مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مولانا محمد مصطفی رضا خان بریلوی نوری

شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظم ہند شاہ محمدمصطفیٰ رضا خان نوری میاں رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:اسمِ گرامی:حضرت مفتی اعظم قدس سرہ کا پیدائشی اور اصلی نام محمد ہے۔ والد ماجدنےعرفی نام مصطفٰی رضا رکھا۔فنِ شاعری میں آپ اپناتخلص"نوری" فرماتےتھے۔لقب:مفتیِ اعظم ہند ہے۔آپ امامِ اہلسنت مجددین وملت شیخ الاسلام امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کےچھوٹےصاحبزادےہیں۔

تاریخِ ولادت:حضور مفتی اعظم قدس سرہ22/ذی الحجہ 1310ھ7/جولائی 1893ء بروز جمعہ بوقتِ صبح صادق دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کی جائےولادت محلہ رضا نگر ،سود اگر ان شہر بریلی شریف ، یوپی انڈیا  ہے۔

تحصیلِ علم:حضرت مفتی اعظم قدس سرہٗ نے اصل تربیت تو اپنے والد ماجد امام احمد رضا قدس سرہٗ سے پائی۔ علوم دینیہ کی تکمیل بھی اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ سے کی۔فراغت: حضرت مفتی اعظم قدس سرہٗ ۱۳۲۸ھ/۱۹۱۰ء میں بہ عمر اٹھارہ سال خدا داد ذہانت ، ذوقق مطالعہ، لگن اور محنت اساتذہ کرام کی شفقت ورافت ، اعلیٰ حضرت امام اہل سنت قدس سرہٗ کی توجہ کامل اور شیخ مکرم سید المشائخ قدس سرہٗ کی عنایات کے نتیجے میں جملہ علوم و فنون منقولات و معقولات پر عبور حاصل کر کے مرکزِ اہل سنت دار العلوم منظر اسلام  بریلی شریف سے تکمیل و فراغت پائی۔

بیعت و خلافت: 25 جمادی الثانی 1311ھ چھ ماہ تین یوم کی عمر شریف میں سید المشائخ حضرت شاہ ابو الحسین نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے داخلِ سلسلہ فرمایا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔

مرشد کامل کی بشارت: سید المشائخ نے حضرت مفتیِ اعظم کو بیعت کرتے وقت ارشاد فرمایا:"یہ بچہ دین و ملت کی بڑی خدمت کرے گا۔اور مخلوق خدا کو اس کی ذات سے بہت فیض پہنچے گا۔ یہ بچہ ولی ہے۔ اس کی نگاہوں سے لاکھوں گم راہ انسان دین حق پر قائم ہوں گے ۔ یہ فیض کا دریا بہائےگا"۔

سیرتِ مبارکہ: اسلام کا وہ بطل جلیل اور استقامت کا جبل عظیم جس کے جہاد بالقلم نے دینِ مصطفٰیﷺ کی آبیاری فرمائی۔جس کی نگاہ کیمیا اثر نے لاکھوں گم گشتگان راہ کو جادۂ حق سے ہم کنار کیا۔ جس کے درکی جبیں سائی وقت کے بڑے بڑے مسند نشینوں نے کی۔جس کے ناخن ِادراک میں لا ینحل مسائل کا حل تھا۔جو بیک وقت علم ظاہر و باطن کا ایسا سنگم تھا جہاں ہر تشنہ لب کو سیرابی و آسودگی کی دولتِ گراں مایہ ملتی تھی۔ جو رسول پاک ﷺکا سچا نائب ،تصدیق حق میں صدیقِ اکبر کا پرتو، باطل کو چھانٹنے میں فاروق اعظم کا مظہر، رحم وکرم میں ذوالنورین کی تصویر،باطل شکنی میں حیدری شمشیر۔جس میں امام اعظم ابو حنیفہ کی فکر ، امام رازی کی حکمت ، امام غزالی کا تصوف اور مولائے روم کا سوزو گداز تھا۔

جو علم و فضل میں شہرۂ آفاق، معقولات میں بحرذخار، منقولات میں دریاے ناپیدار کنار، فقہ روایت میں امیر المومنین اور سلطنت قرآن و حدیث کا مسلم الثبوت وزیر المجتہدین، اعلم العلما عند العلماء، افقہ الفقہا عند الفقہا، قطب عالم علی لسان الاولیاء، فانی فی اللہ ، باقی باللہ عاشقِ کاملِ رسول اللہ ﷺمولانا الشاہ الحاج محمد ابو البرکات محی الدین جیلانی محمد مصطفی رضا قادری قدس سرہ جسے دنیا تاجدار اہل سنت حضور مفتی اعظم کے نام نامی اسمِ گرامی سے یاد کرتی ہے۔

وصال:اکانوےسال اکیس دن کی عمر میں مختصرعلالت کےبعد14/محرم الحرام1402ھ،بمطابق 12نومبر 1981ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔

ماخذومراجع:  جہانِ مفتیِ اعظم۔

اولادِ امجاد  

تجویزوآراء