Hazrat Allama Zafaruddin Bihari 2

صاحب کتاب

صاحب کتاب ملک العلما حضرت مولانا ظفر الدین رضوی علیہ الرحمۃ کے حالات پر ان کے صاحب زادہ گرامی وقار ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو نے مؤذن الاوقات، کے آخر میں اجمال سے اور صحیح البہاری جدید ایڈیشن کے شروع میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، ہم ہر دو مضمون سے مقتبس و ملخص کر کے یہاں درج کر رہے ہیں۔

ملک العلما فاضل بہار حضرت مولانا شاہ محمد ظفر الدین قادری رضوی ہندوستان کے ان عالموں اور مصنفوں میں تھے جن کی علمی شہرت دور دور تک پھیلی، اور جن کی تصانیف سے ہندوستان اور پاکستان کے رہنے والے بڑی تعداد میں  مستفید ہوئے۔ وہ ٹھوس علمی صلاحیت رکھنے والے کامیاب اور شفیق استاذ، علمی تقریر کرنے والے شگفتہ بیان مقرر، دل نشیں باتیں کرنے والے مؤثر واعظ، اپنے منطقی  وعلمی استدلال سے فریق(مخالف) کو لاجواب کردینے والے مناظر اور پچاسوں کتابوں کے نامور مصنف تھے۔ جن کی تالیفات و تصنیفات کا دائرہ وسیع تھا، اور بہت سے علوم و فنون پر مشتمل۔ اگر وہ کم عمری میں ذہین، طباع اور سخت جدو جہد کرنے والے طالب علم تھے، تو اپنے عہد شباب و کہولت بلکہ کبر سنی میں بھی جفاکش استاذ اور سر گرم عمل مصنف رہے۔ وہ عالم با عمل تھے، شریعت کے سخت  پابند، طریقت کی راہ کے مجاہد اور حب رسول میں سرشار۔ ان کی زندگی کا نظام الاوقات سخت منضبط تھا۔ انھوں نے اپنے اوقات  اس طرح تقسیم کر رکھے  تھےکہ  گونا گوں علمی مصروفیات کے باوجودان  کا خاصہ وقت و ظائف و اوراد، اوریاد الٰہی کے لیے مخصوص تھا۔

ان کے اساتذہ میں اگر ایک طرف حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی اور حضرت مولانا احمد حسن کان پوری رحمہما اللہ تعالیٰ تھے تو دوسری طرف حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین رام پوری کے تلامذہ خاص مولانا سید بشیر احمد علی گڑھی اور مولاناحامد حسن رام پوری کے اسمائے گرامی بھی نظر آتے ہیں۔  لیکن جس ذات گرامی سے انھوں نے سب  سے زیادہ علمی فیوض حاصل کیے، وہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ جن کی صحبت بابرکت میں وہ برسہا برس رہے، اور جو خاندان کے بزرگوں کی طرح ان پر شفقت فرماتے رہے۔ اس کا اندازہ کچھ ان مکاتیب اور مفاوضات سے ہوسکتا ہے جو شفیق استاذ نے اپنے لائق شاگرد کو لکھے ہیں، اور جن میں وہ انھیں کبھی ولدی الاعز لکھ کر مخاطب کرتے ہیں، کبھی حبیبی وولدی وقرۃ عینی لکھ کر۔ کبھی ولدی اعزل اللہ فی الدنیا والدین لکھتے ہیں۔ اور کبھی ولدی الاعز حامی السنن ماحی الفتن۔۔۔ اور ایک خط میں تو جان پدر بلکہ از جان بہتر، لکھ کر خطاب فرمایا ہے۔

امام احمد رضا کے دل میں اپنے اس شاگرد کی کیا قدر و عزت اور کیسی محبت تھی اس کا اندازہ ان کے اس مکتوب سے ہوتا ہے جو انھوں نے ان کے بارے میں خلیفہ تاج الدین احمد ناظم  انجمن نعمانیہ ہند لاہور کو اپنی رحلت سے بارہ سال پہلے  ۵؍شعبان المکرّم ۱۳۲۸ھ کو تحریر کیا ہے:۔

مولانا مولوی محمد ظفر الدین صاحب قادری سلمہ فقیر کے یہاں کے اعز طلبہ سے ہیں اور میرے بجان عزیز۔ ابتدائی کتب کے بعد یہیں تحصیل علوم کی اور اب کئی سال سے میرے مدرسہ میں مدرس اور اس کے علاوہ کار افتا میں میرے معین ہیں۔ میں یہ نہیں  کہتا کہ جتنی درخواستیں  آئی ہوں سب سے یہ زائد ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گا:

سنی خالص مخلص  نہایت صحیح العقیدہ ہادی مہدی ہیں۔۔۔ عام درسیات میں بفضلہٖ تعالیٰ عاجز نہیں۔۔ مفتی ہیں۔۔ مصنف ہیں۔۔ واعظ ہیں۔۔ مناظرہ بعنونہ تعالیٰ کر سکتے ہیں۔۔ علمائے زمانہ میں علم توقیت سے تنہا  آگاہ ہیں۔ امام  ابن حجر مکی نے زواجر میں اس علم کو فرض کفایہ لکھا ہے اور اب ہند بلکہ عام بلاد میں یہ علم علما، بلکہ عام مسلمین سے اٹھ گیا۔ فقیر نے بتوفیق قدیر اس کا احیا کیا اور سات صاحب  بنانا چاہے جن میں بعض نے   انتقال کیا، اکثر اس کی صعوبت سے چھوڑ کر بیٹھے۔ انھوں نے بقدر کفایت اخذ کیا اور اب میرے یہاں کے اوقات طلوع و غروب و نصف  النہار ہر روز و تاریخ کے لیے اور جملہ اوقات ماہ مبارک رمضان شریف کے بھی بناتے ہیں۔

فقیر آپ کے مدرسے کو اپنے نفس پر ایثار کر کے انھیں آپ کے لیے پیش کرتا ہے۔ (مکتوبات)

یہ تو نثر ہوئی، اب نظم دیکھیے۔ امام احمد رضا کا رسالہ الاستمداد ۱۳۳۷ھ تین سو ساٹھ اردو اشعار کا قصیدہ ہے۔ جس میں ۱۳۲ قافیے تو اصلاً مکرر نہیں، باقی میں یہ التزام ہے کہ کوئی قافیہ ۹؍شعر سے پہلے مکرر نہ ہو۔ اس میں عنوان ذکر  اصحاب و دعائے احباب، کے تحت ۱۳؍ شعر درج ہیں، جن میں اپنے مخصوص خلفا وتلامذہ کا ذکر کیا ہے، چند شعر یہ ہیں:

تیرے رضا پر تری رضا ہو
اس سے غضب تھراتے یہ ہیں
بلکہ رضا کے شاگردوں کا
نام لیے گھبراتے  یہ ہیں
حامد منی انا من حامد
حمد سے ہمد کماتے یہ ہیں
عبد سلام سلامت جس سے
سخت آفات میں آتے یہ ہیں
میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں

          حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان اور مولانا عبدالسلام جبل پوری  کے بعد ملک العلما فاضل بہار کا ذکر کیا ہے۔ ان تینوں ناموں کے بعد علی الترتیب صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی﷫، سید العلما مولانا سید نعیم  الدین مراد آبادی اور مولانا محمد اشرف وغیرہم کے اسمائے گرامی آتے ہیں۔ اور اخیر میں ان سبھوں کے لیے دعائے خیر۔

          ملک العلما مولانا  ظفر الدین قادری کے مورث اعلیٰ سید ابراہیم بن سید ابو بکر غزنوی ملقب بہ مدار  الملک و مخاطب بہ ملک بیا ہیں۔ ان کا نسب  نامہ ساتویں پشت میں حضرت محبوب سبحانی، قطب ربانی، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔

ملک  العلما محمد ظفر الدین رسول پور میجر اضلع پٹنہ(اب ضلع نالندہ) صوبہ بہار میں ۱۰؍ محرم الحرام ۱۳۰۳ھ؍ مطابق ۱۹؍اکتوبر ۱۸۸۰ء کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے۔ خاندان کے لوگوں میں نام پر اختلاف رائے ہوکر ظفیر الدین پہ اتفاق ہوا، اور وہ عرصہ تک اسی نام سے پکارے جاتے رہے۔ جب وہ امام احمد رضا کے شاگرد ہوئے تو انھوں نے ظفیر الدین پر ظفر الدین کو ترجیح دی۔ رسالہ اقلیدس کا خطی نسخہ کتب خانہ خاص میں محفوظ ہے جو شعبان ۱۳۲۲ھ  کا مکتوبہ ہے،

اس کے آخر میں بید الفقیر محمد ظفیر الدین لکھا ہوا ملتا ہے۔ ۱۳۲۳ھ کی ان کے قلم کی ایک تحریر میں ظفیر الدین احمد درج ہے۔ بعد کو وہ محمد ظفر الدین  لکھتے رہے، اور اسی نام سے وہ مشہور ہوئے۔ ان کی کنیت ابو البرکات ہے۔ جیسا کہ معتدد استفتا کے جوابات اور ان کی مملوکہ کتابوں میں ثبت  کی ہوئی مہر سے معلوم ہوتا ہے۔ بریلی کے قیام کے دوران  ان کی تحریروں میں کہیں کہیں عبید المصطفی کا اضافہ بھی نظر آتا ہے۔

