حضرت سید جمال حیات المیر قادری

 

          سید جمال اللہ حضرت سید نصر کے بھائی اور حضرت غوث الاعظم کے پوتے ہیں۔ مفتی غلام سرور لاہوری مصنف خزینۃ الاصفیاء نے حضرت شاہ ابو المعالی قادری کے حوالہ سے تحریر کیا ہے کہ صاحبزادہ موصوف شکل و صورت میں حضرت غوث الاعظم کے مشابہ تھے اور انتہائی خوبصورت تھے، اور آں حضرت کو ان سے بہت محبت تھی۔

          مزید تحریر ہے کہ حضرت غوث پاک نے ان کے حق میں پروردگار عالم سے حیاتِ جاوداں کے لیے دعا فرمائی تھی۔ جو اللہ اللہ کریم نے منظور فرمائی تھی۔ چناں چہ حضرت سید جمال اللہ المعروف حیات المیر اب تک حیات ہیں۔ صاحب مخازن صفات الاولیاء میں تحریر فرماتے ہیں کہ حیات المیر سے کسی نے عمر کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ لیجیے حضرت غوث اعظم کبھی کبھی گود میں لے کر وفورِ محبت سے چمٹا لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان کی ملاقات حضرت امام مہد ی اور حضرت عیسٰے علیہ السلام سے ہوگی۔ اور فرمایا کہ ان سے میرا سلام کہنا۔

لاہور میں آمد

          آپ لاہور تشریف لائے تھے اور میانی کے قبرستان کے احاطہ میں ہیں قیام فرما ہوئے تھے۔ اسی جگہ حضرت محکم الدین شاہ مقیم قادری حجروی بھی ان سے بیعت ہوئے۔ نیز کئی دوسرے لوگ آپ سے بیعت ہوئے اور بے شمار لوگوں نے آپ سے فیوض و برکات حاصل کیے۔

          تحقیقات چشتی کے مطالعہ سے چلتا ہے کہ آپ کی ولادت ۵۲۲ھ مطابق ۱۱۲۸ء میں ہوئی تھی۔ مصنف کتاب اذکار الاخبار کے حوالہ سے مزید لکھتا ہے کہ عندالوفات حضرت غوثِ اعظم قدس سرہٗ نے ان کو طلب فرما کر فرمایا: کہ عمر آپ کی دراز ہوگی۔ چناں چہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام لو بچشم خود دیکھیں گے۔ جب یہ موقع آئے تو ہمارا سلام کہنا۔

حضرت شاہ عبداللطیف بری امام قادری آپ کے خلیفہ تھے۔ حدیقۃ الاولیاء مصنفہ مفتی غلام سرور لاہوری مطبوعہ نو لکشور نو۔ پادری عبدالسبحان مصنف صوفی ازم ان شرائین میں لکھا ہے کہ آپ حضرت حیات المیر سے بیعت تھے۔

 (مشائخ قادریہ)

مزید

تجویزوآراء