ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

نام ونسب: اسمِ گرامی:سیدہ عائشہ۔لقب:صدیقہ،عفیفہ،طیبہ،حبیبۃ رسول اللہ ،حبیبۃ الحبیب،حمیراء۔کنیت:ام عبداللہ۔خطاب:ام المؤمنین۔سلسلہ ٔنسب اسطرح ہے: سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق بن ابو قحافہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی۔آپ کی والدہ محترمہ کانام زینب لقب "امِ رومان" تھا۔ جن کا سلسلہ نسب  حضور ﷺ سے  کنانہ  پر  ایک ہوجاتا ہے۔

تاریخِ ولادت: حضرت عائشہ کی تاریخِ ولادت  سے تاریخ وسیر کی کتب خاموش ہیں۔بعض مؤرخین نے 5نبوی ۔سال کے آخری حصے میں ولادت تحریر کی ہے۔(سیرتِ عائشہ23)

سیرت وخصائص: آپ امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی نورِ نظر اور دخترنیک اختر ہیں۔ حضور ﷺنے اعلانِ نبوت کے دسویں سال ماہ شوال میں ہجرت سے تین سال قبل نکاح فرمایا اور شوال   2ھ میں مدینہ منورہ کے اندر یہ کاشانہ نبوت میں داخل ہو گئیں اور نو برس تک حضور ﷺ کی صحبت سے سرفراز رہیں۔ ازواجِ مطہرات میں یہی کنواری تھیں اور سب سے زیادہ بارگاہ نبوت میں محبوب ترین بیوی تھیں۔ حضورِ اقدس ﷺ کا ان کے بارے میں ارشاد ہے کہ کسی بیوی کے لحاف میں میرے اوپر وحی نازل نہیں ہوئی مگر حضرت عائشہ جب میرے ساتھ بستر نبوت پر سوتی رہتی ہیں تو اس حالت میں بھی مجھ پر وحی الٰہی اترتی رہتی ہے۔ (بخاری جلد۱ ص۵۳۲ فضل عائشہ)

    بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ تین راتیں میں خواب میں یہ دیکھتا رہا کہ ایک فرشتہ تم کو ایک ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر میرے پاس لاتا رہا اور مجھ سے یہ کہتا رہا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ جب میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو ناگہاں وہ تم ہی تھیں۔ اس کے بعد میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر یہ خواب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اس خواب کو پورا کر دکھائے گا۔(2)(مشکوٰۃ جلد۲ ص۵۷۳)

    فقہ و حدیث کے علوم میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے اندران کا درجہ بہت ہی بلند ہے۔ دوہزار دو سو دس حدیثیں انہوں نے حضور ﷺ سے روایت فرمائی ہیں۔ ان کی روایت کی ہوئی حدیثوں میں سے ایک سو چوہتر حدیثیں ایسی ہیں جو بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں ہیں اور چون حدیثیں ایسی ہیں جو صرف بخاری شریف میں ہیں اور اڑسٹھ حدیثیں وہ ہیں جن کو صرف امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں تحریر کیا ہے۔ ان کے علاوہ باقی حدیثیں احادیث کی دوسری کتابوں میں مذکور ہیں۔

    ابن سعد نے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے نقل کیا ہے کہ خود حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے تمام ازواجِ مطہرات پر ایسی دس فضیلتیں حاصل ہیں جو دوسری ازواجِ مطہرات کو حاصل نہیں ہوئیں۔

(۱)حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے میرے سوا کسی دوسری کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا۔

(۲)میرے سوا ازواجِ مطہرات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کے ماں باپ دونوں مہاجر ہوں۔

(۳)اﷲ تعالیٰ نے میری برأ ت اور پاک دامنی کا بیان آسمان سے قرآن میں نازل فرمایا۔

(۴)نکاح سے قبل حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لا کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دکھلا دی تھی اور آپ تین راتیں خواب میں مجھے دیکھتے رہے۔

(۵)میں اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں سے پانی لے لے کرغسل کیا کرتے تھے یہ شرف میرے سوا ازواجِ مطہرات میں سے کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا۔

(۶)حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نمازتہجد پڑھتے تھے اور میں آپ کے آگے سوئی رہتی تھی اُمہات المؤمنین میں سے کوئی بھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اس کریمانہ محبت سے سرفراز نہیں ہوئی۔

(۷)میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں سوتی رہتی تھی اور آپ پر خدا کی وحی نازل ہوا کرتی تھی یہ وہ اعزاز خداوندی ہے جو میرے سواحضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ کو حاصل نہیں ہوا۔

(۸)وفات اقدس کے وقت میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی گود میں لئے ہوئے بیٹھی تھی اور آپ کا سر انور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اسی حالت میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔

(۹)حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے میری باری کے دن وفات پائی۔

(۱۰)حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی قبر انور خاص میرے گھر میں بنی۔(زرقانی جلد۳ ص۳۲۳)

    عبادت میں بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا مرتبہ بہت ہی بلند ہے آپ کے بھتیجے حضرت امام قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا روزانہ بلاناغہ نماز تہجد پڑھنے کی پابند تھیں اور اکثر روزہ دار بھی رہا کرتی تھیں۔    سخاوت اور صدقات و خیرات کے معاملہ میں بھی تمام اُمہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن میں خاص طور پر بہت ممتاز تھیں۔ اُمِ دُرّہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس تھی اس وقت ایک لاکھ درہم کہیں سے آپ کے پاس آیا آپ نے اسی وقت ان سب درہموں کو لوگوں میں تقسیم کر دیا اور ایک درہم بھی گھر میں باقی نہیں چھوڑا۔ اس دن میں وہ روزہ دار تھیں میں نے عرض کیا کہ آپ نے سب درہموں کو بانٹ دیا اور ایک درہم بھی باقی نہیں رکھا تا کہ آپ گوشت خرید کرروزہ افطار کرتیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا کہ تم نے اگرمجھ سے پہلے کہا ہوتا تو میں ایک درہم کا گوشت منگا لیتی۔(الطبقات الکبری لابن سعد ، باب ذکر ازواج رسول اللہ ، ج۸، ص ۵۰۔۵۱)

وصال: 17رمضان شب 57ھ یا  58ھ میں مدینہ منورہ کے اندر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا وصال ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں آرام فرما ہیں۔(سیرتِ مصطفیٰﷺ:662)

مزید

تجویزوآراء