر

برحال ابوالمعالی زار وضعیف

 

رحمے کن ودہ وصال عبدالقادر

۸۔      سلطان العارفین حضرت سلطان باہو ۱۱۰۲؁ھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا فرمان ہے:

شو مرید از جان باہو بالیقین

 

خاکپائے شاہ میراں راس دین

۹۔       حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ۱۳۱۷؁ھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:

خداوند بحق شاہ جیلاں

 

محی الدین غوث و قطب دوراں

بکن خالی مر از ہر خیالے

 

ولیکن اانکہ زد پیدا است حالے

۱۰۔     اعلی ٰحضرت مجدد دین و ملت شاہ احمد رضا بریلوی ۱۳۴۰؁ھ ۱۹۲۱؁ء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

 

اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا

سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا

 

اولیا ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا

خصائل مبارکہ:

          اور آپ کے خصائل مبارکہ کو مناقب غوثیہ میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ آپ کے جسم مبارک پر کبھی مکھی نہیں بیٹھتی اور آپ کے پسینہ مبارک سے خوشبو آتی تھی اور آپ کے بول  وبراز کو بھی زمین کھاجاتی تھی۔ ایک دن لوگوں نے عرض کیا کہ حضور! یہ سب باتیں تو آپ کے جد امجد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کے ساتھ مخصوص تھی، حضور کے اندر جو پائی جاتی ہیں اس کا سبب کیا ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ رب کائنات کی قسم یہ وجود عبدالقادر کا نہیں ہے، بلکہ وجود مسعود جد امجد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ہے۔ اس بات میں اشارہ ہے کہ صفت فنا فی الرسول آپ کے اندر بدرجہ اتم موجود تھیں اور ذات و کمال میں اس درجہ فنا ہوگئے تھے کہ آپ کا جسم پاک عین جسم مقدس حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ کا سا ہوگیا تھا۔ اور اسی کو فنائے اتم کہتے ہیں[7]۔

عہد طفلی کے حالات:

          آپ کی جانب ابتدا ہی سے خداوند قدوس کی رحمتیں متوجہ تھیں پھر آپ کے مرتبہ فلک وقار کو کون چھوسکے یا اس کا اندازہ لگا سکے۔ چنانچہ آپ نے خود ہی اپنے بچپنے کے واقعات کی اس طرح نشاندہی فرمائی ہے کہ عمر کے ابتدائی دور میں جب کبھی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلنا چاہتا تو غیب سے آواز آتی تھی کہ لہو لعب سے باز رہو۔ جسے سن کر میں رک جایا کرتا تھا اور اپنے گردوپیش پر جب نظر ڈالتا تو کوئی آواز دینے والا دکھائی نہیں دیتا تھا۔ جس کی وجہ سے مجھے دہشت معلوم ہوتی اور میں جلدی سے بھاگتا ہوا گھر آاتا اور والدہ محترمہ کی آغوش محبت میں چھپ جاتا تھا۔ اب وہی آواز میں اپنی تنہائیوں میں سنا کرتا ہوں، اگر مجھے کبھی نیند آتی ہے تو وہ آواز فوراً میرے کانوں میں آکر مجھے آگاہ کردیتی ہے کہ تمہیں اس لیے نہیں پیدا کیا کہ تم سویا کرو[8]۔

تحصیل علم:

          جب آپ کی عمر شریف چار سال کی ہوئی تو آپ کے والد ماجد سیدنا ابو صالح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو مکتب میں داخل کرنے کی غرض سے لے گئے۔ اوراستاد کے سامنے آپ دو زانو ہو کر بیٹھ گئے، استاد نے کہا پڑھو بیٹے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ تو آپ نے بسم اللہ شریف پڑھنے کے ساتھ ساتھ الٓم سے لیکر مکمل سترہ پار ے از بر استاد کو سنادیا۔ استاد نے حیرت سے دریافت کیا کہ یہ تو نے کب پڑھا اور کیسے یاد کیا؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میری والدہ ماجدہ سترہ سپارے کی حافظہ ہیں، جن کا وہ اکثر ورد کیا کرتی تھی۔ جب میں شکم مادر میں تھا تو یہ سترہ سپارے سنتے سنتے یاد ہوگئے۔       

          گھر پر علوم دینیہ کی تکمیل کے بعد ۴۸۸؁ھ میں جبکہ آپ کی عمر مبارک اٹھارہ سال کی تھی بغداد تشریف لائے اور اس وقت کے شیوخ ائمہ، بزرگان دین اور محدثین کی خدمت کا قصہ فرمایا تو پہلے علوم قرآنیہ کو روایت و درایت اور تجوید و قرأت کے اسرار و رموز کے ساتھ حاصل کیا اور زمانے کے بڑے محدثین  اور اہل فضل و کمال و مستند علماء کرام سے سماع حدیث فرماکر علوم کی تحصیل فرمائی حتیٰ کی تمام اصولی ، فروعی، مذہبی اور اختلافی علوم میں علمائے بغداد ہی سے نہیں بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے علماء سے سبقت لےگئے اور آپ کو تمام علماء پر فوقیت حاصل ہوگئی اور سب نے آپ کو اپنا مرجع بنالیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخلوق کے سامنے ظاہر فرمایا اور آپ کی مقبولیت تامہ عوام و خواص کے قلوب میں ڈال دی اور آپ کی قطبیت کبری اور ولایت عظمی کا مرتبہ عطا فرمایا حتیٰ کہ چار دانگ عالم کے تمام فقہا علماء طلباء اور فقراء کی توجہ آپ کے آستانہ کی جانب ہوگئی حکمت و دانائی کے چشمے آپ کی زبان سے جاری ہوگئے۔ اور عالم ملکوت سے عالم دنیا تک آپ کے کمال و جلال کا شہرت ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے علامات قدرت و امارت اور (دلائل خصوصیت و براہین کرامت آفتاب نصف النہار سے زیادہ واضح اور ظاہر کردیا اور بخشش کے خزانوں کی کنجیاں اور تصرفات وجود کی لگامیں آپ کے قبضۂ اقتدار و دست اختیار میں سپرد فرمایا، تمام مخلوق کے دلوں کو آپ کی عظمت و ہیبت کے سامنے سرنگوں کردیا اور اس وقت کے تمام اولیاء کو آپ کے سایہ قدم اور دائرہ حکم میں دیدیا کیونکہ آپ من جاب اللہ اسی پر مامور تھے جیسا آپ خود فرماتے ہیں کہ میرا یہ قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے۔

بیعت و خلافت:

          آپ کو بیعت و خلافت کا شرف حضر ت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل تھا اور اپنے شیخ طریقت کی بارگاہ میں راہ طریقت و سلوک کو حاصل کیا۔ نیز آپ نے آداب و طریقت و تعلیم و سلوک محمد بن مسلم الاباس قدس سرہ سے بھی حاصل کیا ان کے علاوہ وقت کے ممتاز شیخ طریقت سے بھی آپ نے فیوض و برکا ت حاصل فرمایا۔

اخلاق عظیمہ:

          آپ کے اخلاق و عادات اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظیْمٍکا نمونہ اور اِنَّکَ لَعَلیٰ ھُدًی مُّسْتَقِیْمکا مصداق تھے۔ آپ اتنے عالی مرتبت، جلیل القدر، وسیع العلم ہونے اور شان و شوکت کے باوجود ضعیوفوں میں بیٹھتے، فقیروں کے ساتھ تواضع سے پیش آتے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت فرمائے، سلام کرنے میں پہل کرے، اور طالب علموں اور مہمانوں کے ساتھ کافی دیر بیٹھے، بلکہ ان کی لغزشوں اور گستاخیوں سے درگزر فرماتے، اگر آپ کے سامنے کوئی جھوٹی قسم بھی کھاتا تو وپنے علم و کشف سے جاننے کے باجود اس کو رسوا نہ کرتے، اپنے مہمان اور ہمنشیں سے دوسروں کی نسبت انتہائی خوش اخلاق اور خندہ پیشانی سے پیش ااتے ، آپ کبھی نافرمانوں، سرکشوں، ظالموں اور مالداروں کے لیے کھڑے نہ ہوگے، نہ کبھی کسی وزیر و حاکم کے دروازے پر جاتے۔ اور مشائخ وقت میں سے کوئی بھی حسن خلق، وسعت قلب، کرم نفس، مہربانی اور عید کی خلافت میں آپ کی برابری نہیں کرسکتا تھا۔

آپ کے اوصاف کریمانہ:

          ایک روز آپ نے ایک فقیر کو شکستہ خاطر ایک گوشے میں بیٹھا ہوا دیکھا، دریافت فرمایا کہ کس خیال میں ہو اور کیا حال ہے؟ فقیر نے عرض کیا کہ میں دریا کے کنارے گیا تھا اور ملاح کو دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں تھا کہ کشتی میں بیٹھ کر پار اترجاتا۔ ابھی اس فقری کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ ایک شخص نے تیس اشرفیوں سے بھری ہوئی ایک تھیلی آپ کو نذر کی۔ آپ نے وہ تھیلی فقیر کو دیکر فرمایا کہ اسے لے جا کر ملاح کو دیدو۔

          بعض مشائخ وقت نے آپ کے اوصاف میں لکھا ہے کہ حضڑت شیخ عبدالقادر قدس سرہ العزیز بڑے بارونق ہنس مکھ، خندہ رو، بڑے شرمیلے وسیع اخلاق، نرم طبیعت، کریم الاخلاق، پاکیزہ اوصاف اور مہربان و شفیق تھے۔ جلیس کی عزت کرتے اور مغموم کو دیکھ کر امداد فرماتے۔ ہم نے آپ جیسا فصیح و بلیغ کسی کو نہیں دیکھا۔ اور بعض نے اس طرح وصف کا اظہار فرمایا۔ حضرت شیخ محی الدین قدس سرہ بکثرت رونے والے۔ اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والے تھے۔ آپ کی ہر دعا فوراً قبول ہوتی۔ نیک اخلاق، پاکیزہ اوصاف، بدگوئی سے بہت دور بھاگنے والے اور حق کے سب سے زیادہ قریب تھے۔ احکام الٰہی کی نافرمانوں کے لیے بڑے سخت گیر تھے۔ لیکن اپنے لیے کبھی غصہ نہ فرماتے، کسی سائل کو اگرچہ وہ آپ کے بدن کے کپڑے ہی لے جاتے واپس نہ لیتے، توفیق الٰہی آپ کی رہنما اور تائید ایزدی آپ کی معاون تھی۔ علم نے آپ کو مہذب بنایا، قرب نے آپ کو مودب بنایا، خطاب الٰہی آپ کو شیر اور ملاحظہ خداوندی آپ کی سفیر تھی۔ انسیت آپ کی ساتھی اور خندہ روئی آپ کی صفت تھی۔ سچائی آپ کا خلیفہ فتوحات آپ کا سرمایہ بردباری آپ کا فن ، یاد الٰہی آپ کا وزیر، غور وفکر آپ کا مونس، مکاشفہ آپ کی غزا اور مشاہدہ آپ کی شفا تھی۔ آداب شریعت آپ کا ظاہر اور اوصاف حقیقت آپ کا باطن تھا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عن جمیع الصالحین و عناعن محبیہم اجمعین۔

