محمد حسن قادری حضرت سید کوثر شاہ بابا

حمدِ ربّ العزّت جَلَّ جَلَالُہٗ و نعت حضور سیّدالانبیاء علیہ السلام کے بعد جس کا باَحسن وجوہ ادا کر سکنا  امکانِ بشری سے  باہر ہے۔ فرمائشاتِ مریدین  و عقیدت مندوں کے بے شمار  خطوط موصول  ہوئے۔  ان میں بعض  احباب کی فرمائش بھی ہوئی کہ بہ طریقتِ سلطانِ عظیم البرکۃ  مجاہدین و ملت مسیح الملک رہبرِ راہِ حقیقت نورِ یزدانی شمع معرفت، غریب پرور حکیم سیّدنا محمد  حسن قادری کوثر  کوثر پیر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے مختصر حالاتِ  زندگی شائع کیے جائیں۔

          اسلاف کی تاریخ قوم کی مردہ  رگوں میں خونِ حیات پیدا کرتی ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو لازم ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کے حالات سے باخبر ہو کر  ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نبی اکرم ﷺ  کی اطاعت کے سبب اس کا کرم شامل حال رہے۔

خاندانی حالات:

ترکِ دنیا گیرتا سلطاں شوی

ورنہ ہمچو چرخ سرگرداں شوی

آپ حسنی حسینی سادات سے ہیں۔  آپ  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کا سلسلۂ نسب مولائے کائنات کل غالب، امام المشر قین  والمغربین اسد اللہ بو تراب علی ابنِ طالب کَرَّمَ  اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے فرزندِ  ار جمند امام حسن پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ آپ کے دادا ہیں اور آپ کے نانا سیّدنا امام عالی مقام امام حسین پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔  ان کی  اولاد غوثِ صمدانی محبوبِ سبحانی، قندیل نورانی، امام زمانی، شہباز لامکانی، غوثِ اعظم، پیر پیراں، میر میراں محی الدین (یعنی دین کو زندہ کرنے والا) سیّدنا شیخ عبد القادر بن امام ابو موسیٰ صالح (جنگی دوست) رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔  غوث پاک کے ۱۱ فرزند ہیں جن میں امامِ  ولایت الشیخ السید نا عبد الرزاق تاج الاولیاء العالیہ الجیلانیہ، الرزاقیہ البغدادیہ ہیں، آپ سلسلۃ الرزاقیہ کے بانی ہیں۔  آپ کا مزارِ اقدس اقراء (عراق) میں مرجع الخلائق ہے۔

ان کی اولاد  بغداد سے ہجرت فرماکر  ملکِ شام کے شہر ’’حماہ‘‘ کے گاؤں ’’عاصی‘‘ میں رہائش پذیر ہوئی اور وہیں مکین ہو گئی۔  "حماہ" شہر میں رہنے والے کو "الحموی" کہتے ہیں۔

(آپ کا نسب) سجادہ قدوۃ السالکین، برہان العاشقین، سلطان العارفین سیّدنا و مولانا سیّد  رزق اللہ شاہ ثالث محی الدین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملتا ہے۔ آپ کو  شہر  حماہ کے گاؤں عاصی میں سرکارِ  دو عالم ﷺ نے اذن یعنی حکم صادر فرمایا:

