زیارتِ عراق  

ہانی بن عروہ

ہانی بن عروہ رضی اللہ عنہ نام ونسب: کنیت: ابو یحی۔سلسلہ نسب:ہانی بن عروہ بن نمران بن عمرو بن قعاس  بن عبدِ یغوث بن مخدش بن حصر بن غنم بن مالک بنعوف بن منبہ بن غطیف۔آپ اشرافِ کوفہ میں سے تھے۔ آپ جلیل تابعی ہیں،اور بالخصوص حضرت مولا علی کے مصاحبین میں سے ہیں۔تمام جنگوں میں مولا علی کے ساتھ رہے،اور تمام معاملات میں معاونِ خصوصی تھے۔ آپ کی  سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ "محبِ اہلبیت"تھے۔آپ کی محبت  وعقیدت کا اندازہ اس  واقعے ...

شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی

شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ عظیم مفسر ،محدث ، فقیہ ، شاعر اور ادیب ۔ (پیدائش،1802ء بمطابق 1217ھ وفات -1854ء بمطابق 1270ھ). ابو الثناءشہاب الدین محمود بن عبداللہ الحسینی الٓالوسی بغداد میں پیدا ہوئے 1217ھ آپ کی تاریخ پیدائش ہے۔ "آلوس"ایک گاؤں تھاجوبغداداورشام کے درمیان کے راستے میں ایک مقام پر واقع تھا، جس میں آپ کی پیدائش اس گاؤں کی وجہِ شہرت بنی۔ آپ اپنے زمانے کے امام بنے،زندگی کا زیادہ عرصہ تالیف و تدریس میں گذارا۔مفسر،محدث، ا...

حضرت غازی عباس

حضرت غازی  عباس  رضی اللہ عنہ حضرت عباس حضرت علی بن ابی طالب کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ گرامی کا نام فاطمہ ام البنین تھا ۔جن کا تعلق عرب کے ایک مشہور ومعروف اور بہادر قبیلے بنی کلاب سے تھا۔ وہ ولیہ خدا ، عرفانِ الہیٰ ، محدثہ، فقیہہ ، معرفت اہلبیت اطہار اور علوم ظاہری وباطنی کی حامل تھیں، عباس بن علی اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ اپنے بھائی حسین بن علی کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ اسی ل...

شیخ محمد الفی

شیخ محمد الفی رحمۃ اللہ علیہ آپ عراق کے بڑے مشائخ میں سے  تھے۔ "الفی" لقب کی وجہ تسمیہ: "الف"عربی زبان میں"ہزار"کو کہتے ہیں۔آپ  رحمۃ اللہ علیہ روزانہ رات کو ایک ہزار رکعت نمازِ نفل اداکرتے تھے۔اس لئے آپ کالقب "شیخ الفی"مشہور ہوگیا۔آپ کامزار شریف ،غوث الثقلین غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے مزار شریف کے قریب ہے۔عوام الناس وہاں پر حاضر ہوتے ہیں اور زیارت کرتے ہیں۔ حبیب آفندی نے آپ کے مزار کے ساتھ عالیشان نئی...

سعید بن جبیر اسدی

سعید بن جبیر اسدی رضی اللہ عنہ نام ونسب:کنیت:ابو محمد،ایک قول کے مطابق ابوعبداللہ۔اسمِ گرامی:سعید بن جبیر اسدی ۔آپ عظیم تابعی تھے۔آپ نے حضرت عبداللہ بن عباس،ام المؤمنین سیدہ عائشہ ،عبد اللہ بن عمر اور کثیر صحابہ (علیہم الرضوان)سے علم حاصل کیا۔ایک وقت آیا کہ آپ اپنے وقت کے بہت بڑے محدث ومفسر ،تابعین میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے ،اور امام تھے۔آپ کے علم کاندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے۔"تفسیر وحدیث یافقہ کی کوئی بھی کتاب اُٹھائیے جب آپ کتاب ...