عبادت و ریاضت:

          عبادت و ریاضت کے متعلق آپ خود ہی ارشاد فرماتے ہیں: پچیس سال تک میں دنیا سے قطع تعلق کر کے عراق کے صحراؤں اور ویرانوں میں اس طرح گشت کرتا رہا کہ نہ میں کسی کو پہچانتا تھا اور نہ مجھے کوئی پہچانتا ، رجا ل الغیب اور جنات کی میرے پاس آمد رہتی تھی اور انہیں حق کی تعلیم دیا کرتا تھا۔ چالیس سال تک میں نے فجر کی نماز عشا کے وضو سے ادا کی ہے اور پندرہ سال تک یہ حال رہا کہ نماز عشاء کے بعد قرآن مجید اس طرح شروع کرتا کہ ایک پاؤں کھڑا ہوجاتا اور ایک ہاتھ سے دیوار کی میخ پکڑ لیتا۔ تمام شب اسی حالت میں رہتا حتیٰ کی صبح کے وقت قرآن کریم ختم کردیتا تین دن سے چالیس دن تک بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ نہ تو کچھ کھانے پینے کو ملا اور نہ ہی سونے کی نوبت آئی۔ گیارہ سال تک برج بغداد میں عبادت الٰہی کے اندر مصروف رہا حتیٰ کہ اس برج میں میری اوقات اتنی طویل مدت تک رہی کہ وہ برج ہی برج عجمی کے نام سے مشہور ہوگیا اور اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ جب تک غیب سے کھانا نہ ملے گا نہ کھاؤنگا، مدت دراز تک یہی کیفیت رہی لیکن میں نے اپنا عہد نہ توڑااور اللہ تعالیٰ سے جو وعدہ کیا اس کی خلاف ورزی نہ کی۔ آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ سفر میں ایک شخص نے میرے پاس آکر کہا کہ اس شرط پر مجھے اپنی رفاقت میں لے لیجیے کہ صبر بھی کروں گا اور حکم کے خلاف کچھ نہ کروں گا۔ ایک دفعہ اس نے مجھے ایک جگہ بٹھایا اور وعدہ لیکر کہ جب تک میں نہ آؤں آپ یہاں سے نہ جائیں چلاگیا۔ میں ایک سال اس کے انتظار میں بیٹھا رہا لیکن وہ شخص نہ آیا۔ ایک ال بعد آکر مجھے اس جگہ بیٹھا دیکھا۔ پھر یہی وعدہ کرکے چلاگیا۔ تین مرتبہ ہوا۔ آخری مرتبہ وہ اپنے ساتھ دودھ اور روٹی لایا اور کہا کہ میں خضر ہوں؟ اور مجھے حکم ہے کہ آپ کے ساتھ بیٹھ کر یہ کھانا کھاؤں، چنانچہ ہم نے کھانا کھایا فارغ ہونے کے بعد حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ اب اٹھیے سیر و سیاحت ختم کیجیے اور بغداد میں جا کر بیٹھ گیا۔ لوگوں نے پوچھ کہ ان تین سالوںمیں کھانے پینے کی کیا شکل رہی؟ فرمایا کہ ہر چیز زمین سے پیدا ہوکر میرے سامنے موجود ہوجاتی تھی[9]۔

عقد شریف:

          حضرت شیخ شباب الدین عمر سہروردی قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے معتبر ذریعہ سے سنا ہے کہ کسی صالح شخص نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ آپ نے نکاح کس غرض سے کیا ہے؟ تو حضرت نے جواب دیا کہ میں نے اس وقت تک نکاح نہیں کیا جب تک مجھکو رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد نہیں فرمایا کہ نکاح کرو۔ یہ سن کر اس شخص نے عرض کیا کہ رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس امر میں اجازت دی ہے، پھر صوفیاء کرام اس ارادے پر الزام کیوں دیتے ہیں؟ میں نہیں کہہ سکتا کہ حضرت شیخ نے کیا جواب دیا، البتہ میں یہ کہوں کہ رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے رخصت کا حکم دیا ہے اور شریعت نے نکاح کی اجازت دی ہے۔ مگر جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہے اور اس کا نیاز مند بن کر اس سے استخارہ کرتا ہے تو عالم خواب میں یا بذریعہ کشف اللہ تعالیٰ اس کو متبنہ فرماتا ہے تو اس وقت یہ حکم رخصت پر نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا امر ہے جس کا اتباع ارباب عزیمت کرتے ہیں، کیونکہ یہ علم حال سے ہے اور حکم سے نہیں ہے اور جو امر بذریعہ القاء یا کشف دل میں واقع ہو اس کی صحت پر دلیل حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول ہے کہ آپ خود فرماتے ہیں:

          میں مدت سے شادی کا خواستگار تھا، مگر وقت کے خراب ہونے کے باعث میں شادی کرنے کی جرات نہیں کرتا تھا لہذا میں نے صبر کیا یہاں تک کہ جب اس کا مقررہ  وقت آگیا تو اللہ تعالیٰ مجھے چار بیویاں عطا فرمائیں ان میں سے ہر ایک بیوی میری مرضی اورمنشاء کے مطابق نکلی، پس یہ ثمرہ میرے اس صبر جمیل کا ہے جو شادی کرنے کے سلسلے میں کرتا رہا[10]۔

آپ کے مراتب و اختیارات:

          حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ:

میں وہ مرد خدا ہوں کہ میری تلور ننگی ہے، اور میری کمان عین نشانے پر ہے، میرا تیر نشانے پر ہے میرے نیزے صحیح مقام پر مار کرتے ہیں۔ میرا گھوڑا چاک و چوبند ہے۔ میں اللہ کی آگ  (نار اللہ) ہوں میں لوگوں کے احوال سلب کرلیتا ہوں۔ میں ایسا بحر بیکراں ہوں جس کا کوئی ساحل نہیں۔ میں اپنے آپ سے ماورا گفتگو کرتا ہوں،مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص نگاہ قدرت میں رکھا ہے، مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص ملاحظہ میں رکھا ہے، اے روزہ دارو! اے شب بیدارو! اور پہاڑ وال! تمہارے صومعے زمین بوس ہوجائیں گے۔ میرا حکم جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے قبول کرلو۔ اے دختران وقت، اے ابدال و اطفال زمانہ، آؤ اور وہ سمندر دیکھو جس کا کوئی ساحل نہیں۔ مجھے اللہ کی قسم ہے کہ میرے سامنے نیک بخت اور بد بخت پیش کئے جاتے ہیں۔ مجھے قسم ہے لوح محفوظ میری نگاہوں کے سامنے ہوتی ہے۔ میں دریائے علوم الٰہی کا غواص ہوں۔ میرا مشاہدہ ہی محبت الٰہی ہے۔ میں لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت ہوں۔ میں نائب رسول خدا ہوں۔ میں اس زمی پر رسول اللہ کا وارث ہوں۔ انسان اور جنوں میں مشائخ ہوتے ہیں۔ فرشتوں میں بھی مشائخ ہوتے ہیں۔ مگر میں ان سب کا شیخ الکل ہوں۔ میری مرض موت اور تمہاری مرض موت میں زمین و آسمان کا فاصل ہے مجھے دوسروں پر قیاس نہ کرو اور نہ دوسرے مجھے اپنے آپ پر قیاس کریں۔ اے مشرق والو! اے مغرب والو!! اور اے آسمان والو!!! مجھ سے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں وہ چیزیں جانتا ہوں جو تم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا۔ مجھے ہر روز ستر بار حکم یا جاتا ہے کہ یہ کام کرو، ایسا کرو، اے عبدالقادر تمہیں میری قسم ہے۔ یہ چیز پی لو، تمہیں میری قسم ہے یہ چیز کھالو، میں تم سے باتیں کرتا ہوں اور امن میں رکھتا ہوں۔ حضرت نے مزید فرمایا کہ جب میں گفتگو کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے اپنی قسم یہ بات پھر کہو، کیونکہ تم سچ کہتے ہو میں اس وقت تک بات نہیں کرتا۔ جب  تک مجھے یقین نہ دلایا جائے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔میں ان تمام امور کی تقسیم و تفریق کرتا رہتا ہوں جن کے مجھے اختیارات دئے جاتے ہیں۔ جب مجھے حکم دیا جاتا ہے تو میں وہی کام کرتا ہوں، مجھے حکم دینے والااللہ تعالیٰ ہے۔ اگر تم جھٹلاؤ گے تو یہ بات تمہارے لیے زہریلا ہل ہوگی تمہارا یہ اقدام نافرمانی تمہیں ایک لمحہ میں تباہ کردے گا۔ میں تمہاری دنیا و آخرت کو ایک لمحہ میں ختم کرنے کی قدرت رکھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہوں، اگر میرے منہ میں شریعت کی لگام نہ ہوتی تو میں تمہیں ان چیزوں کو بھی خبر دیتا تو تم کھاتے ہو، پیتے ہو، گھروں میں چھپائے رکھتے ہو۔ اگر میرے منہ میں شرعیت کی لگام نہ ہوتی (یعنی شریعت کا پاس نہ ہوتا) تو میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پیالے کی خبر دیتا غرضکہ دلوں کی ہر خبر واضح کردیتا۔ چونکہ علم و امان عالم میں پناہ حاصل کرتا ہے اور ان کی خفیہ چیزوں کو ظاہر نہیں کرتا۔ آپ نے مزید فرمایا کہ میں ہر اس خبر کو جانتا ہوں جو تمہارے ظاہرمیں ہے اور ہر اس چیز کی خبر رکھتا ہوں جو تمہارے باطن میں پوشیدہ ہے۔ میری نگاہ میں تم لوگ شیشے کی طرح صاف ہو۔ تمام مردان خدا جب مقام قدر میں پہنچتے ہیں تو ان کی نگرانی کی جاتی ہے۔ مگر مجھے اس طاقچہ سے اندر پہنچایا جاتاہے[11]۔

قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللہ لطائف الغرائب میں ہے کہ جب آپ کو رب کائنات سے مرتبہ غوثیت و محبوبیت عنایت ہوا۔ تو آپ جمعہ مبارکہ کے دن منبر پر خطبہ پڑھ رہے تھے، ناگاہ استغراق کی کیفیت آپ پر طاری ہوئی اور اسی حالت میں زبان کرامت بیان پر یہ کلمہ جاری ہو۔ قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللہ یعنی میرا یہ قدم جملہ اولیاء اللہ کی گردن پر ہے معاً منادی غیب نے تمام عالم میں ندا کردی کہ جمیع اولءا اللہ محبوب پاک کی اطاعت کریں اور ان کے ارشاد کر بسر و چشم بجا لادیں، یہ سنتے ہی جملہ اولیاء اللہ نے گردیں جھکادیں اور ارشاد واجب الاذعان کی تعمیل کی[12] جن اولیاء اللہ نے سر تسلیم خم کیا اس کی تفصیل اس طرح ہے۔۱۔ حرمین شریفین میں سترہ

