تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خاں ازہری



شجرہ طریقت   (37)

حضرت مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضاخاں رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بچپن میں آپ کو بیعت کاشرف عطاء فرمادیا تھا، اور صرف 19؍ سال کی عمر میں 15؍جنوری 1962ء/1381ھ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے نوازا۔(تذکرہ تاج الشریعہ، ص4)

شجرہ نسب   (5)

سلسلۂ نسب اس طرح ہے: تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں بن مفسراعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا خاں بن حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں بن شیخ الاسلام امام احمد رضا خاں بن رئیس الاتقیا مولانا نقی علی خاں بن امام العلماء مولانا رضا علی خاں بن مولانا شاہ محمد اعظم خاں بن مولانا حافظ کاظم علی خاں بن محمد سعادت یار خاں بن شجاعت جنگ سعید اللہ خاں قندھاری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ(مفتی اعظم اوران کے خلفاء، ص145)

اساتذہٗ کرام   (7)

4؍سال، 4؍ماہ، اور 4؍ دن کی عمر میں بسم اللہ ناناجان حضرت مفتی اعظم ہند رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نےپڑھائی۔قرآن مجید والدہ ماجدہ سے گھر پر مکمل کیا۔درس نظامی کی تکمیل دارالعلوم منظر اسلام سےکی۔1963ءمیں جامعۃ الازہرقاہرہ تشریف لےگئے، 1966ء /1386ھ کو جامعۃ الازہر سے فارغ ہوئے۔جامعۃ الازہر میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر ’’جامعۃ الازہرایوارڈ‘‘سے نوازے گئے۔آپ کے اساتذہ میں قابل ذکر اساتذہ کرام یہ ہیں: مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا خاں،بحر العلوم مفتی سید محمد افضل حسین مونگیری، مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی،فضیلۃالشیخ علامہ محمد سماحی، شیخ الحدیث والتفسیر جامعہ ازہر ،حضرت علامہ محمود عبدالغفار، استاذ الحدیث جامعہ ازہر ، ریحان ملت مولانا محمد ریحان رضا خاں رحمانی میاں،استاذ الاساتذہ مولانا مفتی محمد احمد عرف جہانگیر خاں اعظمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ۔(مفتی اعظم ہند اور آپ کے خلفاء، ص150)

خلافت و اجازت   (4)

حضرت مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضاخاں رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بچپن میں آپ کو بیعت کاشرف عطاء فرمادیا تھا، اور صرف 19؍ سال کی عمر میں 15؍جنوری 1962ء/1381ھ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے نوازا۔ علاوہ ازیں برہان ملت مفتی برہان الحق جبل پوری، سید العلماء شاہ آل مصطفیٰ برکاتی، احسن العلماء سید حیدر حسن میاں برکاتی، والد ماجدمفسر اعظم مفتی ابراہیم رضاخاں رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت حاصل تھی۔ (تذکرہ تاج الشریعہ، ص4)

اولادِ امجاد   (1)

حضرت تاج الشریعہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا عقد مسنون حکیم الاسلام مولانا حسنین رضا خاں رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی صاحبزادی سے 1967ء کو ہوا۔جن سے اللہ تعالیٰ نےایک صاحبزادہ مولانا مفتی محمد عسجد رضا خاں مدظلہ العالی اور پانچ صاحبزادیاں عطاء کی ہیں۔

خلفاء کرام   (227)

حضرت تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری﷫ ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت تھے۔مفتی اعظم ہند﷫ کے خلیفہ اعظم و نائب اکمل تھے۔حضرت تاج الشریعہ ﷫ نے سلسلہ عالیہ قادریہ اور تعلیمات امام احمد رضا﷫کے فروغ میں نہایت ہی اہم کردار اداکیا۔آپ﷫ کے مریدین و خلفاء ، پاک ہند کےعلاوہ عرب ، یورپ و افریقہ میں کثرت سے موجود ہیں۔

شاگرد و تلامذہ   (17)

حضرت تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری﷫ ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت تھے۔مفتی اعظم ہند﷫ کے خلیفۂ اعظم و نائب اکمل تھے۔آپ﷫ کی ساری زندگی درس و تدریس، وعظ ونصیحت،اور افتاء و تصنیف میں گزری۔ حضرت مفتی اعظم ہند﷫کے بعد دارالافتاء اور علمی خدمات آپ﷫کےسپرد رہیں۔ حضرت تاج الشریعہ﷫ کے مریدین و خلفاء کی طرح آپ ﷫کےتلامذہ کا حلقہ بھی وسیع ہے۔

تصنیفات و تالیفات   (31)

حضرت تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں الازہری﷫ اپنے زمانے کی ایک ہمہ جہت اورجامع الکمال شخصیت تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو گوناگوں خصوصیات سے متصف فرمایا تھا۔آپ﷫ اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلتے ہوئےمختلف موضوعات پرعربی، اردو اور انگلش میں کثیر کتب تصنیف فرمائی ہیں۔آپ﷫کےقلم میں اعلیٰ حضرت﷫اور مفتی ہند﷫ کی جھلک پائی جاتی تھی۔

آپ پر تحقیق   (13)

حضرت تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں الازہری﷫ عرب و عجم میں مقبول عام تھے۔آپ﷫ ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جن کی زندگی میں ہی سیرت و کردار کےمختلف گوشوں پر کتب تصنیف کی گئیں۔ آپ﷫ کی سیرت پر دنیا کی مختلف زبانوں میں تحقیق وتصنیف کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

میڈیا لائبریری   (143)

حضرت تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں الازہری﷫ کو اللہ تعالیٰ نے تدریس و تصنیف کی صلاحیت کےساتھ ساتھ’’تقریر‘‘ میں خاص ملکہ عطاء فرمایا تھا۔دقیق سے دقیق مسائل عام فہم انداز میں سمجھانا آپ ہی کاخاصہ تھا۔دنیا کی مختلف زبانوں میں فصیح و بلیغ اور مؤثر گفتگو فرماتے تھے۔’’ضیائی میڈیا‘‘ میں آپ﷫ کے ’’دروسِ بخاری وغیرہ‘‘ کو عام استفادے کےلئے اپلوڈ کیا گیاہے۔

مضامین   (17)

حضرت تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں الازہری﷫ کی سیرت و کردار کے مختلف گوشوں پر دنیا بھر کے دانشوروں نےمضامین کی صورت میں روشنی ڈالی ہے۔مضامین پر مستقل کتب موجود ہیں۔

منظومات   (87)

حضرت تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں الازہری﷫ عرب و عجم میں مقبول عام تھے۔آپ﷫ ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جن کی زندگی میں ہی سیرت و کردار کےمختلف گوشوں پر کتب تصنیف کی گئیں۔ آپ﷫ کی سیرت پر دنیا کی مختلف زبانوں میں تحقیق وتصنیف کا سلسلہ جاری ہے۔نثر کےساتھ ساتھ نظم میں بھی خراج عقیدت پیش کیا گیاہے۔

تجویزوآراء