(سیّدہ )میمونہ( رضی اللہ عنہا)

میمونہ غیر منسوبہ،ان سے آمنہ دختر عمر نے روایت کی،ابو نعیم کہتے ہیں،ابن مندہ نے ان کا ذکر نہیں کیا،اور سلیمان بن احمد نے انہیں میمونہ بن سعد کے ترجمے میں ذکرکیا ہے۔

یحییٰ بن ابوالرجاء نے اذناً باسنادہ ابوبکر بن ابی عاصم سے،انہوں نے علی بن میمون ابوالحسن عطار سے، انہوں نے میمونہ سے روایت کی،انہوں نے حضورِاکرم سے پوچھا،یارسول اللہ! ہمیں صدقے کے بارے میں کچھ بتایئے،آپ نے فرمایا،صدقہ جہنم کی آگ سے پناہ ہے،اگر تو اسے اللہ کی رضا کے لئے پیش کرے،پھر دریافت کیا ،کتّے کی قیمت کے بارے میں ارشاد فرمایئے،فرمایا،یہ جاہلیت کا چسکا ہے،اور اللہ اس سے بے نیاز ہے،پھر عذابِ قبرکے متعلق پوچھا،فرمایا،یہ پیشاب کے اثر کی وجہ سے ہے،جو اس سے ملوث ہو جائے،پانی سے دھولے،اور اگر پانی نہ ملے تو صاف ستھری مٹی سے صفائی کرلے،اس حدیث کو ابن مندہ اور ابونعیم نے بیان کیا ہے۔

اور ابونعیم نے اس ترجمے میں سلیمان بن احمد سے ،انہوں نے احمد بن نضر عسکری سے،انہوں نے اسحاق بن زریق راسبی سے،انہوں نے عثمان بن عبدالرحمٰن طرائفی سے،انہوں نے عبدالحمید بن یزید سے،انہوں نے آمنہ دختر عمر سے،انہوں نے میمونہ دختر سعد سے روایت کی کہ انہوں نے حضور رسولِ کریم سے چوری کے بارے میں دریافت کیا،فرمایا،جس نے چوری کی کوئی چیز جانتے بوجھتے کھائی،وہ اس کے گناہ اور عار میں شریک ہے۔

نیز حسن بن سفیان نے عمرو بن ہشام سے ،انہوں نے عثمان بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے عبدالحمید سے،انہوں نے آمنہ سےانہوں نے میمونہ دختر سعد سے روایت کی کہ انہوں نے غسلِ جنابت کے بارے میں آپ سے دریافت کیا،کہ سر پر کتنا پانی ڈالنا کافی ہوگا،آپ نے فرمایا،تین اوک،ابن مندو اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔

ابن اثیر لکھتے ہیں،کہ ابونعیم نے یہ حدیث سلیمان بن احمد اور حسن بن سفیان ہردو سےروایت کی اور اس امر پر استدلال کیا،کہ آمنہ دختر عمر (جس کے بارے میں ابن مندہ نے لکھا ہے کہ اس خاتون نے اس میمونہ غیر منسوبہ سے روایت کی،اور یہ میمونہ ،میمونہ دختر سعد سے مختلف ہیں)نے میمونہ دختر سعد سے بھی روایت کی ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہےکہ دونوں (میمونہ غیر منسوبہ اور میمونہ دختر سعد)ایک ہیں،فی الجملہ ابونعیم نے اس میمونہ او رپیشترازیں ذکرکردہ میمونہ کو حضورِاکرم کی آزاد کردہ کنیز شمارکیاہے،جن سے حضرت علی نے روایت کی،اورمیمونہ دختر سعد کو ایک گردانا ہے،اور ابن منصور کے نزدیک یہ خواتین تین ہیں،لیکن ابوعمر نے صرف میمونہ دختر ابو عنبسہ کا جوحضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ کنیز تھیں،ذکر کیاہے،اور میمونہ دختر سعد سے ایوب بن خالد نے صائم روزہ دارکی بُو سے اور ولدالزناء کے آزاد کرنے کی حدیث روایت کی ہے،رہی دوسری میمونہ جو حضورِاکرم کی کنیز ہیں،ان سے اہل شام نے بیت المقدس کی فضیلت کے بارے میں حدیث بیان کرنے والی خاتون اوّل الذکر تینوں سے مختلب ہیں،بلکہ اختلافِ علما تو ان تین کے بارے میں ہے،اور ابونعیم کا قول کہاں تک درست ہے،واللہ اعلم۔

مزید

تجویزوآراء