۲۔ عراق میں ساٹھ          ۳۔عجم میں چالیس            ۴۔ شام میں تیس

۵۔ مصر میں بیس             ۶۔ مغرب میں ستائیس        ۷۔ یمن میں تئیس

۸۔ جتہ میں گیارہ              ۹۔ سدّ یاجوج ماجوج میں سات

۱۰ سراندیپ میں سات       ۱۱۔ کوہ قاف میں سینتالیس    ۱۲۔ جزائر بحر محیط میں چوبیس افراد تھے

          حضرت شیخ مکارم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں انوار الٰہی کو حاضر جان کر کہتا ہوں کہ جس روز آپ نے قدمی ہذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ فرمایا اس روز جملہ اولیاء اللہ نے معائنہ کیا کہ نشان قطبیت آپ کے سامنے گاڑا گیا ہے اور غوثیت کا تاج آپ کے سر مبارک پر رکھا گیا  اور خلعت تصرف زیب تن کئے ہوئے ہیں۔ تو سب نے ایک ہی آن میں سر جھکا کر آپ کے مرتبے کا اعترف کیا۔ یہاں تک کہ دسوں ابدال نے جو بھی جو سلاطین وقت تھے اپن یگردیں جھکائیں جن کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں:

۱۔ حضرت شیخ بقا بن بطو                 ۲۔ حضرت شیخ ابو سعید قیلوی

۳۔ حضرت شیخ علی بن ہیستی            ۴۔ حضرت شیخ عدی بن مسافر البصری

۵۔ حضرت شیخ موسیٰ الزولی             ۶۔ حضرت شیخ احمد رفاعی

۷۔ حضرت شیخ عبدالرحمٰن طفسونجی     ۸۔ حضرت شیخ ابو محمد عبداللہ البصری

۹۔ حضرت شیخ حیاب بن قیس الحرافی    ۱۰۔ حضرت شیخ ابو مدین العربی

رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین

حضرت قدوۃ العارفین شیخ ابو سعید قیلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب آپ نے قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللہ فرمایا اس وقت آپ کے قلب مبارک پر تجلیات الٰہی نازل ہورہی تھی اور حضرت رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کو خلعت بھیجا تھا جس کو ملائکہ مقربین نے مجمع عام میں آپ کو پہنایا، اس وقت ملائکہ و رجال الغیب صف باندھے ہوئے اس کثرت سے ہوا میں کھڑے ہوئے تھے کہ افق سماں نظر نہیں آتا تھا اور اس وقت روئے زمین پر کوئی ایسا ولی نہ تھا جس نے گردن نہ جھکائی ہو[13] ۔

خلاصۃ القادر میں ہے کہ جب منادی غیب کی ندا عالم ارواح میں پہنچی، تو حضرت سلطان العارفین خواجہ بایزید بسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روح پاک نے بارگاہ ایزدی میں عرض کیا۔یَا اَحکم الحاکمین!تیرا فرمان واجب الاذعان ہے۔ مگر سید عبدالقادر کو بایزید پر کون سی فوقیت اور ترجیح حاصل ہے؟ ارشاد ہوا کہ دو فوقتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ فرزند البند خواجہ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے اور دوسرا یہ کہ تو فارغ مشغول ہے اور وہ مشغولِ فارغ، تو عاشق ہے، وہ معشوقت ہے، یہ سنتے ہی حضرت سلطان العارفین نے گردن جھادی اور فرمایاسَمِعنا وَاَطَعْنَا۔

          منقول ہے کہ شیخ ابوالبرکان بن صخر بن مسافر نے اپنے عم بزرگوار حضرت شیخ عدی بن مسافر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ سوائے حضرت محبوب سبحانی کے کسی اور ولی اللہ نے بھی قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللہ کہا ہے؟ تو ارشاد فرمایاکہ نہیں: پوچھا کہ پھر حضرت محبوب سبحانیکے ارشاد کا کیا سبب ہے؟ تو ارشادفرمایا کہ یہ کلمہ ان کے مقام فردیت کی خبر دیتا ہے پھر پوچھا کہ فرد تو ہرزمانے میں ہوتا ہے، مگر کسی کو سوائے حضرت محبوب سبحانی کے یہ کہنے کا حکم نہیں ہوا ہے۔ عرض کیا کہ کیا  آپ اس کہنے پر مامور ہوئے تھے؟ فرمایا ہاں ! اور تمام اولیاء اللہ نے  حکم الٰہی کے بموجب اپنی گردیں جھکائیں[14]۔

وجہ تسمینہ محی الدین:

          مشائخ قادریہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے آپ سے محی الدین لقب کی وجہ دریافت کی، تو آپ نے فرمایا ۵۱۱؁ھ میں ایک دفعہ میں ایک لمبے سفر سے بغداد کی طرف لوٹ رہا تھا، میرے پاؤں ننگے تھے،مجھے ایک بیمار ملا جس کا رنگ اڑا ہوا تھا اور بڑا ہی کمزور جسم نظر آتا تھا۔ مجھے اس نے سلام کیا۔ میں نے وعلیکم السلام کہا اس کے بعد مجھ سے کہنے لگا کہ میرے قریب ہوجاؤ۔ میں قریب ہوا تو کہنے لگا مجھے اٹھاؤ؟ میں نے اسے اٹھا کر بٹھا دیا تو اس کا جسم اچھا و توانا ہوگیا اور اس کے چہرےپر رونق نظر آنے لگی۔ مجھے اس نے پوچھا کہ کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ میں نے نفی میں جواب دی تو وہ خود ہی کہنے لگا کہ:

          "میں تمہارا دین ہوں جو اس نحیف و ترار ہوگیا تھا چنانچہ آپ نے دیکھ لیا کہ آپ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے از سرنو زندگی بخشی ہے، آج سے تمہار نام محی الدین ہوگا"۔

یہاں تک کہ جب میں جامع مسجد کی طرف واپس آیا تو مجھے ایک شخص ملا اور مجھ سے کہنے لگا یا سیدمحی الدین ! میں نے نماز ادا کی تو لوگ میرے سامنے ادباً کھڑے ہوگئے اور ہاتھوں کو بوسہ دینے لگے۔ اور زبان سے یا محی الدین پکارتے جاتے تھے۔ حالانکہ اس سے پہلے کوئی بھی مجھے اس لقب سے نہیں پکارتا تھا۔

مسند رشد و ہدایت

حضرت غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ابتدا میں مجھے سوتے جاگتے کرنے اور نہ کرنے والے کام بتائے جاتے اور مجھ پر کلام کرنے کا غلبہ اتنی شدت سے ہوتا کہ میں بے اختیار ہوجاتا اور خاموش رہنے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ صرف دو تین آدمی میری باتیں سنتے رہتے۔ پھر لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی حتیٰ کہ مخلوق خداکا ہجوم ہونے لگا یہاں تک کہ ایک وقت آیا کہ میری مجلس میں جگہ باقی نہ رہتی چنانچہ میں شہر کی عید گاہ میں چلاگیا اور وعظ کہنے لگا وہاں بھی جگہ تنگ ہوگئی تو منبر شہر کے باہر لے گیا اور بے شمار مخلوق سوار و پیادہ آتی اور مجلس کے باہر اردگرد کھڑی ہوکر وعظ سنتی حتی کہ سننے والوں کی تعداد ستر ہزار کے قریب پہنچ گئی[15]۔

          آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ شروع میں، میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خواب میں دیکھا کہ مجھے وعظ کہنے کا حکم فرمارہے ہیں اور میرے منہ میں انہوں نے اپنا لعاب دہن ڈالا۔ بس اس کی تاثیر یہ ہوئی کہ میرے لیے ابواب سخن کھل گئے۔ آپ کی مجلس وعظ میں چار سو اشخاص قلم دوات لیکر بیٹھتے اور جو کچھ سنتے اس کو لکھتے رہتے۔ اور جب منبر پر تشریف لاتے تو مختلف علوم کا بیان فرماتے۔ تمام حاضرین آپ کی ہیبت و عظمت کے سامنے بالکل ساکت رہتے کبھی اثنائے وعظ میں فرماتے کہ قال ختم ہوا اور حال کی طرف مائل ہوئے۔ یہ کہتے ہی لوگوںمیں اضطراب و جداور حال کی کیفیت طاری ہوجاتی کوئی گریہ وفریاد کرتا، کوئی کپڑے پھاڑکر جنگل کی راہ لیتا اور کوئی بیہوش ہوکر اپنی جان دیدیتا، بسا اوقات آپ کی مجسل سے شوق، ہیبت، تصرف، عظمت اور جلال کے باعث کئی کئی جنازے نکلتے آپ کی مجسل وعظ میں جن خوارق کرامات، تجلیات اور عجائبات و غرائب کا ظہور بیان کیا جاتا وہ بے شما ہیں۔

          روایت ہے کہ جب آپ ممبر پر تشریف لاتے تو فرماتے اے صاحبزادے! ہمارے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد دیر نہ کیا کر، ولایت یہاں حاصل ہوتی ہے، اعلیٰ درجات یہاں ملتے ہیں۔ اے طلبگار توبہ بسم اللہ! ہمارے پاس آ، اے طالب عفو! بسم اللہ تو بھی آ، اے اخلاص کے چاہنے والے! بسم اللہ ہفتہ میں ایک بار آ، مہینہ میں ایک بار آ، اگر یہ بھی مشکل ہوتو سال میں ایک دفعہ، اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو عمر میں ایک مرتبہ آ، اور ہزار نعمتیں لے جا، اے عالم ہزار مہنہ کی مسافت طے کرکے میرے پاس آ اور میری باس سن جا۔ اور جب تو یہاں آئے تو اپنے عمل زہد، تقویٰ اور ورع کو نظر انداز کر، تاکہ تو اپنے نصیب کے مطاقبق مجھ سے اپنا حصہ حاصل کرسکے۔ میری مجلس میں مقرب فرشتے، مخصوص اولیاء اور رجال الغیب اسلیے آتے ہیں کہ مجھ سے بارگاہ اقدس کے آداب و تواضع سیکھیں،میرا وعظ رجال غیب کے لیے ہوتا ہے جو کوہ قاف کے ماوراء سے آتے ہیں کہ ان کے قدم دوش ہوا پر ہوتے ہیں۔ لیکن خداوند عالم کے لیے انکے دلوں میں آتش و سوزش اشتیاق شعلہ زن ہوتی ہے۔

          آپ کا معمول تھا کہ ہفتہ میں تین بار وعظ فرمایا کرتے۔ جمعہ کی صبح، منگل کی رات اور اتوار کی صبح کو۔ آپ کی مجلس میں عراق کے مشائخ،مفتی اور علماء شریک  ہوا کرتے تھے ان میں شیخ بقاء بن بطو، شیخ ابو سعید قیلوی، شیخ علی بن ہیتی، شیخ عبدالقاہر سہروردی، شیخ ماجد کردی اور شیخ مطربادرانی وغیرہم خاص طور پر قابل ذکر ہیں (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) آپ کی کوئی مجلس ایسی نہ ہوتی تھی جس میں کوئی یہودی یا عیسائی دامن اسلام میں نہ آتا ہو اور راہزن، چور، ملحد، بے دین اور بدعقیدہ لوگ آپ کی مجلس میں آکر تائب ہوتے۔ یہودی اورعیسائیوں میں سے پانچ سے کے قریب آپ کے دست حق پرست پر اسلام لائے اور ایک لاکھ سے زیادہ چور اور قزاق تائب ہوئے[16]۔