ملک العلما چار سال کی عمر کے ہوئے تو ۱۳۰۷ھ میں ان کے والد ماجد نے ان کی تعلیم شروع کرادی۔ رسم بسم اللہ حضرت شاہ چاند صاحب  کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائی۔ ابتدائی تعلیم خود والد ماجد نے دی، پھر قرآن مجید اور اردو فارسی کی کتابیں اپنے گھر پر حافظ مخدوم اشرف، مولوی کبیر الدین اور مولوی عبداللطیف سے پڑھیں۔ ۱۳۱۲ھ سے اپنی نانیہا ل موضع ‘‘بین’’ میں کئی سال رہ کر مدرسہ ‘‘غوثیہ حنفیہ’’ میں تفسیر جلالین، میر زاہد وغیرہ تک کا درس لیا۔ اساتذہ ان کی ذہانت و شوق علمی کی وجہ سے ان پر بہت شفقت فرماتے تھے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سب یاد نہ کرنے کی وجہ سے اساتذہ ان سے ناخوش ہوئے ہوں۔ اس زمانہ میں عظیم آباد (پٹنہ) علم وفن کا مرکز تھا جہاں متعدد دینی مدارس قائم تھے۔ جن میں مدرسہ حنفیہ واقع بخشی محلّہ پٹنہ سٹی ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔ اس مدرسہ کے بانی فارسی و اردو کے مشہور محقق قاضی عبد الودود بی اے، کینٹب، بارایٹ لا (۱۸۹۶ء-۱۹۸۴ء)  کے والد گرامی قاضی عبدالوحید صدیقی فردوسی (۱۲۸۹- ۱۳۲۶ھ) تھے، جو  وہاں کے ایک دین دار رئیس اور فاضل بریلوی کے معتقدین میں تھے [1]۔ انھوں نے ۱۳۱۸ھ میں یہ دینی درسگاہ قائم کی اور ایک بڑی جائیداد اس کے اخراجات کے لیے وقف کردی۔ انھوں نے نامور اساتذہ کی خدمات حاصل کیں، اور کچھ ہی عرصہ کے بعد اس کی شہرت بہار کے قصبات و مواضع تک ہی نہیں دوسرے صوبوں تک پھیل گئی۔

اسی مدرسے کے ایک استاذ حضرت مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی متوفیٰ ۱۳۳۴ھ کی علمی شہرت سن کر مولانا ۲۵؍جمادی الآخرہ ۱۳۲۰ھ کو مدرسہ حنفیہ بین سے مدرسہ ‘‘حنفیہ پٹنہ’’ آگئے، جہاں انھوں نے مسند امام اعظم، مشکوٰۃ شریف اور ملا جلال پڑھی۔ کچھ ہی دنوں کے بعد محدث صاحب بوجہ علالت اوائل شعبان میں مدرسہ حنفیہ سے کنارہ کش ہوکر اپنے وطن پیلی بھیت تشریف لے گئے، تو ماہ شوال ۱۳۲۰ھ کو مولانا ظفر الدین اپنے ہم سبق حکیم ابو الحسن کے ساتھ دار العلوم کان پور پہنچے۔ ان کی بعض تحریرات سے جو خاندان میں محفوظ ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ کتابوں اور سامان کے ساتھ سفر کا کچھ حصہ انھوں نے پیدل چل کر طے کیا۔ پاؤں میں آبلے پڑگئے، لیکن طلب و شوق میں راہ علم کا مسافر آگے ہی بڑھتا رہا۔ انھوں نے مدرسہ امداد العلوم بانس منڈی کان پور میں مولانا قاضی عبدالرزاق  متوفیٰ ۱۹۴۶ء مرید حضرت حاجی امداد اللہ  مکی و شاگرد مولانا احمد حسن کانپوری کے سلسلہ تلامذہ میں داخل ہوکر درس لینا شروع کیا۔ مدرسہ امداد العلوم کے علاوہ بعض اسباق مدرسہ احسن المدارس  اور  بعض دار العلوم میں پڑھتے رہے، گویا کان پور کے تینوں  مدارس کے اساتذہ سے انھوں نے علمی فیوض حاصل کیے۔ وہاں کے مشہور استاذ مولانا احمد حسن کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ متوفیٰ ۳؍صفر ۱۳۲۲ھ سے منطق کی کتابیں پڑھیں۔ اور مولانا شاہ عبید اللہ  پنجابی کانپوری متوفیٰ ۶؍جمادی الاولیٰ ۱۳۴۳ھ سے ہدایہ آخرین ختم کی۔ پھر کان پور سے پیلی بھیت جہاں محدث سورتی پٹنہ  سے واپس آکر اپنے قائم کردہ دارالحدیث میں درس دینے لگے تھے، پہنچے اور وہاں ان سے حدیث کا درس لیا۔

