Hujjat-ul-Islam Hazrat Molana Hamid Raza Khan Barelvi 1

فاضل بریلوی اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا علیہ الرحمۃ کے بڑے صاحبزادے،محمد نام،معروف بہ حامد رضا،حجۃ الاسلام خطاب،۱۲۹۲؁ھ میں پیدا ہوئے،درسیات تمام وکمال والد ماجد سے پڑھی،تفسیر وحدیث کا درس خاص طور پر مشہور تھا،تفسیر بیضاوی کے درس میں خصوصی توجہ تھی علم وعمل میں باکمال والد م اجد کے جانشین،عربی نظم ونثر میں منفرد اسلوب رکھتے تھے،حُسن ظاہری میں بھی متفرد تھے طبیعت بہت مریخاں مرنج پائی تھی،تلامذہ،مریدین اور ناداروں کی دستگیری آپ کا شیوہ تھا،۱۳۵۱؁ھ میں اجمیر شریف کی واپسی میں راقم سطور کے والد ماجد و پیر ومرشد حضرت برہان الاصغباء بد الکاملین مولانا الحاج شاہ رفاقت حسین مدظلہٗ العالی امینِ شریعت صوبۂ بہار، نے تفسیر بیضاوی کا آپ سے درس لیا،آپ اُن تمام خوبیوں کے جامع تھے جو ایک مجدد کے جانشین میں ہونی چاہئے تھیں،آپ مرید و خلیفہ حضرت مخدوم شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہٗ کےتھے،والد ماجد سے بھی خلافت واجازت تھی،ستر۷۰ برس کی عمر میں وفات ہوئی۔۔۔آپ کی وفات پر عالم با عمل،مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب فریدی سمستی پوری(صدر اساندہ مدرسہ شمس العلوم بد ایوں شیخ الارشاد خانقاہِ قادریہ سربیلہ سہر ساصوبہ بہار قائم شدہ ۱۳۱۱؁ھ ) نے نظم وفات فارسی میں تصنیف کی تھی،جس کے اشعار میں سال ولادت،سال وفات،صوری،معنوی ہجری تاریخ مادۂ وفات اور مھاسن مذکور ہیں،نظم میں گیارہ اشعار میں مقطع کا آخری مصرعہ بھی سال وفات کا ترجمان ہے۔

دے زبزم جہاں، رفت بہ بزم جناں

 

مفتئ دینں متیں مولوی حامد رضا

صاحب زہدو ورع، عالم با اتقاء

 

پیشرو اہل دیں، ہادئ راہ خدا

عابد شب زندہ دار صوفی دصافی منش

 

رہر وراہِ سلوک، صاحبِ رشد وہدا

بر سرعرش ھدیٰ ماہِ شرف ذات او

 

نجم صداقت پے مطلع صدق وصفا

داغِ فراق رضا، بازبدل تازہ شد

 

وارث فضلِ رضا، رفتہ بہ قرب رضا

مرگِ کزیں عالمے مرگِ جہاں ہم بود

 

راتم او ماتم دہر بود بر ملا

غیر رضا بالقضا، ارۂ دل ہیچ نیست

 

شیوۂ ایماں بود، صبر دم ابتلا

بسکہ بسر بردہ بود عمر بخیر العمل

 

رحمتِ رب بہرہ اش ساختہ خیر الجزا

اسم[1] محمد شدہ عہد ولادت، مگر

 

سیزدہ صدشصت ودو دیدہ گزیدآں سرا

شب زمہ پنجمیں، ہیز دہ ہم آمدہ

 

چوں رفنائے مکاں رفتہ بدار بقا

کلک فریدی نوشت ازپئے سال وصال
بین[2] جناں آمدہ مولوی حامد رضا

حضرت پیر و مرشد بُرہان الاصفیاء مولانا شاہ رفاقت حسین دامت برکاتہم،حضرت مجمع الفضائل مولانا شاہ محمد حبیب الرحمٰن قادری دھام نگری حضرت مولانا شاہ حشمت علی خاں لکھنوی علیہ الرحمۃ حضرت مخدوم مولانا شاہ ابراہیم رضا جیلانی میاں خلف اکبر حضرت مولانا حماد رضا قدس سرہما آپ کےنامور خلفاء ہیں،آپ کا سلسلہ ثانی الذکر اور صاحبزادوں سے خوب پھیلا۔



[1] ۔ نویں شعر کے پہلے مصرعہ میں سال ولادت(۱۲۹۲ھ) اور دوسرے مصرعہ میں سال وفات ۱۳۶۲؁ھ سورۃ ومعناً ہیں۔۔

[2] ۔ دسویں شعر کے دو مصرعے اعداد سالِ وفات سن عیسوی بتلارہے ہیں نیز اس کا پہلا مصرہ تاریخ وفات ۱۸جمادی الولی کی رہنمائی صورۃ کر رہا ہے۔

(تذکرہ علماء اہلسنت)

Comments