Hazrat Imam Abu Muhammad Hasan

 

آں سرور سینہ مرتضیٰ قراۃ  العین فاطمۃ الزہرا، صوئی قاب قرسین او ادبے، سید اہل الارض واسماء، امام الائمۃ ابو محمدﷺ حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ائمۃ اہل بیت سے دوسرے امام ہیں آپ کی کنیت ابو محمدﷺ اور لقب نقی ہے۔ آپ کی ولادت بروز  سہ شنبہ پندرہرمضان المبارک سال ۳؁ھ کو مدین منورہ میں ہوئی۔ کتاب شواہد النبوت میں لکھا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت امام حسن کے اسم گرامی  کو بہشتی ریشم کے ایک ٹکڑے پر لکھ کر آنحضرتﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ کتاب مذکور میں یہ بھی  لکھا ہے کہ  حضرت امام حسن  سینہ مبارک سے لے کر سر تک رسول اللہﷺ کے مشابہ تھے۔ ایک دن حضرت ابو بکر صدیق نے امام حسن کو کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور قسم کھاکر کہہ رہے تھے۔ کہ آپ آنحضرتﷺ اور حضرت علی کے بالکل ہم شکل ہہیں۔ یہ کہہ رہے تھے اور تبسم فرمارہے تھے۔ مراۃ الاسرا میں لکھا ہے کہ امام حسن نے حضرت رسالت پناہﷺ کے آغوش محب میں پر ورش پائی اور اکثر اوقات آنحضرتﷺ خود مرکب بن جاتے تھے اور ان کو اور ان کے بھائی حسینکو سوار بنالیتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے پروردگار کے نزدیک بہترین خلائق یہی ہیں۔ ان کی محبت باعث نجات ہے اور ان کی دشمنی باعث گمراہیوضلالت ہے۔ صاحب کشف المجوب لکھتے ہیں کہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اہل بیت وہ ہیں جو طہارت ازلی کے ساتھ مخصوص ہیں اور اُن میں سے ہر شخص صاحب اقتداء ہے۔ اور صوفیاء کے تمام سلاسل ان ہی کے قدم پر ہیں۔ خصوصاً امام ھسن جو طریقت میں بلند نظر  رکھتے تھے۔ اور حقائق و معارف الہیہ میں بڑے صاحب زوق تھے۔ یہاں تک کہ لوگوں  کو آپ یہ وصیت فرماتے تھے۔ علیکم بحفظ السرائر فان اللہ مطلع  علی الضمائر۔(اسرار باطن کی حفاظت تم پر فرض ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ مافی الضمیر سے آگاہ ہے)

امام حسن بصری جوبیشتر سلاسل طریقت کے پیشوار ہیں بھی علوم  حقائق کے مشکلات حضرت امام حسن سے حل کراتے تھے۔ خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام حسن اپنے گھر کے دروازہ پر تشریف رکھتے تھے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) آیا اور امام موصوف کو گالی دینے لگا یعنی تو ایسا ہے تیرے ماں باپ ایسے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آپ نے فرمایا اے جوان تجھے کھانے کی ضرورت ہے یا کوئی اور تکلیف  ہے۔ لیکن وہ بسدتور گالی بکتا رہا۔ امام حسن نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ ایک چاندی کا تھیلہ لاؤ اور اس کو دے دو۔ جب خادم نے اُسے تھیلا لاکر دیا تو آپ نے فرمایا اے جوان معاف رکھنا ہمارے گھر میں اس وقت اس سے زیاد ن ہیں ہے ورنہ تجھ سے دریغ نہ رکھتا یہ سن کر اعرابی نے کہا اشھد انل ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔(میں گواہی دیتا ہوں کہ تو رسول اللہﷺ کا بیٹا ہے)۔ میں آپ کے حلم کا تجربہ کرنا چاہتا تھا۔ کیونکہ محققین کی یہ صفت ہے کہ خلق کی مدح وذم ان کے لیے یکساں ہوتی ہے۔ اور  برا کہنے پر ناراض نہیں ہوتے۔

صاحب مراۃ الاسرار لکھتے ہیں کہ جب حضرت علی مرتضیٰ نے جام شہادت نوش فرمایا تو دوسرے دن اُسی سال ۴۰ھ امیر المومنین حضرت امام حسن مسند خلافت پر متمکن ہوئے اُس روز چالیس ہزار آدمیوں نے آپ سے بیعت کی۔ آپ نے قیس بن سعد بن عبادہ کو بارہ ہزار کی فوج دے کر شام کی سرحد پر امیر معاویہ کے مقابلہ میں روانہ کیا اور خود کسریٰ نوشیروان کے  محل میں بیٹ کر امور سلطنت میں م شغول ہوگئے۔ اور حدیث نبویﷺ کے مطابق کہ الخلافۃ من بعدی ثلثون سنۃ (خلافت میرے بعد تیس سال رہے گی) آپ نے چھ ماہ خلافت کی کیونکہ آپ سے پہلے انتیس سال چھ ماہ باقی خلفائے راشدین بسر کر چکے تھے۔

خلافت سے دستبرداری

اسی طرح خلافت راشدہ کے تیس سال پورے ہونے کے بعد آپ نے رضا ورغبت سے حکومت حضرت معاویہ کے سپرد کردی۔ اور خود مدینہ منورہ میں گوشہ نشین ہوکر شغل  حق میں پیوست ہوگئے۔