اس کے بعد خوب سے خوب ترکی تلاش انھیں بریلی اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی (۱۲۷۲۔ ۱۳۴۰ھ) تک لے گئی۔ جن کے علم اور قلم کی طاقت کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ وہ پہلی ہی ملاقات میں ان سے مل کر بہت متأثر ہوئے، وہ ان سے فیض اٹھانا چاہتے تھے۔ اور ان کے علم سے متمتع ہونا چاہتے تھے، اور در سیات کی تکمیل بھی۔ لیکن فاضل بریلوی ہمہ وقت مطالعہ اور تالیف و تصنیف میں مشغول رہتے تھے، ان کے یہاں نہ باقاعدہ درس و تدریس کا کوئی سلسلہ تھا، اور نہ اس وقت کوئی مدرسہ قائم تھا۔ مولانا ظفر الدین، اعلیٰ  حضرت کے چھوٹے بھائی مولانا حسن رضا خاں حسن بریلوی (۱۲۷۶۔۱۳۲۶ھ) بڑے صاحب زادے مولانا حامد رضا خان (۱۲۹۱۔ ۱۳۶۲ھ) مولانا حکیم سید محمد امیر اللہ شاہ بریلوی اور دوسرے اصحاب سے ملے اور ان لوگوں کے مشورے اور مساعی سے ایک مدرسہ قائم کرنے کے لیے راہ ہموار ہوئی۔ ملک العلما فرماتے تھے کہ مدرسہ کے قیام میں حضرت مولانا حسن رضا خاں اور مولانا سید محمد امیر اللہ کی مساعی کو بہت دخل ہے۔ اور یہ مدرسہ انھیں کی کوششوں سے قائم ہوا۔ یوں  ۱۹۰۴ء/۱۳۲۲ھ میں مدرسہ منظر اسلام محلّہ سودا گران بریلی میں قائم ہوا۔ یہ تاریخی  نام ہے۔ اس سے ۱۳۲۲ھ کے اعداد مستخرج ہوتے ہیں۔ مولانا حسن رضا خاں اس کے پہلے ناظم مقرر ہوئے۔ مولانا ظفر الدین کے ایک دوست اور ہم وطن مولانا سید عبدالرشید عظیم آبادی بھی آگئے تھے۔ صرف انہی دو طالب علموں سے مدرسہ کا افتتاح ہوا۔ اور امام احمد رضا نے بخاری  شریف  شروع کرائی۔ اب ملک العلما نے بہار خطوط لکھ کر مدرسہ کے قیام کی اطلاع دی، اور دوستوں کو بھی بریلی بلالیا۔

مولانا نے امام احمد رضا سے صحیح بخاری شریف پڑھنی، اور فتویٰ نویسی سیکھنی شروع کی۔ انھوں نے اعلیٰ حضرت  کے کچھ فتاوے جنھیں ظاہراً وہ املا کرادیتے تھے، ایک مجموعہ میں جمع کرنا شروع کیے تھے جس کے کچھ اوراق اس وقت پیش  نظر ہیں۔ اس میں پہلا فتویٰ ۸؍رمضان ۱۳۲۲ھ کاتحریرکردہ ہے۔ بعد کو جب مدرسے میں کچھ جید علما اور مستند مدرسین کی خدمات  حاصل کی گئیں، تو انھوں نے  مولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی، مولانا حامد حسن رام پوری، مولانا سید بشیر احمد علی گڑھی  سے مسلم الثبوت، صحیح مسلم شریف اور دوسری کتب درسیات کی تکمیل کی۔ اعلیٰ حضرت  سے انھوں نے صحیح بخاری، اقلیدس کے چھ مقالے تصریح، تشریح الافلاک، شرح چغمینی تمام کر کے علم ہئیت ریاضی،  توقیت، و تکسیر وغیرہ فنون حاصل کیے۔ تصوف کی کتابوں میں ان سے عوارف المعارف اور رسالہ قشیریہ کا درس بھی لیا۔ ان اسباق میں طلبہ کے علاوہ علما کی جماعت بھی شریک ہوئی تھی۔

