محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمدقادری

محدث اعظم   پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمدقادری رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: اسمِ گرامی:مولانا محمد سرداراحمد چشتی قادری رضوی۔ کنیت:ابوالفضل ۔لقب:محدثِ اعظم پاکستان۔والد کا اسمِ گرامی :چودھری میراں بخش چشتی  علیہ الرحمہ ہے۔

تاریخِ ولادت: آپ قصبہ دىال گڑھ ضلع گورداس پور(مشرقى پنجاب،انڈیا)مىں پىدا ہوئے، آپ کى تارىخ ولادت29 جمادی الاخریٰ 1321ھ بمطابق 22ستمبر1903ء ہے۔

تحصیلِ علم:محدث اعظم پاکستان نے ابتدائی تعلیم پرائمری تک موضع دیال گڑھ میں حاصل کی 1343ھ؍1942ء میں اسلامی ہائی اسکول بٹالہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ایف اے کی تیاری کے لیے لاہور تشریف لائے۔ انہی دنوں مرکزی انجمن حزب الاحناف لاہور کے زیر اہتمام مسجد وزیر خاں میں ایک عظیم الشان اجلاس ہوا۔ جس میں پاک وہند کے کثیر التعداد علماء ومشائخ کے علاوہ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی  علیہ الرحمہ بھی شریک ہوئے۔ محدث اعظم پاکستان حضرت حجۃ الاسلام کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انگریزی تعلیم، کو خیر آباد کہہ کر مرکز علوم و معارف بریلی شریف چلے گئے۔ حضور مفتی اعظم ہند ،حضور  حجۃ  الاسلام اورصدر الشریعہ  اور مولانا محمد حسین   وغیرہ (علیہم الرحمہ) سے علمی استفادہ کیا۔فیضِ رضا سے ایک وقت ایسا آیا کہ دنیا میں محدثِ اعظم پاکستان کے نام  معروف ہوگئے۔

بیعت وخلافت: حضرت محدث اعظم پاکستان سلسلہ عالیہ چشتیہ میں حضرت شاہ محمد سراج الحق چشتی کے دست اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے،اور سلسلہ قادریہ رضویہ میں شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں علیہ الرحمہ  سے فیض یاب ہوئے ۔ اور حضور مفتی اعظم الشاہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری علیہ الرحمہ  اور حضور صدرالشریعہ نے جمیع سلاسل کی اجازت وخلافت عطا فرمائی ۔

سیرت وخصائص: آپ کی والدہ ماجدہ  فرمایاکرتیں:تمہارا نام سردار ہے ، اللہ تعالیٰ تمہیں دین ودنیا کا سردار بنائے۔ بالآخر وہ وقت بھی آیا اور دنیا نے دیکھ لیاکہ والدہ محترمہ کی دعا کس طرح قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ  نے آپکو اسم با مسمی ٰبنادیا ۔ محدثِ اعظم پاکستان، شىخ الحدىث والتفسىر، جامع المعقولات والمنقولات، رہبر شریعت وطریقت،آفتابِ رضویت ،محبوبِ خانوادۂِ   اعلی ٰحضرت ،حضرت علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد چشتى قادرى رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ بىک وقت بلندپایہ مدرس، بے مثال محدث ، خوش بىان مقرر، عظىم محقق اور متدین(دیانت دار) مفتى تھے اور سب سے بڑھ کر ىہ کہ آپ علیہ الرحمہ   عاشقِ رسولﷺ اور متبع شریعت تھے۔حدیث پڑھتے پڑھاتے ہوئے جھومتےجاتے اور عشق ِمصطفےٰ ﷺمىں آنکھوں سے  آنسو بہتے رہتے اس غایت درجہ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: جب لوگ بىمار ہوتے ہىں ، بخار یا سر درد ہوتا ہے تو وہ دوائى کھاتے ہىں، لىکن مجھے تکلىف ہوتى ہے تو مىں ذکرِ مصطفیٰ ﷺکرتا ہوں اور حدیثِ مصطفےٰ ﷺٰ پڑھاتا ہوں جس سے مجھے آرام آجاتا ہے۔یہ عشقِ مصطفیٰﷺکاجذبہ تھاکہ آپ نے کبھی بھی  کسی بدمذہب سے ہاتھ نہیں ملایا ۔اگرکوئی بدمذہب ہاتھ ملانے کی کوشش بھی کرتا تومحبتِ  مصطفیٰ ﷺ کے نور کی بدولت  آپکو اسکی بدعقیدگی معلوم ہوجاتی ،آپ اپنا ہاتھ کھینچ لیتے تھے۔آپ ان ہاتھوں  پر فخر کیا کرتے تھے ،کہ انہوں نے حضور ﷺ کی محبت میں کبھی کسی گستاخ کے ہاتھ کو چھوا تک نہیں ۔    ؎  خدا رحمت کند ایں عاشقان ِ پاک طینت را۔

 حافظِ ملت مولانا عبد العزیز مبارک پوری علیہ الرحمہ  دورانِ تعلیم آپ کے تقویٰ و طہارت اور اتباع ِ سنّت کو نہایت شاندار الفاظ میں یوں بیان فرماتے ہیں : خوفِ الٰہی و خشیت ِ ربانی ،زہدو تقویٰ ،اتباع ِ سنّت آپ کی طبیعت بن چکی تھی ہر قول و فعل تمام حرکات و سکنات نشست وبرخاست میں اتباعِ سنّت ملحوظ رکھتے ۔ بلا ناغہ اسباق کے مطالعہ مىں انہماک، کم کھانا، کم سونا  اور شب و روز تحصىلِ علم مىں مصروف رہنا آپ کا معمول تھا۔

وصال: ىکم شعبان 1382ھ بمطابق 29دسمبر 1962ء ہفتہ کى درمىانى رات اىک بج کر چالىس منٹ پر عالم اسلام کى فضاؤں کو اپنى نورانى کرنوں سے منور کرنے والا رشد و ہداىت کا مہرِ منىر "اللہ ھو" کى آواز کے ساتھ اپنے پیارے حبیب ﷺ کے دربار میں پہنچ گیا۔اسٹیشن سے جامعہ رضویہ تک راستہ میں ہزاروں افراد نے دیکھا کہ جنازہ پر نور کی پھوار پڑ رہی ہے، حالانکہ بادل کا کہیں نام و نشان تک نہ تھا۔

تجویزوآراء