زبیر بن عوام

زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ لقب: حواری رسول الله ،اور اسلام کے لیے سب سے پہلے تلوار اٹھانے اولے۔ فضائل :نام زبیر۔ کنیت ابوعبداللہ، لقب حواری رسول اللہ۔ نبی کریم کے پھوپھی زاد بھائی اور حضرت ابوبکر کے داماد۔ ہجرت سے 28 سال پہلے پیدا ہوئے۔ سولہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ پہلے حبشہ اور پھر مدینہ کو ہجرت کی۔ جنگ بدر میں بڑی جانبازی سے لڑے اور دیگر غزوات میں بھی بڑی شجاعت دکھائی ۔ فتح مکہ کے روز رسول اللہ کے ذاتی دستے کے علمبردار تھے۔ جنگ فسطاط می...

حضرت ملکہ زبیدہ بنت جعفر

حضرت ملکہ زبیدہ بنت جعفر رضی اللہ عنھا ام جعفر زبیدہ بنت جعفر بن ابو جعفرمنصور۔ہاشمی خاندان کی چشم و چراغ تھیں۔ یہ خلیفہ ہارون الرشید کی چچا زاد بہن اور بیوی تھیں ان کا نام"امۃ العزیز"تھا۔ ان کے دادا منصور بچپن میں ان سے خوب کھیلا کرتے تھے،اوران کو " زبیدہ " چنانچہ سب اسی نام سے پکارنے لگے اور اصلی نام بھول ہی گئے۔ یہ نہایت خوبصورت اور ذہین و فطین تھیں۔ جب جوان ہوئیں تو خلیفہ ہارون الرشید سے ان کی شادی ہو گئی۔ یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ذوالحجہ 16...

حضرت میثم بن یحی

حضرت میثم بن یحیٰ  رضی اللہ عنہ آپ حضرت میثم تماراور میثم بن یحیٰ کے نام سے مشہور ہیں۔کوفہ کے رہنے والے تھے۔ آپ مولا علی کے جید  رفقاء اور مصاحبین میں سے ہیں۔سن 61 ہجری میں واقعہ کربلا کے بعد آپ کو حق گوئی کے جرم میں یزید کے کارندے ابن سعد کے حکم پر بے دردی سے قتل کردیا گیا۔اس سے قبل آپ کو قید میں رکھا گیا جہاں آپ پر ظلم و ستم کی انتہا کردی گئی تاہم آپ نے حق کا ساتھ نہ چھوڑا۔ منقول ہے کہ حضرت مولا  علی کرم اللہ وجہہ نے آپ کے متع...

شیخ عبد الجبار

شیخ عبد الجبار رحمۃ اللہ علیہ        فقہ کی تعلیم والد گرامی سے حاصل کی۔اعلٰی درجہ کے خوشنویس تھے. اتباعِ رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بے مثال تھے۔آپ کی والدہ ماجدہ ایک مینارہ نور تھیں۔جن کی صحبت نے آپ کو بہت فائدہ پہنچایا۔؁ ۱۱۷۹ء میں بغداد شریف میں وفات پائی اور والد بزرگوار کے مسافر میں مدفون ہوئے مجاہدات۔و ریاضت میں مشہور زمانہ تھے۔نیز شرع کے سختی سے پابند تھے۔...

حضرت حر

حضرت حر رحمۃ اللہ علیہ بنو تمیم کا ایک فوجی سردار تھے۔ ابن زیاد نے امام حسین کے آنے کی خبر سن کر سب سے پہلے اسی کی سرکردگی میں ایک ہزار سپاہیوں کا ایک دستہ روانہ کیا وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے دائیں بائیں لگا رہے اور انھیں میدان کربلا میں لے آئے ۔ اس وقت اسے یہ خیال نہیں تھا کہ معاملہ اس حد تک پہنچ جائے گا۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ ابن زیاد بالکل سمجھوتے پر نہیں آتا تو اپنے سابقہ رویے پر متاسف ہوا اور تلافی مافات کے طور پر جنگ شروع ہونے سے قب...