ماہ شعبان ۱۳۲۵ھ کی کسی تاریخ کو علما کے ایک بڑے مجمع میں فاضل بریلوی کی درخواست پر چشتی مشرب کے مشہور بزرگ شیخ العالم حضرت مخدوم احمد عبدالحق ردولوی قدس سرہ العزیز کی بارگاہ  کے سجادہ نشیں  حضرت مخدوم شاہ التفات احمد قدس سرہ نے ان کے سر پر دستار فضیلت باندھی، اور سلاسل عالیہ کی اجازت و خلافت عطا فرمائی، اور ملک العلما فاضل بہار، کا خطاب۔

ملک العلما کی تدریسی زندگی کا آغاز بھی مدرسہ منظر اسلام بریلی ہی سے ہوا جہاں ان کی تعلیم کی تکمیل  ہوئی۔ تقریباً چار سال تک وہ  وہاں درس دیتے رہے، اور فاضل بریلوی کی ہدایت پر فتاویٰ نویسی کی خدمات بھی انجام دیتے رہے۔ اس زمانہ میں جو فتاوے انھوں نے لکھے ان میں سے کچھ کی نقلیں نافع البشر فی فتاویٰ ظفر میں موجود ہیں۔ ۱۳۲۹ ھ میں معززین شملہ کے اصرار و طلب اور اعلیٰ حضرت کے حکم پر عالم و خطیب کی حیثیت سے وہ شملہ گئے۔ اگلے سال مولانا عبدالوہاب الٰہ بادی نے اپنے قائم کردہ مدرسہ "حنفیہ" کے لیے جو آرا ضلع شاہ آباد بہار میں قائم ہوا تھا، اعلیٰ حضرت کو لکھا کہ وہ مولانا ظفر الدین کو  صدر مدرس کا عہدہ پیش کرنا چاہتے ہیں، آپ انھیں آمادہ کریں، اعلیٰ حضرت نے صرف اس خیال سے کہ نئے دینی مدارس کا قیام اور اس کی ترقی بھی ضروری ہے، وہاں جانے کی اجازت دے دی۔ اس طرح وہ منظر  اسلام بریلی سے مدرسہ حنفیہ آرا ضلع شاہ آباد بہار تشریف لے گئے[2]۔  جہاں وہ کئی سال[3] اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ ۱۳۳۰ھ/ مطابق  ۱۹۱۲ء میں عظیم  آباد میں مسٹر سید نور الہدیٰ ڈسٹرکٹ سیشن جج نے اپنے والد ماجد سید شمس الہدیٰ  کے نام پر مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی، قائم کیا، تو اس میں بحیثیت مدرس اول ان کا تقرر عمل میں آیا، جہاں وہ تفسیر و حدیث و فقہ کا درس دینے لگے۔ ۱۳۳۴ھ، ۱۹۱۶ء میں سید شاہ ملیح الدین احمد سجادہ نشیں خانقاہ کبیریہ سہسرام کی فرمائش پر وہ صدر مدرس ہوکر سہسرام ضلع شاہ آباد بہار چلے گئے، جہاں وہ پانچ چھ سال[4] مقیم رہے۔ ۱۳۳۸۔ ۱۹۲۱ء[5] میں جب مسٹر سید نور الہدیٰ مرحوم و مغفور نے مدرسہ اسلامہ شمس الہدی کو حکومت بہار کے انتظام میں دے دیا اور حکومت نے مدرسہ  کا نظام  اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی تنظیم جدید کی اور نئے تقررات کیے، تو مولانا ظفر الدین قادری وہاں سینئر مدرس ہوکر آگئے۔ ۱۹۴۸ء میں وہ پرنسپل کے عہدے پر سر فراز ہوئے اور ۱۹۵۰ء  میں تقریباً  تیس سال علمی خدمات انجام دے کر انھوں نے سبکدوشی حاصل کی۔

حکومت بہار کی  ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد ملک العلماکو ذہنی سکون و اطمینان قلب بھی ملا اور فراغت کا وقت بھی۔ اب وہ اطمینان سے اپنے دینی و علمی مشاغل میں مصروف ہوگئے۔ کچھ تدریس کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

۲۱؍شوال ۱۳۷۱ھ کو شاہ شاہد حسین عرف درگاہی میاں خلف سید شاد حمید الدین سجادہ نشین تکیہ  حضرت شاہ رکن الدین عشق متوفیٰ ۱۲۰۳ھ میتن گھاٹ پٹنہ کی استدعا پر کٹیہار ضلع پورنیہ بہار میں جامعہ لطیفیہ بحر العلوم کا افتتاح فرمایا، اور صدر  مدرس کے عہدے کو رونق بخشی، صرف اس بنا پر کہ اس علاقے میں مسلمانوں کی خاصی آبادی کے باوجود کوئی قابل ذکر دینی مدرسہ نہ تھا۔

