تاج العارفین حضرت خواجہ امام علی شاہ نقشبندی

تاج العارفین حضرت خواجہ امام علی شاہ  نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام ونسب: اسمِ گرامی:سید امام علی شاہ۔والد کا اسمِ گرامی: سید حیدر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ" سامرہ "عراق کے خاندانِ سادات سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کا تعلق خالصتاً دینی گھرانے سے تھا۔ آپ کے والد محترم سید حیدر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عابد و زاہد بزرگ تھے۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1211ھ ،بمطابق 1796ء میں (موضع رتڑ چھتر ،کے علاقہ "مکان شریف"ضلع گوردا سپور ،پنجاب انڈیا )میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:  حضرت خواجہ امام علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے والد محترم کے زیر سایہ ابتدائی تعلیم حاصل کی ابھی آپ کمسن ہی تھے کہ والد ماجد کا وصال ہوگیا اُس وقت تک آپ نے مولانا فقیر اللہ دھرم کوٹی سے بعض فارسی کی کتب پڑھ لی تھیں۔ پھر آپ نے مزید تعلیم کے حصول کی غرض سے حافظ محمد رضا اور مولانا نور  احمد چشتی ،اور مولانا جان محمدچشتی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور ان سے درسی کتب پڑھیں اور طب کی کتب سے بھی استفادہ کیا۔ آپ کا ذہن تعلیم حاصل کرنے کے دوران خوب روشن تھا اس لیے سب طالب علموں سے زیادہ ذہین اور لائق سمجھے جاتے تھے ۔ایک مرتبہ حضرت شاہ حسین  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کے چہرۂ مبارک کی طرف غور سے توجہ فرمائی اور اللہ تعالیٰ کے نورانی انوار اور اہلیت کو دیکھتے ہوئے دریافت فرمایا کہ بیٹا!کون سی کتاب پڑھتے ہو؟ ابھی آپ جواب دینا ہی چاہتے تھے کہ ارشاد فرمایا :مثنوی شریف پڑھا کرو کہ اس سے عمل و اعتقاد میں پختگی اور قلب کی صفائی اور روح کو تقویت حاصل ہوتی ہے اس پر آپ نے مثنوی شریف کا مطالعہ کرنا شروع کردیا اگلے روز حضرت شاہ حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کو بلایا اور مثنوی شریف کے تین اشعار کی شرح اس انداز سے فرمائی کہ آپ کے دل پر اس کا بہت اثر ہوا اور آپ نے پھر باقاعدہ طور پر حضرت شاہ حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مثنوی شریف کا درس لینا شروع کردیا۔آپ علیہ الرحمہ کا شمار اپنے وقت کےجیدعلماء میں ہوتا تھا،بلکہ علماء اپنے مسائل کے حل کیلئے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔

بیعت  وخلافت: سولہ برس کی عمر میں حضرت شاہ حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوگئے اپنے مرشد کی تعلیمات و ارشادات پر عمل کرنے میں پیش پیش رہتے تھے ۔ عبادت و مجاہدہ: عبادت و ریاضت میں آپ سکون محسوس کرتے تھے اور بڑی توجہ و یکسوئی سے اللہ رب العزت کی عبادت میں مشغول رہا کرتے  تھے۔ آپ کا معمول تھا کہ آپ روزانہ نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد "مکان شریف" سے باہر دو میل کے فاصلے پر واقع ایک تالاب کے کنارے پر تشریف لے جاتے یہ جگہ "ڈھولی ڈھاب" کے نام سے مشہور ہے اس جگہ پر آپ کو انتہائی اور یکسوئی میسر ہوتی تھی اور آپ فجر تک پانی کے کنارے مراقبہ کی حالت میں بیٹھے رہتے غرض یہ کہ آپ نے عبادت و ریاضت اور مجاہدے کرنے میں اپنے آپ کو مشغول رکھا ۔ایک دن مرشدِ کامل حضرت شاہ حسین علیہ الرحمہ نے آپ سے فرمایا۔

"صفوت وقدسِ جبریل علیہ السلام،خلتِ ابراہیم،شوقِ موسیٰ،طہارتِ عیسیٰ اور محبتِ مصطفیٰ (صلواۃ اللہ علیہم اجمعین)اگر تمہیں مل جائیں توخبردار اس پرراضی مت ہونا،بلکہ اس سے زیادہ کی آرزو کرناکہ اس سے زیادہ بہت کچھ ہے۔صاحبِ ہمت بنے رہواورسرِ ہمت کبھی نیچا نہ کرنا۔"

سیرت وخصائص: تاج العارفین،برہان الواصلین،شیخ الکاملین،عارف باللہ ،مجدد وقت حضرت خواجہ سید امام علی شاہ نقشبندی مکان شریفی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ مستجاب الدعوات اور صاحب کرامت ولی اللہ تھے ۔بڑے نامی گرامی علماء ومشائخ  آپ سےبیعت ہوئے اوردرجۂ کمال کو پہنچے۔جن میں سےفقیہ الہند مفتی شاہ محمد مسعود دہلوی علیہ الرحمہ شاہی امام وخطیب جامع مسجد فتح پوردہلی،اور حضرت خواجہ امیرالدین علیہ الرحمہ،ان سے قطبِ ربانی شیرِ یزدانی حضرت میاں شیر محمدشرقپوری علیہ الرحمہ جیسے مردِ کامل اور ولیِ کامل  ہوئے۔جنہوں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ  کی پورے برصغیر میں خوب ترویج  واشاعت فرمائی۔

آپ علیہ الرحمہ علم وعمل،اتباعِ سنت،شریعت پراستقامت،تربیت وتسلیک،ناقصوں کی تکمیل،فقراء وغرباء پر شفقت ومہربانی،حسنِ خلق،توضع ومسکنت،عفو ودرگزر،ایثار وانعام،اکرام واحسان،زہدوتقویٰ،عبادت وریاضت الغرض آپ حضورِ اکرم ﷺ کے حقیقی وارثِ اوردینِ اسلام کے داعیِ صادق تھے۔

دربارِ مصطفیٰ ﷺ میں شرف یابی: مولانا احمد علی دھرم کوٹی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!جب آپ کی مشیخیت کا شہرہ اطرافِ عالم میں ہوااور لوگوں کو معلوم ہواکہ "مکان شریف"میں ایسا آفتاب عالم تاب طلوع ہواہے کہ جس پر ایک نظر ڈالتا ہےاس کے ظاہر وباطن کومنور کردیتا ہے۔تولوگ جوق درجوق آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر مستفید ہونے لگے۔چنانچہ اس زمانے کےبڑے جلیل القدر علماء آپ سے بیعت ہوئے،اور بہت سے حضرات نے عالمِ واقعہ میں حضورِ اکرمﷺکی زیارت  سے شرف یاب ہوئے اور آپ کے اشارے پرحضرت امام علی شاہ صاحب کی خدمت میں  حاضر ہوکرنسبت ِ بیعت حاصل کی،اورمقاماتِ عالیہ پرفائز ہوئے۔آپ سےبے شمار کرامات کا ظہور ہوا آپ کی کرامات کی برکت سے بہت سے لوگوں کو فوائد حاصل ہوئے۔

وصال:13/شوال المکرم1282ھ،بمطابق 6/مارچ  1866 کو بوقتِ عصر آپ کا وصال ہوا،آپ کا مزار مکان شریف ضلع گورداسپور(انڈیا) میں مرجع خاص وعام ہے۔

تجویزوآراء