Hazrat Molana Ata Muhammad Bandiyalwi

حضرت رئیس المناطقہ حضرت مولانا عطا محمد بندیالوی، بندیال، سرگودھا علیہ الرحمۃ 

 

استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا عطا محمد بندیالوی ۱۳۳۷ھ/ ۱۹۱۸ء میں پدھراڑ (ضلع سرگودھا) کے مقام پر پیدا ہوئے۔

تعلیم و تربیت:

آپ نے قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتب موضع و سنال ضلع جہلم میں حافظ الٰہی بخش اور قاضی محمد بشیر سے پڑھیں۔

۱۹۳۲ء میں آپ بندیال ضلع سرگودھا تشریف لے گئے۔ ان دنوں بندیال میں استاذالعلماء حضرت مولانا یار محمد رحمہ اللہ (متوفی ۱۳۶۳ھ/ ۱۹۴۷ء) نے علوم و فنون کا فیض جاری کیا ہوا تھا، چنانچہ آپ نے بھی اس فیض سے بہرور ہونا شروع کردیا اور فارسی کی بقیہ کتب (ابتدائی کتب جہلم میں پڑھ چکے تھے) صرف و نحو کی تمام کتب، اصول فقہ سے حسامی اور منطق سے قطبی وغیرہ پڑھیں۔ اس کے بعد دو سال چھ ماہ کا عرصہ جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں گزارا اور حضرت استاذالعلماء مولانا مہر محمد سے معقول اور فنونِ عالیہ کی تمام کتب کا درس لیا۔ چھ ماہ ’’انہی‘‘ ضلع گجرات رہے اور پھر پیلاں ضلع میانوالی میں مولانا غلام محمود (متوفی ۱۹۴۸ء) سے تصریح، شرح چغمینی اور رسائل ربع مجیب وغیرہ کتب پڑھ کر علوم و فنون کی تکمیل کی۔

تدریس:

آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز جامعہ فتحیہ اچھرہ سے کیا۔ دو سال مدرسہ مذکورہ میں پڑھانے کے بعد علامہ سیّد ابوالبرکات رحمہ اللہ کی دعوت پر دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں مسندِ تدریس پر فائز ہوئے۔ یہاں ایک سال پڑھایا اور پھر مدرسہ اسلامیہ رانیاں (حصار) میں ایک سال اور جامعہ غوثیہ محمدیہ بھیرہ(سرگودھا) میں تین سال تک تدریسی فرائض سر انجام دیتے رہے۔ آٹھ سال سیال شریف اور ایک سال دربارِ عالیہ گولڑہ شریف میں پڑھانے کے بعد دارالعلوم مظہریہ امدادیہ بندیال میں علوم و فنون کا فیضان جاری کیا، جو اب تک جاری ہے۔

علمی قابلیت:

علوم و فنون میں آپ یکتائے زمانہ ہیں۔ معقولات و منقولات کی تدریس میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ بقول استاذ محترم مولانا عبدالحکیم شرف قادری آپ دنیائے تدریس کے سلطان ہیں اور آپ کی شہرت و مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ہر صاحبِ علم آپ کے کمالِ تدریس[۱] کا معترف ہے۔ آپ کی علمی قابلیت میں آپ کے ذوقِ مطالعہ کو بھی بڑا دخل ہے، چنانچہ بقول مولانا غلام مہر علی آپ بخاری و مسلم کے درس کے لیے دس دس شروح کا مطالعہ کرتے ہیں[۲]۔

[۱۔ مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری، ضمیمہ قوال کی شرعی حیثیت ص۵]

[۲۔ مولانا غلام مہر علی: الیواقیت المہریہ ص۱۰۱]

بغداد شریف سے سند:

۱۹۴۸ء میں آپ حضرت خواجہ غلام محی الدین المعروف بابوجی گولڑوی رحمہ اللہ کی معیت میں بغداد شریف حاضر ہوئے، تو حضرت شیخ عبدالقادر آفندی خطیب جامع امام اعظم رحمہ اللہ سے فقہ و حدیث کی سند حاصل کی۔ آپ نے حضرت بابوجی علیہ الرحمۃ کے ساتھ سفرِ بغداد میں جو واقعات ملاحظہ فرمائے، تمام کو کتابی صورت میں جمع فرمایا اور سفرنامہ بغداد کے نام سے اس کتاب کو موسوم کیا، ابھی تک مسودہ کی صورت میں ہے۔

بیعت:

آپ نے سلطان العارفین حضرت خواجہ پیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ (گولڑہ شریف) کے دست حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔

تصنیفات:

آپ کی تمام تر توجہ تدریس کی طرف رہی، لیکن اس کے باوجود آپ نے مندرجہ ذیل کتب بھی تحریر فرمائیں:

۱۔       صرف عطائی

۲۔       رمضان شریف کے بارے میں ریڈیو کی خبر نامقبول ہے (ایک رسالہ)

۳۔      مسئلہ کذب پر ایک مبسوط فتویٰ

۴۔      قوالی کی شرعی حیثیت [۱]

[۱۔ مولانا عبدالحکیم شرف قادری: ضمیمہ ’’قوالی کی شرعی حیثیت‘‘ ص۱۴]

چند مشہور تلامذہ:

آپ کے کثیرا لتعداد تلامذہ میں سے چند مشہور تلامذہ مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔       استاذالعلماء حضرت مولانا غلام رسول، شیخ الحدیث جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد

۲۔       مولانا عبدالحق، مہتمم جامعہ مظہریہ امدادیہ، بندیال شریف

۳۔      مولانا محمد اشرف سیالوی، شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور

۴۔      مولانا اللہ بخش (قدس سرہ العزیز) واں بھچراں ضلع میانوالی

۵۔       علامہ سیّد محمود احمد رضوی، شارح بخاری و مدیر رضوان لاہور

۶۔       مولانا غلام رسول سعیدی، شیخ الحدیث دارالعلوم نعیمیہ کراچی

۷۔      مولانا پیر محمد چشتی، مہتمم دارالعلوم معینیہ غوثیہ، پشاور

۸۔      مولانا فضل سبحان، مہتمم جامعہ قادریہ بغدادہ، مردان

۹۔       مولانا مظفر اقبال رضوی، لاہور

۱۰۔      علامہ مقصود احمد، ڈسٹرکٹ خطیب محکمہ اوقاف لاہور

۱۱۔      علامہ مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری، صدر مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور

۱۲۔      مولانا محمد شریف ضیائی (مرحوم) [۱]

[۱۔ مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری: ضمیمہ قوالی کی شرعی حیثیت، ص۱۳، ۱۴]

۱۳۔     مولانا محمد رشید نقشبندی، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور

صاحبزادگان:

کچھ عرصہ قبل آپ کے ہاں ایک صاحبزادہ فدا محمد تولد ہوا، مگر وہ صغر سنی ہی  میں داغِ مفارقت دے گیا۔ اب یکم رمضان المبارک ۱۳۹۰ھ کو اللہ تعالیٰ نے ایک صاحبزادہ عطا فرمایا، جس کا نام فداء الحسن رکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ جناب صاحبزادہ کو حضرت علامہ کا صحیح جانشین بنائے۔ آمین [۱]

[۱۔ مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری: ضمیمہ قوالی کی شرعی حیثیت، ص۷]

Comments