آپ ہندوستان جائیں اور دینِ اسلام کی اشاعت فرمائیں۔

نبی کریم ﷺ کے ارشاد پر آپ حماہ سے شیستان یعنی خراساں ایران کے راستے سے ہوتے ہوئے افغانستان سے سندھو یعنی سندھ تشریف لائے۔  دریائے سندھ سے آپ نے جائے نماز پر سفر  شروع کیا۔ آپ  آسمانوں کی بلندیوں پر جا رہے تھے۔ آپ نے پہلا  مقام بھاؤنگر سے ۳۰ کلو میٹر دور " گوگا" پر اپنا قدم مبارک رکھا۔  اس جگہ کو قدم غوث پاک کہتے ہیں۔ جائے نماز میں پھر آگے سفر میں جا رہے تھے کہ آپ کا گزر سمندر کے کنارے سے ہوا۔کوڈینار (یعنی مول دوار کا) کے گزر پر ایک مندر سے جادو گر نے  آپ   پر  جادو کیا۔ آپ کا مصلیٰ (یعنی جائے نماز) تھر تھرانے لگا۔  آپ نے اس  جادو گر  پر کلامِ  پاک  پڑھ کر پھونکا جس کی وجہ  سے اس  جادو گر کے سینگ نکل آئے اور وہیں و اصل جہنم ہو گیا۔  آپ  نے نمازِ عصر کے لئے مصلّٰی کو اتارا اور وہاں کے لوگوں سے وضو کے لئے پانی مانگا۔  انہوں نے پانی دینے سے انکار کیا۔  آپ نے اپنی جیب سے مسواک نکالی اور مسواک سے ایک چشمہ جاری کیا۔ اسی چشمے کا نام گیانی باوڑی یا جیلانی  باوڑی (چشمہ) سے آج بھی مشہور ہے۔ آپ ترکی کے سلطان الپ ارسلان   سلجوتی  کے دور میں تشریف لائے۔ یہاں  کے گورنر کا نام عبد اللہ مغل تھا۔ یہیں قیام پذیر ہوئے اور ۵ ربیع الثانی۱۰۰۶ء میں خالقِ حقیقی سے  جا ملے ( انا للہ وانا الیہ راجعون) اسی دوران آپ  نے لاکھوں غیر مذہبوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔  سیّدنا رزق اللہ ثالث محی الدین کے تین بیٹے ہیں:

پہلے بیٹے سیّدنا علی قادری المحموی، دوسرے سیّدنا قطب الدین قادری الحموی، تیسرے بیٹے سیّدنا داؤد قادری الحموی ہیں۔

سیّدنا علی کی اولاد کو  علوانی کہتے ہیں۔  سیّدنا قطب الدین کی اولاد کو قطبانی کہتے ہیں اور سیّدنا داؤد کی اولاد کو داؤدانی کہتے ہیں۔

سیّدنا رزق اللہ شاہ ثالث محی لدین کامل و اکمل بزرگ، مردِ حق اور ، مردِ قلندر ہیں۔ ہندوستان میں سلسلۂ عالیہ قادریہ، الرزاقیہ، الحمویہ کے بانی آپ ہیں۔

حضرت کوثر بابا کے والدِ ماجد

حکیم پیر سیّدنا محمد حسن قاسم علی کوثرعلیہ الرحمۃ:

حضرت سیّدنا قاسم علی کوثر الشیخ بن سیّدنا عبد اللطیف قادری العالیہ، القادریہ، الرزاقیہ الحمویہ نَوّرَ اللہُ  تَعَالٰی مَرْقَدَہٗ کوڈینار میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہاں حاصل کی۔ آپ عربی، فارسی، ادیب، فاضل، منشی اور شاعر تھے۔ آپ کا  تخلص کوثر ہے۔ آپ بمبئی اسٹینڈرڈ کے سب  ایڈیٹر رہے ہیں۔ آپ نے گجرات میں اسکول کورس کی پہلی اسلامی دینی کتاب شائع کی۔  آپ  نے دھوراجی میں رونقِ اسلام کی بنیاد ۲۰ /اپریل۱۹۲۶ء میں رکھی۔ وہاں آپ پرنسپل تھے۔ عربی، فارسی میں بے انتہا مہارت اور عبور حاصل تھا۔  آپ نےدین اسلام  کی خدمت میں اپنا وقت  گزارا۔  اپنی آرام گاہ کے لئے جیت پور میں وہاں کے نواب پٹھیر یا دربار سے نقد روپے دے کر زمین خریدی۔ آپ کو رئیس اعظم  کوڈینار  کہتے ہیں۔ آپ نے چودہ شعبان المعظم کو عصر کے وقت پردہ کیا۔

 آپ  نے آخری وقت یہ ارشاد فرمایا:

میرا عرس تمام دنیا منائے گی۔

آخری وقت  آپ نے کلمۂ طیبہ ادا کیا۔ آ پ کا مزارِ اقدس جیت پور( کاٹھی، گجرات) پھول واڑی بھا درد ریا کے کنارے آج بھی  موجود ہے۔ بے شمار لوگ آپ کے در سے فیض حاصل کرتے ہیں۔ برِّ صغیر ہندو پاک میں ہزاروں کی تعداد میں آپ کے مریدین، معتقدین، اہلِ نسبت رکھنے والے اور چاہنے والے موجود ہیں۔

والدۂ ماجدہ:

آپ کی والدۂ ماجدہ کا اسم  گرامی حضرت سیّدہ صغریٰ ماں صاحبہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہا بنتِ سیّدنا عبدالرزّاق گوہر ہے۔  آپ کا مزارِ  پُر انوار گجرات میں ویراول کے قریب گونج پورہ میں ہے۔

ولادتِ با سعادت:

حضرت کوثر بابا علیہ الرحمۃ  کی ولادتِ  با سعادت ویراول شریف، کوثر،  منزل ہویڑا چوک میں بروز جمعرات ۱۹۲۴ء میں ہوئی۔ آپ کی دائی کا نام’’بوماں دائی‘‘ ہے۔ آپ  کی پیدائش پر سیّدنا قاسم علی کوثر  نے ۵ عدد بکرے کٹوائے۔ لوگوں میں عقیقے کا گوشت تقسیم کیا۔ دائی  بوماں کو  دو عدد سونے کے سکے اور نقد ۴۰ روپے سکّہ رائج الوقت دیا۔ ۴۰ دن  تک سیّدہ صغریٰ ماں صاحبہ کی خدمت  کرنے کے عوض  دائی بوماں کو یہ چیز یں ملیں۔

تعلیم و تربیت:

آپ نے ابتدائی تعلیم سیّدہ زہرہ ماں بنتِ سیّد عبدالرزّاق گوہر، جو آپ کی پھوپھی ماں صاحبہ ہیں،  ان سے حاصل کی۔ اس کے بعد آپ مدرسۂ تقویّت الاسلام ’’ویراول ہائی اسکول‘‘ جواب دلاور خانجی ہائی اسکول ہے، وہاں آٹھویں جماعت تک  تعلیم حاصل کی۔ فارسی کے استاذ سیّد غلام حیدر (شاہ باپو)تھے۔ فارسی، عربی،  حکمت، مدرسہ مہابت خانجی(بہاؤ الدین کالج) جونا گڑھ میں چھ روپے سالانہ بمع رہائش  و طعام تھا۔ اس کے بعد بمبئی چلے آئے۔ یہاں پر انجمن حمایت الاسلام ہائی اسکول محمد علی روڈ کرافٹ مارکیٹ، بمبئی میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ جونا گڑھ کے نوابوں کے خاص حکیم عبد اللہ خاں سے سند حاصل کی ۱۹۴۵ء میں آپ نے پہلا دواخانہ جیت پور (کاٹھی) میں کوثر دواخانہ یونانی کھولا۔ علومِ ظاہری  کی تحصیل سے فارغ ہو کر  علوم باطنی کی طرف متوجہ ہوئے۔  آپ نے اس وقت کی برگزیدہ ہستیوں سے استفادہ کیا۔ آپ نے اپنے ماموں جان سے روحانی  فیض حاصل کیا۔ آپ شاعر بھی تھے، آپ کا تخلص بھی کوثر ہے۔

 

 

ازواجِِ مطہرات:

سیّدنا محمد حسن قادری کوثر نے ۳ عدد شادیاں کیں۔  پہلی زوجہ سیّدہ خیر النساء ماں صاحبہ بنتِ  مصطفیٰ میاں قادری کتیانہ والے کی صاحبزادی تھیں۔ شادی کتیانہ محلہ رسول واڑی میں ہوئی۔ سیّدنا محمد حسن قادری کوثر ہجرت کر کے جام نگر تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے کوثر یونانی دواخانہ کھولا تھا۔  آپ کی ایک عدد لڑکی سیّدہ اچوماں جام نگر میں پیدا ہوئیں۔ بچپن میں ہی انتقال ہوا۔ پاکستان وجود میں ۱۹۴۷ء میں آیا۔ آپ نے پاکستان  جانے کا ارادہ کیا۔ آپ جھلنہ (حیدرآباد دکن، انڈیا) تشریف لے گئے۔ ممبئی سے پانی  کے جہاز یعنی  اسٹیمر سے شہر کراچی ۱۹۴۸ء میں تشریف لائے۔ آپ نے اولڈ ٹاؤن میٹھادر میں سکونت اختیار کی۔ وہاں آپ نے ۳۰۰ روپے میں ایک مکان خریدا ، یہ مکان بروکر اسماعیل کعبہ والی اوراسماعیل بیلم کے تعاون سے خریدا جوٹھا کر  داوڑ لائن، ۵ نمبر ٹنکی، میٹھادر کراچی میں تھا۔ آپ کی پہلی زوجہ سیّدہ خیر النساء ماں صاحبہ بنتِ سیّد مصطفیٰ میاں کتیانہ والے کا وصال اسی مکان میں ہوا۔ آپ نے ارشاد فرمایا:

حکیم صاحب! میرے مرنے کے بعد آپ شادی کر لینا۔ میں نے عزرائیل علیہ السلام کو روکے رکھا ہے۔

 انہوں نے کہا خیرو، میں شادی نہیں کرو ں گا۔ خیر النساء ماں  نے فرمایا: میری روح نہیں نکلے گی۔ حکیم صاحب آپ ضرور شادی کریں گے، مجھ سے وعدہ کریں۔ میں کلمہ پڑھ کر کہتی ہوں اور میں عالم ارواح میں دیکھ رہی ہوں۔  ہمارے گھر ایک لڑکا ہو گا جو ہمارا لوبان یعنی فاتحہ خوانی کرے گا۔ اس کے بعد آپ نے کلمہ طیبہ ادا کیا  اور خالق حقیقی سے جا ملیں۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون) آپ کو دھوبی گھاٹ  میوہ شاہ قبرستان میں دفن کیا گیا، جہاں آپ کا مزارِ اقدس موجود ہے جو "دربارِ خیروں ماں" سے مشہور ہے۔  آپ کی دوسری شادی سیّدہ آمنہ  ماں  سے ہوئی جو سیّد   ابراہیم میاں کالے میاں جونا گڑھ والے  سے مشہور  تھے۔ ان  سے ایک بیٹی پیدا ہوئی اور زچگی میں ہی انتقال ہو ا۔ سیّدہ خیر النساء، ماں صاحبہ، سیّدہ آمنہ ماں صاحبہ اور بچی کا مزار ایک ساتھ ہے۔  آپ کی تیسری اور آخری  شادی حاجیانی سیّدہ نور ماں صاحبہ بنتِ سیّد حبیب میاں قادری کھڈیہ جونا گڑھ والے جو اپنے آپ کو کالا باغ کے سیّد  کہلاتے ہیں۔ آپ کا تعلق اٹک یعنی کیمبل پور سے آگے گاؤں بشال شریف سے ہے۔  بشال شریف میں آپ کے جدِّ امجد  کا مزار سیّد  امیر حمزہ کا مزار آج بھی  موجود ہے۔ ان کی اولاد میں سیّد عبدالقادر جیلانی برق صاحب اور غلام ربانی صاحب، سیّد یحیی ہیں۔  سیّد  عبدالقادر  جیلانی برق صاحب نے "دو قرآن" کے نام کی کتاب لکھی ہے۔ سیّد حبیب میاں قادری نے اپنے ناخنوں سے دو عدد قرآن لکھے ہیں۔ سیّد حبیب میاں نے دربارِ کھڈیہ کی عورتوں کو  قرآن پاک پڑھایا ہے۔ آپ کھڈیہ  مسجد میں امامت  فرماتے۔  جنات کو نماز پڑھواتے۔ آپ کا مزار کھڈیہ مسجد کے احاطے میں ہے۔  حاجیانی سیّدہ نور جہاں ماں صاحبہ سے تین بچے ہوئے۔  پہلی بیٹی سیّدہ نجم النساء قادری جو تقریباً ۲۰ پونڈ کی سیمنٹ  ہسپتال کھرادر جنرل  میں پیدا ہوئیں۔ اس کے بعد آپ نے میٹھادر کے مکان کو خیرباد کہہ دیا  اور انجام کالونی کے جھونپڑے میں چلے گئے جہاں ایک سال بعد لڑکا پیدا ہوئے۔  اس کا نام سیّد عبد الحمید قادری رکھا گیا۔  جب لڑکا  پیدا ہوا تو  بہت زیادہ برسات ہو رہی تھی۔ آپ معصومین ہسپتال میں ایمبولینس لینے گئے۔  برسات کی وجہ سے ایمبولینس پانی میں بند ہو گئی۔  سیّدہ عبد الحمید قادری جھونپڑے میں پیدا ہوئے۔ تیسری اور آخری بیٹی سیّدہ زیب النساء قادری ہیں جو  سیّد عبد الحمید قادری کے چھ سال بعد پیدا ہوئیں۔ آپ رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کے گھر انجام کالونی میں آگ لگنے کی وجہ سے جھونپڑے جل گئے۔  حکومت نے اعظم خان کے ذریعے بلدیہ ٹاؤن میں مکان دیے جس کانام نیو انجام کالونی (بلدیہ ٹاؤن) رکھا۔