کشف و کرامات

آپ کے کشف و کرامات کے متعلق حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اخبار اخیار میں ارشاد فرماتے ہیں: آپ سے لاتعداد کرامتیں ظاہر ہوئیں، مخلوق کے ظاہر و باطن میں تصرف کرنا۔ انسان اور جنات پر آپ کی حکومت، لوگوں کے راز اور پوشیدہ امور سے واقفیت، عالم ملکوت کے بواطن کی خبر، عالم جبروت کے حائق کا کشف، عالم لاہوت کے سربستہ اسرار کا علم، مواہب غیبیہ کی عطا، باذن الٰہی حوادث زمانہ کا تصرف و انقلاب، باذن الٰہی مارنے اور جلانے کے ساتھ متصف ہونا اندھے اورکوڑھی کو اچھا کرنا، مریضوں کی صحت، بیماروں کی شفا، طے زمان و مکاں، زمین و آسمان پر اجرائے حکم۔ پانی پر چلنا، ہوا میں اڑنا، لوگوں کے تخیل کا بدلنا، اشیا کی طبیعت کا تبدیل کردیا، غیب کی اشیا کا منگانا، ماضی و مستقبل کی باتوں کا بتانا اور اسی طرح کے دوسرے کرامات مسلسل اور عام و خاص کے درمیان آپ کے قصہ و ارادہ سے بلکہ اظہار حقانیت کے طریقے پر ظاہر ہوئے اور مذکورہ کرامتوں میں سے ہر ایک سے متعلق اتنی روایات و حکایات ہیں کہ زبان و قلم ان کے احاطہ سے قاصر ہیں:

          حضرت شیخ علی بن ہیتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے زمانہ میں شیخ عبدالقادر سے زیادہ کرامت والا کوئی نہیں دیکھا جس وقت جس کا دل چاہتا ٓپ کی کرامت کا مشاہدہ کرلیا اور کرامت کبھی آپ کے بارے میں اور کبھی آپ کی وجہ سے۔

          شیخ ابو مسعود احمد بن ابوبکر خزیمی اور شیخ ابو عمر عثمان صریفنی نے فرمایا: کہ حضرت شیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامتیں ا س ہار کی طرح ہیں جس میں جواہر تہ بہ تہ ہیں۔

          شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بادشاہ طریقت اور موجودات میں تصرف کرنے والے تھے اور منجاب اللہ آپ کو تصرف و کرامتوں کا ہمیشہ اختیار حاصل رہا۔

          امام عبداللہ یافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ آپ کی کرامتیں حد تواتر تک پہنچ گئی ہیں اور بالاتفاق سب کو اس کا علم ہے۔ دنیا کے کسی شیخ میں ایسی کرامتیں نہیں پائی گئیں۔

          یہاں پر سرکا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صرف چند کرامات تبرکاً پیش کیے جاتے ہیں۔ تفصیل کے لیے دیگر سوانح کی کتب دیکھیں۔

مردوں کو زندہ کرنا:

وہ کہہ کر قم باذن اللہ جلادیتے ہیں مردوں کو

بہت مشہور ہے احیائے موتیٰ غوث اعظم کا

اسرار السالکین میں ہے کہ ایک دن آپ بازار تشریف لیے جارے تھے، دیکھتے کیا ہیں کہ ایک نصرانی اور ایک مسلمان میں مباحثہ و مجادلہ ہورہا ہے۔ نصرانی بہت سے دلائی سے اپنے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت ثابت کررہا تھا اورمسلمان اپنے پیغمبر نبی آخرالزمان علیہ الصلوۃ والسلام کی فضیلت میں بہت سے دلائل پیش کررہا تھا۔آخرمیں نصرانی نے کہاکہ یرے پیغمبر حضرت علیہ السلام قم باذن اللہ  کہہ کر مردے کو زندہ کردیتے تھے، تم بتاؤ کہ تمہارےپیغمبر نے کتنے مردے زندہ کیے ہیں؟ یہ سن کر مسلمان نے سکوت اختیار کیا یہ سکوت سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہایت ہی ناگوار معلوم ہوا۔ اور نصرانی سے ارشاد فرمایا: میرے پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کا ادنی معجزہ یہ ہے کہ ان کے ادنی خادم مردوں کو جلا سکتے ہیں۔ تو جس مردہ کو کہے اس میں ابھی زندہ کردوں، یہ سن کر نصرانی آپ کو ایک بہت ہی پرانے قبرستان میں لے گیا۔ اور ایک بہت ہی پرانی قبر کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ آپ اس مردہ کو زندہ کیجیے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ قبر ایک قوال کی ہے اور تیرے پیغمبر قم باذن اللہ کہہ کر مردوں کو جلاتے تھے، یعنی اٹھ اللہ کے حکم سے؟ مگر میں کہتا ہوں قم باذنییعنی اٹھ میرے حکم سے صرف اتنا کہنا تھا کہ قبر شق ہوئی اور صاحب قبر جو قوال تھا پنے سازوسامان کے ساتھ قبر سے گاتا بجاتا ہوا باہر آگیا۔ اور کلمہ شہادت زبان سے ادا کیا۔ یہ دیکھ کر نصرانی بصدق دل ایمان لایا اور آپ کے خدام ذوالاحتشام میں داخل ہوگیا۔

کرامات عجیبہ:

          ایک مرتبہ آپ نے سید احمد رفاعی کو کہلا بھیجا مَا الْعِشْق؟ عشق کی حقیقت کیا ہے ؟ سید صاحب کو یہ سنتے ہی ایک کیفیت پیدا ہوئی اور العِشْق نارٌ یَحْرقُ مَا سِوَاللہ یعنی عشق ایک آگ ہے کہ جلادیتی ہے سب کو جو سوائے اللہ ہے، کے نعرے لگانے لگے، سامنے ایک درخت تھا، اس میں آگ لگی اور اس درخت کے ساتھ یہ جل کر راکھ ہوگئے اور اس کے بعد پانی میں تبدیل ہوئے۔ آپ نے یہ سن کر خادم سے کہا، جلد جاؤ اور اس پانی کو اٹھالاؤ؟ اب جو خادم دیکھتا ہے تو اس پانی نے بھر انسانی شکل اختیار کرلی اور سید صاحب زندہ ہوگئے۔ خادم سے یہ کیفیت سن کر آپ نے فرمایا جو ولی میں اس مقام فنا دا ر فنا میں پہنچتا ہے پھر اپنے قالب عنصری کی طرف رجوع کرسکتا ہے سوائےان کے اور ایک اور بزرگ کے کسی کو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہوا۔ یہ سید صاحب آپکے بھانجے تھے اور ان کی مدح میں آپ یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔

فَمَنْ فِی اولیَاء اللہ مِثلی
کَذَااِبْنُ الرِّفَاعی کَانَ مِنّی

 

وَمَن فی العلم والتصریف حال
فَیَسْلک فِی طریقی واشتغالی

 پانی پر نماز باجماعت پڑھنا:

          ایک مرتبہ آپ اہل بغداد کی نظروں سے غائب ہوگئے۔ لوگوں نے تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ دریائے دجلہ کی طرف تشریف لے گئے ہیں یہاں تک کہ لوگ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ آپ پانی پر چل رہے ہیں اور مچھلیاں پانی سے نکل نکل کر آپ کو سلام علیک کررہی ہیں اور قدم مبارک کو چھورہی ہیں۔ اسی اثناء میں ایک بڑے نفیس جائے نماز دیکھی جو تخت سلیمانی کی طرف ہوا میں معلق ہو کر بچھ گئی ۔ اور اس پر دو سطریں لکھی تھیں پہلی سطر میں اَلَا اِنَّ اَوْلیَاء اللہِ لَاخَوف عَلیْھِم وَلَا ھُمْ یَحزَنُون اور دوسری سطر میں سَلَامٌ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ انَّہٗ حَمِیْدٌ مَجِیدٌ لکھا تھا۔ اتنے میں بہتے سے لوگ آکر جانماز کے گرد جمع ہوگئے وہ ظہر کا وقت تھا تکبیر ہوئے اور آپ امام ہوئے اور نماز قائم ہوئی۔ جب آپ تکبیر کہتے تو حاملانِ عرش آپ کے ساتھ تکبیر کہتے اور جب آپ تسبیح پڑتھے تو ساتویں آسمان کے فرشتے آپ کے ساتھ تسبیح پڑھتے اور جب آپ سَمِع اللہ لِمن حمدہ کہتے تو آپ کے لبوں سے سبز رنگ کا نور نکل کر آسمانوں کی طرف جاتا جب نماز سے فارغ ہوئے تو یہ دعا کی کہ:

اے پروردگا! میں تیری بارگاہ میں تیرے حبیب اور بہترین خلائق حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو وسیلہ کرکے دعا کرتا ہوں کہ تو میرے مریدوں اور مریدوں کے مریدوں کو جو میری طرف منسوب ہوں بغیر توبہ کے روح قبض نہ کرنا۔ حضرت سہل بن عبداللہ تشتری فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ کی اس دعا پر فرشوں کے بڑے گروہ کو آمین کہتے سنا" جب دعا ختم ہوئی تو ہم نے ایک ندا سنی اَبْشِرْ فانِّی قَدْ اِسْتجبْتُ لَکَ اے عبدالقادر خوش ہوجاؤ کہ ہم نے تمہاری دعا قبول فرمائی۔ شیخ بقا بن بطور رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ آپ کے مریدوں میں پرہیزگار اور گناہگار دونوں ہی ہوں گے؟ فرمایا ہاں !مگر پرہیزگارمیرے لیے اور میں گناہگاروں کے لیے ہوں[17]۔

سید المکاشفین آپ کی دعا سے پیدا ہوئے:

          محبوب المعانی میں مناقب کے حوالے سے مذکور ہے کہ شیخ علی بن محمد عربی قدس سرہ صاحب جاہ و جلال اور مالک ملک و مال تھے۔ مگر انہیں کوئی فرزند نہ تھا جس کی وجہ سے ہمیشہ آپ کو رنج و الم رہتا۔مشائخ کبارواکابر روزگار کی خدمت میں حاضر ہوکر دعا کے لیے التجا کرتے مگر کسی دعا ان کے واسطے مقبول نہ ہوئی۔ ایک مرتبہ ایک مجذوب نے شیخ علی سے فرمایا کہ تو خدمت بابرکت حضرت غوث اعظم میں جا، وہ محبوب خدا ہیں دعا فرمائیں گے، ان کی برکت سے تیرا مطلب بر آئے گا۔

          حضرت شیخ علی اس بشارت عظیمہ سے شاد کام ہو کر بغداد شریف کا رخت سفر باندھا۔ جب دولت  زیارت سے شرفیابی ہوئی تو قبل اظہار مدعا کے حضرت نے خود ہی فرمایا کہ! تیری قسمت میں فرزند نہیں ہے۔ کیا کروں؟ حضرت شیخ علی قدس سرہ نے عرض کیا کہ حضور اگر میری قسمت میں فرزند ہوتا تو اتنا رنج و الم کیوں اٹھاتا اور یہاں تک کیوں آتا، یہ جانتا ہوں کہ بے نصیب ہوں،مگر آپ کی خدمت میں آیا ہوں اب قوی ہے کہ خدائے تعالیٰ میرا مدعا پورا کریگا اور میرا مطلب حل ہوگا

ہر کس کہ بدرگاہ تو آید بہ نیاز             محروم زورگاہ تو کے گرد دباز!