کبرسنی اور دوسری انتظامی ذمہ داریوں کے باوجود ملک العلما روزانہ چھ گھنٹے پڑھاتے تھے۔ مدرسے کا نظام الاوقات دیکھنے سے معلوم ہوا کہ انھوں نے اپنے ذمے تفسیر مدارک، بیضاوی شریف، بخاری، مسلم، ہدایہ آخرین اور مناظرہ رشیدیہ کی تدریس رکھی تھی۔ مدرسے کی نظامت و تدریس کے ساتھ فتاویٰ  نویسی تالیف و تصنیف اور مواعظ حسنہ کا سلسلہ بھی انھوں نے جاری رکھا۔

سالانہ جلسہ دستار بندی کے موقع پر  نامور علما ومقررین کو مدعوبھی  کرتے رہے۔ حضرت مولانا سید محمد محدث کچھوچھوی، مفسر قرآن مولانا ابراہیم رضا خان (جیلانی میاں) اور دوسرے علما کے مواعظ حسنہ سے بھی عوام اور مدرسہ کے طلبہ واساتذہ کو استفادہ کراتے رہے۔

جامعہ لطیفیہ کے قیام سےشمالی بہار کے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا، اور اس علاقہ میں دین کو فروغ ہوا۔ سیکڑوں طلبہ وہاں سے فارغ ہوکر دور دراز علاقوں میں پھیل گئے۔ بعضوں نے نئے مدارس بھی قائم کیے۔ کچھ اصحاب نے مواضع اور قصبات کے ان مدارس کو اپنی خدمات سے ترقی دی، جہاں اب تک محدود پیمانہ پر تعلیم کا انتظام تھا۔ اس لحاظ سے ملک العلما کا پورنیہ میں دو سالہ [6]قیام بہت مفید رہا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ان کا لگایا ہوا پودا مضبوط و توانا ہوکر شجر بار آور ہوگیا تو ربیع الاول شریف ۱۳۸۰ھ میں جامعہ لطیفیہ کٹیہار سے وہ ظفر منزل شاہ گنج پٹنہ آکر مقیم ہوگئے، اور یہاں انھوں نے سلسلہ رشد و ہدایت شروع کیا۔

ملک العلما سے مختلف مدارس کے جن طلبہ نے علمی فیوض حاصل کیے، ان کی تعداد بتانا آسان نہیں۔  صرف مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے متخرجین کی تعداد ہزاروں تک پہنچے گی۔

متحدہ ہندوستان کے مختلف مقامات سے  فنون ہئیت و توقیت سے دلچسپی رکھنے والے حضرات خاصی تعداد میں مولانا سے بذریعہ خط و کتابت اپنا علمی شوق پورا کرتے رہے۔ ان میں مولانا مفتی محمد عمیم الاحسان استاذ مدرسہ عالیہ ڈھاکہ  اور حاجی محمد ظہور  نعیمی مراد آباد کے استفسارات کے جواب میں متعدد مخطوط مجموعہ مکتوبا ت میں محفوظ ہیں۔ جن علما  نے پٹنہ میں  قیام کر کے ان سے  یہ علوم سیکھے ان میں مولانا حافظ عبدالرؤف نائب شیخ الحدیث مدرسہ اشرفیہ مبارک پور متوری ۱۹۷۱ء، مولانا نظام الدین بلیا وی مدرس مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد، اور مولانا یحییٰ بلیاوی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

ملک العلما نے کوئی ۵۵سال تک مسلسل تدریس کا سلسلہ قائم رکھا، اور بریلی، آرا، سہسرام، پٹنہ اور کٹیہار پورنیہ کے مدارس میں ہزاروں طالبان  علم کو اپنے علمی فیوض سے سیراب کیا۔ تدریس کےساتھ افتا و مواعظ کا سلسلہ بھی  برابر جاری رہا۔

مجھے یاد آتا ہے کہ میرے بچپن میں وہ آریہ سماجیوں اور مسیحی مبلغین سے مناظرے کے لئے جلسوں میں بھی تشریف لے  جایا کرتے تھے۔ غیر مقلدین وغیرہم سے مناظرے کے لیے بھی وہ دور دراز کے علاقوں سے مدعو کیے جاتے تھے۔ ایک مناظرے کے لیے وہ ‘برما’ بھی تشریف لے گئے تھے۔

