حضرت استاذ المحدثین مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی قدس سرہٗ کے فرزند اجمند، ۱۸۸۳؁ھ میں بمقام پیلی بھیت پیدا ہوئے، مدرسۃ الحدیث میں والد ماجد سے تعلیم کی تکمیل و تحصیل کی، ۱۹۱۳؁ھ میں تکمیل الطب کالج لکھنؤ میں طب پڑھا اور سند حاصل کی، ایک عرصہ تک لکھیم پور میں طبابت کا سلسلہ جاری رکھا، آپ کو درس نظامی کے جملہ فنون میں مہارت حاصل تھی، مدرسہ حنفیہ پٹنہ میں چند برسوں آپ کا چشمۂ علم فیض رساں رہا، اس کے بعد آخر عمر تک مدرسۃ الحدیث میں درس دیتے رہے، آپ کا وعظ بہت پر تاثیر ہوتا تھا، آپ کے مواعظ کی اثرپذیری سے متأثر ہوکر اعلیٰ حضرت امام اہل سنت بریلوی نے آپ کو ‘‘سلطان الواعظین’’ خطاب دیا۔۔۔۔۔۔ آپ کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی سے بیعت کا تعلق حاصل تھا، امام والا مقام نے آپ کو اجازت وخلافت مرحمت فرمائی، مزید برآں آپ پر بے حد شفقت فرماتےتھے، ۱۳۳۳؁ھ م یں آپ نے انہیں کے ہمراہی میں زیارت و حج کا شرف حاصل کیا، آپ والد ماجد کی طرف سے حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰن گنج مراد آبادی کے سلسلہ میں بھی بیعت لینے کے مجاز تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۳۲۳؁ھ میں آپ کی شادی حضرت گنج مراد آبادی کی نواسی بنت مولوی عبد الکریم سے ہوئی، فاضل بریلوی بھی بارات میں شریک تھے، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب آپ کی بارات رخصت ہوکر اُس زمانے کے ریلوے اسٹیشن مادھوگنج جانے کےلیے روانہ ہوئی، اسٹیشن پہونچنے سےتین میل پہلے ہی مغرب کا وقت آگیا، جنگلی راستہ، قریب کا گاؤں ڈاکوؤں کی بستی مشہور تھی، اسی گاؤں کے ایک آدمی نے آکر اطلاع دی، آپ نے فرمایا، اللہ اوراس کا محبوب ہماری مدد فرمائے گا، تھوڑے وقفہ کے بعد ڈاکوؤں کا گروہ آتا ہوا دکھائی دیا، اعلیٰ حضرت بریلوی قدس سرہٗ پیش قدمی کر کے اُن کے پاس پہونچ گئے، اور فرمایا ہم تمہارے علاقہ کے بزرگ کی نواسی بیاہ کرلیے جارہے کیا ایسی حالت میں تم ہمارا لوٹنا مناسب سمجھتے ہو؟۔ آپ کے اس کہنے کا ڈاکوؤں پر خاص اثر ہوا، اور وہ سب اپنے خیال سے باز آئے اور معافی چاہی اور توفیق الٰہی سے گروہ کے کل افراد جن کی تعداد سولہ تھی تائب ہوئے اور داخل سلسلہ ہونے کا شرف حاصل کیا،۔۔۔۔۔۔۔ سلطان الواعظین آزادئ وطن کے ولدادہ اور انگریزوں کی فریب کا رانہ چالوں کے دشمن تھےے، مگر ساتھ ہی مشرکین کے ساتھ غیر اسلامی روابط کے شدید مخالفت تھے،۔۔۔۔ ۱۳؍شعبان المعظم ۱۳۵۲؁ھ ۱۹۳۲؁ء میں لکھنؤ میں آپ کا وصال ہوا، اور گنج مراد آباد میں اپنے خسر مولوی عبد الکریم کے آموں کے باغ میں دفن ہوئے، آپ ک ے تینوں لڑکے عالم وفاضل ہوئے، بڑے لڑکے حضرت مولانا شاہ فضل الصمد مانا میاں مدظلہٗ دارفتہ حال سکر وصحو میں مست اور پیلی بھیت میں قیام فرما ہیں۔ دوسرے فرزند مولانا قادری حکیم احمد صاحب کراچی میں مطب کے ساتھ تصنیف و تالیف کا شغل رکھتےہیں، تیسرے فرزند مولانا فضل احمد صوفی تھے، ۴؍دشمبر ۱۹۴۸؁ء کو کراچی میں وہ فوت ہوئے۔

Comments