اس کے بعد حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ! آ میری پشت سے اپنی پشت رگڑ۔ ایک فرزند جو مجھ کو ہونے والا باقی ہے تجھ کو دیا۔ حضرت شیخ نے حسب الحکم ویسا ہی کیا اور وہاں سے رخصت ہونے لگے تو بوقت رخصت ارشاد ہوا کہ اس فرزند کا نام محمد رکھنا اور اس کا لقب محی الدین ہوگا۔ حضرت شیخ موصوف وہاں سے اپنے وطن کو آئے، بی بی ان کی حاملہ ہوئیں، بعد ایام حمل کے خداوند تعالیٰ نے انہیں فرزند ارجمند عطا فرمایا۔ ولادت کے بعد شیخ اپنے بچے کو لے کر خدمت غوثیت میں حاضر ہوئے، حضرت نے ان پر نظر رحمت فرمائی اور ارشاد فرمایا۔ سبحان اللہ! عجیب مرد جہاں میں پیدا ہوا ہے یہ اپنے وقت میں میری زبان ہوگا۔ جو اسرار اولیاء اللہ نے پوشیدہ رکھا ہے اس کا اظہار اور بیان ہوگا[18]۔

حضرت شیخ محمد محی الدین بن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرح آپ کی دعا سے حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی پیدا ہوئے[19]۔

ذوق شاعری:

          آپ اپنے وقت کے قادر الکلام شاعر اور ادیب بھی تھے۔ چنانچہ قصیدۂ غوثیہ کو دنیائے اسلام میں بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل ہے اور یہ واقعی نہایت موثر اور متبرک کلا م ہے پڑھتے پڑھے دل پر اثر ہوتا ہے اس کی تاثیر انتہا کو پہنچ جانے کی وجہ سے یہ بھی ہے کہ ایک خاص جذب کی حالت میں کہا گیا ہے اور خاص اثرات کا حامل ہے۔ آٹھ سو برس سے دنیائے اسلام نے اسے حاجتوں اور حصول مراد کے لیے اپنے وظائف میں رکھا ہے۔ بلکہ بے شمار افراد ایسے ہیں جنہوں نے ان قصیدوں کے برکات سے دینی اور دنیاوی فوائد حاصل کیے ہیں۔ مشائخ عظام حصول مراد کے لیے اسے نہایت پر تاثیر بتاتے ہیں ذیل میں تبرکا چند اشعار درج کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد قصائد ہیں جن کے پہلے اشعار کو تبرکاً ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔

سَقَانِی الحُبُّ کاسات الوِصَالِ
سَعَت وَمَشت لِنَحوِی فِی کؤسٍ

 

فَقُلْتُ لخَمرَتِی نحوِیَ تَعَالیٰ
فَھِمْتُ بِسُکرتی بین الموَالی

قصیدہ عینیہ کا پہلا شعر یہ ہے:

فواد بہ شمش المحبۃ طالع

 

ولیس لنجم العذاب فیہ مواقع

قصیدہ یابئہ کا ابتدائی شعر:

علیٰ الاولیاء القیت سری و برھانی

 

فھاموابہ فی سِرّ سِرّی واعلانی

قصیدہ الفیہ کا ابتدائی شعر:

رفعت علیٰ اعلی الوری اعلامنا

 

لِمَا بلغنا فی الغرام مرامِنا

ایک قصیدہ الفیہ اور ہے جس کا ابتدائی شعر:

سالتک یاجبار یا سامع الندا

 

یا حاکم احکم فی الذی قد تجبرا

قصیدہ لامیہ کا ابتدائی شعر:

الطلب ان تکون کثیر مال

 

ویسمع منک دو ما فی کل قال

آٹھواں قصیدہ جس کا ابتدائی شعر:

ولما صفا قلبی و طابت سریری

 

ومنی دنا صحوی لفتح البصیرۃ

نواں قصیدہ جس کا ابتدائی شعر:

نظرت بعین الفکر فی حان حاضرتی

 

حببیا تجلی القلوب فجنتی

دسواں قصیدہ جس کا ابتدائی شعر:

بامن یَحْل بذکرہ

 

عقد النوائب والشدائد

گیارہواں قصیدہ جس کا پہلا شعر:

طف بحامی سبعا ولذبد مامی

 

وتجرد لزورتی کل عام

مذکورہ قصائد کے علاوہ بھی بہت سے قصائد ہیں نجوف طوالت اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

مال و اسباب تھے محتاجوں میں تقسیم کرکے رخت سفر باندھا۔ ایک مدت تک سمرقند، بخارا میں رہکر حفظ قرآن و قرآت اور علم ظاہری سے آراستہ ہو کر عراق کی طرف سفر اختیار فرمایا۔ جب قصبہ ہون (نواح نیشاپور میں واقع ہے) میں پہنچے تو حضرت شیخ عثمان ہارونی ۵۶۷؁ء کو خدمت بابرکت سے مشرف ہوکر مرید ہوئے قریب ڈھائی سال مرشد برحق کی خدمت میں ریاضت و مجاہدہ کرنے کے بعد خرقہ خلافت پا کر بغداد شریف کی جانب سفر اختیار فرمایا، پہلے قصبہ جیل پہنچے اور حضرت غوث الثقلین کی خدمت فیض درجت سے مشرف ومعزز ہوئے۔ حضرت غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں پانچ مہینے سات دن صحبت اکسیر صیت میں رہ کر افاضات صوری و معنوی اور کسب نور باطن کرکے فیضیاب ہوئے۔

          آئین کبری کی جلد سوم اور گلزار ابرار میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کی ولادت ۵۳۷؁ھ  پانصدوسی و ہفت مذکور ہے اور رحکلت اکثر کتب میں سال شش صدوسی و سہ ۶۳۳؁ھ مذکورہے۔ اس حساب سے آپ کی عمر شریف نودوسشش ۹۶ سال کی ظاہر ہوئی اور بعض نے نو دو ہفت سال بھی لکھا ہے۔ اگر کسرات کے مہینوں کا شمار ہوتو شاید نودوہفت سال ہوں اور حضرت غوث الثقلین کا وصال ۵۶۱؁ھ میں ہے، اس حساب سے جناب خواجہ بزرگ کی عمر شریف حضرت کے رحلت کے وقت چوبیس  سال بتحقق ہوئی گلزار ابرار میں حضرت خواجہ بزرگوار کے حالا ت میں یہ لکھا ہے کہ:

"نخست بدامن کوہ جودی کہ از بغداد ہفت کوچ راہ دوراست،اسوۂ العرفا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلی را دریافت و باندازہ برات ازلی فیض اندوخت

اور آئین اکبر ی میں مرقوم ہےکہ:

"بصحیت خواجہ عثمان چشی رسید و بریاضت گری بر نشست و خرقہ خلافت یافت سیس درتکادو پر طلبی بر آمد واز شیخ عبدالقادر جیلی و بسیاری بزرگا فیج اندوخت

الحاصل طریقہ عالیہ قادریہ کو سلسلہ مکرمہ چشتیہ پر زمانہ حضرت غوث الثقلین سے فخرو شرف حاصل ہے، اور ایک جہان اس بات کا قائل ہے حضرت سید آدم بنوری نقشبندی قدس سرہ نکات الاسرار میں لکھتے ہیں کہ ایک روز محفل قدس مشاکل حضرت شیخ فرید الدین محمد گنج شکرم ۶۹۰؁ھ قدس سرہ کی مجلس میں حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قدم مبارک کا ذکر آیا تو حضرت شیخ گنج شکر قدس سرہ نے ارشاد فرمایا:

"پیر کے پیر حضرت خواجہ معین الدین چشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وضع رقاب اولیا میں داخل فمنصبی ان اقول علیٰ حدقۃ عینی کے مشرف ہوئے"

          اور ایسا ہی براہان المتقدمین حضرت سید اکرم محمد شاہ عالم، محبوب عالم گجراتی ۸۵۷؁ھ قدس سرہ العزیز نے بھی لکھا ہے۔ اور ساتھ یہ بھی کہ جس وقت آپ کی مجلس میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر آتا تو حضرت غوث پاک کی منقبت یہ بیت فرماتے۔

صد چشم وام خواہم تادر توبنگرم   ویں دام از کہ خواہم ویں چشم خودکراست

اور اسرار السالکین ملفوظ جناب شیخ جنید نبیرہ شیخ فرید الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں لکھا ہے کہ حضرت سلطان المشائخ، برہان الاتقیا، شیخ نظام الدین اولیا ۷۲۵؁ھ قدس سرہ العزیز بھی جناب فیض مآب غوثیہ محبوبیہ سے بہرہ مند

حضرت سید عمر (غوث پاک کے پوتے کے لڑکے) علیہ الرحمہ سے خرقہ خلافت پہنا اور مقام محبوبیت سے مشرف ہوئے۔ اس لیے جناب سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو رتبہ محبوبیت کاملا اس میں فیض خلافت خاندان عالیہ قادریہ شامل ہے۔

سہروردیہ:

          صاحب محبوب المعانی نے نقل کیا ہے کہ والدہ ماجدہ حضرت شہاب الدین عمر سہروردی ۶۳۲؁ھ رحمہم اللہ تعالیٰ نے ایک روز حضرت محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت  بابرکت میں عرض کی کہ:

          خدائے تعالیٰ نے اس ضعیفہ کو مال و دولت کی کثرت عطا فرمائی ہیں، لیکن فرزند صالح جو توشۂ آخرت ہے اس سے محروم ہوں؟ آپ کی دعا سے اللہ تعالیٰ میری آرزو بر لائے گا اور فرزند صالح عطا فرمائے گا بعدہ حضرت نے دعا کی تو غیب سے آواز آئی کہ اس ضعیفہ کی قسمت میں فرزند نہیں ہے، اسی طرح تین بار سوال و جواب ہوا تو تیسری بار حضرت محبوب سبحانی، مقبول بارگاہ ربانی نے اپنا خرقہ مبارک جسم مطہر سے نکال کر ہوا میں پھینکا اور ارشاد فرمایا کہ: جب تک میرا معاوضہ قبول نہ ہوگا یہ خرقہ فقر نہ پہنونگا۔ اس وقت زیارت سرکار ابد قرار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مشرف ہوئے اور سرکار نے خرقہ ہوا سے لیکر اپنے دست مبارک سے غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہنایا۔ اور ارشاد فرمایا کہ: اے فرزند! درگاہ الٰہی بے نیاز ہے، ہر وقت کہاں مقام ناز ہے؟ محبوب سبحانی نے عرض کیا یاجدی! اس مقام میں،میں تنہا تھا۔ اب مجھ پر شفقت پدری سایہ گسترہے مجھکو امید قوی ہوگئی ہے کہ اس عورت کو فرزند عطا ہو۔ تو اسی کے درمیان مژدہ غیب آیا کہ اے محبوب! تیرا معاوضہ قبول ہوا۔ اور ہم نے سائلہ کو فرزند عطا کیا۔ حضرت نے اس ضعیفہ سے فرمایا کہ تیرا مدعا بر آیا جا تجھے فرزند ہوگا۔ چند ہی مہینوں کے بعد وہ ضعیفہ حاملہ ہوئیں بعد تمام ایام حمل کے اسکو لڑکی پیدا ہوئی اس لیے چند روز کے بعد اس لڑکی پیدا ہوئی اس لیے چند روز کے بود اس لڑکی کو سرخ پارچہ پہنا کر حضرت کی خدمت میں لا کر عرض کی کہ حضور! بشارت تو فرزند کی تھی مگر یہ تو لڑکی ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ یہ لڑکی کیونکر ہوگی، اس ارشاد کے بعد تمام کپڑا اس لڑکی کے جسم سے نکالا اور توجہ فرمائی پھر ارشاد فرمایا یہ تو فرزند ہے۔ فی الفور علامت مردانگی ظاہر ہوئی اور ارشاد ہوا کہ یہ فرزند میرا ہے اور اس کا نام میں نے شہاب الدین عمر رکھا ہے، اس کی عمر طویل ہوگی، ابرو اور پستان دراز ہوتی، کہتے ہیں کہ بھؤں کے بال اتنے دراز تھے کہ جناب شیخ الشیوخ کتابت کے وقت سر پر ڈال لیتے تھے اور پستان اتنے دراز تھے کہ ایک بازو سے دوسرے بازو پر رکھ لیتے تھے۔ حسن سیرت و صورت میں نہایت مستحن اور پیشوائے اہل زمانہ تھے۔ نفحات الانس میں ہے کہ جناب شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین عمر ۶۳۳؁ھ سہروردی قدس سرہ العزیز نے حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت بابرکت میں بڑا رتبہ اور مقام حاصل کیا اور حضرت غوث الثقلین نے پیشن گوئی فرمائی تھی کہ

اَنْتَ اٰخِرالمشھُوْرِیْنَ بِالعِرَاقِ

اور فرمایا کہ یہ لڑکا سر حلقۂ اولیاء اور اس کے مریدوں سے بزرگ اور صاحب ارشاد ہوں گے۔ چنانچہ ویسا ہی ہوا کہ آپ سے آپ کا سلسلہ بہت ہی ترویج پایا آپ کے چند خلفا و مریدین کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

۱۔ مخدوم بہاء الدین زکریا ملتانی ۶۶۱؁ھ  ۲۔ قاضی حمید الدین ناگوری ۶۷۳؁ھ

۳۔ حضرت شیخ سعدی شیرازی ۶۹۱؁ھ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، ہر ایک ان میں سے اپنے وقت کے امام مانے جاتے ہیں۔ سلسلہ سہروردیہ جواب تک جاری ہے آپ ہی کی طرف منسوب ہے اور آپ بھی بدرجہ کامل و اکمل سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فیضیاب ہوئے ہیں[20]۔

نقشبندیہ:

محبوب المعانی میں مذکور ہے کہ شیخ عارف عبداللہ بلخی نے اپنے مشہور کتاب "خوارق الاحباب فی معرفت قطب الاقطاب" میں قطب العباد، غوث البلاد حضرت خواجہ بہاء الدین محمد بن محمد نقشبندی بخاری قدس اللہ سرہ کے حالات میں اس طرح تحریر کیا ہے کہ: میں نے خواجہ خواجگان، زبان فیض بیان سرمست سے سنا ہے اور وہ بعض قلندران دیرینہ سال اور عارفان صاحب کمال سے جو بلدہ شریفہ بخارا میں رہتے تھے نقل کرتے ہیں کہ ایک روز حضرت غوث اعظم شیخ محی الدین ابو محمد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چند مصاحبوں کے ساتھ بالائے بام جلوہ فرماتھے ناگاہ آپ نے بخارا کی جانب نظر کرکے فرمایا کہ میرے بعد جب ایک سو ستاون سال گزرا تو ایک مرد محمد ہوگا جس کا مشرب قلندری ہوگا وہ میدان وجود میں خوش خرام ہوگا بہاء الدین نقشبند اس کا لقب اور نام ہوگا اور میری دولت و نعمت اس کو ملے گی۔

          حضرت نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔ چنانچہ حضرت نقشبند قدس سرہ حضرت امیر کلاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بیعت کا شرف حاصل کیا حضرت امیر کلاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے التفات بسیار اور شفقت بے شمار کے اسم ذات کے شغل کی تلقین کی۔ مگر تصور نقش اسم اعظم کا حضرت نقشبند رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آئینہ دل پر نہیں جمتا تھا، آپ کی جمعیت خاطر میں انتشار تھا۔ جس کی وجہ سے آپ گھبراتے تھے۔ یہاں تک کہ جب آپ سے قریب ہوئے تو ارشاد فرمایا: اے خواجہ بہاء الدین نقشنبد! مجھے اسم اعظم حضرت محبوب سبحانی غوث صمدانی سے پہنچا ہے، ا س لیے تم کو آگاہ کرتا ہوں کہ تو ان کی جناب میں اپنے کو رجوع کرتاکہ تیرا کام برآئے اور تو اپنی مراد کو پائے؟ چنانچہ اسی شب کو موافق رہنمائی جناب خضر علیہ السلام حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جمال جہاں آرا سے  مشرف ہوئے، حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے انگشتہائے مبارک جو نقش اسم ذات کے مانند ہیں جو خواجہ نقشبند کو دکھلائیں۔ اس کو دیکھتے ہی فوراً نقش پنجہ مبارک سرکار غوث اعظم کا نقش اسم ذات ظاہر و باطن میں حضرت خواجہ نقشبند کے منقش ہوگیا، اس کے بعد اس کی کیفیت یہ ہوئی کہ ہر شئ نظر اقدس میں نقش اسم ذات ہی محسوس ہونے لگی۔ اور کمخاب بافی میں گلوکاری کی جگہ اسی نقش کی اسم کی گلوکاری ہوئی۔

          چنانچہ جب اس ذکر پاک کی دیار اور بلاد میں شہرت کی کثرت ہوئی، تو بعض ہمراز نے اس امر کا ستفسار کیا خواجہ نقشبند قدس سرہ نے فرمایا کہ: یہ فیض میرے اوپر اس شب سے طاری ہوا جس شب کو حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت سے مشرف ہو اور ہر لحظ میرے احوال و کیفیات میں آپ کی توجہات و برکات سے زیادتی ہوئی اور آپ ہی کی وجہ میرے اس اسم کے شہرت کا ذریعہ ہے۔

          حضرت حق پسند، خواجہ نقش بند قدس سرہ العزیز سے قدمی ھذہ علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ  کی کیفیت دریافت کی گئی، تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ: ہمارے خواجہ خواجگان، خواجہ ابو یوسف ہمدانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت کے زمانے میں تھے اپنی گردن کو ان کے قدم مبارک کے نیچے کیا اور پھر فرمایا: قدمہ علیٰ عینی اَو علیٰ بَصرِ بصِیرتی۔

اور مولانا جامی قدس سرہ حضرت خواجہ بزرگ حضرت عبداللہ احرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مریدوں میں ہیں اور خواجہ بزرگوار پیشوائے طریقۂ عالیہ نقشبندیہ سے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ : کوئی ولی متقدمین اور متاخرین میں سے باقی نہیں تھا جو اپنی گردن حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قدم کے نیچے نہ رکھا ہو۔

          فضل و شرف حضرت محبوب سبحانی کی فیض بخشی اور وضع رقاب جناب خواجہ یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما سے خاندان والا شان قادریہ کی افضلیت و برتری طریقہ نقشبندیہ پر ظاہر و مقدم ہے، لیکن اس زمانے میں بعض مشائخ نقشبندیہ، مجددیہ جو یہ لکھتے ہیں کہ یقین جان ! کہ سب طریقوں میں طریقہ نقشبندیہ افضل واعلی ہے اور سلسلہ اس طریقہ عالیہ کا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے اس لیے کہ آپ خلیفہ برحق اور جانشین مطلق حبیب رب العٰلمین ہیں، اور محبوب خدا کے ہیں اور کمالات ولایت محمدیہ کے علاوہ حامل بار نبوت احمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں اسی واسطے اَفْضَلُ البشَرِ بَعْد الانبیَاءِ بالتحقیق کے اعلیٰ خلعت سے سرفراز ہوئے ہیں اس لیے جو طریقہ افضل بشر تک پہنچتا ہے وہ سب طریقوں میں افضل و اعلیٰ طریقہ ہوگا۔ معلوم ہونا چاہیے کہ افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہلسنت و جماعت کے نزدی واضح اور ثابت ہے اس لیے جائے تعجب یہ ہے کہ اس بات کو عقائد سے کچھ تعلق نہیں ہاں! بلاشک و شبہ تفضیل شیخین تمام اصحاب پر ثابت و محقق اہلسنت و جماعت کے نزدیک ہے اور حضرت مولائے کائنات علی مرتضیٰ رضیٰ اللہ تعالیٰ عنہ کی تفصیل بدعت ہے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے افضل ہونے میں کچھ شک و شبہ نہیں ان کی ایسی ہی شان بے پایاں ہے۔

شرف ان کو نہ اس صوم و صلوٰۃ ظاہری سے تھا

سفینہ سینہ بے کینہ تھا، دریائے عرفاں کا

تقدم سب صحابہ رپ ، وہ افضل سب صحابہ سے

سوااسکے نہیں ہے دوسرا س عزت و شان کا

مگر ان کے افضل ہونے سے طریقہ نقشبندیہ سب طریقوں میں فضل و اعلیٰ کس طرح ہوگا؟ طریقے کے افضل ہونے کی دو صورتیں ہیں! اول صورت میں صاحب طریقہ کو دیکھا! تو صاحب طریقہ حضرت غوث الثقلین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں جو شرف حضور غوث الثقلین کو حاصل ہے و ہ تمام کتب سے اظہر من الشمس ہے۔ اور دوسری صور ت میں دیکھا جائے کہ یہ طریقہ کہاں تک پہنچتا ہے؟ تو اس صورت میں نقشبندیہ طریقہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے اور قادریہ حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک اور یہ دونوں حضرات جامع طریق نبوت و ولایت ہیں۔ مگر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ طریق نبوت میں بدجہ اتم ہے چنانچہ جتنے بھی طرق ہیں سب راہِ ولایت سے ہیں اور ولایت میں جو تصرف و شوکت حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل ہے وہ دوسر ے کو نہیں۔ جیسے کثرت اتباع و ساطت، مقدمات ولایت اور قدمات مثل قطبیت غوثیت ابدالیت وغیرہ اور امور سلطنت سلاطین وغیرہ زمانہ مرتضوی سے اتمام دنیا تک انہیں کے وسیلے سے سب ہیں۔ اور یہ بات سیاحین عالمِ ملکوت پر کب مخفی و محجوب ہے۔ اور یہ عجب حال ہے کہ اگر کوئی بنظر اس تصرف و شوکت کے شیخین پر تفصیل دے؟ کیا مجال ہے! رہی یہ بات تعریف کی تو اپنے طریقے کی جتنی چاہے اتنی ہر شخص کو تعریف و توصیف کرنی چاہیے مگر دوسرے طرق سے افضل کہنے کو دلیل بین لائے؟

