شیخ الادب حضرت علامہ مولانا شمس بریلوی

شیخ الادب حضرت علامہ  مولانا شمس بریلوی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:اسمِ گرامی: مولانا شمس الحسن صدیقی۔عرفی نام: شمس بریلوی۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: مولانا شمس الحسن صدیقی بن مولانا ابوالحسن صدیقی بن مولانا حکیم محمد ابراہیم بدایونی۔(علیہم الرحمہ)     

تاریخِ ولادت:  آپ علیہ الرحمہ 1337ھ/1919ء کو بریلی شریف کے اس مکان میں پیداہوئے جس میں امام ِ اہلسنت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ 1856ء میں پیداہوئے تھے۔یہ مکان دراصل امام ِاہلسنت کےجدِ ِامجد کی ملکیت تھا جس کوبعد میں حضرت شمس کے والد صاحب نےخریدلیا تھا۔

تحصیلِ علم: آپ علیہ الرحمہ رسم بسم اللہ کے بعد بریلی شریف کے دارالعلو م منظر اسلا م میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے خلفاء اور دیگر مقتدر علماء سے تعلیم حاصل کی ۔ آپ کے بعض اساتذہ کرام کے نام یہ ہیں:حجۃالاسلام مفتی حامد رضا خان علیہ الرحمہ ، حافظ عبدالکریم چتور گڑھی، مولانا رحم الہی منگلوری ،مولانا احسان علی مونگیری ، مولانا قاسم علی  بریلوی ، مولانا رونق علی بریلوی وغیرہ۔ اس مدرسہ کے علاوہ آپ نے الہ آبا د بورڈ سے فارسی زبان کے امتحانات ، منشی کامل اور ادیب کامل کے امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کئے ۔

بیعت وخلافت:  استاذ العلماء  حضرت علامہ  مفتی تقدس علی خان بریلوی علیہ الرحمہ کےہاتھ پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔

سیرت وخصائص: شیخ الادب حضرت علامہ مولانا شمس بریلوی علیہ الرحمہ ایک علمی خانوادہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کے والد ، دادا ، پردادا کے علاوہ آپ کے تایا مولانا ریاض الدین صدیقی بریلوی (1933ء )،صاحبِ تصانیف بزرگ گذرے ہیں روہیل کھنڈاور  بریلی کے مشاہیر علماء شعراء اور ادباء میں ان حضرات کا شمار کیا جاتاہے ۔ آپ نے تدریس کا آغاز صرف 17 سال کی عمر میں مدرسہ منظر اسلام میں 1935ء سے شعبہ فارسی میں بحیثیت استاد کیا اور 1945ء تک یہ خدمت سرانجام دیتے رہے، اور جب آپ نے مدرسہ منظر اسلام سے رخصت لی اس وقت آپ شعبہ فارسی کے صدر مدرس تھے ۔ 1945ء تا 1954ء آپ بریلی کے اسلامیہ کالج میں استاد کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ آپ 1956ء میں پاکستان تشریف لے آئے اور گورنمنٹ اسکول ایئر پورٹ میں ملازمت اختیار کی اور 1975ء میں اس ملازمت سے سبکدوش ہوئے ۔

آپ سچے پکے سنی حنفی بریلوی مسلمان ، رواداری کے پابند ، سچے اور کھرے مخلص اور وفاداردوست ، وقت اور وعد ے کے پابند ، زبان و قلم میں محتاط ، انتہائی حساس ، مہمان نوازدوستوں سے اچھی توقعات رکھتے اور گوشہ نشین  بزرگ تھے ۔آپ  کی قلمی خدمات کو ہمیشہ یادرکھا جائیگا۔

وصال : حضرت شمس بریلوی علیہ الرحمہ  2/ذیقعدہ 1417ھ،بمطابق 12/مارچ1997ءبروز بدھ بعد نماز عشاء رات 9بجےشفا ہاسپیٹل کراچی میں اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔ کراچی کے سخی حسن قبرستان (نارتھ ناظم آباد )میں تدفین ہوئی۔قبر پر یہ کتبہ درج ہے:

وہ جو اک مقدمہ نگار تھا ، وہ جو اک ادیبِ شہیر تھا
جسے کہتے تھے شمس بریلوی یہ اس کی لوح ِمزار ہے

ماخذو مراجع: تعارف علمائے اہلسنت سندھ۔

تجویزوآراء