سیرت پاک:آپ قادری سلسلے کے جلیل القدر بزرگ  و غوث ہیں۔آپ ہر وقت ذکر و فکر، مراقبہ و محاسبہ اور عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے۔ کھانا پینا ترک دیتے۔ آستانہ کوثر عالیہ قادریہ میں گوشہ نشینی اختیار کرتے اور خلق سے بے نیاز ہو جاتے۔ شروع میں حکمت کرتے جو ورثہ والد ماجد سے عطا   ہوا تھا۔ آپ مادر زاد ولی  کامل، سماع سنتے تھے۔ لنگر آپ کا عام تھا کہ یہ  والیت کی شرط ہے۔  طبعیت شریف میں جلال بہت تھا۔  جو فرماتے، وہی اور ایسا ہی ہوتا۔  بزرگوں کے عرسوں  میں شریک ہوتے۔ اکثر حضرت سیّدنا علی ہجویری داتا گنج بخش کے عرس میں جاتے اور خود بھی عرس کرتے تھے۔ جس  پر  آپ کی نظر الطاف پڑتی، رنگ دیا جاتا۔ آپ کے فیض کا چشمہ  ہر خاص و عام کے لئے جاری ہے۔ آپ کو حضرت مخدوم علاؤ الدین علی  احمد  صابر پیا سے بے حد محبّت ع عقیدت ہے، جس کی وجہ سے آپ بہت صاحب ہیں۔ آپ نے صابر پیا کے لیے منقبتیں بھی لکھی ہیں۔ آپ فرماتے:

          مجھےجو کچھ ٹکڑا ملا ہے، وہ علاؤالدین علی احمد صابر پیا کا  صدقہ ہے۔ (کلیر شریف) آپ زہد و تقویٰ، تحمل و بردباری، سخاوت و فیاضی،  عطا و بخشش، قناعت و توکل اور مجاہدات میں یگانۂ عصر تھے۔ جو کچھ آتا، سب خرچ کر دیتے۔  مسجد میں امامت کیا کرتے  تھے۔  پھر آپ پر جذب کی کیفیت طاری ہو گئی۔ آپ نے 31 دن کا روزہ 1 کھجور  پیشی سے رکھا۔ مسجد سے نکلنے پر لوگوں سے کہا میرا گھر کہاں ہے؟  وجدانی کیفیت  طاری ہو چکی تھی۔ آپ   اپنے آپ کو لوگوں سے  چھپانے کی بہت کوشش کرتے اور کچھ ایسی حرکات کرتے جو عقل بشری سے بالا تر ہوتی تاکہ  لوگ آپ سے دور ہو جائیں لیکن عقیدت مند ہر وقت آپ کو گھیرے رکھتے تھے۔ آپ عشقِ رسول ﷺ میں فنا تھے۔ آپ کا مشرب قلندرانہ ہے۔  آپ اس خیال سے متفق نہیں کہ مرنے کے بعد عشق و محبت کا تعلق  بے کار ہے۔ آپ کے نزدیک ہر حالت میں عشق و محبت جائز اور  روا ہے۔  حوصلہ، استغراق، استغنا، وقت کی مخالفت، احوال کا چھپانا، توحید و معارف، دلوں کو کھلونا، مریدوں پر مہربانی کرنے میں امتیازی شان رکھتے تھے۔ لوگ  پانی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ آپ اشارے سے دم فرماتے۔ دم کی برکت سے مریض اچھے ہوتے۔ آپ کی نگاہِ الفت ہی مریض کی دوا تھی۔ آپ کم گو، کم خورد اور کم  گفت تھے۔ بلکہ اکثر و بیشتر ان کا ہاتھ چہرے پر  ہلتا رہتا تھا۔  ذرا سی آہٹ سے فوراً ھاگ جاتے اور پوچھتے کیا ہورہا ہے۔ آپ خاندانِ رسالت کا بڑا احترام کرتے تھے۔ دور سالکی میں آپ آستانہ عالیہ قادریہ میں سگریٹ و بیڑی پینے سے منع فرماتے تھے۔

انکساری:

آپ میں انکساری اس حد تک تھی کہ بغیر ٹوپی کھانا نہ کھاتے۔  اگر کھاتے تو  یاد آنے پر فوراً  پہن لیتے۔ نماز ہمیشہ ٹوپی کے ساتھ پڑھتے۔ اکثر لال ٹوپی (ترکی) پہنتے۔  بہت آہستہ آہستہ چلتے۔ کیڑے مکوڑوں کے مرنے کا خاص خیال کرتے۔ جانوروں سے محبّت کرتے،  جس کے نتیجے میں ان کے لئے کھانا ہوٹل سے منگواتے۔ پانی اپنے ہاتھوں سے بھر کر رکھتے تھے۔

تحمل:

حالت سلوک میں مرید بنایا کرتے تھے۔ مریدوں کے پیر کے نام کے ۱۲ نفل پڑھنے کو کہتے۔ نفل نماز پر اکثر زور دیتے۔ اکثر فرماتے میں وکیل ہوں۔ میرا  کام پل صراط سے پار کروانا ہے۔  وہ پیر پیر نہیں جو مرید کو پل صراط سے پار نہ کر واسکے۔ اگر پیر  اپنی خواہشات کی مطابقت کرتا ہے تو پیر نہیں بلکہ راہِ دین  محمدی ﷺ کا رہزن ہے۔  پیر وہ ہے جو اپنی نمازِ جنازہ خود ادا کر لے۔  آپ فرماتے  میں نے اپنی نماز جنازہ خود ادا کر لی ہے۔ اکثر بھوکے رہا کرتے  تھے۔ کہتے تھے چمڑے کی جھونپڑی میں آگ لگی ہے۔ بھوک کا پہلا مقام غذا، پانی اور طعام، دوسرا مقام درود و محبت و عشق جس کی غذا خون وجگر خاکساری ہے۔ تیسرے مقام کو محبوب و معشوق کی آگ کہتے ہیں جس کی غذا حسن و جمال  اور اوصاف و  کمال ہیں۔ آپ نے بارہ سال کھانا نہیں کھایا،  جس کی وجہ سے  ظاہری حالت بے انتہا کمزور ہو گئی ۔ حکیموں اور ڈاکٹروں کو دکھایا گیا مگر علاج سمجھ میں نہ آسکا۔ آواز دستور کے مطابق گرجدار تھی مگر جسم شریف لا غرور کمزور پڑچکا تھا۔ یہ حضرت اہل دل ہوتے ہیں، نہ کہ اہل جسم۔ آپ فنافی اللہ کی منزل کو پہنچ چکے تھے۔ آپ کی دونوں آنکھیں صحیح تھیں لیکن بعد میں ایک آنکھ بند کر لی تھی۔ پوچھنے پر بتایا جس  آنکھ سے جلوۂ یار دیکھا ہے، اس  سے کسی اور کو دیکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ اپنی زندگی میں کبھی نہیں کہا کہ مجھے درد ہو رہا ہے، یا آج کون  سا دن ہے۔ بے انتہا ظاہری کمزوری ہو چکی تھی۔ آخری وقت میں اپنے سجادہ نشین سیّد  عبد الحمید قادری کو ثر کو سینے سے لگایا اور دونوں ہاتھوں سے زور سے دبایا۔ تقریباً  نو ماہ سے کھانا بند کر دیا تھا۔  آخری دنوں میں خون کی رپورٹ ڈاکٹروں نے منگوائی تھی۔ رپورٹ بالکل صحیح تھی۔  طبعیت بہتر ہوئی۔ پانی نہ پینے کی وجہ سے زبان بالکل خشک ہو چکی تھی۔ شام ۷ بجے کے قریب کمال اسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹر کمال الدین خان سے احوال طبعیت پوچھا تو کہا دعا کے علاوہ  چارہ نہیں ہے۔  اسی دن  رات داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔

وفاتِ حسرت آیات:

۲۶/ربیع الثانی        ۱۴۱۱  ؁ھ  یعنی ۱۴/نومبر  ۱۹۹۰  ؁ھ  بروز بدھ، رات ۱۱  بج کر ۲۰منٹ  پر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

آپ کی نمازِ جنازہ جمعرات کو بعد نمازِ  مغرب ککری گراؤنڈ محمد علی پارک میٹھادر میں علامہ قاری رضاء المصطفیٰ اعظمی نے ادا کی۔ نمازِ جنازہ میں ۷۲ صفیں  بنیں۔ایک  صف تقریباً ۳۰۰ آدمیوں پر مشتمل تھی۔ بعد میں ککری گرأؤنڈ  سے جنازےکو آستانۂ کوثر عالیہ لایا گیا۔  بعدۂ آپ کو  اپنی آرام گاہ میں رکھا گیا جس میں میئر کراچی ڈاکٹر فاروق عبد الستار نے شرکت کی۔ بہت سے علما و مشائخ  نے بھی شرکت کی۔ آ پ کا سوئم نیومیمن مسجد  بولٹن مارکیٹ میں ہوا جہاں قاری رضا ء المصطفیٰ اعظمی نے آپ کے  اکلوتے بیٹے  الشیخ عبد الحمید کوثر قادری کی دستار بندی کی تھی۔  دستار بندی میں قصیدۂ بردہ  شریف پڑھا گیا۔  بعد میں دعائے خیر ہوئی۔ اس کے بعد آستانۂ کوثر کاغذی بازار پر فاتحہ خوانی کی گئی۔ بعد ازاں  غریبوں میں لنگر تقسیم کیا گیا۔ کئی قرآن ختم  ہوئے، بے شمار کلمۂ طیبہ پڑھایا گیا اور ان شاء اللہ ہمیشہ پڑھاجاتارہے گا اور اسی طرح آبِ کوثر کا یہ چشمہ قیامت تک جاری رہے گا۔ بِفَضْلِہٖ  تَعَالٰی۔

اللہ ربّ العزّت سے دعا ہے کہ وہ ذات ہم  سب کو  اولیائے کرام کے فیضان سے بہرہ ور فرمائے ۔(آمین)

بجاہ حبیبہ الکریم علیہ الصلاۃ والتسلیم ط

الداعی الی الخیر

الشیخ السیّد عبد الحمید قادری کوثر

خاکپائے اولیاء اللہ پیر و مرشد اولادِ مولائے پاک

سجادہ نشین دربارِ کوثر، کاغذی بازار، میٹھا در، کراچی

 

 

مزید

تجویزوآراء