تصانیف:

حضرت محبوب سبحانی اپنے وقت کے کامیاب مصنف بھی تھے۔چنانچہ آپ کی تصانیف سے شریعت و طریقت سلوک و معرفت، فنا و بقا، تزکیہ نفس و تصغیہ قلب فرقہ باطلہ کا بھرپور رد، فقہ اسلامی کی بھرپور اشاعت کا اندازہ ہوتا ہے۔چند مشاہیر کتب کے نام درج ذیل ہیں۔

۱۔غنیۃ الطالبین۲۔ فتوح الغیب۳۔ فتح ربانی۴۔ دیوان غوث اعظم۵۔ جلاء الخاطر فی الطابن و والظاہر ۶۔ لیواقیت الحکم ۷۔ کبریت احمر ۸۔ اسبوع شریف ۹۔ قصیدہ غوثیہ ۱۰۔ مکتوبات محبوب سبحانی ۱۱۔ بشائر الخیرات

سلسلہ قادریہ کا فیض دیگر سلاسل پر

مزرع چشت و بخارا وعراق و اجمیر       کون سی کشت پر برسا نہیں جھالا تیرا

چشتیہ:

جناب محمد صادق بن محمد حسین اویسی اللطیفی القادری المتخلص بہ مشربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی مایہ ناز کتاب محبوب المعانی محبوب سبحانی میں لکھا ہے کہ مخدوم دین و دنیا حضرت سید محمد گیسو دراز المشہور بہ بندہ نواز قدس سرہ العزیز ۸۲۵؁ھ نے لطائف الغرائب نامی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ ایک روز زبان فیض ترجمان، قطب عالم، خواجہ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی نور اللہ مرقدہ سے میں نے سنا ہے کہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت غوث الثقلین، قطب الکونین، شیخ العالم سید ابو محمد محی الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ قدمی ھذہ علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ کہنے پر مامور ہوئے تو جتنے اولیاء اللہ زمین پر تھے سبھوں نے اپنی گردنیں جھکادیں اور اطاعت کی۔ اس وقت امام السالکین، قطب العارفین خواجہ معین الحق والدین ۶۳۳؁ھ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جوان تھےا ور ملک خراسان کے پہاڑوں کے دامن میں مجاہدہ اور ریاضت میں مشغول تھے۔ جب اس اعلان قدمی ھذہ علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ کو سناتو اپنی گردن جھکادی کہ پیشانی مبارک زمین پر لگ گئی اور فرمایا: قَدْمُکَ علیٰ راسِیْ وَعَیْنِی یعنی آپ کا قدم مبارک میرے سر اور آنکھوں پر، اسی وقت حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے نور باطن سے مطلع ہوکر تمام اولیاء اللہ کی مجلس میں روبرو فرمایا:

          فرزند خواجہ غیاث الدین سنجری اطاعت میں تمام اولیاء اللہ سے سبقت لے گیا، اس حسن ادب و تواضع سے خدائے جل و علیٰ اور رسولِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خوش کیا، عنقریب وہ صاحب ولایت ملک ہندوستان ہوگا اور ایساہی ہوا۔ سیر العارفین میں ہے کہ جب حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد ماجد کا وصال ہوا تو حضرت کی عمر اس وقت پندرہ سال کی تھی، آپ کے والد ماجد کا ایک باغ تھا جس سے اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے تھے اس باغ میں ایک مجذوب جنکا نام ابراہیم قندری ہے رہا کرتے تھے ایک روز معمول کے مطابق وہ مجذوب اس باغ میں تشریف لائے اس وقت حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باغ کے درختوں میں پانی ڈال رہے تھے، جب آپ نے ان مجذوب موصوف کو دیکھاتو دست بوسی کرکے ایک درخت کے نیچے بٹھایاور ایک خوشہ انگور کا ان کے سامنے رکھ کر مؤدب بیٹھ گئے مجذوب صاحب نے کوئی چیز اپنے بغل سے نکال کر چبائی اور اپنے ہاتھ سے خواجہ بزرگوار کو کھلائی۔ جس کو کھاتے ہی ایک نور آپ کے قلب میں روشن ہوا اور تمام اسباب و املاک سے دل بھر گیا۔[21] جو کچھ

اگر مدعی کے پاس طریقہ نقشبند یہ کے افضل ہونے کی دلیل فقط منسوب ہانا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ہے تو ہم کہتے ہیں کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریقہ چاروں خلفاء کرام کی طرف منسوب ہے جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

صدیقیہ:

          حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب منسوب اس طور سے ہے کہ خرقہ پہنایا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کو شیخ احمد اسود دینوری نے ان کو شمشاد علی دینوری نے ان کو ابوالعباس نہاوندی نے انکو شیخ ابو عبداللہ محمد بن خیف نے ان کو شیخ ابو محمد بن حسین جزری نے ان کو سید الطائفہ جنید بغدادی نے ان کو شیخ ابو سعید خراز نے ان کو شیخ بشر حافی نے ان کو شیخ ابو جا عطاردی نے ان کو فضیل بن عیاض نے ان کو منصور سلمی نے ان کو شیخ محمد بن مسلم زاہدی نے ان کو شیخ محمد بن خبیر نوفلی نے ان شیخ ابو محمد مطعم نے ان کو افضل اصحاب حضرت سیدنا امیر المومنین ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے۔

فاروقیہ:

          اور سیدنا امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب اس طور سے ہے کہ خرقہ پہنایا حضرت پیر دستگیر کو حضرت ابو الخیر نے ان کو شیخ یوسف نے ان کو شیخ ابوالحسن  علی نے ان کو شیخ احمد بن عبدالعزیز نے ان کو شیخ کہف الدین ابوبکر عبداللہ شبلی نے ان کو سید الطائفہ جنید بغدادی نے ان کو شیخ ابو سعید خراز نے ان کو شیخ ابو عبداللہ مسموحی نے ان کو شیخ ابو تراب بخشی نے ان کو حضرت بایزید بسطامی نے ان شیخ امین الدین شامی نے ان کو شیخ عبداللہ علمدار نے ان کو رئیس اصحاب امیر المومنین عمر بن الخطاب نے رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمیعن۔

عثمانیہ:

          حضرت امیر المومنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک اس طور سے ہے۔ خرقہ پہنا۔ حضرت غوث اعظم کو شیخ حماد نے انکو شیخ سید محمد مغربی نے ان کو شیخ ابو بکر احمد بن عثمان مغربی نے ان کو شیخ ابوالفضل عبدالواحد یمنی نے ان کو شیخ احمد بن اسمٰعیل مکی نے ان کو شیخ ابوالمکار ابوبکر عبداللہ شبلی نے ان کو سید الطائفہ جنید بغدادی نے ان کو خواجہ ابو سعید خراز نے ان کو شیخ ابو عبید حسن مسوحی نے ان کو شیخ ابو تراب بخشی نے ان کو شیخ ابو عبدالرحمٰن حاتم اصم نے ان کو شیخ عبداللہ خواص نے ان کو شیخ شفیق بلخی نے انکو شیخ ابراہیم ادہم بلخی نے ان کو شیخ فضیل بن عیاض نے ان کو شیخ عبدالواحد بن زید نے ان کو کمیل زیاد نے انکو حامل حیا و الایمان امیر المونین سیدنا حضرت عثمان بن عفان نے رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔

علویہ:

          حضرت امیر المومنین سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک سلسلہ اس طور پر ہے۔

اجداد و بزرگواور کی طرف حسینیہ ہے یعنی حضرت محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خرقہ پہنایا آپ کے والد ماجد حضرت ابو صالح موسیٰ نے ان کو ان کے والد ماجد سید عبداللہ جیلی نے ان کو سید یحییٰ زاہد نے کو سید محمد نے ان کو سید داؤد نے ان کو سید موسیٰ ثانی نے ان کو سید عبداللہ ثانی نے ان کو سید موسیٰ الجون نے ان کو سید عبداللہ محض نے ان کو ان کے والد ماجد امام حسن مثنی نے ان کو ان کے والد ماجد حضرت امام حسن نے ان کو ان کے والد گرامی مولائے کائنات مشکل کشا شیر خدا علی مرتضیٰ نے رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور مشائخ کبار کی جانب سے حسینیہ ہے جس کی تفصیل اس طرح ہے۔ جناب غوث الثقلین کو خرقہ پہنایا۔ شیخ ابو سعید مبارک مخزومی نے ان کو شیخ ابوالحسن علی ہنکاری نے ان کو شیخ ابوالفرح یوسف طرطوسی نے ان کو ابوالفضل عبدالواحد تمیمی نے ان کو عبدالعزیز یمنی نے ان کو شیخ شبلی نے ان کو سید الطائفہ شیخ جنید بغدادی نے ان کو شیخ سری سقطی ان کو شیخ معروف کرخی نے ان کو امام علی رضا  نے ان کو امام موسیٰ کاظم نے ان کو امام جعفر صادق نے ان کو امام باقر نےان کو امام زین العابدین نے ان کو امام حسن نے ان کو حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے ۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔

          ان مذکورہ سلاسل سے ذاتِ بابرکات حضرت، آسمان رفعت، محرم اسرار یزدانی جناب محبوب سبحانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی منقل بحور ٹھہری اور چاروں اصحاب کبار کے فیضان و انوار سے مستفیض و پرنور ہوئی اس لیے ان نسبتوں سے افضل و اعلیٰ و اشرت ہونا طریقہ قادریہ نقشنبدیہ سلسلہ پر ظاہر و باہر ہے۔ اس کے علاوہ ایک دلیل اور پیش کی جاتی ہے وہ یہ کہ طریقہ قادریہ کو حضرات حسنین کریمین سے خاص نسبت حاصل ہے اور یہ ہی نہیں بلکہ آپ دونوں کو شرفِ خاص نسبت سیادت اور فرزندئی سرکار ابد قرار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا شرف بھی حاصل ہے، اسی سبب سے تمام مفصل شرف اور فیضان و انوار حضرات حسنین کریمین اور حسن مثنیٰ و امام زین العابدین وغیرہم کی ذات بابرکات میں جمع ہیں اس لیے طریقہ قادریہ عالیہ خاص طریقہ فرزندان رسولِ انس و جان ہے۔ اور یہ فضل و شرف نقشبندیہ طریقہ کو کہاں حاصل ہے؟

          اور فیضان و برکات حضرت حسنین و غیرہما کی حضرت سلمان فارسی، قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق اور شیخ محمد حبیر نوفلی وغیرہم میں ہونا کیونکر ہوگا۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔

اصحاب ارادت او انتساب

سجل ان کو دیا وہ رب نے جس میں صاف لکھا ہے

کہ جائے خلد میں ہر نام لیوا غوث اعظم کا

          آپ کے مریدین و منسلکین کی فضیلت بھی بے انتہا ہے اور کیوں نہ ہو کہ آقا کی فضیلت سے خادم میں بھی فضیلت آتی ہے چنانچہ شیخ صالح ابوالحسن علی بن محمد بن احمد بغدادی معروف بن ابن الحامی نے بتایا کہ میں نے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا عرض کیا یارسول اللہ! دعا فرمائیے کہ مجھے قرآن کریم اور آپکی نسبت پر موت آئے؟ آپ نے ارشاد فرمایا ایسا ہی ہوگا اور کیوں نہ ہو جب کہ تمہارے شیخ  عبدالقادر ہیں، وہ شیخ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے تین مرتبہ یہی درخواست کی اور آپ نے تینوں مرتبہ یہی ارشاد فرمایا:

          شیخ ابوالقاسم عمر بزاز نے بیان کیا ہے کہ میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ حضور اگر کوئی شخص اپنے کو حضور کا مرید کہتا اور حضور کے نسبت کے ساتھ غلامی کی بتاتا ہو اور دراصل اس نے آپ کے دست اقدس پر بیعت نہ کی ہو اور نہ ہی یہاں سے خرقہ حاصل کیا ہو۔ تو کیا وہ حضور کے مریدوں میں شمار کیا جائےگا۔ آپ نے ارشاد فرمایا قیامت تک جو کوئی ہمارے سلسلے میں داخل ہو اور اپنے کو ہمارا مرید کہے تو بیشک وہ ہمارے مریدوں میں داخل ہے۔ ہم ہمیشہ اس کے حامی و ناصر و دستگیر ہیں، مرتے وقت اس کو توبہ کی توفیق رب تعالیٰ بخشےگا ار اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے وعدہ فرمالیا ہے کہ میرے مریدوں، سلسلہ والوں میرے طریق کا اتباع کرنیوالوں اور میرے عقیدت مندوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔

          حضرت فرمایا کرتے کہ ہم میں کا ایک انڈا ہزار میں ارزاں اور چوزہ کی قیمت تو لگائی نہیں جاسکتی۔ نیز فرماتے کہ عزت پروردگار کی قسم میرا دوست حمایت میرے مریدوں پر ایسا ہے جیسے آسمان زمین کے اوپر، اگرمیرا مرید اچھا نہیں تو کیا ہوا۔ میں تو اچھا ہوا جلال پروردگار کی قسم جب تک میرے تمام مرید جنت میں نہیں چلے جائیں گے میں بارگاہ خداوندی سے نہیں ہٹونگا۔ اور اگر مشرق میں میرے ایک مرید یا نام لیوا کا عیب یا گناہ ظاہر ہوگا اور میں مغرب میں ہوں گا تب بھی اس کی حفاظت کا ضامن ہوں گا۔ اور اس کی عیب پوشی کروں گا۔  لَوْ انکشفَتْ عَورَۃ مریدِی بالمشرق واَنَا بالمغرب لَسَرتُھا۔

شیخ قدوپ علی بن ہیتی فرماتے ہیں کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مرید جیسا خوش بخت کسی شیخ کا مرید نہیں ہے۔ اور میں ستر حضرات کو جانتا ہوں جو صبح و شام حضرت غوث اعظم کے خرقہ مبارکہ کو اٹھایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی خدمت کے صلہ میں بلند مراتب پر سرفراز فرمایا۔ شیخ عدی مسافر نے فرمایا کہ دوسرے مشائک کے مرید اگر مجھ سے خرقہ طلب کرتے ہیں تو میں بلاتامل دیدیتا ہوں، لیکن حضرت شیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مریدوں کو دینے کی ہمت نہیں ہوتی، کیونکہ آپ کے مرید دریائے رحمت میں غرق ہیں اور قائدہ ہے کہ کوئی شخص دریا کو چھوڑ کر معمولی نہر سے پانی لینے کی کوشش نہیں کرتا۔ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حسین بن منصور حلاج کے زمانہ میں کوئی ان کی دستگیری کرنے والا اور جس لغزش میں وہ مبتلا ہوئے اس سے کوئی بچانے والا نہیں تھا۔ اگر میں ان کے زمانے میں ہوتا تو ان کی دستگیری کرتا اور نوبت یہاں تک نہیں پہنچتی۔ قیامت میں اپنے مریدوں کی دستگیری کرتا رہوں گا۔ اگرچہ وہ سواری سے گرے اور فرمایا ہر طویلہ میں مرا ایک ناقابل مقابلہ سانڈ اور ایک ناقابل مسابقت گھوڑا رہتا ہے اور فرمایا کہ ہر لشکر پر میرا ایسا تسلط ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں کرتا اور ہر منصت میں ایسا خلیفہ ہے جسے ہٹایا نہیں جاسکتا[22]۔

اولاد امجاد:

          ابن بخار نے اپنی تاریخ میں بیان کیا ہے کہ میں نے آپ کے صاحبزادے حضرت سید عبدالرزاق قدس سرہ سے سنا کہ وہ فرماتے ہیں کہ میرے والد ماجد کو انچاس اولادیں ہوئیں ستائس لڑکے اور باقی لڑکیا۔ اور بہجۃ الاسرار شریف جو آپ کے مناقب میں مقدم ترین کتاب ہے اس میں لڑکے کی تعداد دس لکھی ہے باقی کے اسماء نہیں ملتے انہیں مطلوبہ اسماء کے ذکر کئے جاتے ہیں وہ اس طرح ہیں۔

۱۔شیخ ابو عبداللہ سید عبدالرحمٰن علادت ۵۰۸؁ھ اور وفات ۵۸۷؁ھ یا ۵۷۰؁ھ میں ہوئی آپ اپنے وقت میں علم حدیث کے ماہر تھے۔

۲۔ شیخ امام سیف الدین ابو عبداللہ عبدالوہاب شعبان ۵۲۲؁ھ میں بغداد میں پیدا ہوئے اور ۲۵ شوال، یاشعبان ۵۹۳؁ھ میں وفات پائی آپ اپنے سب بھائیوں میں ممتاز اور بڑے فقیہ احسن الکلام مسائل خلافیات میں تھے بہت ہی خوش بیان اور فصیح و بلیغ اور حدید الذہن، عقیل، فہیم، بامروت و سخی تھے۔

۳۔ سید شرف الدین ابو محمد آپ کی کنیت ابی عبدالرحمٰن عیسیٰ بھی ہے آپ فقہ و علم و حدیث میں کامل تھے مصر و عراق میں جماعت کثیرہ آپ سے فیضیاب ہوئیں اپنے والد کے وصال کے بعد بارہ سال تک حیات میں رہے اور حضرت عبدالوہاب سے بیس سال پہلے آپ کی وفات ہوئی جو تاریخ ۱۲ رمضان ۵۷۳؁ھ میں ہے۔

۴۔ حضرت سید امام جمال الدین ابو عبدالرحمٰن آپ کی کنیت ابوالفرح بھی ہے اور نام عبدالجبار ہے ۱۹ شعبان ۵۷۳؁ھ بروز چہار شنبہ یا ۱۹ ذوالحجہ ۵۷۵؁ھ کو بغداد میں وفات پائی آپ بڑے خوش نویس و صوفی و صافی تھے اور ہمیشہ فقر و ارباب قلوب کے ہم صحبت رہتے تھے۔ حدیث پڑھایا خوش اخلاق عزیز العقل اور مثبت فی الروایہ، محب اہل فضلا تھے آپ کی وفات حضرت سید عبدالرزاق سے اٹھائس برس قبل بحالت شباب میں ہوئی۔ والد کی خانقاہ میں دفن ہوئے۔

۵۔ حضرت سید تاج الدین ابو بکر عبدالرزاق (آپ کے حالات آگے تفصیل سے آرہے ہیں وہیں ملاحظہ کریں)

۶۔ حضرت سید شمس الدین ابو محمد آپ کی کنیت ابوبکر بھی ہے اور نام عبدالعزیز آپ ۲۷ یا ۲۸ شوال ۵۸۰؁ھ میں پیدا ہوئے آپ نے والد اور بہت سے لوگوں سے علم حاصل کئے آپ بڑے عالم و فاضل اور علوم دینی و دینوی میں کامل تھے۔ ۵۸۰؁ھ میں آپ جیال جو سنجا کے مضافات میں ایک گاؤں ہے وہیں اقامت کی آپ کی اولاد وہیں ہیں ۱۸ یا ۲۸ ربیع الاول ۶۰۲؁ھ میں وصال ہوا۔

۷۔ حضرت سید ابو اسحٰق ابراہیم آپ ۵۲۷؁ھ میں پیدا ہوئے اور ۲۵ ذیقعدہ ۶۲۳؁ھ یا ۵۹۲؁ھ میں واسط میں انتقال فرمایا۔ آپ بہت ثقہ، متواضع کریم الاخلاق اور علماء میں ممتاز تھے بغداد سے شہر واسط میں آکر اقامت کی اور وہیں وصال ہوا۔

۸۔ حضرت سید ابوالفضل محمد آپ نے اپنے والد ماجد سے تفقہ حاصل کیا اور ان سے ودیگر شیوخ سے بھی حدیث سنی آپ سے بہت سے لوگ مستفید ہوئے آپ بہت بڑے ثقہ اور متورع عالم تھے ۲۷ رمضان یا ۲۵ ذیقعدہ ۶۰۰؁ھ کو بغداد میں وفات پائی اور مقبرہ حلبہ میں مزار شریف ہے۔

 

 

 

[1] سیرت غوث اعظم ص ۲۴

[2] سیرت غوث الاعظم ص ۱۷ و خزینۃ الاصفیاء ج۱، ص۹۴

[3] سیرت غوث اعظم ص ۱۷

[4] اخبار الاخیارص ۱۴، فارسی و مسلک السالکین ج۱، ص ۳۳۰

[5] مسالک السالکین ج۱ ، س ۳۳۷

[6] مسالک السالکین ج۱ ، س ۳۳۸

[7] مسالک السالکین ج۱ ، س ۳۴۲

[8] اخبار الاخیار ص ۲۰ فارسی

[9] اخبار الاخیار فارسی ص ۱۶/۱۵

[10] عوارف المعارف اردو ص ۳۱۳

[11] مسالک السالکین ج۱ ، س ۳۳۹

[12] مسالک السالکین ج۱ ، س ۳۳۹

[13] مسالک السالکین ج۱ ، س ۳۴۰

[14] مسالک السالکین ج۱ ، س ۳۴۱

[15] اخبار الاخیار اردو ص ۳۸/ ۳۷

[16] اخبار الاخیار و تلخیص بہجۃ الاسرار ص ۵۸

[17] برکات قادریت ص ۲۳

[18] مقامات دستگیری

[19] مقامات دستگیری

[20] مقامات دستگیری  ص ۴۹/ ۴۸

[21] صفحات کی ترتیب میں فرق ہے۔

[22] اخبار الاخیار فارسی

Comments