شواہد النبوت میں حضرت ابو ہرہ سے روات ہے کہ اک رات امام حسن رسول خدا ﷺ کی خدمت میں بیٹھے تھے۔ اندھری رات تھی۔ آنحضرتﷺ نے اُن سے فرمایا کہ والدہ کے پاس جاؤ۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ میں ان کے ساتھ جاؤں۔ آپ نے فرمایا نہیں  ایکلا جائے گا۔ جونہی اُنہوں نے بہر قدم رکھا آسمان سے بجلی کی سی روشنی طاہر ہوئی اور وہ آسانی سے گھر پہنچ گئے۔ اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت امام حسن بعض اوقات پایادہ مدین ہسے مکہ حج پر تشریف لے جاتے تھے اور آپ  کے پاؤں مبارک پر ورم آجاتا تھا۔ ایک دفعہ آپ کے ایک غلام نے عرض کیا کہ تھوڑی دیر  سوار ہوجائیں میں تاکہ ورم دور ہوجائے۔ لیکن  آپ نے قبول نہ فرمایا۔ اور فرمایا کہ جب تو منزل پر پہنچے گا۔ تو تجھے ایک حبشی ملے گا۔ جس کے پاس گھی ہوگا۔ اس سے گھی خریدنا اور معاملہ میں سختی نہ کرنا۔ اس نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ  آپ پر فدا ہوں۔ میں نے کسی منزل پر ایسا شخص نہیں دیکھا۔ اب وہ کہاں سے آجائے گا خیر جب وہ منزل پر پہنچے تو غلام نے  دیکھا کہ اُسی  حلیہ کا ایک حبشی نمودار ہوا۔ امام موصوف نے فرمایا یہ وہی حبشی ہے جس کے متعلق میں نے  تجھے کہا تھا۔ اب  جاؤں اور اس سے گھی خرید کرلے آؤ۔ جب غلام نے حبشی کے پاس جاکر گھی طلب کیا تو اس نے پوچھا کہ اے غلام تم یہ گھی کس کے لیے خیرد رہے ہو۔ اس نے جواب دیا کہ امام حسن کے لیے۔ اس نے کہا چلو ہم ان کی خدمت میں چلیں۔ جب ان کے پاس پہنچے تو حبشی نے عرض کیا کہ حضور میں آپ کا غلام ہوں گھی کی قیمت نہیں لوں گا۔ لیکن میری بیوی دردِ زہ میں مبتلا ہے دعا فرمانویں کہ خدا تعالیٰ ہمیں خوبصورت بیٹا طا فرماوے۔ آپ نے فرمایا گھر جاؤ جو کچھ چاہتے ہو حق تعالیٰ عطا فرمائےگا۔ جب وہ گھر پہنچا تو جس طرح  انہوں نے فرمایا تھا اُسی طرح مرد وپوری ہوگئی۔

اس کتاب  یہ بھی لکھا ہے کہ امام حسن ایک دفعہ حضرت زبیر کے ایک بیٹے کے ساتھ ہم سفر تھے۔ رات کو ایک ایسے باغ میں منزل کی جہاں درخت خشک ہوچکے تھے۔ امام حسن نے ایک درخت کے نیچے قیام کیا اور ابن زبیر نے دوسرے درخت کے نیچے۔ ابن زبیر ن ے کہا کاش کہ اس درخت پر تازہ کھجور ہوتے تاکہ ہم کھاتے۔ امیر المومنین حسن نے فرمایا کیا تم تازہ کھجور کھانا چاہتے ہو۔ آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور زیر لب کچھ کہتے رہے۔ اس کے بعد فوراً ایک درخت سبز ہوا اور اس پر پھل نمودار ہوئے۔ شتربان نے جوان کے ساتھ تھا کہا کہ یہ جادو ہے امام حسن نے فرمایا کہ  واللہ یہ جادو نہیں ہے بلکہ دعا کا اثڑ ہے جو پیغمبر اسلام علیہ السلام کے بیٹے نے مانگی ہے۔ چنانچہ خادم نے درخت پر  چڑھ کر پھل اتارے اور سب  نے کھائے۔ تریخ و سیرت کی کتابوں میں آپ کے اس قدر کمالات درج ہیں کہ دائرہ تحریر سے باہر ہیں۔

اس کتاب میں یہ لکھا ہے کہ امام حسن کو ان کی اہلیہ جعد بنت اشعث نے جن کو اسماء بنت اشعث بھی کہتے ہیں بعض مخالفین کی سازش سے زہر دیا تھا۔ مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ جب امام حسن کو زہر دیا گیا تو آپ نے امام حسین کو طلب فرماکر خلافت و امانت اُن کے سرد کی اور بتاریخ اٹھائیس ۵۰ھ اس دافانی سے رحلت فرمائی۔ آپ کی عمر سنتیالیس سال تھی بعض نے اس سے بھی کم عمر بتائی ہے۔ آپ کی مدت خلافت چھ ماہ تھی۔ آپ کی قبر مبارک قبرستان  بقیع میں ہے۔ آپ کے دس بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں۔

(اقتباس الانوار)

Comments