ان کی زندگی کے آخری دو سال تالیف و تصنیف، وعظ ہدایت اور افتانویسی میں بسر ہوئے۔ جس رات انھوں نے رحلت فرمائی، اس شام کو بھی انھوں نے چار خطو ط لکھے۔ والدۂ مرحومہ فرماتی تھیں کہ دو خطوں کے بارے میں تو یاد نہیں کہ کن کو لکھے گئے تھے، تیسرا خط تمہارے نام تھا اور چوتھا خط بہت طویل تھا، جو وراثت کے ایک پیچیدہ مسئلے کے بارے میں تھا۔

ملک العلما عرصہ سے فشار الدم کے مرض میں مبتلا تھے اور بہت کمزور ہوگئے تھے۔ لیکن ان کی عبادت و ریاضت میں کوئی کمی نہیں  آئی، نہ ان کے روزانہ کے معمولات میں کوئی فرق۔ زندگی کے آخری دن تک وہ علمی و دینی فرائض حسب معمول انجام دیتے رہے۔ شب دو شنبہ ۱۹؍جمادی الآخر۱۳۸۲ھ؍ ۱۸؍نومبر ۱۹۶۲ء کو ذکر جہر اللہ اللہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنی جان جاں آفریں کو اس طرح سپرد کی کہ کچھ دیر تک اہل خانہ کو اس بات کا احساس بھی نہیں ہوا کہ وہ  واصل بحق ہوچکے  ہیں۔

دوسرے دن حضرت شاہ محمد ایوب شاہدی رشیدی سجادہ نشیں خانقاہ اسلام پور ضلع پٹنہ حسن اتفاق سے تشریف لے آئے اور انہی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ دسویں گیارہویں صدی ہجری کے  مشہور بزرگ حضرت شاہ ارزاں متوفیٰ (۱۰۲۸ھ) کی درگاہ سے متصل شاہ گنج کے قبرستان میں تدفین عمل میں  آئی۔ ہر سال ان کے اعزہ و معتقدین و تلامذہ مختلف مقامات پر ان کے یوم ِوصال پر فاتحہ خوانی اور عرس و مواعظ حسنہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ خدا ان کی مغفرت فرمائے، ان کی تربت ٹھندی رکھے اور انھیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔

تصانیف

ملک العلما کی تالیفات و تصنیفات کی تعدادستر سے زائد ہے۔ تصانیف کا سلسلہ ۱۳۲۲ھ سے شروع ہوکر تقریباً ان کی رحلت ۱۳۸۲ھ یعنی پچاس پچپن سال تک جاری رہا۔ کچھ کتابیں عربی زبان میں ہیں، لیکن زیادہ تر افادہ عام کی خاطر اردو میں لکھی گئی ہیں۔ یہ متعدد فنون اور موضوعات حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، تاریخ، سیرت، فضائل، مناقب، اخلاق، نصائح، صرف، نحو، منطق، فلسلفہ، کلام، ہئیت، توقیت، تکسیر اور مناظرہ پر مشتمل ہیں۔ کچھ اب تک غیر مطبوعہ ہیں، اور کچھ زیور طباعت سے آراستہ ہوکر شائع ہوچکی ہیں:۔

حیات اعلیٰ حضرت                                       سوانح

شرح کتاب الشفا۔۔۔                                               سیرت

مولود رضوی۔۔۔                                                  سیرت

تنویر السراج۔۔۔                                                  سیرت

التعلیق علی القدوری۔۔۔                                           فقہ

تحفۃ الاحباب۔۔۔                                                  فقہ

نافع البشر فی فتاویٰ ظفر۔۔۔                                         فقہ

اعلام المساجد۔۔۔                                                    فقہ

بسط الراحۃ فی الحظروالاباحۃ۔۔۔                                      فقہ

الفیض الرضوی۔۔۔                                                فقہ     

نہایت المنتہی۔۔۔                                                  فقہ

مواھب ارواح القدس۔۔۔                                         فقہ

نصرۃ الاصحاب۔۔۔                                                 فقہ

عید کا چاند۔۔۔                                                     فقہ

تنویر المصباح۔۔۔                                                  فقہ

جامع الاقوال۔۔۔                                                  فقہ

اصلاح الایضاح۔۔۔                                                فقہ

مجموعہ فتاویٰ۔۔۔                                                   فقہ

تسہیل الوصول۔۔۔                                              اصول فقہ

جامع الرضوی۔۔۔                                                 حدیث

نزول السکینۃ۔۔۔                                                  حدیث

الافاداۃ الرضویۃ۔۔۔                                      اصول الحدیث

التعلیق علی شروح المغنی۔۔۔                                        نحو

وافیہ۔۔۔                                                          نحو

القصر المبنی علی بناء المغنی۔۔۔                                        نحو

نظم المبانی۔۔۔                                                     نحو

عافیہ۔۔۔                                                          صرف

تذھیب۔۔۔                                                       فلسفہ

انوار اللامعۃ من الشمس البازغۃ۔۔۔                                   فلسفہ

توضیح الافلاک۔۔۔                                                 ھیئت

مشرقی اور سمت قبلہ۔۔۔                                            ھیئت

مشرقی کا غلط مسلک۔۔۔۔                                           ھیئت

الفرائض التامہ۔۔۔                                                کلام

تقریب۔۔۔                                                       منطق

خیر السلوک فی نسب الملوک۔۔۔                                    تاریخ

اعلام الاعلام۔۔۔                                                   تاریخ

المجمل المعددلتالیف المجدد۔۔۔                                                تاریخ

جواھر البیان۔۔۔                                                  تاریخ

مبین الہدی۔۔۔                                                   فصائل

تحفۃ المضمافی فضل العلما۔۔۔                                        فضائل

تحفۃ الاحبار۔۔۔                                                    مناقب

النور والضیاء۔۔۔                                                   مناقب

ھادی الہراۃ لترک الموالات۔۔۔                                     سیاست

الحسام المسلول۔۔۔                                                 مناظرہ

نجم الکنزہ۔۔۔                                                      مناظرہ

النبراس۔۔۔                                                       مناظرہ

رفع الخلاف من بین الاحناف۔۔۔                                  مناظرہ

کشف الستور۔۔۔                                                  مناظرہ

گنجینۂ مناظرہ۔۔۔                                                  مناظرہ

ظفر الدین الجیر۔۔۔                                       مناظرہ

شکست سفاہت۔۔۔                                                مناظرہ

ظفر الدین الطیب۔۔۔                                              مناظرہ

ندوۃ العلما۔۔۔                                                     مناظرہ

سرور القلب المحزون۔۔۔                                          اخلاص

دلچسپ مکالمہ۔۔۔                                                 نصائح

الاکسیر۔۔۔                                                        تکسیر

اطیب الاکسیر۔۔۔                                                  تکسیر

الجواھر والیواقیت۔۔۔                                              توقیت

موذن الاوقات۔۔۔                                               توقیت

وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

[1]۔ یہ خانقاہ معظم بہار شریف میں مخدوم جہاں کے سجادہ نشیں ‘‘جناب حضور’’ امین احمد علیہ الرحمۃ کے مرید خاص  اور پٹنہ میں منعقدہ اہل سنت کی اس عظیم کانفرنس کے بانی تھے جس میں اعلیٰ حضرت کو ‘‘مجدد’’ کا خطاب دیا گیا تھا۔ اس وقت تک اعلیٰ حضرت کی جملہ تصانیف کا تقریبا ًنصف حصہ انھوں نے ہی طبع کرایا تھا۔ انھیں کی تحریک پر اعلیٰ حضرت نے المعقد المنتقد کا حاشیہ بنام المعتمر المستند تحریر فرمایا۔ جس میں پہلی بار دیوبندیوں کے سر غنہ مولوی اشرف  علی تھانوی کی تکفیر کی۔ اعلیٰ حضرت نے ان کی نماز جنازہ بھی پڑھائی، اور ان کو قبر میں بھی اتارا۔

[2]۔ اس عبارت سے تبادر ذہنی یہ ہوتا ہے کہ وہ منظر اسلام سے براہ راست مدرسہ حنفیہ آرا پہنچے۔ حالانکہ براہ راست  منظر اسلام سے آرا نہیں آئے بلکہ بریلی سے شملہ پھر شملہ سے آرا آئے۔

[3]۔ کئی سال نہیں، صرف ایک سال مدرسہ حنفیہ آرا میں رہے۔ کیوں کہ ۲۹ھ کو وہ شملہ گئے اور وہاں سے آرا  آئے پھر سن ۳۰ھ کے اواخر میں مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ  آگئے۔

[4]۔۳۴؁ھ میں سہسرام گئے اور ۳۸؁ھ میں پھر پٹنہ آگئے، تو درمیانی مدت چارسال ہوتی ہے۔

[5]۔ ۱۳۳۸؁ھ مطابق ۱۹۲۰؁ء ہوتا ہے ۱۹۲۱؁ء نہیں۔ فقیر رضوی غفرلہ۔

[6]۔ شوال ۱۳۷۱؁ھ سے ربیع الاول ۱۳۸۰؁ھ تک کی درمیانی مدت ۲؍سال نہیں بلکہ ۹؍سال کچھ مہینے ہوتی ہے۔

Comments